واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


تم ہمارے دوست نہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 03-12-09, 08:04 PM   #1
تم ہمارے دوست نہیں
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 03-12-09, 08:04 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُواْ أَهَـؤُلاَءِ الَّذِينَ أَقْسَمُواْ بِاللّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُواْ خَاسِرِينَ (المائدۃ 51تا 53)
اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔سو آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق اور ذہنوں میں غلامی کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصارٰی) میں (شامل ہونے کے لئے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش (نہ) آجائے (یعنی ان کے ساتھ ملنے سے شاید ہمیں تحفظ مل جائے)، تو بعید نہیں کہ اﷲ (واقعۃً مسلمانوں کی) فتح لے آئے یا اپنی طرف سے کوئی امر (فتح و کامرانی کا نشان بنا کر بھیج دے) تو یہ لوگ اس (منافقانہ سوچ) پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے۔ اور (اس وقت) ایمان والے یہ کہیں گے کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے تاکیدی حلف (کی صورت) میں اﷲ کی قَسمیں کھائی تھیں کہ بیشک وہ ضرور تمہارے (ہی) ساتھ ہیں، (مگر) ان کے سارے اعمال اکارت گئے، سو وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔
تشریح:
جب یہودیوں کی سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں کو ان سے گہری دوستی کرنے سے روکا گیا تو اس وقت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ وغیرہ کے ان سے بڑے قریبی اور گہرے تعلقات تھے لیکن اپنے ایمان کی مضبوطی اور اطاعت رسول کو مقدم رکھتے ہوئے انہوں نے ان سے مکمل براءت اور لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ مگربعض لوگ جو منافقانہ طور پر مسلمانوں سے ملے ہوئے تھے یا ابھی ایمان ان کے دلوں میں رچا نہیں تھا، وہ ان لوگوں سے قطع تعلق کردینے میں یہ خطرات محسوس کرتے تھے کہ ممکن ہے کہ مشرکین و یہود کی سازشیں کامیاب ہو جائیں اور مسلمان مغلوب ہو جائیں تو ہمیں ان لوگوں سے بنا کر رکھنی چاہیے کہ اس وقت ہمارے لیے مصیبت نہ بن جائے۔ گویا ان کا منصوبہ یہ تھا کہ رحمان کے بندوں اور شیطان کے پجاریوں دونوں سے بنا کر رکھیں، تا کہ فتح جس کی بھی ہو ان کی گردن بہرحال بچی رہے۔ انہی منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اعلان کیا:
إني رجل أخاف الدوائر، لا أبرأ من ولاية موالي
"مجھے تو ان سے تعلق توڑنے میں بڑا خطرہ لگتا ہے، لہٰذا میں ان سے اعلان براءت ہرگز نہ کروں گا"
اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ
اور منافقین کے جواب میں فرمایا:
فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ
یعنی جب منافقین کے نفاق کا پردہ چاک ہو گا اور ان کی اسلام دوستی اور خیرخواہی کی قسموں کی حقیقت کھلے گی تو مسلمان حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ کیا یہ واقعی وہی لوگ ہیں جو قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ان بد بختوں کا حشر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام اعمال ضائع کر دیے جنہیں وہ نیکی سمجھ کر کیا کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں اور صلیبیوں سے گہری دوستی اور انہیں سرپرست بنانے کی جو ممانعت کی گئ ہےیہ خود مسلمانوں ہی کے مفاد کی خاطر ہے۔ ورنہ اسلام کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی فرد یا جماعت سچ مچ اسلام کو چھوڑ ہی بیٹھے اور بالکل مرتد ہو کر کافروں سے مل جائے تو اس سے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچتا، اللہ تعالیٰ اپنا کام کسی دوسری قوم سے لے لے گا۔ اللہ کے کام نہ کسی ذات پر موقوف ہیں، نہ کسی جماعت اور ملک پر۔ وہ جس سے چاہتا ہے اپنا کام لے لیتا ہے۔ مسلمان اگر مرتد ہو جائیں تو پروا نہیں، اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کھڑی کر دے گا جن سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھیں گے۔ مسلمانوں کے سامنے نرم ہوں گے، اگر کسی معاملے میں اختلاف بھی ہوا تو آسانی سے قابو آ جائیں گے، جھگڑا چھوڑ دیں گے اگر چہ وہ حق بجانب بھی ہوں۔ مسلمانوں سے اپنے حقوق اور معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے لیکں اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کے خلاف سخت اور قوی ہوں گے۔ یہ ایک ایسی قوم ہو گی جس کی محبت و عداوت اور دوستی اپنی ذات اور ذاتی حقوق و معاملات کی بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر ہو گی۔ اس لیے ان کی لڑائی کا رخ اللہ و رسول کے فرمانبرداروں کی طرف نہیں بلکہ اس کے دشمنوں اور نافرمانوں کی طرف ہو گا۔ یہ لوگ دین حق کی اشاعت اور برتری کے لیے جہاد کرتے رہیں گے اور اس مقصد کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ اپنوں کے طعنوں اور تشنیع سے بڑے بڑے عزم والوں کے قدم میں لغزش آ جاتی ہے لیکن یہ مبارک گروہ جہاد کے معاملے میں نہ کسی بیگانے کے پراپیگنڈے کا شکار ہو گا اور نہ اپنوں کی باتوں سے تنگ آ کر اس سے منہ موڑے گا۔
ان آیات کے اولین مصداق تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے مگر یہ اس کے منافی نہیں کہ کوئی دوسری جماعت بھی اس آیت کی مصداق ہو۔ صحیح یہی ہے کہ قیامت تک آنے والے وہ مسلمان جو یہودیوں اور صلیبیوں کی دوستی سے بچتے ہوئے کفر و ارتداد کا مقابلہ کریں گے ، اسی آیت کے مصداق میں داخل ہوں گے۔یہ تینوں گروہ یعنی یہودی اور صلیبی، منافقین اور مومنین ہر زمانے میں اپنی انہیں صفات کے ساتھ موجود رہے ہیں اور تھوڑا غور کرنے سے آج بھی ان کے چہرے آسانی کے ساتھ پہچانے جا سکتے ہیں۔
(حوالہ جات: تفسیر ابن کثیر، معارف القرآن)

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 143
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (03-12-09), ھارون اعظم (04-12-09), wajee (04-12-09), ابو عمار (04-12-09), سحر (03-12-09), طاھر (03-12-09), عدنان دانی (04-12-09)
پرانا 04-12-09, 09:27 AM   #2
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,085
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ ہمیں بھی اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
ابو عمار آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
پرانا 04-12-09, 11:50 AM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,603
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے تجویز کرتی ہوں
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 04-12-09, 11:58 AM   #4
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُواْ أَهَـؤُلاَءِ الَّذِينَ أَقْسَمُواْ بِاللّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُواْ خَاسِرِينَ (المائدۃ 51تا 53)
اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔سو آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق اور ذہنوں میں غلامی کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصارٰی) میں (شامل ہونے کے لئے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش (نہ) آجائے (یعنی ان کے ساتھ ملنے سے شاید ہمیں تحفظ مل جائے)، تو بعید نہیں کہ اﷲ (واقعۃً مسلمانوں کی) فتح لے آئے یا اپنی طرف سے کوئی امر (فتح و کامرانی کا نشان بنا کر بھیج دے) تو یہ لوگ اس (منافقانہ سوچ) پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے۔ اور (اس وقت) ایمان والے یہ کہیں گے کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے تاکیدی حلف (کی صورت) میں اﷲ کی قَسمیں کھائی تھیں کہ بیشک وہ ضرور تمہارے (ہی) ساتھ ہیں، (مگر) ان کے سارے اعمال اکارت گئے، سو وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔
تشریح:
جب یہودیوں کی سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں کو ان سے گہری دوستی کرنے سے روکا گیا تو اس وقت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ وغیرہ کے ان سے بڑے قریبی اور گہرے تعلقات تھے لیکن اپنے ایمان کی مضبوطی اور اطاعت رسول کو مقدم رکھتے ہوئے انہوں نے ان سے مکمل براءت اور لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ مگربعض لوگ جو منافقانہ طور پر مسلمانوں سے ملے ہوئے تھے یا ابھی ایمان ان کے دلوں میں رچا نہیں تھا، وہ ان لوگوں سے قطع تعلق کردینے میں یہ خطرات محسوس کرتے تھے کہ ممکن ہے کہ مشرکین و یہود کی سازشیں کامیاب ہو جائیں اور مسلمان مغلوب ہو جائیں تو ہمیں ان لوگوں سے بنا کر رکھنی چاہیے کہ اس وقت ہمارے لیے مصیبت نہ بن جائے۔ گویا ان کا منصوبہ یہ تھا کہ رحمان کے بندوں اور شیطان کے پجاریوں دونوں سے بنا کر رکھیں، تا کہ فتح جس کی بھی ہو ان کی گردن بہرحال بچی رہے۔ انہی منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اعلان کیا:
إني رجل أخاف الدوائر، لا أبرأ من ولاية موالي
"مجھے تو ان سے تعلق توڑنے میں بڑا خطرہ لگتا ہے، لہٰذا میں ان سے اعلان براءت ہرگز نہ کروں گا"
اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ
اور منافقین کے جواب میں فرمایا:
فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ
یعنی جب منافقین کے نفاق کا پردہ چاک ہو گا اور ان کی اسلام دوستی اور خیرخواہی کی قسموں کی حقیقت کھلے گی تو مسلمان حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ کیا یہ واقعی وہی لوگ ہیں جو قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ان بد بختوں کا حشر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام اعمال ضائع کر دیے جنہیں وہ نیکی سمجھ کر کیا کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں اور صلیبیوں سے گہری دوستی اور انہیں سرپرست بنانے کی جو ممانعت کی گئ ہےیہ خود مسلمانوں ہی کے مفاد کی خاطر ہے۔ ورنہ اسلام کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی فرد یا جماعت سچ مچ اسلام کو چھوڑ ہی بیٹھے اور بالکل مرتد ہو کر کافروں سے مل جائے تو اس سے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچتا، اللہ تعالیٰ اپنا کام کسی دوسری قوم سے لے لے گا۔ اللہ کے کام نہ کسی ذات پر موقوف ہیں، نہ کسی جماعت اور ملک پر۔ وہ جس سے چاہتا ہے اپنا کام لے لیتا ہے۔ مسلمان اگر مرتد ہو جائیں تو پروا نہیں، اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کھڑی کر دے گا جن سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھیں گے۔ مسلمانوں کے سامنے نرم ہوں گے، اگر کسی معاملے میں اختلاف بھی ہوا تو آسانی سے قابو آ جائیں گے، جھگڑا چھوڑ دیں گے اگر چہ وہ حق بجانب بھی ہوں۔ مسلمانوں سے اپنے حقوق اور معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے لیکں اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کے خلاف سخت اور قوی ہوں گے۔ یہ ایک ایسی قوم ہو گی جس کی محبت و عداوت اور دوستی اپنی ذات اور ذاتی حقوق و معاملات کی بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر ہو گی۔ اس لیے ان کی لڑائی کا رخ اللہ و رسول کے فرمانبرداروں کی طرف نہیں بلکہ اس کے دشمنوں اور نافرمانوں کی طرف ہو گا۔ یہ لوگ دین حق کی اشاعت اور برتری کے لیے جہاد کرتے رہیں گے اور اس مقصد کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ اپنوں کے طعنوں اور تشنیع سے بڑے بڑے عزم والوں کے قدم میں لغزش آ جاتی ہے لیکن یہ مبارک گروہ جہاد کے معاملے میں نہ کسی بیگانے کے پراپیگنڈے کا شکار ہو گا اور نہ اپنوں کی باتوں سے تنگ آ کر اس سے منہ موڑے گا۔
ان آیات کے اولین مصداق تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے مگر یہ اس کے منافی نہیں کہ کوئی دوسری جماعت بھی اس آیت کی مصداق ہو۔ صحیح یہی ہے کہ قیامت تک آنے والے وہ مسلمان جو یہودیوں اور صلیبیوں کی دوستی سے بچتے ہوئے کفر و ارتداد کا مقابلہ کریں گے ، اسی آیت کے مصداق میں داخل ہوں گے۔یہ تینوں گروہ یعنی یہودی اور صلیبی، منافقین اور مومنین ہر زمانے میں اپنی انہیں صفات کے ساتھ موجود رہے ہیں اور تھوڑا غور کرنے سے آج بھی ان کے چہرے آسانی کے ساتھ پہچانے جا سکتے ہیں۔
(حوالہ جات: تفسیر ابن کثیر، معارف القرآن)
بہت خوب عبداللہ بھائی۔۔۔بہت اچھی تحریر ہے۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
arabic, color, مکمل, مقابلہ, منافقین, منصوبہ, ممکن, محبت, ایمان, اللہ, اسلام, جواب, حکم, خلاف, دوست, سردار, شخص, ظالم, عزم, غور, غلامی, صفات, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ زارا بچوں کا پاک نیٹ 1 12-02-11 11:54 AM
حکومت کا دوست نہیں پاکستان دوست کا کردار ادا کررہا ہوں، نواز شریف گلاب خان خبریں 1 27-12-10 03:59 AM
ایک دوست نے فخر سے اپنے دوست سے پوچھا The Great قہقہے ہی قہقے 2 12-10-09 11:03 AM
دوست دشمن نظر نہیں آتے The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 09:48 PM
دوست علی علی موت و حیات کی کشمکش میں Real_Light آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 15 28-07-08 06:43 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger