واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


بلاول کو وقت بتائے گا: آصف زرداری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-08-10, 02:58 AM   #1
بلاول کو وقت بتائے گا: آصف زرداری
کنعان کنعان آن لائن ہے 08-08-10, 02:58 AM



شفیع نقی جامعی: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اس وقت بی بی کے ساتھ ہیں، آصف زرداری کبھی شریکِ سفر تھے محترمہ بے نظیر بھٹو کے، شریک حیات تھے، اب سفر سیاست ان کا اکیلا ہے۔ ارباب اقتدار ہیں، ارباب اختیار ہیں اور زمام اقتدار سنبھالی ہے۔ آصف علی زرداری اب پاکستان کے صدر ہیں۔ کاندھوں پر بہت بڑا بوجھ بھی ہے۔ بی بی سی سے بات کر رہے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری بہت بہت شکریہ۔ آپ نے بی بی سی سے بات کرنے کے لیے وقت نکالا۔ مجھے بہت کم وقت دیا ہے آپ کے اہلکاروں نے لیکن ان دس بارہ منٹ میں، میں گفتگو سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔ آپ تشریف لائے بہت بہت شکریہ۔

صدر آصف علی زرداری: شکریہ جامعی صاحب آپ کا کہ آپ نے ہمیں یاد کیا۔

بی بی سی: بڑی نوازش۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈکیمرون سے آپ کی ملاقات ہوئی، اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اس کی خاص خاص باتیں کیا ہیں تو آپ کیا کہیے گا؟

صدر آصف علی زرداری: میں سمجھتا ہوں کہ نئی دوستی، بہتر سوچ، بہتر انڈر سٹینڈنگ، یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی دلانے میں ہماری مدد کرنے کا وعدہ۔ جو کہ ہمارے مشترکہ اعلامیے میں آپ نے پڑھا بھی ہوگا اور دسمبر میں وہ پاکستان آ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فلڈ ریلیف کے لیے انہوں نے مجھے پیسے دیے ہیں اور یہ وعدہ کیا ہے کہ سیلاب کے بعد جو بیماریاں آنی ہیں اور جو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا کام ہونا ہے اس میں بھی برطانیہ ہماری مدد کرے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیشہ
مثبت سوچ رکھنی چاہیے اور
برطانیہ کا اور ہمارا بہت پرانا
ساتھ ہے۔ جیسے کہتے ہیں
کہ چولی دامن کا ساتھ ہے۔
اور اتنی آسانی سے ہم
کہاں جانے دیں گے انہیں

صدر زرداری

بی بی سی: تو خاصا بھرپور دورہ ثابت ہوا۔ فلڈ ریلیف میں مدد، تعمیر نو میں مدد اور تعاون جاری رہے گا تو جو مخاصمت، مخالفت ان کے اس بیان سے پیدا ہوئی تھی جو انہوں نے بھارت میں دیا تھا۔ وہ مخاصمت وہ مصنوعی عداوت جو پیدا ہوگئی تھی یا ایک کثافت سی پیدا ہوگئی تھی، وہ دور ہوگئی؟

صدر آصف علی زرداری: میں سمجھتا ہوں کہ ہمیشہ مثبت سوچ رکھنی چاہیے اور برطانیہ کا اور ہمارا بہت پرانا ساتھ ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اور اتنی آسانی سے ہم کہاں جانے دیں گے انہیں۔

بی بی سی: صدر صاحب اس سے پہلے آپ نے فرانس میں کہا تھا اگر یورپ افغانستان کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ دل اور دماغ جیتنے کی جنگ تھی تو وہ ہار گیا ہے، یہ بیان یہاں نمایاں طور پر ہیڈ لائنز میں چھپا۔ کیا اب بھی آپ اپنے اس بیان پر قائم ہیں؟

صدر آصف علی زرداری: نہیں، میں نے کہا تھا کہ جب تک ہم دماغ اور دل کی جنگ نہیں جیتیں گے تو ہم فزیکل جنگ جیت بھی جائیں تو وہ جیت نہیں ہوگی۔ تو اس میں میں سمجھتا ہوں سوفٹ پاور کی ضرورت ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ کمرشل ایکٹیویٹیز کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ماسٹر پلان بنایا گیا تھا جنگ عظیم کے بعد یورپ کے لیے اسی طرح افغانستان اور پاکستان کے لیے ایک ماسٹر پلان کی ضرورت ہے۔ اس میں ہمیں ان سے امداد نہیں چاہیے، مراعات نہیں چاہئیں۔ ہمیں صرف منڈیوں تک رسائی چاہیے اور ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی اچھا دوست بن سکے گا۔ اسی قدر ہم ان کی مدد کر سکیں گے، اپنی مدد بھی کر سکیں گے اور افغانستان جتنا اپنے پاؤں پر ہوگا اتنا ہی مستحکم ہوگا اور دنیا کے لیے ایک بہتر پوزیسن میں ہوگا۔


میں نے کہا تھا کہ جب تک ہم
دماغ اور دل کی جنگ نہیں
جیتیں گے تو ہم فزیکل جنگ
جیت بھی جائیں تو وہ جیت
نہیں ہوگی۔

بی بی سی: چلیں آپ نے ایک اچھا فارمولہ نکالا۔ آپ کی معیشت مضبوط ہو، آپ کو اتنا ایکسس یا رسائی ملے، پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو تو مضبوط ملک ہوگا، ملک کی معیشت مضبوط ہوگی۔یہ کوششیں آپ کی ایک طرف، ملک کی حزب اختلاف آواز لگا رہی ہے، نعرہ لگا رہی ہے کہ صدر مملکت کیسے وقت پاکستان سے باپر چلے گئے، ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے، ان کو نہیں جانا چاہیے تھا، ڈیوڈ کیمرون نے یہ کہہ دیا، انہیں بائیکاٹ کر دینا چاہیے تھا، فلرز جا رہے ہیں، موبائل پر پیغامات آ رہے ہیں، افواہوں سے لے کر قیاس آرائیاں تک ہیں کہ میٹنگ کینسل ہوگئی، ایک سیلاب ہے اور دوسرا یہ طوفان آیا ہوا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیے گا؟

میں سمجھتا ہوں کہ
جس طرح ماسٹر پلان بنایا گیا
تھا جنگ عظیم کے بعد یورپ
کے لیے اسی طرح افغانستان
اور پاکستان کے لیے ایک
ماسٹر پلان کی ضرورت ہے

آصف زرداری

صدر آصف علی زرداری: میں یہ کہوں گا کہ ہر کسی کو اپنی عقل مبارک۔

بی بی سی: اچھا۔ ہر کسی کو اپنی عقل مبارک، اس سے زیادہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے؟

صدر آصف علی زرداری: نہیں، میں نے جو کرنا ہے اپنے ضمیر کے مطابق کرنا ہے۔ ملک کی خاطر کرنا ہے، جو ذمہ داری میرے کاندھوں پر ہے اسے سوچ کر کرنا ہے۔

بی بی سی: ایک نازک سا سوال، اگر آپ مناسب سمجھیں تو جواب دیجیے گا نہ سمجھیں تو نہ دیجیے گا۔ ایک قیاس آرائی بھی ہے اور اشارے اور سگنل بھی آ رہے ہیں کہ پاکستان میں، جیسے کینیڈی ڈائنسٹی تھی، گاندھی ڈائنسٹی تھی انڈیا میں، اس طرح سے بھٹو ڈائنسٹی پاکستان میں پہلے سے بھی تھی، زیادہ اسٹیبلش ہونے جا رہی ہے۔ میں مختصراً کہتا ہوں بلاول بھٹو زرداری پاکستان میں ایز اے پولیٹکل لیڈر لانچ ہونے جا رہے ہیں۔ کیا یہ قیاس آرائیاں اور اطلاعات درست ہیں؟ اور اس کا سہرہ آپ خود پہنانے جا رہے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری: پہلی بات تو یہ کہ بلاول بھٹوں زرداری اسی دن لانچ ہوگئے تھے جس دن بی بی صاحبہ کی وفات کے تیسرے دن ہم نے انہیں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بنایا تھا۔ اب وہ ایکٹو رول کب پلے کرتے ہیں یہ ڈیپینڈ کرتا ہے ان کی اپنی سوچ پر اور جب وہ سمجھیں گے۔ اس وقت انہوں نہ آکسفوڈ ایجوکیشن ختم کی ہے، ان کا لاسٹ آرٹیکل شاید آپ نے ابھی نہیں پڑھا جس میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ ابھی میں سٹوڈنٹ ہوں اور مجھے سٹوڈنٹ ہی سمجھا جائے۔


’بلاول بھٹو زرداری اسی دن
لانچ ہوگئے تھے جس دن بی بی
صاحبہ کی وفات کے تیسرے دن
ہم نے انہیں چیئرمین پاکستان
پیپلز پارٹی بنایا تھا۔ اب وہ ایکٹو
رول کب پلے کرتے ہیں یہ ڈیپینڈ
کرتا ہے ان کی اپنی سوچ پر‘۔

آصف زرداری

بی بی سی: تو اس سوال کو میں دوسرے انداز سے پوچھتا ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری کی ماں محترمہ بے نظیر بھٹو کو میں کوئی دو تین عشروں سے ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ سیاستدان، زیرک، عقلمند، پالیسی ساز، منصوبہ ساز، آپ ان کے شریک سفر رہے ، شریک حیات رہے، آپ بھی کچھ کم نہیں، آپ بھی سیر پہ سوا سیر کی طرح پڑتے ہیں، کیا بلاول میں وہ صلاحیتیں ہیں جو ماں میں تھیں، یا وہ صلاحیتیں ہیں جو باپ میں ہیں؟ کیوں کہ باپ بہت بڑے طوفان کو بھی چٹکیاں بجاتے ادھر سے ادھر کر دیتا ہے، بولتے کو ہراتا ہے خواہ وہ ججز کی موومنٹ ہو، خواہ وہ سیاستدانوں کی ہو، بلاول میں یہ نسخہ کیمیا یا عناصر ہیں؟

صدر آصف علی زرداری: میں سمجھتا ہوں کہ زہے نصیب آپ نے مجھے یہ عزت دی، میں تو بےنظیر صاحبہ کا ایک ادنیٰ سٹوڈنٹ ہوں اور پیپلز پارٹی کا ایک ادنیٰ ورکر تھا۔ حالات نے مجھے اس جگہ پہنچا دیا کہ مجھے یہ ذمہ داری لینی پڑی اور بلاول کو وقت بتائے گا کہ اس کی عقل یا سوچ اس تک ہے یا ہم سے زیادہ ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے ہمارے بچے ہم سے زیادہ ہوشیار ہیں۔

بی بی سی: ہر آنے والی نسل ہر جانے والی نسل سے زیادہ ہوشیار ہوتی ہے۔ اب اتنا کھل کر ہی بولنا ہے تو زرداری صاحب میں موقعے کی مناسبت سے ایک دو سوال اور پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آپ کے آنے سے پہلے فوج کے انٹیلیجنس کے سربراہ نے آنے سے انکار کر دیا، احتجاجاً ڈیوڈ کیمروں کے بیان پر۔ دو سوال ہیں یہاں پر۔ فیصلہ ان کا اپنا تھا یا جمہوری حکومت سے مشاورت کے بعد کیا گیا تھا؟

صدر آصف علی زرداری: پہلی بات تو یہ شفی نقی جامعی صاحب! آپ کو پتہ ہے کہ جب اس قسم کے لوگ آتے جاتے ہیں تو کسی کو پتہ بھی نہیں پڑتا۔ اس خبر پر میں کیا خبر آپ کو دوں کہ جب خبر کی خبر ہی نہ ہو۔

بی بی سی: اچھا۔ تو اب وہ۔۔۔


برطانوی وزیراعظم سے ملاقات
کے لیے صدر زرداری کے ساتھ
ان کے فرزند بلاول بھٹو بیزرداری
ٹی بھی تھیں۔

صدر آصف علی زرداری: یہ جو نا خبر ہے تو اس پر خبر بنتی نہیں اور دوسری بات یہ کہ جب بھی ایم آئی سکس کا چیف آتا جاتا ہے تو کسی کو پتہ تو نہیں پڑتا۔

بی بی سی: تو اجازت دیجیے بڑی جرات کے ساتھ ایک سوال پوچھنے کی۔ پاکستانی فوج، پاکستانی فوج کا سربراہ، پاکستانی فوج کی جتنی بھی قیادت ہے وہ اب پہلے کے مقابلے میں مختلف ہے، جمہوریت کو چلنے دینے کے موڈ میں ہے یا کہ تیور کچھ دوسرے نظر آتے ہیں آپ کو کبھی کبھی؟

صدر آصف علی زرداری: میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت خود مشرف صاحب کے جانے کے بعد، پریزیڈینسی خود آپ کے پاس جمہوری طور پر آئی ہے اور آتے ہی ہم نے سارے پاورز، جو کہ لوگ نہیں سمجھ رہے تھے کہ میں دوں گا اسے پیپلز پارٹی کی قیادت کی ہدایت سے اور اپنی سوچ سے ہم نے پارلیمنٹ کو مضبوط کر دیا ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ آل اِن آل ہے اور پارلیمنٹ جب مضبوط ہوگی، ظاہر ہے ڈھائی سال پرانی جمہوریت ہے، سو سال پرانی جمہویت نہیں، مگر جتنے کام ڈھائی سال میں اس پارلیمنٹ نے کیے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ پچھلی پارلیمنٹ نے نہیں کیے۔

بی بی سی: دو سوال، ایک بالکل ڈائریکٹ آپ کے بارے میں اور ایک بی بی سی کے بارے میں۔ آصف علی زرداری کے بارے میں یا پاکستان کے صدر کے بارے میں ایک تاثر ہے، کہ ایک چپ سو بولتوں کو یا ایک خاموش سو بھونکتوں کو ہراتی ہے۔ آپ کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ آپ خاموش رہتے ہیں، دو سنار کی ایک لوہار کی آکر چپ کرادیتی ہے۔ یہ فنِ خاموشی آپ نے کہاں سے سیکھا؟ اور اچانک یہ سیاست کے جوہر اور عناصر آپ کے نکلنا شروع ہوئے ہیں یہ پہلے سے تھے یا حالات نے سکھائے، یا مشیران کرام کا مشورہ ہے؟

صدر آصف علی زرداری: یہ تو ہسٹری بتائی گی۔

بی بی سی: معاف کیجیے گا میں آپ کو یونیورسٹی کے زمانے سے جانتا ہوں۔

بی بی صاحبہ کے ساتھ
سیکھنے کا موقع ملا اور
جیلوں میں سنورنے کا موقع
ملا، باقی حالات نے، زندگی
نے اور یونیورسٹی آف لائف
نے سکھا دیا

صدر زرداری

صدر آصف علی زرداری: تب بھی تھوڑا بہت رول ہوتا ہوگا سیاست میں۔ بی بی صاحبہ کے ساتھ سیکھنے کا موقع ملا اور جیلوں میں سنورنے کا موقع ملا، باقی حالات نے، زندگی نے اور یونیورسٹی آف لائف نے سکھا دیا۔

بی بی سی : آصف زرداری کوئی اپنی یاداشتوں کی کتاب لکھ رہے ہیں، اپنے سفر پر کل سے اب تک کیا ہوا؟

صدر آصف علی زرداری: آصف زرداری کو آفرز بہت سی ہیں اپنی کتاب لکھنے کی، ابھی تک سوچ رہا ہے کہ ٹائم کہاں سے نکالے، لکھنے کے لیے۔

بی بی سی: تو اس کے لیے جو بادام، کش مش، الائچی یا مصالحہ یعنی وہ ڈائری وغیرہ، وہ ہے؟

صدر آصف علی زرداری: وہ ڈائری ہمارے دماغ میں ہے۔ وہ ڈائری عدالتوں کی فائلوں میں ہے۔ وہ ڈائری اخباروں کی زینت ہے، ہر جگہ جہاں ہم رہے ہیں یا جو دن گزرا ہے کہیں نا کہیں آپ کا ذکر تو رہا ہے۔ تو آپ کے پاس میری ڈائری ہے جب چاہوں گا پڑھ لوں گا۔

بی بی سی: تو آخری سوال۔ آپ کا وقت بہت ہی قیمتی ہے اس وقت۔ بی بی سی سے کوئی شکایت ہے؟

صدر آصف علی زرداری: نہیں شکایت تو کسی سے کیا کرنی ہے۔ شکایت نہیں ہے۔ دوستوں سے شکوہ یہ ضرور ہے تھوڑا سا سوچ کو اپنی اور بلند کریں۔ انسان چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، سوچیں چھوٹی بڑی ہوتی ہیں۔

شکایت تو کسی سے
کیا کرنی ہے۔ شکایت نہیں
ہے۔ دوستوں سے شکوہ یہ
ضرور ہے تھوڑا سا سوچ کو
اپنی اور بلند کریں۔ انسان
چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، سوچیں
چھوٹی بڑی ہوتی ہیں

صدر آصف زرداری

بی بی سی: مجھے فرحت اللہ بابر اشارہ کر رہے ہیں اور میں وہی کرنے جا رہا ہوں۔ بی بی سی کا ادارہ جو کام کرتا ہے، خبریں، نشریاتی ادارے سے لے کر، اس وقت وہ حکومت پاکستان کی مدد کے لیے ایک کام کرنے جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کی مدد کے لیے، عوام کی مدد کے لیے ایک پروگرام کرنے جا رہا ہے، لوگوں کے لیے اطلاع پہنچانے کے لیے کہ تمہارے لیے مدد کہاں ہے اور کیسے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی بیماری ہے، ڈاکٹر کہاں ہیں اور بیماری کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔ ٹوٹلی نان پولیٹکل ایک پروگرام ہے۔ آئندہ پیر سے شروع ہوا چاہتا ہے۔ اس کے لیے خادم حسین خود پاکستان جا رہا ہے۔ میں وہاں خود شروع کروانے کے لیے جا رہا ہوں۔ ایسا پروگرام جو عوام تک صحیح اطلاعات صحیح پہنچا سکے۔ آپ اس پورگرام کے لیے کچھ کہنا چاہیں گے جس کا مقصد نان پولیٹکل۔۔۔

صدر آصف علی زرداری: اس پروگرام کو پہلے تو میں خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں، شفی نقی جامعی کو خوش آمدید کہوں گا پاکستان میں، اپنے ملک میں، اور میں کہوں گا کہ اپ کو کسی مدد کی ضرورت ہو تو مجھے ضرور یاد کیجیے گا۔ خادم آپ کی خدمت کرے گا۔

شفیع نقی جامعی: محترم آصف علی زرداری بہت بہت شکریہ۔

صدر آصف علی زرداری: شکریہ۔


پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بی بی سی اردو کے شفیع
نقی جامعی سے انٹرویو کے دوران۔

بحوالہ خبر
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 287
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-08-10), مرزا عامر (01-09-10), شمشاد احمد (01-09-10), غلام مجتبی جان (08-08-10)
پرانا 08-08-10, 01:24 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کہ چھتر کیسے کھائے جاتے ہیں
ہاہاہاہا
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), پاکستانی (08-08-10), مرزا عامر (01-09-10), عبدالقدوس (08-08-10)
پرانا 08-08-10, 06:34 PM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہر کسی کو اپنی اپنی عقل مبارک ہو

ہر کسی کو اپنی اپنی عقل مبارک ہو


بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے بی بی سی اردو کے انٹرویو میں ایک سوال یہ بھی ہوا کہ مخالفین کے اس موقف کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کے موقع پر اگر آپ ملک میں ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ صدر زرداری کا جواب تھا ’ہر کسی کو اپنی اپنی عقل مبارک ہو۔‘

ایک پاکستانی ٹی وی چینل پر پیپلز پارٹی کی ترجمان فوزیہ وہاب سے جب پوچھا گیا کہ صدر زرداری کا دورہ برطانیہ سٹیٹ وزٹ تھا، آفیشل وزٹ ہے یا پھر ورکنگ وزٹ؟

فوزیہ وہاب نے بتایا کہ یہ سٹیٹ وزٹ ہے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اگریہ سٹیٹ وزٹ ہے تو پھراُن کے قیام و طعام و پروٹوکول کی ذمہ داری بطور میزبان حکومتِ برطانیہ ہے۔مگر یہ کیسا سٹیٹ وزٹ ہے کہ وہ اپنے خرچے پر ایک ہوٹل میں قیام پذیر رہے اور ملکہ برطانیہ سے بھی ان کی رسمی ملاقات طے نہیں ہوسکی۔

فوزیہ وہاب کا جواب تھا کہ صدر زرداری کی کردار کشی کوئی نئی بات نہیں۔ آپ کو تو موقع چاہئیے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

جو لوگ صدر زرداری کے
دورہ برطانیہ کے مخالف ہیں
وہ ملک دشمن اور بیرونی
ایجنٹ ہیں۔

بابر اعوان

وفاقی وزیرِ قانون بابر اعوان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو لوگ صدر زرداری کے دورہ برطانیہ کے مخالف ہیں وہ ملک دشمن اور بیرونی ایجنٹ ہیں۔

صدر کے مشیر فیصل رضا عابدی نے ایک ٹی وی چینل کے مباحثے میں کہا کہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے پوری حکومت وزیرِاعظم کی قیادت میں فعال ہے۔

یہ دورہ چھ ماہ پہلے طے ہوا تھا۔ اگر صدر یہاں ہوتے بھی تو کیا سیلاب رک جاتا یا وہ اپنی قمیض اتار کر دے دیتے تو مصیبت زدگان کا تن ڈھپ جاتا ؟ اگر ایسا ہی ہے تو لیجیے میں اپنی قمیض ابھی اتار کر دیتا ہوں۔اس سے پہلے کہ فیصل رضا عابدی یہ کر دکھاتے ۔ اینکر پرسن نے اپیل کی کہ آپ یہاں پر ایسے نہ کریں۔

پنجاب کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ جو لوگ اس موقع پر ملک سے صدر زرداری کی غیر حاضری پر تنقید کررہے ہیں وہی لوگ یہ دورہ ملتوی کرنے اور سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے پر یہ کہتے کہ صدر اپنا ذاتی امیج بڑھانے کے لئے سیلاب زدگان کے درمیان کھڑے ہوکر فوٹو سیشن کرا رہے ہیں۔

یہ دورہ چھ ماہ پہلے طے
ہوا تھا۔اگر صدر یہاں ہوتے
بھی تو کیا سیلاب رک جاتا یا
وہ اپنی قمیض اتار کر دے
دیتے تو مصیبت زدگان کا تن
ڈھپ جاتا؟

فیصل رضا عابدی

جو لوگ اس دورے کے بائیکاٹ کا مشورہ دے رہے تھے انہیں چاہئے کہ وہ اپنے غیرملکی پاسپورٹ منسوخ کروائیں اور بیرونِ ملک اپنی جائدادیں بیچ کر اس کے پیسے سیلاب زدگان میں بانٹ دیں۔

ایک چینل کے اینکر نے سیلاب کی براہ راست کوریج کے دوران اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھے شخص سے پوچھا۔ کیا سوچ رہے ہیں آپ ؟ وہ شخص خاموشی سے اٹھا اور کیمرے کے سامنے سے ہٹ گیا۔

صدر زرداری نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی عقل مبارک ہو۔

بحوالہ خبر
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (08-08-10), مرزا عامر (01-09-10)
پرانا 08-08-10, 06:36 PM   #4
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل رضا عابدی کی سٹیٹمنٹس سے لگتا ھے اس کی ڈگری بھی نکلی ھے۔ بیروں ممالک والے اپنے کاروبار اور نوکری کی وساست سے کسی کو بتائے بغیر ہی پاکستان کی ہر مصیبت کے لئے فنڈز جمع کر کے پاکستان بھجواتے ہیں۔ اس سے پہلے جب زلزلہ آیا تھا تو ہمارے برسٹل شہر کی دو بڑی مساجد سے چندہ کی مہیم شروع کی گئی تھی اور اندازاً دس دنوں میں ایک لاکھ 80 ہزار پاؤنڈز کے لگ بھگ رقم اکٹھی ہوئی تھی جو ایسٹیمیٹڈ پاکستانی ساڑھے تین کروڑ روپے بنتے تھے، 6 زمہ داران بندوں کے ہاتھ وہ رقم پاکستان میں خود انہوں نے اپنے ہاتھ سے سیلاب زدگان کی ضروریات پر خرچ کی تھی اور سب اپنی اپنی ذاتی ٹکٹس پر گئے تھے۔ یہ صرف برسٹل شہر کی رپورٹ ھے۔ باقی پورے یو۔کے سے ہی اسی طرح امداد پہنچی، اور یو کے گورنمنٹ اور عوام کی طرف سے بھی جو رقم بھیجی گئی وہ بھی الگ ھے۔

فیصل رضا زیدی کا دماغی توازن شائد ٹھیک نہیں پاکستان کے حالات سے نپٹنے کی ذمہ داری صدر، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ میں بیٹھے عہدے داروں کی ھے جو ہر مشکل حالات میں پاکستان کی عوام کو مرتا ہوا چھوڑ کر سیر کرنے ملک سے باہر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہہ رہا کہ ان حالات میں زرداری صاحب اپنا سرے محل بیچ دیں جو پاکستان کی عوام کی امانت ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (08-08-10), Zullu230 (01-09-10), شمشاد احمد (01-09-10)
پرانا 01-09-10, 09:51 PM   #5
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بڑا دلسچسپ انٹرویو تھا پاکستان کے شہنشاہ آصف علی زرداری کا۔ اور ساتھ میں ولی عہد شہزادہ بلاول کا فوٹو سیشن بھی۔ شہنشاہ پاکستان کا واحد مقصد بلاول کو آئیندہ انتخابات میں اِن کرنا اور اُس کے بعد پیپلز پارٹی پر تا دم مرگ زرداری خاندان کی گرفت پکی کرنا ہے۔ پاکستان اور پاکستانی عوام سے نہ اُن کو پہلے کوئی غرض تھی نہ اب ہے اور نہ ہی ؔئیندہ ہوگی۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny.
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-09-10, 10:19 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بی بی سی کے نمائندہ ایک سوال تو کرنا ہی بھول گئے۔ چلیں میں کئیے دیتا ہوں
جب آپ کو جوتا پڑا تو آپ نے کیسا محسوس کیا؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-09-10, 12:26 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سوال کیا تو یقینا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ‏آف دی ریکارڈ ایسے سوالات پو‌چھے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تخت ‌چھن جانے کے بعد ریکارڈ پر ‏آتے ہیں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
interview, pakistan, ہسٹری, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, لوگ, نظر, موبائل, منصوبہ, ماں, آصف زرداری, اللہ, انسان, اردو, بے نظیر, جواب, خوش, خبر, زرداری, سیاست, عقل, علی, صدر زرداری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:48 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger