واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


ایک تینتالیس سالہ کی کہانی۔بی بی سی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-11-09, 09:09 PM   #1
ایک تینتالیس سالہ کی کہانی۔بی بی سی
حیدر حیدر آف لائن ہے 29-11-09, 09:09 PM

عام طور سے حضرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس کے پیٹے میں ذہنی بالغ ہونا شروع ہوتے ہیں۔اگر یہی فارمولا انسانی گروہوں اور تنظیموں پر بھی لاگو کیا جائے تو پیپلز پارٹی کے بارے میں کیا کہیے گا جو خیر سے اب تینتالیسویں سال میں لگ گئی ہے۔ اس عرصےمیں پیپلز پارٹی نے چار فوجی آمر دیکھے ۔ ان میں سے دو فوجی آمروں یعنی جنرل ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کی شدید مخالفت کی اور دو آمروں یعنی یحیٰی خان اور پرویز مشرف کے لیے نرم گوشہ رکھا۔چار مرتبہ اقتدار کا مزہ چکھا اور اتنی ہی مرتبہ نظریاتی پٹڑی بدلی۔

میرے بچپن کی پیپلز پارٹی ایک چیختی، دھاڑتی، انقلابی عوامی تنظیم کے لبادے میں گھومتی تھی۔کسی بھی مزدور یا ہاری یا تانگے والے یا چھوٹے دوکاندار سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ اس کا لیڈر اور اس کی جماعت کونسی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ن م راشد کا وہ کردار تھا جو گلی گلی آواز لگا رہا تھا خواب لے لو خواب۔اور لوگوں نے یہ خواب خریدنے کے لیے خود کو لٹوا دیا۔ پھر ایک روز اس خواب فروش کو سفاک تعبیر نے لوٹ لیا۔

جنرل ضیا الحق کا دور اور پیپلز پارٹی کا لڑکپن ایک ساتھ شروع ہوا۔اور ایک ایسا لڑکا جس کے باپ کو مار ڈالا جائے کیسا ہوتا ہے ؟ جس نے جو سمجھایا اسی کے ساتھ چل پڑا۔ مگر جوشیلا تھا، باصلاحیت بھی تھا ، خوبصورت تھا اور لمبی دوڑ کا گھوڑا تھا اس لیے طویل سرمایہ کاری کرنے والے بردہ فروشوں کی نظر میں بھی آگیا۔ کسی نے ساتھ دینے کے بہانے لوٹا تو کسی نے پناہ دینے کے وعدے پر۔۔

بہت جلد پیپلز پارٹی کو سمجھا دیا گیا کہ یہ خوابوں کی نہیں ضرورت کی دنیا ہے۔اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔یوں پارٹی نظریاتی طور پرخواب فروشی چھوڑ کر عملیت پسندی کے کاروبار میں داخل ہوگئی۔جس کا پہلا انعام اسے سن اٹھاسی میں شراکتِ اقتدار کی صورت میں ملا۔رفتہ رفتہ نئی پیپلز پارٹی اپنے طور پر عملیت پسندی میں اس قدر طاق ہوگئی کہ استاد ہوگئی۔

یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی ہو یا کوئی بھی جماعت ۔وقت کسی کو بھی جوں کا توں نہیں رہنے دیتا۔چین کی کیمونسٹ پارٹی کل کیا تھی اور آج کیا ہے۔ آج کی کانگریس کے لیے نہرو کا سوشلزم اتنا ہی اجنبی ہے جتنا نہرو کے لئے کارپوریٹ سرمایہ داری اجنبی تھی۔ آج کی کسی بھی مسلم لیگ کا تحریکِ پاکستان کے اثاثے سے کتنا تعلق ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا باچا خان کے نظریے سے اتنا ہی ناطہ ہے جتنا باچا خان کا امریکہ سے تھا۔چنانچہ نظریاتی طور پر آج سیاسی جماعتوں میں کم و بیش وہی فرق ہے جتنا کوک اور پیپسی کے ذائقے میں ہے۔

پیپلز پارٹی معروف کتابی معنوں میں سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک خاندان کے عشق میں مبتلا ہجوم کا نام ہے۔ہجوم کی نفسیات میں جتنا والہانہ پن ہوتا ہے اتنا ہی وہ منہ پھٹ بھی ہوتا ہے۔ ہجوم بلا کی یادداشت رکھتا ہے جو دیوانگی میں بھی قائم رہتی ہے۔

میں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد سے کئی برس پہلے پوچھا تھا۔ بھٹو صاحب روپے پیسے کے معاملے میں کیسے تھے۔ پروفیسر غفور نے کہا کہ بھٹو پر آمر اور فاشسٹ سمیت ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔


ویسے بھی جس کے پاس دیوانے کارکنوں کا بیلنس ہو اسے بینک بیلنس کی فکر کم ہی ہوتی ہے۔ بس یہی بنیادی فرق ہے تینتالیس سال پہلے میں اور تینتالیس سال بعد ۔۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 167
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
معظم (29-11-09)
پرانا 29-11-09, 10:11 PM   #2
Senior Member
 
معظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: ولایت
مراسلات: 2,539
کمائي: 66,987
شکریہ: 3,000
1,870 مراسلہ میں 4,776 بارشکریہ ادا کیا گیا
معظم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
پیپلز پارٹی معروف کتابی معنوں میں سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک خاندان کے عشق میں مبتلا ہجوم کا نام ہے۔ہجوم کی نفسیات میں جتنا والہانہ پن ہوتا ہے اتنا ہی وہ منہ پھٹ بھی ہوتا ہے۔ ہجوم بلا کی یادداشت رکھتا ہے جو دیوانگی میں بھی قائم رہتی ہے۔

میرے بہت سے دوست پیپلز پارٹی کے جیالے کہتے ہیں اپنے آپ کو ، میں نے صرف یہی سوال کیا کہ تم کن نظریات کی بنیاد پر حمایت کرتے ہو تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کے راگ الاپنے لگتے ہیں ۔ آج تک کوئی بھی مجھے خاطر خواہ جواب نہیں دے سکا موجودہ دور میں پی پی کی حمایت کا۔
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین
بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc
معظم آف لائن ہے   Reply With Quote
معظم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-11-09)
جواب

Tags
color, پاکستان, موجودہ, آج, الزام, انعام, امیر, امریکہ, اجنبی, اسلامی, استاد, بچپن, جلد, حضرات, خان, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, سال, عوامی, علی, عشق, غفور


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے عبیداللہ عبید اردو پریس (http://wordpress.pk) 10 14-06-09 07:44 PM
ویب ڈیزاینر حضرات کے لیے مفت سی ایس ایس کوڈ محمد کاشف حبیب ویب ڈیزائینگ 4 05-04-09 11:51 PM
پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل :سی ایس ایس امتحانات میں‌ 12ویں پوزیشن لینے والا ایماندار افسر برطرف شیخ ہمدان خبریں 10 03-04-09 03:20 AM
ایس پی ایس سی بل پر اپوزیشن ارکان کا رویہ مثبت تھا، نثار کھوڑو عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 09:14 AM
آل پاکستان فٹبال: ایس ایس جی سی کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی خرم شہزاد خرم فٹبال 0 08-08-07 12:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger