واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


بگرام میں تشدد کیا گیا: ڈاکٹر عافیہ صدیقی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-10-08, 11:14 AM   #1
بگرام میں تشدد کیا گیا: ڈاکٹر عافیہ صدیقی
منتظمین منتظمین آف لائن ہے 09-10-08, 11:14 AM

امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی سینیٹروں کے ایک وفد سے ملاقات میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ لائے جانےسے قبل انہیں بگرام کی امریکی جیل میں تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔
امریکہ کے شہر ٹکساس میں منگل کے روز پہلی مرتبہ پاکستانی سینیٹروں کے پانچ رکنی وفد نے سینیٹر مشاہد حسین کی قیادت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی۔

عافیہ صدیقی سے ملاقات کرنے والے سینیٹروں کے وفد میں سید مشاہد حسین کے علاوہ سینیٹر ایس ایم ظفر، سینیٹ میں ملکی اندرونی سلامتی پر کمیٹی کے سربراہ سنیٹر طلحہ محمود اور سینیٹر افتخار بھی شامل تھے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے بدھ کو نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے میں پاکستانی سینیٹروں کے وفد کے ساتھی اراکین کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بتایا ہے کہ دوران قید و تفتیش ان پر تشدد ہوا اور انہیں پانچ سال قبل اسلام آباد سے اغوا کیا گيا تھا۔
پاکستان کی سینیٹ کمیٹی کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسئلہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا مسئلہ ہے اور انہوں نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو غیر مشروط طور رہا کرکے پاکستان بھیجا جائے-

ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کی تفصیل سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں ان کو گرفتار کرنے سے قبل انہیں بیہوشی کے انجیکشن دیے گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو ، بقول عافیہ صدیقی، انہوں نے خود کو افغانستان میں بگرام میں قید پایا۔
سینیٹر مشاہد حسین نے کہا اگرچہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی لاغر اور اپنی باتوں میں بے ربط لگ رہی تھیں لیکن انہوں نے عافیہ کو مطمئن پایا۔

مشاہد حسین نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنے بچوں کے نام یاد نہیں ہیں لیکن انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں جہاں ان کو رکھا گیا تھا وہاں ساتھ والے کمرے سے ان کے بچوں کی چیخوں کی آوازیں آتی تھیں۔

مشاہد حسین سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ڈاکٹر عافیہ کے دو بچے آئی ایس آئی کی حراست میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کےباقی دو بچوں کی تلاش جاری ہے۔

ان کی گرفتاری یا گمشدگی میں تین ممالک ملوث ہیں اور اب تک نہیں معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے بچے کس ملک اور کس ملک کی ایجینسی کے پاس ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ بگرام کے علاوہ ڈاکٹر عافیہ نے انہیں اپنے حالات کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اپنی گرفتاری ظاہر کیے جانے کے متعلق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ پردے سے نکلیں تھیں اور امریکی اہلکار کی رائفل وہاں پڑی ہوئي تھی جس سےان پر شبہ کیا گیا کہ وہ امریکی اہلکاروں پر حملہ کرنے والی تھیں۔

مشاہد حسین نے بتایا کہ ٹیکساس ریاست کی ایک نفسیاتی مرکز کے ایک کمرے میں ڈاکٹر غافیہ صدیقی سے انہوں نے ملاقات کی جو ڈیڈہ گھنٹے جاری رہی۔
ایک سوال کے جواب میں سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ خود امریکہ کے مفاد میں ہے کہ عافیہ صدیقی کو رہا کیا جائے کیونکہ گوانتانامو بے کیوبا سے چینی (یغر سے تعلق رکھنے والے) اسیروں کو سپریم کورٹ کی طرف سے رہائي کے احکامات کے بعد امریکہ کے انسانی حقوق کا ریکارڈ اور بھی خراب ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے عرصے کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر دہشت گردی سے تعلق ثابت نہیں ہوسکا اب امریکی حکومت کو چاہیے کہ اسے غیر مشروط طور پر رہا کرکے پاکستان کو واپس کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ميں ایک نیا قانوں متعارف ہوا تھا کہ دہشت گردی کے الزمات میں گرفتار افراد پر ملٹری ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے جائيں، اب اس قانون کو سینیٹ کی کمیٹی نے مسترد کرنے کی سفارش کی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ انہوں نے گوانتانامو بے کیوبا میں امریکی تحویل میں قید پاکستانیوں سے بھی ملاقات کیلیے امریکی حکام کو درخواست دی ہے جو زیر غور ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائي کا مطالبہ اب تمام پاکستانیوں کی ایک آواز بن چکا ہے۔

پاکستانی سینیٹروں کے اس وفد نے ڈاکٹر عافیہ کی قید کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف نہ کوئی الزام ہے نہ کوئی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ پر امریکی فوجیوں پر گولی چلانے کی کوشش کا ایک ’بھونڈا‘ سا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھی یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس بارے میں لوگوں کو تشویش ہے اور پاکستان کی پارلیمان نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عافیہ صدیقی کی حالت بیان کرتے ہوئے ایس ایم ظفر نے کہا کہ جسمانی حالت کے علاوہ ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی کیفیت بھی ٹھیک نہیں تھی اور وہ اپنے بچوں کے نام بھی یاد کرنے میں دشواری محسوس کر رہی تھیں۔

تاہم مشاہد حسین نے کہا کہ ان کا ذہنی توازن بالکل درست ہے اور ایسا نہیں کہ وہ کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہیں۔

بشکریہ بی بی سی
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!

Last edited by منتظمین; 09-10-08 at 11:17 AM..

 
منتظمین's Avatar
منتظمین
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 653
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-01-11), پیاسا (09-10-08), یاسر عمران مرزا (09-01-11), نورالدین (10-01-11), ام حازم (11-01-11), ابن جلال (09-10-08), بھائی (09-10-08), سحر (28-05-09), عروج (09-01-11)
پرانا 09-10-08, 03:06 PM   #2
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,360
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: بگرام میں تشدد کیا گیا: ڈاکٹر عافیہ صدیقی

اب وہ انسانی حقوق کا علمدار کہاں ہے ؟؟؟ جو غیر ملکی ایجنٹوں کی سزا معاف کرواتا ہے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-01-11), پیاسا (09-10-08), ام حازم (11-01-11), ابن جلال (09-10-08), عروج (09-01-11)
پرانا 09-10-08, 06:13 PM   #3
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بگرام میں تشدد کیا گیا: ڈاکٹر عافیہ صدیقی

ایسے وقت میں وہ جن کی طرح غائب ہوجاتا ہے ۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-01-11), عروج (09-01-11)
پرانا 09-10-08, 06:24 PM   #4
Senior Member
 
بھائی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 856
کمائي: 1,506
شکریہ: 196
364 مراسلہ میں 603 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بگرام میں تشدد کیا گیا: ڈاکٹر عافیہ صدیقی

اقتباس:
اب وہ انسانی حقوق کا علمدار کہاں ہے ؟؟؟ جو غیر ملکی ایجنٹوں کی سزا معاف کرواتا ہے
انسانی حقوق کا دشمن....... سو رہا ہے شاید

Last edited by منتظمین; 09-10-08 at 11:21 PM.
بھائی آف لائن ہے   Reply With Quote
بھائی کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (09-01-11)
پرانا 10-10-08, 09:50 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

بدقسمتی سے ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے جن خيالات اور جذبات کا اظہار کيا جا رہا ہے اس کی بنياد وہ مبہم ميڈيا رپورٹس ہيں جنھيں کچھ پرجوش صحافی بغير تحقيق کے شائع کر رہے ہيں۔ ميں نے پہلے بھی اس فورم پر يہ واضح کيا تھا کہ يہ ايک قانونی مقدمہ ہے جو کہ اس وقت عدالت کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر عافيہ کو عدالت ميں اپنی صفائ کا پورا موقع فراہم کيا جاۓ گا اور انصاف کے تقاضے پورے کيے جائيں گے۔

ميڈيا کے کچھ عناصر جان بوجھ کر اس کيس کو سياسی رنگ دينے کے ليے جذباتيت کا سہارا لے رہے ہيں۔

بدھ کے روز پاکستانی سينيٹرز کے ايک گروپ نے ڈاکٹر عافيہ صديقی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی ميڈيا ميں رپورٹنگ اور معلومات ميں واضح تضادات اس بات کا ثبوت ہے کہ ايک متوازن راۓ قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ حقائق کو شائع کرنے سے پہلے ان کی تحقيق کر لی جاۓ۔ آج ميڈيا جن "ثبوتوں" کی بنياد پر آپ کو پورے وثوق سے خبر دے رہا ہے کل کچھ مزيد حقائق کی روشنی ميں ايک متضاد "حقيقت" اسی وثوق اور بغير کسی تردد کے آپ کے سامنے پيش کرے گا۔

مثال کے طور پر آج ميڈيا يہ رپورٹ کر رہا ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو اسلام آباد سے اغوا کيا گيا تھا جبکہ اسی ميڈيا پر بار بار وثوق سے يہ بات دہرای گئ کہ انھيں ائرپورٹ جاتے ہوۓ کراچی کے ايک ريلوے اسٹيشن سے گرفتار کيا گيا تھا۔ صرف يہی نہيں بلکہ جيو ٹی وی نے تو ايک پروگرام ميں کراچی کے ريلوے اسٹيشن پر وہ مقام بھی دکھايا جہاں سے انھيں مبينہ طور پر گرفتار کيا گيا تھا۔ جنگ اخبار نے ايک قدم آگے بڑھ کر ايک صفحے کی اسپيشل رپورٹ ميں ايک گمنام پوليس افسر سے منسوب کر کے ايک رپورٹ بھی شا‏ئع کی جس ميں اس نے يہ دعوی کيا تھا کہ وہ اس ٹيم کا حصہ تھا جس نے ايف بی آئ ايجنٹس کے تعاون سے کراچی ميں ڈاکٹر عافيہ صديقی کو گرفتار کيا تھا۔ کہانی ميں مصالحہ لگانے کے ليے اس گمنام پوليس افسر نے يہ دعوی بھی کيا کہ گرفتاری کے دوران ایک خاتون ايف بی آئ ايجنٹ نے ڈاکٹر عافيہ صديقی کو تھپڑ بھی مارا اور ان سے بدسلوکی بھی کی۔ اس کے بعد اس پوليس افسر نے "نامہ نگار" کو يہ بھی بتايا کہ اس کاروائ ميں حصہ لينے کے بعد سے وہ سکون کی نيند نہيں سو پايا اور اپنے ضمير سے مجبور ہو کر يہ "حقائق" بيان کر رہا ہے۔

اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ اگر ڈاکٹر عافيہ صديقی کو واقعی اسلام آباد سے گرفتار کيا گيا تھا تو پھر وہ گمنام پوليس افسر کون تھا جو يہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے کراچی ميں ڈاکٹر عافيہ صديقی کی گرفتاری ميں ايف بی آئ کے ساتھ تعاون کيا تھا؟ کيا جنگ اخبار کی جانب سے اس "اسپيشل رپورٹ" کی معذرت يا توجيہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ يقينی طور پر نہيں۔ يہ صرف ايک مثال ہے۔ ميڈيا پر اس کيس کے حوالے سے ايسی کئ "رپورٹس" موجود ہيں جو ان شديد جذبات کا سبب بن رہی ہيں جن کا اظہار اس فورم پر کيا جا رہا ہے۔

روزنامہ خبريں نے اپنے کل کے اخبار ميں يہ رپورٹ کيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ کے پيٹ ميں چار گولياں لگی تھيں اور ان کی صحت بتدريج خراب ہو رہی ہے۔ ليکن اس کے برعکس ايکسپريس اخبار نے يہ رپورٹ کيا ہے کہ ان کے پيٹ کا زخم مندمل ہو چکا ہے اور انکی صحت بتدريج بہتر ہو رہی ہے۔

http://img520.imageshack.us/my.php?i...1969500uu3.jpg

بی بی سی اردو کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی اپنے بچوں کے نام ياد رکھنے سے بھی قاصر ہيں۔

http://img380.imageshack.us/my.php?i...0352361xj2.jpg

جبکہ روزنامہ ايکسپريس يہ دعوی کر رہا ہے کہ ملاقات کے دوران ڈاکٹر عافيہ اپنی 10 سالہ بيٹی مريم اور 6 سالہ بيٹے سلمان کے بارے ميں سوال کرتی رہيں۔

http://img523.imageshack.us/my.php?i...8774332hv2.jpg

اس حوالے سے ابہام يہی پر ختم نہيں ہو جاتا بلکہ روزنامہ جنگ کی کالم نگار طاہرہ اقبال نے اپنے آج کے کالم ميں يہ دعوی کيا ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کے بڑے بيٹے احمد کے سامنے اس کے چھوٹے بھائ کو کمسنی ميں ہلاک کيا جا چکا ہے۔

http://img377.imageshack.us/my.php?i...5649884rf7.jpg

يہاں تک کہ ملاقات کے دورانيے کی رپورٹنگ ميں بھی مکمل تضاد ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق ملاقات 90 منٹ جاری رہی۔

http://img361.imageshack.us/my.php?i...9965734ol7.jpg

روزنامہ جنگ کے مطابق ملاقات کا دورانيہ 2 گھنٹے 45 منٹ رہا

http://img377.imageshack.us/my.php?i...2107716jr6.jpg

جبکہ ايکسپريس کے مطابق ملاقت 3 گھنٹے سے زيادہ دير تک جاری رہی۔

http://img361.imageshack.us/my.php?i...2165410jj4.jpg

ميڈيا پر کچھ عناصر خبر کی اشاعت کے ضمن ميں تحقيق کی ذمہ داری کو يکسر نظرانداز کر ديتے ہيں اور غير تصديق شدہ بيانات اور قياس کو بنياد بنا کر خبر رپورٹ کرتے ہيں۔

اس کيس کے حوالے سے امريکی حکومت کو کچھ چھپانے کی ضرورت نہيں ہے ڈاکٹر عافيہ تک پاکستانی قونصل خانے کی رسائ اور پاکستانی سينيٹرز کی حاليہ ملاقات کی اجازت اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت ڈاکٹر عافيہ کا علاج خواتين کے ليے مخصوص ٹيکسس ميں فيڈرل ميڈيکل سينٹر ميں کيا جا رہا ہے۔ اس ادارے کے بارے ميں تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

http://www.bop.gov/locations/institutions/crw/index.jsp

ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے کيے جانے والے بے شمار سوالات کے حوالے سے ميری راۓ يہ ہے کہ عدالت کی کاروائ کا انتظار کيا جاۓ جس کے دوران ڈاکٹر عافيہ کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع ملے گا اور عدالت حقائق کی بنياد پر سچ کا فيصلہ کرے گی۔ اس ضمن ميں قياس اور افواہوں کی بنياد پر راۓ زنی محض جذباتيت کا اظہار ہے جو اس کيس کی کاروائ کےحوالے سےايک لاحاصل عمل ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (10-01-11), ام حازم (12-01-11), عروج (09-01-11)
پرانا 09-01-11, 02:21 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ھر بے گناہ قیدی کو رھائی عطا کرے۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-01-11, 04:03 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
بدقسمتی سے ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے جن خيالات اور جذبات کا اظہار کيا جا رہا ہے اس کی بنياد وہ مبہم ميڈيا رپورٹس ہيں جنھيں کچھ پرجوش صحافی بغير تحقيق کے شائع کر رہے ہيں۔ ميں نے پہلے بھی اس فورم پر يہ واضح کيا تھا کہ يہ ايک قانونی مقدمہ ہے جو کہ اس وقت عدالت کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر عافيہ کو عدالت ميں اپنی صفائ کا پورا موقع فراہم کيا جاۓ گا اور انصاف کے تقاضے پورے کيے جائيں گے۔

ميڈيا کے کچھ عناصر جان بوجھ کر اس کيس کو سياسی رنگ دينے کے ليے جذباتيت کا سہارا لے رہے ہيں۔

بدھ کے روز پاکستانی سينيٹرز کے ايک گروپ نے ڈاکٹر عافيہ صديقی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی ميڈيا ميں رپورٹنگ اور معلومات ميں واضح تضادات اس بات کا ثبوت ہے کہ ايک متوازن راۓ قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ حقائق کو شائع کرنے سے پہلے ان کی تحقيق کر لی جاۓ۔ آج ميڈيا جن "ثبوتوں" کی بنياد پر آپ کو پورے وثوق سے خبر دے رہا ہے کل کچھ مزيد حقائق کی روشنی ميں ايک متضاد "حقيقت" اسی وثوق اور بغير کسی تردد کے آپ کے سامنے پيش کرے گا۔

مثال کے طور پر آج ميڈيا يہ رپورٹ کر رہا ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو اسلام آباد سے اغوا کيا گيا تھا جبکہ اسی ميڈيا پر بار بار وثوق سے يہ بات دہرای گئ کہ انھيں ائرپورٹ جاتے ہوۓ کراچی کے ايک ريلوے اسٹيشن سے گرفتار کيا گيا تھا۔ صرف يہی نہيں بلکہ جيو ٹی وی نے تو ايک پروگرام ميں کراچی کے ريلوے اسٹيشن پر وہ مقام بھی دکھايا جہاں سے انھيں مبينہ طور پر گرفتار کيا گيا تھا۔ جنگ اخبار نے ايک قدم آگے بڑھ کر ايک صفحے کی اسپيشل رپورٹ ميں ايک گمنام پوليس افسر سے منسوب کر کے ايک رپورٹ بھی شا‏ئع کی جس ميں اس نے يہ دعوی کيا تھا کہ وہ اس ٹيم کا حصہ تھا جس نے ايف بی آئ ايجنٹس کے تعاون سے کراچی ميں ڈاکٹر عافيہ صديقی کو گرفتار کيا تھا۔ کہانی ميں مصالحہ لگانے کے ليے اس گمنام پوليس افسر نے يہ دعوی بھی کيا کہ گرفتاری کے دوران ایک خاتون ايف بی آئ ايجنٹ نے ڈاکٹر عافيہ صديقی کو تھپڑ بھی مارا اور ان سے بدسلوکی بھی کی۔ اس کے بعد اس پوليس افسر نے "نامہ نگار" کو يہ بھی بتايا کہ اس کاروائ ميں حصہ لينے کے بعد سے وہ سکون کی نيند نہيں سو پايا اور اپنے ضمير سے مجبور ہو کر يہ "حقائق" بيان کر رہا ہے۔

اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ اگر ڈاکٹر عافيہ صديقی کو واقعی اسلام آباد سے گرفتار کيا گيا تھا تو پھر وہ گمنام پوليس افسر کون تھا جو يہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے کراچی ميں ڈاکٹر عافيہ صديقی کی گرفتاری ميں ايف بی آئ کے ساتھ تعاون کيا تھا؟ کيا جنگ اخبار کی جانب سے اس "اسپيشل رپورٹ" کی معذرت يا توجيہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ يقينی طور پر نہيں۔ يہ صرف ايک مثال ہے۔ ميڈيا پر اس کيس کے حوالے سے ايسی کئ "رپورٹس" موجود ہيں جو ان شديد جذبات کا سبب بن رہی ہيں جن کا اظہار اس فورم پر کيا جا رہا ہے۔

روزنامہ خبريں نے اپنے کل کے اخبار ميں يہ رپورٹ کيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ کے پيٹ ميں چار گولياں لگی تھيں اور ان کی صحت بتدريج خراب ہو رہی ہے۔ ليکن اس کے برعکس ايکسپريس اخبار نے يہ رپورٹ کيا ہے کہ ان کے پيٹ کا زخم مندمل ہو چکا ہے اور انکی صحت بتدريج بہتر ہو رہی ہے۔

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

بی بی سی اردو کے مطابق ڈاکٹر عافيہ صديقی اپنے بچوں کے نام ياد رکھنے سے بھی قاصر ہيں۔

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

جبکہ روزنامہ ايکسپريس يہ دعوی کر رہا ہے کہ ملاقات کے دوران ڈاکٹر عافيہ اپنی 10 سالہ بيٹی مريم اور 6 سالہ بيٹے سلمان کے بارے ميں سوال کرتی رہيں۔

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

اس حوالے سے ابہام يہی پر ختم نہيں ہو جاتا بلکہ روزنامہ جنگ کی کالم نگار طاہرہ اقبال نے اپنے آج کے کالم ميں يہ دعوی کيا ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کے بڑے بيٹے احمد کے سامنے اس کے چھوٹے بھائ کو کمسنی ميں ہلاک کيا جا چکا ہے۔

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

يہاں تک کہ ملاقات کے دورانيے کی رپورٹنگ ميں بھی مکمل تضاد ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق ملاقات 90 منٹ جاری رہی۔

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

روزنامہ جنگ کے مطابق ملاقات کا دورانيہ 2 گھنٹے 45 منٹ رہا

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

جبکہ ايکسپريس کے مطابق ملاقت 3 گھنٹے سے زيادہ دير تک جاری رہی۔

ImageShack® - Online Photo and Video Hosting

ميڈيا پر کچھ عناصر خبر کی اشاعت کے ضمن ميں تحقيق کی ذمہ داری کو يکسر نظرانداز کر ديتے ہيں اور غير تصديق شدہ بيانات اور قياس کو بنياد بنا کر خبر رپورٹ کرتے ہيں۔

اس کيس کے حوالے سے امريکی حکومت کو کچھ چھپانے کی ضرورت نہيں ہے ڈاکٹر عافيہ تک پاکستانی قونصل خانے کی رسائ اور پاکستانی سينيٹرز کی حاليہ ملاقات کی اجازت اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت ڈاکٹر عافيہ کا علاج خواتين کے ليے مخصوص ٹيکسس ميں فيڈرل ميڈيکل سينٹر ميں کيا جا رہا ہے۔ اس ادارے کے بارے ميں تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

BOP: FMC Carswell

ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے کيے جانے والے بے شمار سوالات کے حوالے سے ميری راۓ يہ ہے کہ عدالت کی کاروائ کا انتظار کيا جاۓ جس کے دوران ڈاکٹر عافيہ کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع ملے گا اور عدالت حقائق کی بنياد پر سچ کا فيصلہ کرے گی۔ اس ضمن ميں قياس اور افواہوں کی بنياد پر راۓ زنی محض جذباتيت کا اظہار ہے جو اس کيس کی کاروائ کےحوالے سےايک لاحاصل عمل ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
ایک بات طے ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود سزا نے امریکہ کی اسلام دشمنی کو واضح کر دیا ہے۔ اور آپ کی عدالت کے انصاف کا گھناونا چہرہ بھی آشکارہ ہوچکا۔
اور بائبل کی پیشگوئی کے مطابق تو ویسے بھی امریکہ مستقبل میں پانچ چھ حصوں میں تقسیم ہونے والا ہے۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (10-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11)
پرانا 09-01-11, 04:18 PM   #8
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,360
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : dxbgraphics مراسلہ دیکھیں
اور بائبل کی پیشگوئی کے مطابق تو ویسے بھی امریکہ مستقبل میں پانچ چھ حصوں میں تقسیم ہونے والا ہے۔
کیا آپ اس کی تفصیلات فراہم کرسکتے ہیں؟
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (10-01-11), ام حازم (12-01-11), عبیداللہ عبید (09-01-11), عدنان دانی (09-01-11)
پرانا 09-01-11, 05:10 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,788
کمائي: 26,534
شکریہ: 937
1,285 مراسلہ میں 2,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالقدوس مراسلہ دیکھیں
کیا آپ اس کی تفصیلات فراہم کرسکتے ہیں؟
عبدالقدوس بھائی امریکا کے جو کرتوت ہیں نا ، اس کی بنا پر خدشہ ہے کہ 52 حصوں میں تقسیم نہ ہوجائے ، تفصیلات کی کوئی ضرورت نہیں اس کے لیے ،
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (10-01-11)
پرانا 14-01-11, 08:47 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : dxbgraphics مراسلہ دیکھیں
ایک بات طے ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود سزا نے امریکہ کی اسلام دشمنی کو واضح کر دیا ہے۔ اور آپ کی عدالت کے انصاف کا گھناونا چہرہ بھی آشکارہ ہوچکا۔
امريکی حکومت کے عہدیداروں، ايف بی آئ يا اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کو اس حوالے سے کوئ اختيار يا اثر ورسوخ حاصل نہيں ہوتا کہ ايک قانونی عدالت کے اندر کاروائ کے دوران اپنے اختيارات کس انداز ميں استعمال کر رہا ہے۔ بلکہ حقيقت يہ ہے کہ ايسی کئ مثاليں موجود ہيں جب اپنے عہدے اور پوزيشن سے قطع نظر سينير امريکی عہديداروں کو عدالتی کاروائ کے دوران جج کی جانب سے مقرر کردہ اصول اور قوانين کو تسليم کرنا پڑا۔

ڈاکٹر عافيہ کيس کوئ پوشيدہ ٹرائل نہيں تھا۔ اس کيس کی تمام کاروائ پاکستانی ميڈيا کے اہم اداروں، پاکستانی سفارت خانے کے افسران اور عالمی ذرائع ابلاغ کے موجودگی ميں عمل ميں لائ جارہی تھی۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو واقعات کے حوالے سے اپنا موقف بيان کرنے کے ليے انھی طے شدہ ضوابط کے تحت پورا موقع فراہم کيا گيا جسے دونوں فريقين کے وکلاء تسليم کر چکے تھے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
php, فورم, کورٹ, کراچی, پاکستانی, قید, متعارف, معلوم, الزام, امریکہ, اردو, اسلام, اغوا, بچوں, تلاش, جیل, جواب, خلاف, درخواست, سپریم, سال, شہر, صحافیوں, صحت, صدیقی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:48 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger