| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 619
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی لڑکی (18-09-09), ملک بھائی (17-09-09), محمدخلیل (18-09-09), ام غزل (17-09-09), اخترحسین (15-09-09), راجہ اکرام (17-09-09), رضی (15-09-09), سحر (29-10-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
((((((((((((((((((((((((((((((((((((اگر ہم برائی یا Evilکا مفہوم بیان کرنا چاہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کوئی ایسی چیز جس کا رویہ قابل اعتراض ہو ۔ ۔ ۔ جوچیز اخلاقی طور پر اچھی یا بری ہو ۔ ۔ ۔ جو نقصان ۔ ۔ ۔ تباہی یا بد قسمتی کا سبب ہو۔ اگر برائی یا Evilکی تشریح سادہ الفاظ میں کرنا چاہیں تو کچھ یوں ہوگی "ایسی طاقت یا رویہ جو اچھائی کے خلاف یا اسکا دشمن ہو۔برائی ایک ایسی طاقت ہے جو عموماََ دوسروں کے نقصان پر اپنا فائدہ سوچتی ہے اور اکثر تباہی کا ہی سبب بنتی رہتی ہے۔"
چناچہ برائی کے تین ٹیسٹ بنتے ہیں 1: جو نقصان یا بد قسمتی کا سبب ہو 2: جو اچھائی کے خلاف ہو 3:دوسروں کے نقصان پر اپنا فائدہ سوچتی ہو اگر ہم میں سے ہر کوئی ۔ ۔ ۔ایک سادہ کاغذ لے کر بیٹھ جائے۔ اس کاغذ پر ہر ملک کا نام لکھ دے ۔ ۔ ۔ اور انٹرنیٹ کو تلاشنا شروع کر دے۔ ہر ملک کے خلاف جتنے جرائم ثابت ہو چکے ہیں انکو لکھنا شروع کر دے۔ ہر ملک کے ہاتھوں پچھلی ایک صدی کے دوران جتنی ہلاکتیں ، تباہیاں ہوئی ہیں وہ اس ملک کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دے۔ اور جب کام مکمل کر لے تو دیکھے کس کا نامہ اعمال زیادہ بھاری ہے۔ کچھ ممالک ہوں گے جن کے دو چار جرائم ہوں گے ۔ ۔ ۔ چند ممالک ہوں گے جو کافی زیادہ انسانی مظالم کا سبب بنے ہوں گے ۔ ۔ ۔ مگر ابھی میرے ساتھ ایک شرط لگا لیجیے ۔ ۔ ۔ تین صرف تین ممالک ایسے ہوں گے جن کے جرائم کا خلاصہ لکھنے کے لیے آپکو صفحات نہیں رجسٹر درکار ہوں گے۔ میرے ساتھ اس بات کی بھی شرط لگا لیجیے کہ اپ کے ہاتھ انکے جرائم کو لکھتے لکھتے تک جائیں گے مگر انکے جرائم ختم نہ ہونگے۔ جی ہاں یہ طاقتیں امریکہ برطانیہ اور انکا ناجائز بچہ اسرائیل ہے۔ امریکی صدر بش دکا نعرہ کہ "برائی کے تین محور" ہیں۔۔۔ایران۔۔۔۔عراق۔۔۔۔شم الی کوریا ۔ ساری دنیا کو Fascinate کر گیا۔اور مغربی ممالک کی افواج جوق در جوق امریکی پرچم تلے جمع ہو کر مسلمان ممالک پر وحشیوں کی طرح ٹوٹ پڑیں۔ امریکن عوام جس قدر مرضی اچھے ہوں ۔ ۔ ۔ برطانیہ کی فطرت جس قدر مرضی انصاف پسند ہو ۔ ۔ ۔ (اسرائیل کا کیا تذکرہ کرنا وہ تو ہے ہی ولد الحرام)مگر ان طاقتوں کا رویہ انکے اعمال و افعال درحقیقت نسل انسانی کے لیے خطرنک ہوتے جا ہے ہیں۔ یہ طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے دوسروں کا نقصان کرنے سے دریغ بھی نہیں کرتیں۔ یہ طاقتیں ایسی ہیں کہ جن سے بھلائی کے کام کم اور تباہی و بربادی کے سر چشمے زیادہ پھوٹ رہے ہیں۔ یہ طاقتیں اس وقت جسد انسانی پر ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہہں۔یہ طاقتیں دندیا کے جسم پر کینسر کا دکھتا ہو پھوڑا ہیں کہ اگر انکو مزید نظر انداز کیا جاتا رہا تو شاید یہ پورے جسم کو ہی گھن لگا دے۔ برائی کے یہ تین محور در حقیقت امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کہ جس کے تحفط کی ذمہ داری انتہائی مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے۔ کہ جس سے ایٹمی پھیلاؤ کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا (الزامات لگانا اور بات ہے ثابت کرنا اور بات)۔ کہ جس کا کمانڈ ااینڈ کنٹرؤل سسٹم دنیا کا سب سے بہترین سسٹم تصور کیا جاتا ہے اس پر آہ و فغاں کرنے والا ملک امریکہ کا حال یہ ہے کہ خود اس کے ملک میں اٹمی پھیلاؤ اور گمشدگی کے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ عراق کے WMDکا شور ڈالنے ملک امریکہ آج تک عراق کے خلاف ایک بھی ہتھیار کا ثبوت نہیں لا سکا ۔ ۔۔ مگر خود امریکہ کے کرتوت یہ ہیں کہ سال 2008 میں پوری دنیا میں اسلحے کی فروخت کا تین تہائی صرف امریکہ سے ہوا۔ اسی امریکہ نے اس اسرائیل کو اپنے مہلک ہتھیار بیچے جس نے فلسطین کے مظلوم عوام کا قتل عام برپا کر رکھا ہے جس نے غزہ پر کئی بار کی جارحیت میں ہزاروں معصوم افراد کی نسل کشی کی۔ اسی امن کے دعوے دار ملک نے بھارت کو اسلحہ بیچا جس نے تین بات پاکستان سے جنگ لڑی ، چانا و دیگر ممالک سے جس کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں ۔ امریکی اسلحہ سے ہونے والی انسانی جانوں کے اتلاف کا شمار نا ممکن ہے۔ یاد کیجیے برائی دوسروں کے نقصان پر اپنا فائدہ تلاش کرتی ہے۔ یہی تو امریکہ بھی کرتا ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر اس کے خلاف پابندیاں لگانے والا ملک امریکہ خود ایٹم بم ایجاد کرنے بلکہ اسکو سب سے پہلے استعمال کرنے کا بھی مجرم ہے۔ امریکہ نے معصوم جاپانی عوام پر ایٹم بم کا تجربہ کر کے ناگاساکی اور ہیروشیما کے لاکھوں معصوم افراد پر جہنم کا دہانہ کھول دیا۔ آج بھی اس امریکی حرکت کی وجہ سے ان علاقوں میں نسل انسانی کا پنپنا نا ممکن ہے۔ مگر امریکہ اپنی اس حرکت پر پشیماں ہونے کے بجائے اس پر اتراتا ہے۔ اگر اس کے بعد امریکہ نے ایٹمی ہتھیاروں کو ترک کر دیا ہوتا تو بھی اسکا ایران کے خالف دعویٰ شاید بر حق ہوتا ۔ ۔ ۔ مگر خود جس کے پاس ہزاروں ایٹمی ہتھیار ہوں وہ کیسے دوسروں کو منع کر سکتا ہے۔ ہیرو شیما ، ناگاساکی تک کیا محدود امریکہ نامی برائی نے اپنے پر پرزے اس قدر باہر نکال لیے ہیں کہ اس نے مختلف ممالک جیسے ویت نام، کوریا، عراق ،افغانستان وغیرہ میں دخل اندازی کر کے وہاں کے لاکھوں بے گناہ اور معصوم افراد کا قتل عام کیا۔ عراق پر دس سالہ پابندیوں کے دوران امرکی وحشیانہ رویہ کے وجہ سے لاکھوں معصوم بچے بھوک اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ افغانستان میں آئے روز کی بمباریوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلی ایک صدی میں امریکہ کئ وحشیانہ کاروائیوں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے معصوم انسانوں کی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہے۔ اور اگر اس کے حواریوں کے کارناموں کو بھی شامل کر دیا جائے تو انتہائی خوفناک لرزا دینے والی تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں جاری اس کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں معصوم افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جبکہ خود امریکہ کا اعتراف ہے کہ ان میں ہلاک ہونے والے القائدہ کارکنوں کی تعداد ایک درجن تک ہے۔ ان امریکی کاروائیوں کے نتیجے میں پاکستان دہشت گردی کی کاروائیوں کی لپیٹ میں آ گیا اور ان دہشت گردی کی کاروائیوں کے نتیجے میں جان بحق ہونے والے معصوم افراد بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ امریکہ عموماََ مختلف ممالک کے ایسے حکمرانوں کی مدد اور اعانت کرتا ہے کہ جو اس معاشرے کے کرپٹ اور فاسد قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں امریکہ کے دشمن ممالک جیسے ایران کا صدر انتہائی اعلیٰ اخلاق اور اچھی شہرت رکھنے والا شخص ہے۔ یاد کیجیے کہ برائی کی ایک اور تعریف "اچھائی کا مخالف" ہونا ہے۔ یہی امریکہ مشرف اور صدر زرداری سے تو خوش اخلاقی سے ملتا اور تعاون کرتا ہے مگر اچھی شہرت کے حامل نیک طنیت صدر احمدی نجاد کومسکرا کر ملنا گوعارہ نہیں کرتا۔ یہی امریکہ پاکستان میں جاری قحشیانہ کاروائیوں جیسے لال مسجد پر بمباری سے تو اندرونی معاملہ قرار دے کر صرف نظر کرتا ہے مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ایران کے انتخابات میں ببراہ راست مداخلت کرتا ہے اور مذمت کرتا ہے۔ چناچہ امریکہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اچھوں کا دشمن اور بروں کا دوست ہے۔ امریکہ کی آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ۔ ۔ ۔ اس کا ہر قدم۔ ۔ ۔ ہر فیصلہ ۔ ۔ ۔ ہر سوچ ۔ ۔ ۔ در حقیقت تباہی و بربادی اور نسل انسانی کے لیے بد قسمتی پر منتج ہوتی ہے۔ امریکہ کا رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ محض اپنے مفاد کی خاطر اپنے دوستوں کو نظر انداز کرنے ،مشکل میں ڈالنےاور تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ آپ امریکہ کے مخآلفوں کا ریکارڈ اتھا کر دیکھ لیں وہ اپنے ممالک میں انتہائی نیک نام اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں لیکن امریکہ کے دوستوں کی اپنے ملک میں کوئی عزت، کوئی نیک نامی نہیں ہوتی۔ وہ معاشرے کے انتہائی کرپٹ، بد نام اور قابل نفرت کئیے جانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ چناچہ برائی کو روکنے کا طریقہ یہ نہیں کہ اس کو اور اس کے کرتوتوں کر نظر انداز کر دو۔ بلکہ برائی کو فوراََ ہی جڑ سے اکھآڑ دینا چاہیے۔ کینسر کا پھوڑا جسم میں جتنی زیادہ دیر تک رہے گا ۔ ۔ ۔ جسم کو اتنا ہی نقصان دے گا۔ کینزر کے پھوڑے کا واحد علاج "آپریشن" ہے۔ اور اس میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ (بقی دو میں سے ایک ملک محض طفل پٹھوہے جبکہ دوسرا ولد الحرام اس لیے انکا تذکرہ فضول ہے) __________________)))))))))))))))))))))))))))))))) ) شاباش میرا بھائی جیتا رہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں تک ايٹمی اساسوں کے حوالے سے تشويش کا سوال ہے تو ميڈيا کی قياس آرائيوں اور اخباری تبصروں سے ہٹ کر ميں آپ کی توجہ امريکی صدر کے حاليہ بيان کی طرف دلواتا ہوں جنھوں نے حال ہی ميں پاکستان کی عوام کے لیے 5۔1 بلين ڈالرز کا امدادی پيکج منظور کيا ہے۔ "مجھے اس بات پر مکمل اعتماد ہے کہ حکومت پاکستان نے ايٹمی اساسوں کی حفاظت کا انتظام کيا ہے۔ يہ اساسے پاکستان کی ملکيت ہيں۔ ميری تشويش اس حوالے سے ہے کہ طالبان اور ديگر دہشت گرد تنظيميں افغانستان، ايشيا اور مشرق وسطی ميں اپنی جڑيں مضبوط نہ کر لیں"۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی معيشت ترقی کے ليے دفاع کی صنعت پر انحصار نہيں کرتی۔ يہ بھی ياد رہے کہ صرف اسلحہ سازی ہی وہ واحد صنعت نہيں ہے جس ميں امريکہ عالمی رينکنگ ميں سب سے اوپر ہے۔ چاہے وہ تعليم ،زرعات، آئ – ٹی ،جہاز سازی يا تفريح کی صنعت ہو، امريکی معيشت کسی ايک صنعت پر مخصوص نہيں ہے۔ يہ بھی ايک حقیقت ہے کہ امريکہ جنگ يا تشدد سے متاثرہ علاقوں کو معاشی اور سازوسامان پر مبنی امداد مہيا کرنے والوں ممالک ميں سر فہرست ہے۔ اس بات کی کيا منطق ہے کہ امريکہ دانستہ فوجی کاروائيوں اور جنگوں کی ترغيب اورحمايت کرے اور پھر متاثرہ علاقوں کی مدد کے ليے اپنے بيش بہا معاشی اور انسانی وسائل بھی فراہم کرے؟ اعداد وشمار اور عملی حقائق اس تھيوری کو غلط ثابت کرتے ہيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں تک ہيروشيما اور ناگاساکی کا سوال ہے تو میں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ سال 1945 ميں امريکہ کو جاپان سے جنگ کرتے ہوۓ 4 سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اگر آپ تاريخ کا جائزہ لیں تو جاپان کی توسيع پسند قوتوں نے نہ صرف يہ کہ امريکہ ميں پرل ہاربر پر حملہ کيا تھا بلکہ چين اور ساؤتھ ايسٹ ايشيا کے بڑے علاقے پر قبضہ کيا جا چکا تھا۔ سال 1945 ميں امريکہ کے سامنے صرف دو آپشنز تھے ، يا تو جاپان ميں ايک بڑی فوج اتار کر باقاعدہ ايک طويل جنگ کا آغاز کيا جاۓ يا ايٹمی ہتھيار کا استعمال کر کے جاپان کو فوری طور پر شکست پر مجبور کيا جاۓ۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ہيروشيما اور ناگاساکی ميں بے گناہ انسانوں کی ہلاکت ايک بہت بڑا سانحہ تھا ليکن يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ طويل المدت زمينی جنگ کی صورت ميں انسانی جانوں کا نقصان اس سے کہيں زيادہ ہوتا۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (29-09-09), حیدر (29-09-09) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس میں کوئ شک نہيں کہ لال مسجد کے واقعے میں بے گناہ افراد کی ہلاکت ايک المناک سانحہ تھا۔ ليکن امريکی حکومت فيصلہ سازی کے اس عمل کا حصہ نہيں تھی جس کے نتيجے ميں يہ فوجی آپريشن کيا گياتھا۔ يہ فیصلہ حکومت پاکستان کی جانب سے کيا گيا تھا۔ آج بھی پاکستان ميں مختلف حلقوں اور سياسی جماعتوں کے مابين حقائق اور واقعات کے تسلسل کے حوالے سے مختلف آراء پائ جاتی ہيں۔ امريکی حکومت کسی بھی فوجی آپريشن کے نتيجے ميں بے گناہ افراد کی ہلاکت کو افسوس ناک سمجھتی ہے۔ ليکن اس ضمن ميں تمام تر ذمہ داری منتخب حکومت، متعلقہ اداروں اور پاکستان کے عوام کی ہے کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے حقائق کی تحقيقات کريں اور ذمہ دار افراد کو ملک کے قوانين کے مطابق سزا ديں۔ جہاں تک ايران ميں انتخابات کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں واضح کر دوں کہ تحفظات اور خدشات کا اظہار صرف امريکہ کی جانب سے نہيں کيا گيا تھا۔ عالمی براداری کی جانب سے عمومی طور پر ايرانی حکومت کے مظاہرين کے خلاف طاقت کے استعمال کے فيصلے کو تنقيد کا نشانہ بنايا گيا تھا جو محض اپنے بنيادی انسانی حق کا استعمال کر رہے تھے۔ ميں يہ نشاندہی بھی کرنا چاہوں گا کہ امريکی حکومت نے يہ واضح کيا تھا کہ ايران کے مستقبل کے حوالے سے فيصلے کا اختيار ايران کے عوام کے ہاتھوں ميں ہے اور کسی ملک کو يہ حق نہيں ہے کہ وہ ايران کے اندرونی معاملات ميں مداخلت کرے۔ ايران کے انتخابات کے موقع پر اسی فورم پر امريکی حکومت کی پاليسی کی وضاحت کے حوالے سے ميری پوسٹ اس کا واضح ثبوت ہے۔ لائحہ عمل فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جنابہ ہلیری کلنٹن ارشاد فرماتی ہیں
U.S. Secretary of State Hillary Clinton, soon thereafter, said the "unthinkable" could happen in Pakistan: Islamists could get "the keys to the nuclear arsenal." جاپان ٹائمز on April 22, US Secretary of State, Hillary Clinton clearly remarked that atomic weapons of Pakistan could fall into the hands of terrorists پاکستان آبزرور although President Barrack Obama admitted that nuclear assets of Pakistan are safe, yet he clarified that America had all options open. اب امریکہ کے پاس کون سے تمام آپشن کھلے ہیں؟ جناب اوباما کا ادھورا بیان پیش کر کے امریکی پروردہ ہم کو کیوں بیوقوف بنانا چاہتا ہے جبکہ ہم تو ہیں ہی (امریکہ کو دوست کو کہتے ہیں) کون نہیں جانتا کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ملک ہے کہ جس نے WMDکے نام پر ایک ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا لیکن بعد میں اپنا ازلی ڈھیٹ پن دکھاتے ہوئے بولا کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ جبکہ امریکی نیوکلیر سیکیورٹی کا تزکرہ گول کرتے ہوئے امریکی پروردہ نے مٹی پاؤ والا حساب کیا ۔لیکن ایک رپورٹ تو دیکھیے According to the Fox News, the government accidentally posted on the Internet a list of government and civilian nuclear facilities and their activities in the United States. The 266-page document was published on May 6۔ Some of the pages were marked “highly confidential safeguards sensitive.” ڈاکٹر قدیر کا دشمن اور عالمی امن کے ٹھیکیدار امریکہ کا حال اسی رپورٹ میں دیکھیے It is also mentionable here that the equipment which can be useful in preparation of nuclear device is available in the open American’s markets. There are cases that said equipments were smuggled to Iran, India and Israel on cash payments. خود اسکی کمپنیاں اتنی شتر بے مہار ہیں کہ امریکہ کی حکومت کے قابو سے ہی باہر ہیں On June 12, 2004, Berkeley Nucleonic Corporation (BNC), an American company was fined US $ 300,000 for exporting a nuclear component to the Bhaba Atomic Research Center in India. ایران پر ایٹمی پابندیاں لگوانے کے لیے کوشاں امریکہ ۔ ۔ ۔ جس بھارت کے ستھ نیوکلیر تعاون کر رہا ہے اس کا حال دیکھیے In December, 2006, a container packed with radioactive material had been stolen from an Indian fortified research atomic facility near Mumbai. اب بھارت کیا کرے گا امریکی ایٹمی تعاون کے ساتھ یہ اظہر من الشمن ہے لیکن امریکہ کا لاڈلا ہے اب تو وہ۔ Reportedly, 105 cases of nuclear proliferation in India have been recorded since 1984. In July 1998, India’s Central Bureau of Investigation (CBI) seized eight kg. There are cases that nuclear material ( uranium) was stolen from an atomic research center and decision on these cases are still pending due to involvement of corrupt politicians of India. انڈیا کے تو کتنے کیس سنائیں ۔ ۔ ۔ مگر امریکہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگنی ۔ انکو تو ڈاکٹر قدیر یاد آنا ہے۔ اپنے کرتوت کون دیکھتا ہے۔ امریکہ کو تو اسرائیل نامی رکھوالی کے کتے کا جرائم بھی نظر نہیں اتے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
۔
جناب امریکی پروردہ فرماتے ہیں بلکہ ہم کو تاثر دینے کی کوشش فرماتے ہیں کہ امریکہ نے تو ایٹمی ہتھیار آخری حربہ کو طور پر جنگ کے کوئی 4 سال بعد استعمال کیے وغیرہ۔ جناب امریکہ نے تو 1939 میں ہی ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ تو کیا چند مہنیوں میں ری ایکٹر تعمیر کر کے ایٹم بم بھی بنا لینا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے جیسے ہی امریکہ اس قابل ہوا کہ ایٹم بم کو استعمال کر سکے اس نے معصوم شہریوں پر کیا۔ امریکی پروگرام کا آغاز SLOWتھا۔ حتی کہ مجبور ہو کر اسکو امریکی فوج کی نگرانی میں دے دیا گیا اور اسکو مین ہٹن پروجیکٹ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد اس پر تیزی سے کام کیا گیا اور امریکہ 1945 کے آغاز یا درمیان میں تین قابل استعمال ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا اور 6 جولائی 1945 کا اسکا کامیاب تجربہ کیا۔ دوسرا کامیاب ترین تجربہ امریکہ نے 6 اگست کو ہیروشیما اور تیسرا کامیاب تجربہ 9 اگست کو ناگاساکی پر کیا۔ یہ ہے پہلے تین امریکی ایٹم بموں کی کہانی۔ آج امریکہ کے پاس کوئی 6000 سے زائد وار ہیڈز ہیں ۔پتا نہیں یہ دنیا کے ساتھ کیا کرے گا۔ اس لیے جناب ہمکو یہ سمجھانے کی کوشش نہ کریں کہ امریکہ کے پاس پہلے سے ہی ایٹم بم تھا لیکن اس نے مجبور ہر کر استعمال کیا۔ در حقیقت امریکہ کے پاس جیسے ہی ایٹم بم آیا اس نے استعمال کر ڈالا۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (17-09-09), رضی (18-09-09) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلحے کے بارے میں عجیب ہی بات کر دی انہوں نے۔ ہم نے کب کہا کہ امریکہ کی معیشت کا دارومدار اسلحے کی صنعت پر ہے؟ زرا دوبارا پڑھ لیں میری پوسٹ کو۔ مجھے لگتا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہے ۔ میرا کہنا تو یہ ہے کہ اسلحے کی فروخت کا سب سے بڑا ذمہ دار ۔ ۔ ۔ کیسے دنیا میں امن بانٹتا پھر رہا ہے؟ پاگل جنونیوں کے ہاتھ میں تباہ کن ہتھیار دے کر یہ تصور کرنا کہ امن بھی ہو گا ۔ ۔ ۔ فاتر العقلی والی بات لگتی ہے۔ اور پھر امریکہ کے اسلحے کا بڑا خریدار ایک بھارت بھی ہے جس کا نا تو نیوکلیر ٹریک ریکارڈ اچھا ہے اور نہ ہی روایتی جنگوں والا۔ اس کے اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔ پھر بھی امریکہ پاکستان پر زور ڈالتا ہے کہ اس کی امداد (مونگ پھلی کا دانہ ) کا انڈیا کے خلاف کوئی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (17-09-09), رضی (18-09-09) |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر الزمان اپ نے نہائت شاندار لکھا ہے۔۔
سرورق کے لیے پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب پتا نہیں کام کے دوران آپکو سوچنے کا موقع ملتا ہو یا نہیں اور کام کے بعد پتا نہیں آپکی کیا مصروفیات ہوتی ہوں یا شاید کبھی کبھی آپ کے ذہن میں یہ سوچ در آتی ہو کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تقریباََ ساری دنیا ہی امریکہ کے خلاف ہے۔ باوجود امریکہ کی بھاری بھرکم فلاحی کاموں کے۔ ۔ ۔ جتنی نفرت ۔ ۔ ۔ اس ملک سے کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ کسی اور ملک سے نہیں کی جاتی۔ شاید آپ کبھی سوچتے ہوں ۔ ۔ ۔ تاہم اگر نہیں بھی سوچتے تو سوچنا شروع کر دیجیے۔ اللہ بہتر کرے گا
آپ جتنا بھی امریکہ کی وضاحتیں پیش کر لیجیے لیکن بحیثیت مسلمان میرا امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیانات اور اعداد و شمار سے زیادہ اللہ کے بیانات پر یقین ہے اور اسی اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں ہمیشہ کے لیے لکھ دیا ہے "تم تو ان سے محبت رکھتے ہو۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ لیکن (حقیقت میں) یہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ۔حالانکہ تم تو تمام کتابوں پر یقین رکھتے ہو اور جب یہ لوگ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔اور جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو تم پر غیظ و غضب میں انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں" "اور وہ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے حتی کہ تم انکی خؤاہشات کی پیروی نہ کرو گے" آپ کو شاید اللہ کی ان باتوں پر یقین ہو یا نہ ہو مگر آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے کہ امریکہ اور اسکے حؤاری ہر اس مسلمان کے دشمن یا مخالف رہے ہیں جو انکی خؤاہشات کی پیروی نہیں کرتا۔ مجھے یقین ہے کہ امریکن اور اس کے حؤاری ہمارے حکمرانوں کے اور دیگر کے منہ پر کہتے ہوں گے کہ ہم تھمارے دوست ہیں ۔ ۔ ۔ ہم تم سے محبت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر اللہ نے کہہ دیا ہے کہ وہ تو ہم سے محبت نہیں کرتے۔۔ اب میں اللہ کو مانوں یا آپکے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو؟ پھر ایک جگہ اللہ کہتا ہے کہ "اور اے لوگو جو ایمان لائے ہو یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنانا ۔ ۔ ۔ وہ تو ایک دوسرے کے دوست ہیں۔۔ ۔ اور جو کوئی ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ انہی میں سے ہو گا۔ بے شک اللہ اپنا نقصان کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا" اب آپ بتائیں کہ ہم کس طرح آپکی بات کا یقین کریں؟ اللہ تو دوستی کرنےسے منع کرتا ہے ۔ ۔ ۔ اور آپ ان کے ترجمان بنے پھر رہے ہیں۔دیکھیں انکے پاس کوئی اور نوکری کرنا اور بات ہے انکی ترجمانی کرنا اور ۔ یہودیوں کے پاس مسلمان تو آغآز اسلام سے ہی نوکری کرتے آئے ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن کسی ایک کی بھی مثال نہیں لا سکیں گے آپ کہ ان مسلمانوں نے کبھی یہود و نصاریٰ کے لیے ایک لفظ بھی بولا ہو۔ اور یہ کہنا کہ ساری دنیا ہی مذمت کرتی ہے فلانے فلانے مسلمان قوم یا حکمران کی ۔۔ ۔ ۔ تو یہ بھی کوئی حجت نہیں ہے ان کی بات مان لینے کی۔کیونکہ اللہ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ "کفر تو حقیقت میں ایک ہی ملت ہے" اور اگر آپکا خیال ہے کہ کچھ لوگ مغرب کی ترقی کی وجہ سے جل کر انکے دشمن ہو گئے ہیں تو اللہ اس بارے میں فرما چکا ہے کہ "ناپاک اور پاک برابر نہیں ۔ ۔ ۔ خواہ تجھ کو ناپاک کی کثرت تعجب میں ڈالتی ہو ۔ ۔ ۔ تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو تاکہ تم فلاح پا سکو" تو اللہ نے ہم کو تو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ناپاک یعنی کفار کی دنیا و مال ہم سے زیادہ ہوگا۔ ہمارے لیے تو آخرت کے وعدے ہیں۔ ہم بھلا ان سے کیوں حسد کریں گے۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ساری امت مسلمہ کے حکمران تو مغرب کا ساتھ دیتے ہیں تو میرے بھائی یہ بھی تو کوئی حجت نہیں ہے ۔ خلافت راشدہ کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز کے علاوہ اور کونسی حکومت آئی ہے جس نے قوم کی خواہش کے مطابق کام کیا ہو؟ ارے مسلمان قوم کی خواہشات کے مطابق تو چھوڑئیے ۔ ۔ ۔ جس نے اللہ اور نبی کی خواہشات کے مطابق کام کیا ہو؟ِ ارے ہمارے تو حکمرانوں کے بارے میں کئی احادیچ موجود ہیں۔ ہمارے تو حکمران ایسے بھی آئے کہ جنہوں نے اللہ کے رسول کے نواسے کو شہید کرنے میں جھجھک محسوس نہ کی۔ ایسے بھی حکمران آئے ہیں جنہوں نے بیت اللہ پر گولہ باری کی اور اسکی دیواروں کو تباہ کیا۔ ایسے حکمران بھی آئے کہ جنہوں نے صلیبیوں کے ہاتھوں اپنی سلطنت بیچ دی۔ تو حکمران بھی کبھی حجت ہوا کرتے ہیں؟ خاص کر ہم مسلم قوم کی خاطر تو حکمران بالکل بھی حجت نہیں ہوتے۔ ہماری حجت تو اللہ کی کتاب اور اسکا نبی ہے بس۔ دیکھیں ماشااللہ سے آپ ٹیلینٹد آدمی ہیں ۔ ۔ ۔ آپ کو اور بھی اچھے روزگار میسر آ جائیں گے انشا اللہ ۔ کیوں آپ اس حرام نہیں تو مشکوک نوکری کی خاطر اپنا دین و ایمان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دولت چلی جائے تو درحقیقت کچھ بھی نہیں گیا ۔ ۔ ۔ لیکن اگر ایمان خطرے میں چلا جائےتو سب کچھ خطرے میں ہے اور اصل نقصان ہی یہی ہے۔ اور اللہ کے بقول دنیا کی تھوڑی سی دولت کی خاطر ایمان ظایع کر دینا ۔ ۔ ۔ بہت ہی مہنگا سودا ہے۔ آخر میں اس امید کے ساتھ کہ آپ اپنے دل میں اللہ سے ہدایت کی دعا کریں گے اپنی اس بات کا اختتام کرتا ہوں "اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں اور وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتے ہیں" |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (18-09-09) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جب آپ بھارت کو دی جانے والی امريکی امداد کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں تو آپ کو اس پورے خطے ميں امريکہ کی جانب سے اپنے دوستوں اور اتحاديوں کو دی جانے والی امداد کا تقابلی جائزہ لينا ہو گا جو کہ غير جانب داری اور توازن کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس ضمن ميں مجموعی صورت حال کو سمجھنے کے ليے آپ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کو دی جانے والی امداد کے اعداد وشمار کو بھی مد نظر رکھيں۔ کانگريس کی رپورٹ کے مطابق سال 2005 اور 2008 کے درميان امريکہ نے پاکستان کو مجموعی طور پر 5۔4 بلين ڈالرز اسلحے کی مد میں ديے۔ بلکہ يہ بھی واضح کر دوں کہ سال 2006 ميں پاکستان کے ساتھ معاہدے کے نتيجے ميں 5۔3 بلين ڈالرز لاگت کا اسلحہ فراہم کيا گيا جس کی بدولت پاکستان اس سال امريکہ سے اسلحہ وصول کرنے والے ممالک کی فہرست ميں اول نمبر پر آ گيا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2006 میں پاکستان کو ايف – ايم – ايس (فارن ملٹری سيلسز) پروگرام کے تحت اسلحے کے ضمن ميں ملنے والی امداد مجموعی طور پر سال 1950 سے لے کر2001 تک دی جانے والی امداد سے تجاوز کر گئ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جو اہم دفاعی اثاثے مہيا کيے گۓ ان ميں مندرجہ ذيل نہايت اہميت کے حامل ہیں 36 F-16C/D Block 50/52 fighter aircraft for $1.4 billion; a variety of missiles and bombs to be utilized on the F-16 C/D fighter aircraft for over $640 million; the purchase of Mid-Life Update Modification Kits to upgrade Pakistan's F-16A/B aircraft for $890 million; and 115 M109A5 155mm self-propelled howitzers for $52 million. عالمی سطح پر دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ باہمی مفاد کے ايسے پروگرام اور مقاصد پر اتفاق راۓ کیا جاۓ جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ اسی تناظر ميں وہی روابط برقرار رہ سکتے ہيں جس ميں دونوں ممالک کا مفاد شامل ہو۔ دنيا ميں آپ کے جتنے دوست ہوں گے، عوام کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے اتنے ہی زيادہ مواقع آپ کے پاس ہوں گے۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوۓ بھارت کو دی جانے والی امداد کو خطے کی مجموعی صورت حال سے ہٹ کر انفرادی حيثيت ميں پرکھنا ناانصافی ہے۔ بھارت اور پاکستان دو مختلف ممالک ہيں جن کی ضروريات بالکل مختلف ہيں۔ امريکہ ان دونوں ايشيائ ممالک سے ان کے باہمی تنازعات سے قطع نظر مثبت اور دوررس تعلقات کا خواہاں ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (29-09-09) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جان دے ڈرامے یار ! پاکستان کو بھارت سے زیادہ امداد ملی۔ گلاں مارداں ایں۔
امریکہ کوئی احسان کر رہا ہے کیا ہم پر۔ اب تک نام نہاد دہشت گردی کے خلاف یا حقیقتا اسلام کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر پاکستان کو اب تک حکومت پاکستان کی رپورٹ کئ مطابق 40 ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے اور جواب میں مونگ پھلی کا دانہ بھی نہیں ملا۔ بلکہ باسٹرڈ امریکن حکومت کی طرف سے الزامات ہی ملے ہیں۔ اور جو ہتھیار دئیے جا رہے ہیں ان کے بارے میں یہی حکم ہے کہ ان کو بھارت کے خلاف نہیں استعمال کرنا ۔ ۔ ۔ امداد تو وہ ہوتی ہے کہ جس میں امریکہ کہتا کہ بھائی پاکستان میری وجہ سے تمہارا 40 ارب ڈالرز کا نقصان ہو گیا ۔ ۔ ۔ چلو یہ لو اپنا نقصان پورا کر لو۔ ارے کم از کم اتنا تو دیتا جتنا نقصان ہوا۔ ساڑھے چار ارب ڈالرز سے کر بغلیں بجا رہا ہے امریکہ اور آپ کے ذریعے بیوقوف بنانا چاہ رہا ہے۔ اپنے آقاؤں کو بتا دو کہ ہم انتظار کر رہے ہیں تمہارا۔ انشا اللہ پیٹھ نہیں دیکھے گا ہماری |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ اپنا موقف پیش کر سکتے ہئیں بھائی ۔ میں نے جو بات کی ہے میرے پاس انکی تفصیلات موجود ہیں۔ محض سُنی سنائی نہیں ہیں۔ اگر آپ کے پاس بھی فواد کی طرح کی تاویلوں اور سیاق و سباق سے ہٹ کر کچھ اور ہے تو پیش کیجیے۔ ہمیں خوشی ہوگی۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فروخت, پسند, واقعات, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, ممکن, مسجد, آپریشن, آج, ایٹم بم, انٹرنیٹ, امریکہ, اعلیٰ, بہترین, ترک, حال, خوش, خلاف, دوست, زرداری, غزہ, صدر زرداری, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| Resident Evil ایک تعارف | عبدالقدوس | کمپیوٹر گیمز | 6 | 18-09-10 09:55 AM |
| Resident Evil مت کھیلیں | ام طلحہ | گپ شپ | 16 | 16-11-09 11:35 AM |
| Israel cuts 1948 'catastrophe' from Arabic texts | رضی | Chit Chat | 0 | 25-07-09 09:14 AM |
| girls are evil | وسیم | گپ شپ | 41 | 27-09-08 10:31 PM |