![]() |
|
|||||||
| رجسٹر | ہماری دوکان | دعوت نامہ | تصاویری البم | اہم سوالات | گیمز | سماجی حلقے | کیلنڈر | تلاش | آج کے مراسلات | تمام کو پڑھا ہوا کریں |
| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | اسی میں تلاش کریں | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
31-01-08, 02:47 PM
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 39
مراسلات: 1,698
کمائي: 11,115
ميرا موڈ:
شکریہ: 353
895 مراسلہ میں 2,261 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم !
جناب امید ہے کہ آپ بخیروعافیت ہوں گے۔ آپ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی باقاعدہ نمانندگی"لگتا تو ایسا ہی ہےٌ" کرتے ہیں امید ہے کہ آپ ہمارے پاکستانی عوام الناس کی اصلاح کے لیٰے New World Order اور American War on Terror پر کچھ تفصیل سے روشنی ڈال سکیں۔ صرف ایک آزاد صحافیانہ ریفرنس ضرور دیکھ لیجیٰے گا۔ video.google.com/videoplay?docid=-210088912352527308 Breaking The Silence - Truth and Lies in the War on Terror by John Pilger John شکریہ ! طاہر |
|
|
| مندرجہ ذیل 7 صارفین نے طاھر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
bas_tera_intazar (02-02-09),
Razi (10-06-09),
وجدان (08-07-08),
yashaka (06-05-09),
زین الدین زیڈ ایف (07-01-09),
شاہد جمیل حفیظ (10-10-08),
عُکاشہ (01-07-08)
|
01-02-08, 04:01 PM
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم طاہر،
يہ سچ ہے کہ ميرا تعلق يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے ہے اور ميں ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے مختلف اردو فورمز پر امريکی پاليسی کے حوالے سے اٹھاۓ جانے والے سوالات کا جواب ديتا ہوں۔ آپ نے برطانوی صحافی جان پلگر کی جس دستاويزی فلم کا حوالہ دے کر سوالات کيے ہیں ميں نے وہ فلم ديکھی ہے۔ چونکہ اس فلم ميں بہت سے مختلف واقعات اور موضوعات کے حوالے دے کر بات کی گئ ہے اس ليے ميرے ليے ضروری ہے کہ ميں اس حوالے سے اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے صحيح اعداد وشمار حاصل کر کے آپ کے سوالات کا جواب دوں۔ ميں نے يہ بات پہلے بھی کہی تھی کہ ميرا مقصد امريکی خارجہ پاليسی اور امريکی حکومت کی جانب سے اٹھاۓ جانے والے اقدامات کے ليے تاۂيد حاصل کرنا نہيں ہے بلکہ مختلف ايشوز کے حوالے سے صحيح اعداد وشمار آپ کے سامنے پيش کرنا ہے۔ آپ نے جو سوالات کيے ہيں اور جس دستاويزی فلم کا حوالہ ديا ہے اس کے جواب کے ليے مجھے تھوڑا وقت ديجيے تا کہ ميں صحيح اعداد وشمار حاصل کر سکوں۔ شکريہ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
01-02-08, 04:08 PM
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 39
مراسلات: 1,698
کمائي: 11,115
ميرا موڈ:
شکریہ: 353
895 مراسلہ میں 2,261 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب -
جناب ہم نے یقین کر لیا ہے آپ کے بارے میں - کچھ دن پہلے کسی اور بلاگ پر آپ ہی کی طرح ایک عربی بولنے والے صاحب کے بارے میں پڑھا تھا - نام ان کا شاید جواد تھا - مگر آپ لوگ شاید لاہور میں ہوں وہ کہیں اور - خیر آپ کی بات سمجھ آتی ہے کہ صحیح اعدادوشمار کے بعد جواب دینا بہتر ہے۔ میں ہمہ تن گوش رہوں گا۔ شکریہ طاہر |
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا |
bas_tera_intazar (02-02-09)
|
01-02-08, 04:25 PM
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم،
جواد بھی ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ليے کام کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ فارسی زبان کے فورمز پر بھی ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبران سوالوں کے جواب ديتے ہيں۔ آپ اگر چاہيں تو مجھيں يوايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ای ميل پر پيغام ارسال کر کے تصديق کر سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ سی – اين –اين نے حال ہی ميں ہماری ٹيم کے بارے ميں ايک رپورٹ پيش کی تھی جو ان کی ويب ساۂيٹ پر ويڈيو سيکشن ميں ديکھی جا سکتی ہے۔ شکريہ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
| Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کا شکریہ ادا کیا گیا |
bas_tera_intazar (02-02-09)
|
01-02-08, 04:38 PM
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 39
مراسلات: 1,698
کمائي: 11,115
ميرا موڈ:
شکریہ: 353
895 مراسلہ میں 2,261 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے حضرت -
جیسا میں نے کہا کہ ہم نے یقین کر لیا تو میل وغیرہ کی کیا ضرورت ہے؟ میں کافی کچھ آپ کی ٹیم کے بارے میں نیٹ پر دیکھ چکا ہوں۔ جواب کا انتظار رہے گا۔ والسلام طاہر |
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا |
bas_tera_intazar (02-02-09)
|
12-02-08, 12:40 PM
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(پہلا حصہ)
محترم، برطانوی صحافی جان پلگر کی دستاويزی فلم ميں جن ايشوز کو بنياد بنا کر امريکی حکومت پر الزامات لگاۓ گۓ ہيں، وہ يہ ہيں۔۔۔ - افغانستان ميں امريکہ کی براۓ نام امداد - افغانستان اور عراق ميں امريکہ کی کٹھ پتلی حکومتيں - عراق کے تيل پر قبضے کی امريکی سازش - امريکہ – دشمن اسلام (نيو ورلڈ آرڈر) - عراق پر امريکی حملے کی وجہ (ڈبليو – ايم – ڈی ايشو) - گوانتاناموبے ميں قيديوں کے ساتھ غيرانسانی سلوک ميں مرحلہ وار مندرجہ بالا موضاعات پر اعدادوشمار کے ذريعے امريکی حکومت کا موقف آپ کے سامنے پيش کروں گا۔ افغانستان ميں امريکہ کی براۓ نام امداد اس دستاويزی فلم کے آغاز ميں جان پلگر نے يہ تاثر دينے کی کوشش کی کہ امريکہ نے افغانستان کی تعميرنو اور افغان عوام کے ليے جو امداد دی وہ ناکافی ہے۔ اس ضمن ميں جو اعدادوشمار ميں نے يو-ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے حاصل کيے ہيں ان کی روشنی ميں يہ تاثر غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ امريکہ ايسے بے شمار منصوبوں ميں افغان حکومت کی براہراست مدد کر رہا ہے جن کا مقصد افغان معاشرے کو مضبوط بنيادوں پر استوار کرنا ہے تاکہ افغان عوام دوبارہ اپنے پيروں پر کھڑے ہو سکيں۔ اس حوالے سے افغانستان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ کے نام سے ايک فنڈ قائم کيا گيا ہے جو براہراست ورلڈ بنک کی زيرنگرانی کام کرتا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد حکومت افغانستان کو امداد کی فراہمی کا ايک مربوط سسٹم فراہم کرنا ہے جس کا مقصد افغانستان ميں تعميراتی منصوبوں اورعوام کے ليے صحت و تعليم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ امريکی حکومت کی جانب سے يو-ايس-ايڈ کے ادارے کے توسط سے اس فنڈ ميں جو امداد مہيا کی گئ ہے وہ 972۔24 بلين ڈالرز ہے۔ چونکہ يہ فنڈ براہراست ورلڈ بنک کے زير نگرانی افغانستان حکومت تک منتقل کيے جاتے ہيں اس ليے وہ يو –ايس – جی کے قواعد وضوابط کے عين مطابق ہوتے ہيں۔ اس کے علاوہ چونکہ اس امداد کا بڑا حصہ امريکہ کے ٹيکس دہندگان کی آمدنی پر مبنی ہوتا ہے اس ليے يو – ايس – ايڈ کا ادارہ اس بات کو يقينی بناتا ہے کہ اس امداد کے نتيجے ميں شروع کيے جانے والے تعميراتی منصوبے مکمل کيے جائيں۔ اسکے علاوہ ميں آپ کو يوايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی ويب سائيٹ کا ايک لنک دے رہا ہوں جس ميں آپ ان تمام ترقياتی کاموں کی تفصيل اعدادوشمار کے ساتھ ديکھ سکتے ہيں جو امريکی حکومت کے توسط سے افغانستان ميں گزشتہ چند سالوں ميں کيے گۓ ہيں۔ usaid.gov/policy/budget/cbj2006/ane/af.html |
|
|
12-02-08, 12:44 PM
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(دوسرا حصہ)
افغانستان اور عراق ميں امريکہ کی کٹھ پتلی حکومتيں جان پلگر نے اس دستاويزی فلم ميں عراق اور افغانستان کی حکومتوں کو امريکہ کی "کٹھ پتلی" قرار دیا ہے۔ کيا آپ جانتے ہيں کہ افغانستان ميں ہونے والے انتخابات ميں 8 ملين افغان ووٹرز نے اپنا حق راہے دہی استعمال کيا جس ميں 40 فيصد خواتين شامل تھيں۔ اسی طرح جان پلگر نے عراق حکومت کے جن عہديداروں کو "امريکی ايجنٹ" قرار ديا وہ 12 ملين عراقی ووٹوں کی بدولت برسراقتدار آۓ ہيں۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ وہ 12 ملين عراقی جنھوں نے موجودہ عراقی حکومت کو منتخب کيا ہے انھيں "امريکی ايجنٹ" قرار ديا جا سکتا ہے ؟ افغانستان اور عراق ميں ہونے والے انتخابات ميں ہر مذہبی فرقے اور سياسی جماعت کو نمايندگی کا برابر موقع ملا جو ان دونوں ملکوں کی تاريخ ميں ايک نۓ دور کا آغاز تھا۔ دونوں ممالک کے انتخابات اقوام متحدہ کی نامزد کردہ تنظيموں کے زيرنگرانی انتہاہی غيرجانبدارماحول ميں ہوۓ جن کے نتائج کی توثيق انٹرنيشنل کمیونٹی نے متفقہ طور پر کی۔ افغانستان ميں ہونے والے انتخابات يورپی يونين کی جس ٹيم کی زير نگرانی ہوۓ تھے اس ميں اسپين، جرمنی، اٹلی، آئرلينڈ، پرتگال، برطانيہ، سويڈن اور ڈينمارک سے ماہرين شامل تھے۔ اس ٹيم کے ممبران کے مکمل تعارف کے ليے اقوام متحدہ کی ويب سائيٹ کا يہ لنک دے رہا ہوں۔ eueomafg.org/Coreteam.html unv.org/en/news-resources/news/doc/un-volunteers-at-the.html unv.org/en/what-we-do/countries/afghanistan/doc/un-volunteers-at-the.html اسی طرح عراق ميں ہونے والے انتخابات اقوام متحدہ کے ادارے آئ – او – ايم کی زير نگرانی ہوۓ۔ اس حوالے سے مزيد معلومات کے ليے يہ ويب سائٹ لنک دے رہا ہوں۔ iom-iraq.net/ocv.html اس بات کا دعوی کوئ نہيں کر سکتا کہ ان دونوں ممالک ميں حکومت کے حوالے سے تمام مسائل حل ہو گۓ ہيں۔ خاص طورپر ان حالات ميں جبکہ دونوں ممالک کی حکومتيں ان انتہا پسند تنظيموں سے مسلسل نبردآزما ہيں جو کسی جمہوری نظام پريقين نہيں رکھتيں۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ان دونوں ممالک ميں جمہوری نظام کی بنياد رکھ دی گئ ہے اورمستقبل میں بھی اس بات کا اختيار امريکہ کے پاس نہيں بلکہ افغانستان اور عراق کے عوام کے پاس ہے کہ ان کے اوپر حکمرانی کا حق کس کو دیا جاۓ۔ اگر آپ ان دونوں ممالک کے ماضی کا جائزہ ليں تو ان ممالک کے عوام اسلحہ بردار دہشت گرد تنظيموں اور ايک آمر کے رحم وکرم پر تھے۔ کيا جمہوری طريقے سے منتخب کردہ يہ حکومتيں زيادہ بہتر ہيں يا وہ نام نہاد انتخابات جن ميں صدام حسين نے اپنے آپ کو 99 فيصد ووٹوں سے کامياب قرار ديا تھا؟ |
|
|
12-02-08, 12:50 PM
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(تيسرا حصہ)
عراق کے تيل پر قبضے کی امريکی سازش يہ وہ نقطہ ہے جس کو بنياد بنا کر پاکستانی ميڈيا ميں بہت کچھ لکھا گيا ہے۔ جان پلگر نے بھی اپنی دستاويزی فلم ميں عراق پر حملہ بلکہ افغان جنگ کو بھی عراق کے تیل پر امريکی قبضے کی ايک عالمگير سازش قرار ديا ہے۔ جان پلگر نے اپنی دستاويزی فلم ميں ايک مقام پر يہ تاثر ديا ہے کہ امريکہ حکومت کے صدام حسين کے ساتھ دیرينہ تعلقات رہے ھيں۔ اور پھر يہ دليل بھی دی کہ امريکہ نے عراق پر تيل کے ليے حملہ کيا۔ اگر امریکہ کے صدام کے ساتھ تعلقات اتنے ہی ديرينہ تھے تو اسےاربوں ڈالرز کی لاگت سے جنگ شروع کر کے اپنے ہزاروں فوجی جھونکنے کی کيا ضرورت تھی۔ امريکہ کے ليے تو آسان راستہ يہ ہوتا کہ وہ صدام کے توسط سے تيل کی درآمد کے معاہدے کرتا۔ اس حوالے سے ميں نے يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے جو اعداد وشمار حاصل کيے ہيں وہ آپ کے سامنے رکھ کر ميں فيصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ سچ کيا ہے اور افسانہ کيا ہے۔ 2006 ميں ہاورڈ ميگزين نے ايک تحقيقی کالم لکھا جس کی رو سے عراق جنگ پر امريکہ کے مالی اخراجات کا کل تخمينہ 2 ٹرلين ڈالرز لگايا گيا ہے۔ اگر ان اخراجات کا مقابلہ عراق ميں تيل کی مجموعی پیداوار سے لگايا جاۓ تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ عراق پر امریکی حکومت کے اخراجات عراق کی مجموعی پيداوار سے کہيں زيادہ ہيں۔ لہذا معاشی اعتبار سے يہ دليل کہ عراق پر حملہ تيل کے ليے کيا گيا تھا، بے وزن ثابت ہو جاتی ہے۔ ہاورڈ ميگزين کے اس آرٹيکل کا ويب لنک پيش کر رہا ہوں- harvardmagazine.com/2006/05/the-2-trillion-war.html ايک اور تاثر جو کہ بہت عام ہے اور اس کو بنياد بنا کر پاکستانی ميڈيا ميں بہت کچھ لکھا جاتا ہے وہ يہ ہے کہ امريکہ میں تيل کے استعمال کا مکمل دارومدار عرب ممالک سے برامد کردہ تيل کے اوپر ہے لہذا امريکی حکومت عرب ممالک اور اس کی حکومتوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ اعداد وشمار پيش خدمت ہيں۔ امریکہ اس وقت دنيا ميں تيل کی مجموعی پيداوار کے حساب سے تيسرے نمبر پر ہے۔ 1973 سے 2007 تک کے درميانی عرصے ميں امريکہ نے تيل کی مجموعی ضروريات کا 57 فيصد حصہ خود پورا کيا ہے۔ باقی 43 فيصد ميں سے صرف 8 فيصد تيل کا استعمال گلف ممالک کے تيل پر منحصر ہے۔ مغربی ممالک سے تيل کے استعمال کا 20 فيصد حصہ پورا کيا جاتا ہے اور 15 فيصد تيل کی ضروريات توانائ کے ديگر ذرائع سے پوری کی گئ۔ جہاں تک تيل کی درآمد کا تعلق ہے تو 1973 سے 2007 کے درميانی عرصے ميں امريکہ نے تيل کی مجموعی درآمد کا 47 فيصد حصہ مغربی ممالک سے درآمد کيا جو کہ امريکہ ميں تيل کے استعمال کا 20 فيصد ہے۔ اسی عرصے ميں 34 فيصد افريقہ، يورپ اور سابق سوويت يونين سے درآمد کيا گيا جو کہ امريکہ ميں تيل کے استعمال کا 15 فيصد بنتا ہے۔ گلف ممالک سے درآمد کردہ تيل کا تناسب صرف 19 فيصد رہا جو کہ مجموعی استعمال کا محض 8 فيصد ہے۔ اسی حوالے سے اگر آپ دنيا کے ديگر ممالک کا گلف مما لک کے تيل پر انحصار اور اس حوالے سے اعدادوشمار ديکھیں تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ جاپان امريکہ کے مقابلے ميں گلف ممالک کے تيل پر کہيں زيادہ انحصار کرتا ہے۔ 1992 سے 2006 کے درميانی عرصے ميں جاپان نے اوسطا 65 سے 80 فيصد تيل گلف ممالک سے درآمد کيا۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند سالوں ميں امريکہ کے مقابلہ ميں جاپان کا گلف ممالک پر انحصار بتدريج بڑھا ہے۔ مندرجہ ذيل گراف سے يہ بات واضح ہے کہ گزشتہ چند سالوں ميں امريکہ کا گلف ممالک کے تيل پر انحصار مسلسل کم ہوا ہے۔ يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امريکی حکومت بذات خود تيل کی خريدوفروخت کے عمل ميں فريق نہيں ہوتی۔ بلکہ امريکہ کی نجی کمپنياں اپنے صارفين کی ضروريات کے تناسب سے سروس فراہم کرتی ہيں۔ امريکی کمپنياں انٹرنيشنل مارکيٹ ميں متعين کردہ نرخوں پر عراق سے تيل درآمد کرتی ہيں جو کہ عراق سے برآمد کيے جانے والے مجموعی تيل کا محض ايک چوتھائ حصہ ہے۔ باقی ماندہ تيل عراقی حکومت کی زير نگرانی ميں نا صرف دوسرے ممالک ميں برآمد کيا جاتا ہے بلکہ عراق کی مجموعی توانائ کی ضروريات پوری کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ عراق تيل کے توسط سے ماہانہ 2 بلين ڈالرز سے زيادہ کا زرمبادلہ حاصل کرتاہے۔ ان اعداد وشمار کی روشنی ميں يہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ يہ تاثر دينا کہ امريکہ عراق ميں تيل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پيرا ہے يا امريکہ تيل کی سپلائ کے ليے سارا دارومدار عرب ممالک کے تيل پر کرتا ہے قطعی بے بنياد اور حقيقت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ |
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
bas_tera_intazar (02-02-09),
فاروق سرورخان (21-09-08)
|
12-02-08, 12:54 PM
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(چوتھا حصہ)
امريکہ – دشمن اسلام (نيو ورلڈ آرڈر) نيوورلڈ آرڈر اور مسلم ممالک کو کمزور کرنے کے ليےامريکہ کے سازشی منصوبے۔ اس حوالے سے انٹرنيٹ اور ديگر ميڈيا پر بہت کچھ لکھا گيا ہے۔ ليکن ايک بات جو اس طرح کے مواد ميں ہميشہ مشترک ہوتی ہے وہ ہے جذباتيت کا عنصر۔ تمام تر زمينی حقائق اور اعدادوشمار بالاۓ طاق رکھ کر صرف اس منطق پر زور ديا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کو درپيش تمام مسائل کا پيش خيمہ بھی امريکہ ہے اور ان تمام مسائل کا حل بھی امریکہ ہی کے پاس ہے۔ اس حوالے سے دلائل کبھی بھی اعداد وشمار پر مبنی نہيں ہوتے۔ ميرا خيال ہے کہ جوش اور جذبات کی دھند کو ہٹا کر اعدادوشمار کی روشنی میں حقيقت کو ديکھنا چائيے۔ اگر امريکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو پھر آپ ان حقائق کو کيسے جھٹلائيں گے اس وقت امريکہ ميں سب سے زيادہ تيزی سے پيھلنے والا مذہب اسلام ہے۔ امريکہ ميں قائم 1200 سےزائد مساجد ميں لاکھوں کی تعداد ميں مسلمان ديگر شہريوں کی طرح اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کا پورا حق رکھتے ہيں۔ يہی نہيں بلکہ مسلمانوں کو يہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ غير مذہب کے لوگوں کو مساجد ميں بلوا کر ان سے مذہب کے معاملات ميں ڈائيلاگ کر سکتے ہيں۔ مسلمانوں کو مساجد تعمير کرنے اور اسلامی تنظيموں کے قيام جيسے معاملات ميں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ سياست، تجارت اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات ميں مسلمانوں کو مکمل نمايندگی حاصل ہے۔ يہ کيسی منطق ہے کہ امريکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہے اور اس کے باوجود مسلمانوں کو امريکہ کے اندر ترقی کرنے کے تمام تر مواقع ميسر ہيں۔ اگر امريکہ پاکستان اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد 267 ملين اور 1951 سے لے کر اب تک يو – ايس – ايڈ کے ادارے کی جانب سے دی جانے والی 7 بلين ڈالرز کی امداد کو آپ کيسے فراموش کريں گے۔ اس کے علاوہ امريکہ کی بےشمار نجی تنظيموں نے اس مشکل وقت ميں پاکستان کے ليے امداد کا انتظام کیا۔ اس بارے ميں مزيد تفصيلات کے ليے يہ ويب لنک دے رہا ہوں۔ usaid.gov/pk/mission/background/index.htm امريکہ فلسطين کی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست ميں پہلے نمبر پر ہے۔پچھلے دس سالوں ميں امريکہ کی جانب سے فلسطين کو 8۔1 بلين ڈالرز کی امداد دی جا چکی ہے۔ اگر امريکہ مسلمانوں کے خلاف ہے تو پھرايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا مطالبہ کيوں کر رہا ہے؟ اگر امريکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو کويت پر عراق کے قبضے کے بعد اس کی مدد کو کيوں پہنچا۔ اس کے علاوہ بوسنيا کے مسلمانوں پر سربيا کی جارحيت کے خلاف امريکہ کی کوششيں آپ کيسے نظرانداز کريں گے۔ انڈونيشيا کے مسلمانوں کو سونامی کی تباہکاريوں کے بعد سب سے زيادہ امداد امريکی حکومت کی جانب سے ہی ملی تھی۔ اس ميں صرف امريکی حکومت ہی شامل نہيں تھی بلکہ امريکہ کی بےشمار نجی تنظيموں نے بھی اس ميں حصہ ليا تھا۔ 2006 ميں ايران ميں زلزلےاور2007 ميں بنگلہ ديش ميں سيلاب کی تباہی کے بعد امداد دينے والے ممالک ميں امريکہ سرفہرست تھا۔ 2006 ميں صحت، تعليم اور ديگر ترقياتی کاموں کے ضمن ميں امريکی حکومت کے توسط سے يو – ايس – ايڈ اور ايم – سی – سی کے اداروں کو جو امداد دی گئ اس کا تخمينہ 12 بلين ڈالرز ہے۔ يہ سارے ترقياتی منصوبے يو – ايس – ايڈ کے زير نگرانی پايہ تکميل تک پہنچے اور ان کی تفصيل آپ اس ويب سائٹ پر ديکھ سکتے ہيں۔ usaid.gov حقيقت يہ ہے کہ امريکہ مسلمان ممالک کو ہر سال کئ بلين ڈالرز کی امداد ديتا ہے۔ صرف يہی نہيں بلکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد ميں مسلمانوں کو امريکہ ميں شہريت دی جاتی ہے۔ عرب دنيا اور ديگر مسلم ممالک سے ہر سال ہزاروں طالب علم امريکہ کے تعليمی اداروں ميں اعلی تعليم کے حصول کے ليے آتے ہيں ان پر اس حوالے سے کسی قسم کی کوئ پابندی نہيں ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال لاتعداد مسلمان پناہ گزين امریکہ ميں آ کر بستے ہيں اور انہيں امريکی شہريوں کے مساوی بنيادی انسانی اور آئينی حقوق ديے جاتے ہيں۔ امريکہ نہ ہی اپنی جغرافيائ حدود ميں اضافے کا خواہ ہے اور نہ ہی کسی قوم، مذہب يا گروہ کو ختم کرنے کے درپے ہے اور اس کا ثبوت يہ ہے امريکی آئين کے مطابق امريکی شہريوں کو بغير کسی تفريق کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ دنيا ميں کتنے ممالک ايسے ہيں جو يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ وہاں پر ہر قوم اور مذہب کے لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ جب امريکی حکومت نے اپنے ملک ميں کسی مذہب يا قوم پر پابندی نہيں لگائ تو پھر يہ الزام کيسے لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ پوری دنيا پر ايک خاص نظام، مذہب يا اقدار مسلط کرنے کا خواہش مند ہے ؟ ڈبليو – ايم – ڈی ايشو امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے کيے جانے والے سارے فيصلے مکمل اور غلطيوں سے پاک نہيں ہيں اور نہ ہی امريکی حکومت نے يہ دعوی کيا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی 100 فيصد درست ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ عراق ميں مہلک ہتھياروں کے ذخيرے کی موجودگی کے حوالے سے ماہرين کے تجزيات غلط ثابت ہوۓ۔ اور اس حوالے سے امريکی حکومت نے حقيقت کو چھپانے کی کوئ کوشش نہيں کی۔ بلکل اسی طرح اور بھی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں جب امريکی حکومت نے پبلک فورمز پر اپنی پاليسيوں کا ازسرنو جائزہ لينے ميں کبھی قباحت کا مظاہرہ نہيں کيا۔ اس ايشو کے حوالے سے بل کلنٹن انتظاميہ اور موجودہ امريکی حکومت کے علاوہ ديگر ممالیک جو مسلسل رپورٹس ملی تھيں اس ميں اس بات کے واضح اشارے تھے کہ صدام حسين مہلک ہتھياروں کی تياری کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے صدام حسين کا ماضی کا ريکارڈ بھی امريکی حکام کے خدشات ميں اضافہ کر رہا تھا۔ نجف، ہلہ،ہلاجہ اور سليمانيہ ميں صدام کے ہاتھوں کيميائ ہتھیاروں کے ذريعے ہزاروں عراقيوں کا قتل اور 1991 ميں کويت پر عراقی قبضے سے يہ بات ثابت تھی کہ اگر صدام حسين کی دسترس ميں مہلک ہتھياروں کا ذخيرہ آگيا تواس کے ظلم کی داستان مزيد طويل ہو جاۓ گی۔ اس حوالے سے خود صدام حسين کی مہلک ہتھياروں کو استعمال کرنے کی دھمکی ريکارڈ پر موجود ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد امريکہ اور ديگر ممالک کے خدشات ميں مزيد اضافہ ہو گيا۔ 1995 ميں جب صدام حسين کے داماد حسين کمل نے عراق سے بھاگ کرجارڈن ميں پناہ لی تو انھوں نے بھی صدام حسين کے نيوکلير اور کيميائ ہتھياروں کے حصول کے ليے منصوبوں سے حکام کو آگاہ کيا۔ 2003 ميں امريکی حملے سے قبل اقوام متحدہ کی سيکيورٹی کونسل عراق کو مہلک ہتھياروں کی تياری سے روکنے کے ليے اپنی کوششوں کا آغاز کر چکی تھی۔ يہی وجہ ہے کہ جب اقوام متحدہ کئ تحقيقی ٹيموں کو عراق ميں داخلے سے روک ديا گيا تو نہ صرف امريکہ بلکہ کئ انٹرنيشنل ٹيموں کی يہ مشترکہ رپورٹ تھی کہ صدام حکومت کا وجود علاقے کے امن کے ليے خطرہ ہے۔ ميں آپ کو يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی ايک رپورٹ اور ايک ویب سائيٹ کا لنک دے رہا ہوں جس ميں صدام کے ظلم کی داستان تفصيل سے پڑھ سکتے ہيں۔ usaid.gov/iraq/pdf/iraq_mass_graves.pdf massgraves.9neesan.com يہ رپورٹ پڑھنے کے بعد يہ فيصلہ ميں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ عراق کے مستقبل کے ليے کيا صورتحال زيادہ بہتر ہے صدام حسين کا وہ دوراقتدار جس ميں وہ اپنے کسی عمل کے ليے کسی کے سامنے جوابدہ نہيں تھے اور سينکڑوں کی تعداد ميں عراقيوں کو قید خانوں ميں ڈال کر ان پر تشدد کرنا معمول کی بات تھی يا 12 ملين عراقی ووٹرز کی منتخب کردہ موجودہ حکومت جو عراقی عوام کے سامنے اپنے ہر عمل کے ليے جوابدہ ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ حکومت سازی کے حوالے سے ابھی بھی بہت سے مسائل ہيں ليکن مستقبل کے ليے اميد افزا بنياديں رکھ دی گئ ہيں۔ عراق کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے يہ حقيقت بھی مد نظر رکھنی چاہيے کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دارامريکی افواج نہيں بلکہ وہ دہشت گرد تنظيميں ہيں جو بغير کسی تفريق کے معصوم عراقيوں کا خون بہا رہی ہيں۔ حال ہی ميں الغزل نامی بازار ميں ذہنی معذور لڑکيوں کے جسم پر بم باندھ کر ان کے ذريعے کرواۓ جانے والے دھماکے اور اس کے نتيجے ميں سو سے زيادہ بے گناہ عراقيوں کی موت اس سلسلے کی تازہ مثال ہے۔ |
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
bas_tera_intazar (02-02-09),
فاروق سرورخان (21-09-08)
|
12-02-08, 01:07 PM
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 39
مراسلات: 1,698
کمائي: 11,115
ميرا موڈ:
شکریہ: 353
895 مراسلہ میں 2,261 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب ---
بہت عمدہ --- آپ کی اس رپورٹ میں کئ سوال قابلِ غور ہیں - انشاءاللہ مکمل تفصیلات کے ساتھ پھر ملاقات ہوتی ہے۔ والسلام طاہر |
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے طاھر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
bas_tera_intazar (02-02-09),
فاروق سرورخان (21-09-08)
|
12-02-08, 01:07 PM
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(پانچواں حصہ)
گوانتاناموبے ميں قيديوں کے ساتھ غيرانسانی سلوک ميڈيا خاص طور پر انٹرنيٹ پر اس حوالے سے بے شمار تصاوير سب نے دیکھیں ہيں۔ پاکستان ميں عام تاثر يہ ہے کہ سينکڑوں کی تعداد ميں پاکستانی اس مقام پر امریکی فوجیوں کے غير انسانی سلوک کا شکار ہيں۔ يہ تاثر بھی عام ہے کہ ان قيدیوں کے تمام انسانی حقوق معطل ہيں اور انہيں کسی بھی قسم کی قانونی چارہ جوئ کا اختيار نہيں ہے۔ اس حوالے سے ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے حال ہی ميں گوانتاناموبے کا دورہ کيا تاکہ حقائق جان سکيں۔ ہماری ٹيم نے گوانتاناموبے ميں قيدیوں کے رہن سہن اور ان کو دی جانے والی سہوليات کا ازخود مشاہدہ کيا۔ گوانتاناموبے ميں اس وقت لگ بھگ 300 قيدی ہيں جن کا تعلق مختلف ملکوں سے ھے۔ ان ميں موجود پاکستانيوں کی تعداد انگليوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اس ليے يہ کہنا کہ وہاں پر سينکڑوں کی تعداد ميں پاکستانی موجود ہيں حقيقت کے منافی ہيں۔ اس کے علاوہ قيديوں کودو مختلف کيٹيگريوں ميں تقسيم کيا گيا ہے اور اسی حوالے سے انہیں دو مختلف رنگوں کی يونيفارم دی گئ ہيں۔ اورنج (مالٹا) يونيفارم ميں ملبوس جن قيديوں کی تصاویر آپ انٹرنيٹ پر ديکھتے ہيں وہ گوانتاناموبے ميں قيديوں کی صرف ايک کيٹيگری کی ہیں۔ يہ وہ کيٹيگری ہے جو تخريب کاری کی انتہاہی سنگين کاروائيوں ميں ملوث ہونے کے علاوہ جيل حکام پر حملے بھی کر چکے ہيں۔ وہ قيدی جو قواعد وضوابط کی پابندی کرتے ہيں انہيں دن ميں 12 گھنٹے فٹ بال، باسکٹ بال، جاگنگ اور جم کی سہوليات دستياب ہيں۔ تمام مسلمان قيديوں کو ایک مسلم کٹ دی جاتی ہے جس ميں قرآن پاک، جاہ نماز اور تسبيح شامل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو دن ميں تين بار حلال کھانا ديا جاتا ہے جس کا يوميہ خرچہ وہاں تعنيات فوجيوں کے يوميہ خرچے سے زيادہ ہوتا ہے۔ 5 ہزار سے زائد کتابوں کی ايک لائبريری بھی موجود ہے جس ميں صحيح بخاری اور صحيح مسلم سميت بےشمار مذہبی کتابيں شامل ہيں۔ يہاں پر تعنيات فوجيوں کو قرآن پاک کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہيں ہے۔ يہ ذمہ داری وہاں پر کام کرنے والے مسلم لائيبريرين ادا کرتے ہيں- قيديوں کے ليے تعليم کی سہولت بھی ہے جہاں انہيں عربی،پشتو اور انگريزی کی تعليم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دن کے مخصوص اوقات میں قيديوں کو ٹی وی ديکھنے کی بھی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ يہاں پر 20 بستروں پر مشتمل ايک مکمل ہسپتال بھی ہے جو کہ واشنگٹن ميں واقع امريکی نيوی کے ہسپتال سے براہراست منسلک ہے۔ يہاں پر 100 کے قريب ڈاکٹرز اور نرسز بھی تعنيات ہيں۔ اس ہسپتال کے مختلف شعبہ جات ميں ايک ريڈيالوجی ليب، فارميسی اور آپريشن تھيٹر کے علاوہ ڈينٹل کلينک بھی شامل ہيں۔ آپ کی اطلاع کے ليے يہ بھی بتا دوں کہ اس وقت امريکی سپريم کورٹ ( جو کہ امریکہ ميں قانون کا سب سے اعلی ادارہ ہے) سميت بہت سی عدالتوں ميں ايسے کئ کيس زير سماعت ہيں جن کی رو سے ان قيديوں کے قانونی حقوق کا تعين کيا جاۓ گا۔ ان قيديوں کی جانب سے ايک امريکی اٹارنی بھی نامزد کيا گيا ہے جو ان قيديوں کی نمايندگی کر رہا ہے۔ اس وقت بھی امريکی سپريم کورٹ ايک کيس کی سماعت سن رہی ہے جس کی رو سے ان قيديوں کے حوالے سے امريکی سول ججز کے قانونی دائرہ کار کا تعين کيا جاۓ گا۔ اس حوالے سے ميں ايک الجيرين قيدی احمد بيلبيچا کی مثال دیتا چلوں جس نے اپنی رہاہی کے احکامات کو نا صرف رد کر ديا بلکہ امريکی ملٹری کورٹ ميں اپيل دائر کر دی کہ اسے اس کے ملک واپس نہ بيجھا جاۓ۔ اسی طرح کچھ قيدی ايسے بھی ہيں جنہیں ان کی متعلقہ حکومتوں نے واپس لينے سے انکار کر ديا ہے۔ انٹرنيشنل ريڈکراس، انٹرنيشنل ميڈيا کی کئ ٹيميں اور ان قيديوں کی نمايندگی کرنے والے وکيل باقاعدگی سے گوانتاناموبے کا دورہ کرتے ہيں اور قيديوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ پيش کرتے ہيں۔ 2006 ميں يورپی پارليمنٹ کے ارکان پر مشتمل ايک گروپ نے بھی گوانتاناموبے کا دورہ کيا اور انھوں نے جو رپورٹ پيش کی اس کے مطابق " گوانتاناموبے ميں قيدیوں کو دی جانے والی سہوليات يورپ کی کئ جيلوں سے بہتر ہيں"۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کی جانب سے بناۓ جانے والی کچھ تصاوير اور ايک فلم کا لنک آپ کو دے رہا ہوں جو کہ اگرچہ عربی ميں ہے ليکن اس ميں دکھاۓ جانے والے مناظر آپ کو گوانتاناموبے کے حوالے سے تصوير کا دوسرا رخ سمجھنے ميں مدد ديں گے۔ آخر ميں کچھ باتيں ميں جان پلگر کے حوالے سے بھی کہتا چلوں۔ ايک اچھا صحافی وہ ہوتا ہے جو کسی بھی ايشو کے دونوں پہلو عوام کے سامنے رکھتا ہے اور پھر دونوں طرف کے دلائل دينے کے بعد فيصلہ سامعين پر چھوڑتا ہےکہ کيا صحيح ہے اور کيا غلط۔۔ ياد رکھيے کہ ہر ايشو کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر ہوتے ہيں ليکن اگر آپ صرف تصوير کا ايک رخ دکھائيں تو اس کا مطلب يہ ہوا کہ آپ کا تجزيہ غير جانبدار نہيں ہے اور آپ محض اپنی راۓ دے کر اس حوالے سے شوائد اکھٹے کر رہے ہيں۔ جان پلگر اپنی مخصوص سياسی سوچ اور يکطرفہ سياسی ايجنڈے کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہيں۔ عراق ميں صدام حسين حکومت کے مظالم سے جان پلگر کی چشم پوشی سے ميڈيا کے حوالے سے ان کے ہم عصر صحافی بخوبی واقف ہيں۔ وکی پيڈيا پر ان کے تعارفی صفحے پر ان کے بارے ميں ان کے مخالف صحافی ساتھيوں کی راۓ پڑھ سکتے ہيں جو انکے سنسنی پيھلانے والے صحافتی انداز سے بخوبی واقف ہيں۔ en.wikipedia.org/wiki/John_Pilger فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov usinfo.state.gov Last edited by عبدالقدوس; 13-02-08 at 04:59 AM. |
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
bas_tera_intazar (02-02-09),
فاروق سرورخان (21-09-08)
|
13-02-08, 05:01 AM
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
مراسلات: 13,483
کمائي: 2,199,357
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,747
2,860 مراسلہ میں 4,644 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد بھائی میں نے آپ کے یوٹیوب کے ربط کو فورم میں ایمبنڈ کیا لیکن یہاں پر لکھا آرہا ہے کہ ویڈیو دستیاب نہیں۔
کیا آپ وہ ویڈیو دوبارہ داخل کرنا پسند کریں گے؟ آپ کا داخل کردہ ربط youtube.com/watch?v=7FkXmm0aF5c |
|
|
13-02-08, 07:37 AM
|
#13 |
|
Junior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Away
مراسلات: 8
کمائي: 62
شکریہ: 0
4 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائ فواد،
آپ سے صرف ایک موضوع پر کچھ کہنا چاہوں گا۔ بقول آپ کے کہ گوانتانامو میں قیدیوں کے ساتھ نہایت عمدہ سلوک ہو رہا ہے اور اس حد تک کہ وہ اپنے ملک واپس جانے کے لیئئے بھی تیار نہیں کیا امریکی حکومت نے انہیں رہا کر دیا - امریکہ تو بقول آپ کے مسلمانوں کا ہمدرد ہے تو وہ ایسے قیدیوں کو امریکی شہریت کیوں نہیں دے دیتا؟ کیا ضرورت ہے ان امریکی شکر گزاروں کو ضائع کرنے کی؟ کم از کم ان کے چاہنے والوں میں کچھ اور اضافہ تو ہو جائے گا اور وہ بھی مسلمان۔ میرا مشورہ ضرور آگے بھجوادیں۔ دی گوانتانامو فائل نامی کتاب کے مصنف بھی شاید کسی امریکی دشمن ملک کے آلہ کار ہیں جو کہ امریکی حکومت سے 9 ستمبر کے اصلی کرداروں کا پتہ مانگ رہے ہیں، جو کہ بقول امریکہ انہی جیلوں میں موجود ہیں؟ آپ کی ریسرچ ان ملزمان کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ جو 15 سال کی عمر کے ہیں اور ان پر دہشت گردی کا الزام ہے؟ خیر یہ سب باتیں چھوڑیں، یہ بتائیں کہ ان ملزمان جی ہاں یہ ملزم ہیں نہ کہ مجرم کیوں کہ ان پر کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا گیا - عدالت کا مطلب ہے کہ ایسی عدالت جہاں ملزم کو اپنا بچاؤ کرنے کا اختیار ہو؟ کیوں جنیوا کنونشن کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا؟ کیا یہ کوئ جنگ نہیں تھی؟ اگر نہیں تو پھر یہ کیا ہے؟ امریکی حکومت اپنی لاٹھی اپنی بھینس والی حکایت پر عمل کر رہی ہے صرف اس لیئے کہ اسے روکنے والا کوئ نہیں۔ اور تو اور ہمارے اپنے ان سے مل کر ان کے ہر عمل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ جناب آپ کے سارے اعدادوشمار امریکی حکومت کے فراہم کردہ ہیں نہ کے کسی آزاد سورس کے، لہذا ان کا حقیقت سے تعلق پیدا کرنا درست نہیں۔ یہ تو وہی بات ہے کہ حکومت پاکستان نے لاکھ شور مچایا کہ پاکستان معاشی بلندیوں پر پہنچ چکا ہے اور ہم نے اتنے اہداف حاصل کر لیئے ہیں وغیرہ وغیرہ مگر اصل حقیقت ورکاری اعدادوشمار نہیں ہوتی، یہ صرف پروپیگینڈا ہوتا ہے یا مارکیٹنگ اسٹائل --- حقیقت بالکل برعکس - ہم آٹے اور گھی کے لیئے پریشان۔ سرکار، یہ اعدادوشمار تو ویسے بھی کئ امریکی حکومتی اداروں کی سائٹس پر ہزاروں کی تعداد میں ہیں، جان پلگر اور دوسرے صحافی ایسی ہی غلط چیزوں پر ایشو بناتے ہیں اور جنہیں سرکار پھر منفی مارکیٹنگ سے غلط ثابت کرتی رہتی ہے۔۔۔ یہ کوئ صف ایک صحافی نہیں کئ ہیں گوگل پر کئ ایسی ویڈیوز موجود ہیں، کچھ دن بعد میں انہیں یہاں اپلوڈ کر دوں گا۔ فواد صاحب، کوئ بہتر کام کر لیں بھائ، آپ خاصے قابل لگتے ہیں ملک و قوم کی خدمت آپ زیادہ بہتر کر سکتے ہیں نہ کہ یہ۔۔۔۔ اگر کوئ بات پری لگے تو معذرت اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے - آمین |
|
|
| مندرجہ ذیل 10 صارفین نے اجنبی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
bas_tera_intazar (02-02-09),
پیاسا (29-07-08),
وجدان (08-07-08),
محسن غنی (13-02-08),
مسٹر رائٹ (13-02-08),
آفرین بخت (16-08-08),
خرم شہزاد خرم (14-02-08),
زین الدین زیڈ ایف (18-09-08),
سحر (18-04-09),
شاہد جمیل حفیظ (10-10-08)
|
13-02-08, 09:25 AM
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 33
مراسلات: 1,246
کمائي: 5,081
ميرا موڈ:
شکریہ: 175
243 مراسلہ میں 487 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Might Is Right
فواد صاحب آپ کیوں اتنا ٹائم ضائع کر رہے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ سیاہ و سفید کیا ہے۔ اگر عراق میں واقعی ہی ایک ڈکٹیٹر تھا تو عراق پر حملے سے پہلے دنیا بھر بشمول امریکہ میں ہیومین رائٹس تنظیموں اور لوگوں نے حملے کے خلاف مظاہرے کیوں کئے؟ کیا عراق میں سے کسی نے امریکہ سے مدد مانگی تھی کہ ہمیں ان ظالموں سے بچاو اگر ایسا ہے تو آپ کو اسرائیلی ٹینک اور لڑاکے طیارے فلسطینیوں پر بم اور مزائل گراتے کیوں نظر نہیں آتے۔ کشمیر میں تو آپ کے خیا ل سے سارے ہی انتہا پسند ہونگے اور بھارت جو کر رہا ہے وہ ٹھیک ہی ہے۔ رائٹ؟ اور جو اقوام متحدہ میں 1948 میں قراداد کشمیر کے متعلق ہوئی تھی وہ تو بس ٹی ٹائم کے وقت شغل کے طور پر ہوئی ہو گی۔ ان مسائل پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی نظر نہیں جاتی اور جہاں فائدہ نظر آتا ہے یا کوئی کل پرزہ نکالتا نظر آتا ہے اسی کو اڑا دیتے ہیں ۔ کیا آپ لوگ اسی کو جمہوریت کہتے ہیں؟ |
|
|
| مندرجہ ذیل 3 صارفین نے مسٹر رائٹ کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
13-02-08, 12:13 PM
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 183
کمائي: 1,810
شکریہ: 0
75 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
youtube.com/watch?v=UewZeSOD-vg
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | اسی میں تلاش کریں |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک سوال ایک جواب | خرم شہزاد خرم | گپ شپ | 78 | 29-11-07 10:27 AM |
| ایک غزل برائے تنقید آپکی خدمت میں حاضر ہے۔ | ایم اے راجا | شعر و شاعری | 6 | 02-10-07 09:33 PM |
| ایک سوال | عدنان | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 15 | 14-07-07 11:52 PM |