واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


جب عمر بن عبد العزیز رضی اللٰہ عنہ نے 'این آر او' ختم کیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-09, 10:43 AM   #1
جب عمر بن عبد العزیز رضی اللٰہ عنہ نے 'این آر او' ختم کیا
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 06-11-09, 10:43 AM

وہ ہمیشہ کی طرح رات کو گشت پر نکلے…نفس کے دشت کو نیکیوں کے سمندر میں بدلنے کے لیے گشت تو کرنا ہی پڑتا ہے…اورپھر ویسے بھی اُنہوں نے کبھی شہوات سے ”مفاہمت“ کی ہی نہیں تھی لہٰذا پہلو بھی اکثر بستر سے الگ ہی رہا کرتے تھے…اُس رات بھی معمول کے مطابق اپنے اسلم کے ساتھ وہ رعایا کی خبر گیری کے لیے بھیس بدل کر اُن ہی گلیوں میں سر جھکا کر چل رہے تھے جہاں ”اُن“ کے ہونے کا تصورہی ہر عاشق کو خود بخود ادب سکھادیتا ہے اور وہ تو ٹہرے خالق سے محبوب کے مانگے ہوئے عاشق! پھر اُن سے زیادہ ادب اور کون جانے ؟…اِدھر رات گہری ہوتی جارہی تھی اور اُدھراُن کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی کہ کہیں کوئی گلی،مکان یا محلہ چھوٹ تو نہیں گیایا معبودِ برحق مجھ سے روٹھ تو نہیں گیا جو کسی سائل کی آواز، ماں کی پکار یابھوکے پیٹ رات گذارنے والوں کی سسکیاں سنائی نہیں دے رہیں؟… اِسی مضطربانہ کیفیت کے ساتھ اُنہوں نے ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی ہی تھی کہ دفعتاً ایک آواز کی سرگوشی نے سناٹے کو چیر دیا، بظاہر وہ کھسر پھسر ہی تھی مگر ماحول کی خاموشی نے غیر معمولی صوتی طاقت کے ساتھ مظاہرِ فطرت کو اُس کا گواہ بنادیا تھا…وہ ایک عورت تھی جو اپنی بیٹی کو بیدار کرتے ہوئے اُس سے کہہ رہی تھی…”بیٹی اٹھو! یہ وقت بہت مناسب ہے، تم جلدی سے دودھ میں پانی ملادو“…بیٹی نے قدرے توقف کے بعد اپنی ماں سے دریافت کیا ”امی جان! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آج امیر المومنین نے کیا حکم دیا ہے ؟“…ماں نے بھنویں چڑھاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے دُختر کو گھورتے ہوئے پوچھا کہ ”کیا حکم دیا تھا؟“…بیٹی دائرہ ادب کے احاطے میں رہتے ہوئے نرم انداز میں اپنی والدہ سے یوں گویا ہوئی کہ ”امی جان!میں نے امیر المومنین کے منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ دودھ میں پانی کی آمیزش نہ کی جائے“…ماں نے جواب سن کر کہا کہ ”بس اتنی سی بات ہے ، تم نے تو خواہ مخواہ مجھے بھی پریشان کردیا، گھبرانے کی ضرورت نہیں، تم بس اُٹھو اور دودھ میں پانی ملادو، ہم جہاں ہیں وہاں نہ عمر ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اُن کا منادی، جاؤ ماں کا حکم مانواور جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی کرو“…بیٹی نے والدہ کا آخری فیصلہ سن کر اٹل لہجے میں بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”امی جان! اللہ کی قسم یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ میں لوگوں کے سامنے تو عمر کی اطاعت کروں اور تنہائی میں نافرمانی کا ارتکا ب کروں، آپ کو دودھ میں پانی ملانا ہے تو خود ملادیجیے، مجھ سے یہ نہیں ہوگا“…اور کچھ دیر کے لیے پھر سے خاموشی ہوگئی…اِس بار خاموشی کو فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز نے توڑا اورآپ نے اسلم سے کہا ”اے اسلم! اِس گھر کے دروازے پر کوئی نشان لگادو اور اچھی طرح پہچان لو اور صبح آکر یہاں دیکھناکہ معاملہ کیا ہے ، اِس گھر میں کوئی مرد بھی ہے یا نہیں؟“…اسلم بتاتے ہیں کہ جب صبح میں نے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ لڑکی کا باپ مر چکا ہے اور وہ کنواری ہے جو اپنی ماں کے ساتھ تنہا رہتی ہے …تفصیلات جاننے کے بعد سیدنا عمر  نے اپنے بیٹوں کو بلوایا اور سب کو جمع کرنے کے بعد اُن سے فرمایا”میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کسی کا نکاح اُس لڑکی کے ساتھ کروں جسے میں نے گذشہ شب ایمان کی بہترین حالت میں دیکھا ہے“…آپ کے صاحبزادے حضرت عاصم نے عرض کیا کہ ”بابا جان! میں حاضر ہوں“…چنانچہ سیدنا عمر نے اُس لڑکی کے لیے پیام بھجوایا اور عاصم  سے اُس کا نکاح کردیا، اُن کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی اور اُس کے ہاں بھی بعد میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جیسے گہر نایاب کو جنم دیا…ہاں وہی عمر بن عبدالعزیز جنہوں نے مروان بن حَکم کے اُس خود ساختہ مفاہمتی قانون کا خاتمہ کیاجس سے آل مہلب، ہبیرہ، حجاج اور خالد بن سعید نے بھرپور فائدہ اٹھایا تھا…کالے قانون کے نفاذ سے انکار اور ایمان کے تحفظ پر اصرار کا چراغ اُن کی تربیت گاہ میں اُسی خاتون نے روشن کیا تھا جسے ایک طرف فاروقِ اعظم  کی بہواور دوسری جانب عمر بن عبدالعزیز کی نانی ہونے کا شرف حاصل ہے…
مروان سے لے کر سلیمان بن عبدالملک تک ”حکومتی مفاد“ کے پیشِ نظر ”حکمت عملی“ کے تحت اسلام کے عظیم غازیوں طارق بن زیاد، موسی بن نصیر، محمد بن قاسم اور قتیبہ بن مسلم کی خدمات کا صلہ دردناک شہادت یا معاشی تنگی کی صورت میں دیاگیا، حکومت کے حالات ایسے ہوچکے تھے کہ بیت المال عوامی نہیں بلکہ ”ذاتی خزانہ“ تصور کیا جاتا تھا…”دوستوں“ اور شراب و شباب کی محافل کے ”ساتھیوں“ کو بڑی بڑی جاگیریں عطا کی گئیں، بعض مخالفین کی جانب سے ”حمایت “ کرنے پراُن کی سزائیں معاف کردی گئیں اور بعض طاقت وروں سے ”مفاہمت“ کی خاطر سعید بن جبیر، کمیل بن زیاد، ابراہیم بن یزید رحمھما اللہ اور عبد اللہ بن زبیر اور مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہم کو شہید کردیا گیا…ایسے میں عمر بن عبدالعزیز پیدا ہوئے جنہوں نے قومی و حکومتی مفاہمت اور اِس جیسے ناموں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے خلافتِ منہاج علی النبوة کا احیا کیا…امام ابن جوزی کے مطابق(کسی اور کے مطابق نہیں)آپ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے جو کام انجام دیا وہ لوگوں کے غصب شدہ مال کی واپسی تھی…تاریخ ابن خلکان کے صفحات میں درج ہے کہ آپ نے مسندِ اقتدار سنبھالتے ہی تمام اموال کو مکاتیب لکھے اور اُن سے جائیدادوں اور بیت المال کا حساب مانگا، اُس وقت امت کا دو تہائی مال صرف ”ایک خاندان“ کے قبضے میں تھا، عمر بن عبدالعزیز  کے مکاتیب پر ”این آر و کے تحت فائدہ اٹھانے والوں“ نے جواب دیا”اللہ کی قسم ! یہ مال اور جائیداد اُس وقت تک واپس نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہمارے سر تن سے جدا نہ ہوجائیں، ہم اپنے اجداد کو کافر بناسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو مفلس“…اِس سخت جواب کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے جواباً دمشق کی جامع مسجد میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسے امام جوزی کی تحریر کردہ ”سیرت عمر بن عبدالعزیز“ کے صفحہ۸۱۱ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ …”اُن لوگوں(حکومتی افراد) نے ہم خاندان والوں کو ایسی جاگیریں اور عطایا دیے جس کو اللہ کی قسم ! اُن کو دینے کا حق تھااور نہ ہی ہمیں لینے کا…چنانچہ میں خلیفہٴ وقت کی حیثیت سے اصلی حق داروں کو اُن کا حق واپس دینے اعلان کرتا ہوں اور اِس کی ابتدا اپنے ہی گھر سے کرتا ہوں“…جس کے بعد آپ نے جاگیروں کی اسناد کا خریطہ منگوایا…وزرا ء اِن اسناد کو نکال کر پڑھ کر سناتے جاتے تھے اور آپ قینچی سے اُنہیں کاٹ کر پھینکتے جاتے تھے یہاں تک کہ فجر سے ظہر کا وقت ہوگیا…تاریخ الخلفا میں علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں کہ آپ کی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس موتیوں کا ایک ہار تھا جو اُن کے باپ خلیفہ عبدالملک نے اُنہیں دیا تھا، آپ نے وہ ہار لے کر اپنی شریک ِ حیات سے کہا ”تم اور یہ ہار، دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے“…این آر او کے ایسے چیتھڑے اُڑے کہ بنی امیہ کے تقریباً ڈیڑھ سو افراد عالی شان مکانوں سے نکل کر ”فٹ پاتھ“ تک آگئے … اِن میں سے بعض تو صوم و صلوٰة کے پابند اور متقی بھی تھے مگر قانون کی عملداری میں آپ نے اُن کی بھی ذرہ برابر پرواہ نہیں کی اور یہ صورت حال اُ س وقت تک جاری رہی جب تک کہ آپ کی ”پراسرار شہادت“ نہ ہوگئی…
حضرت عمر بن عبدالعزیز  نے مفاہمتی قانون کا ایسا خاتمہ کیا کہ ظالم اور غاصب امراء و عمال سخت تعزیری سزاؤں سے بچ نہ سکے…حجاج بن یوسف کا خاندان جو ظلم و زیادتی میں مشہور تھا اُس کو جلا وطن کردیاگیا…یمن کے والی عبدالحمید کو رقعہ لکھا کہ ”وسوسہٴ شیطانی اور حکومت کے ظلم و جور کے بعد انسا ن کی بقا نہیں ہوسکتی اِ س لیے میرا خط ملتے ہی ہر حق دار کو اُس کا حق دو اور ہر غاصب کو برطرف کردو“…فارس کے امرا کو لکھا کہ ”خبردار! میں اب یہ نہ سنوں کہ چندمنظورِ نظر افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے عذائی اجناس کے نرخوں میں اضافہ کردیاگیا ہے ، اگر ایسا ہوا تواللہ کا قانون نافذ کرنے میں عمر پیچھے نہیں رہے گا“…
صدر صاحب ایک سوال ہے اور چونکہ آپ ہمارے ملک میں ”سب سے بڑے“ ہیں ، شاید مجھے اِس کا جواب دے سکیں کہ”جب انسان اپنی خواہش سے دنیا میں نہیں آتا اور نہ ہی اُس کی مرضی سے موت آئے گی توپھر وہ پیدائش اور موت کا درمیانی وقفہ اپنی مرضی سے کیوں جینا چاہتا ہے ؟
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــ
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین-روزنامہ جنگ

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 252
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (08-11-09), ملک بھائی (09-11-09), محمدخلیل (06-11-09), حیدر (08-11-09), راجہ اکرام (06-11-09), سحر (06-11-09), عامرشہزاد (06-11-09)
پرانا 06-11-09, 04:56 PM   #2
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,383
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تحریر تو اچھی ہے لیکن تحریر کےمصنف پر مجھے اعتراض ہے، عامر لیاقت حسین ایک جھوٹا آدمی ہے۔اسلام میں کسی انسان کی ذات کے لیے قابل اعتبار ہونے کے جو اصول مقرر کیے گئے ہیں، ان میں پرہیز گاری و تقوی، عدل و انصاف، وعدہ پورا کرنا اور حق سچ کی بات کہنا شامل ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بڑے بڑے محدثین گزرے ہیں لیکن صرف ان حضرات کی حدیث کو سند مانا جاتا ہے جو پرہیز گار، متقی اور جھوٹ نہ بولنے والے ہوں، جن حدیث بیان کرنے والوں کی زندگی کے کسی بھی موقع پر ان سے کی زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ بھی ثابت ہو گیا وہ قابل اعتبار نہ ٹھہرے، ان کی بیان کردہ حدیث کو قبول نہیں کیا جاتا اور اسے ضعیف قرار دیا جاتا ہے۔
کسی بھی انسان کی ذات پر اعتبارکرنے کا یہ بہترین پیمانہ ہے کہ اسکے ماضی سے رجوع کیا جائے اگر وہ جھوٹ، بددیانتی سےپاک ہے تو اسکو اچھے انسان کا درجہ دے کر اسکی کہی ہوئی بات پر اعتبار کیا جاسکتاہے۔ لیکن موجودہ دور میں جہاں مسلمان اسلام کی دوسری تعلیمات کو اتنی اہمیت نہیں دیتے وہیں خبر کو سننے اور اس پر یقین کرنے سے قبل یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا اس شخص نے زندگی کے دوسرے مواقع پر آیا حق کا ساتھ دیا.



یہ صفحہ دیکھیے

چاہے یہ تحریر بالکل درست بھی ہو، میں اسے عامر لیاقت کے ریفرینس سے پڑھنا مناسب نہیں سمجھتا۔ کسی اور جگہ پر لکھی ہوئی تو پڑھ لوں گا، آج اس بندے کے کہے ہوے الفاظ مان لوں تو کل اگر یہی کفر بکنا شروع ہو گیا تو وہ بھی ماننا پڑے گا۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com

Last edited by یاسر عمران مرزا; 06-11-09 at 04:59 PM.
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (06-11-09), ھارون اعظم (10-11-09), طاھر (06-11-09)
پرانا 06-11-09, 06:25 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,987
کمائي: 49,088
شکریہ: 7,298
5,968 مراسلہ میں 15,149 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور میرا اندازا کے کہ عامر نے نہیں لیکھا ہوگا کیونکہ وہ تو صحابہ کی شان میں اپنی ناپاک زبان سے گستاخی بھی کر چکا ہے
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-11-09, 06:45 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,603
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تحریر کم اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے جو ہم کو کافی کتابوں میں ملتا ہے ۔
اس کو عامر لیاقت نے صرف جنگ میں شائع کیا ہے ۔
عامر لیاقت کے اوپر مجھے بھی بہت اعتراض ہیں لیکن عامر لیاقت پر اعتراض کرنے کے بجائے ہم کو واقعہ سے سنق لینا چاہیے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (07-11-09)
پرانا 06-11-09, 06:45 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,642
کمائي: 28,542
شکریہ: 7,148
2,972 مراسلہ میں 8,778 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سارا مضمون بالکل بے ربط ہے۔ کبھی یہ حضرت عمر ابن خطاب (ر) کی بات کرتا ہے اور کبھی عمر ابن عبدالعزیز کی جو بعد میں‌خلیفہ بنے۔ پھر کوئی 200 سال چھلانگ لگاتا ہے اور ایسے فاتحین کو ساتھ ملاتا ہے جو وقت میں ایک دوسرے سے بہت دور واقع ہوئے۔

بنیادی خیال ایک پاکباز خاتون کے بارے میں ہے جو نیک تھیں۔ اپنے سیاسی خیالات کے نفاذ کے لئے ان اعلی ترین شخصیات اور ان کے واقعات کو بیساکھی بنا کر استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جن کا آپس میں‌کوئی ربط نہیں ہے۔

یہ میرا خیال ہے ، آپ کا کیا خیال ہے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-11-09), محمدخلیل (06-11-09)
پرانا 08-11-09, 05:49 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بد قسمتی سے میرا خیال اور میرے خیال میں بد قسمتی سے ۔ ۔ ۔ کسی نے بھی یہ مضمون پڑھا نہیں۔ یا اگر پڑھا بھی ہے تو جلدی جلدی پڑھا ہے۔ واقعی ہماری زندگی بہت تیز تر ہو گئی ہے۔ تاہم اگر کوئی کسی مضمون یا کسی بات پر کوئی تبصرہ کرنا چاہے تو حق یہ ہے کہ وہ یہ اقدام صرف تبھی کرے جب وہ اس کا نفس مضمون سمجھ چکا ہو۔ جو کہ مجھے لگتا ہے ادھر ایسا نہیں ہوا۔

عامر لیاقت مجھے بھی ناپسند ہے کئی وجوہ سے بھی اور بغیر کسی وجہ کے بھی۔ لیکن اگر کوئی مجھے نا پسند ہو تو اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ میں اسکی درست بات کو بھی غلط قرار دے دوں یا سننے سے انکار کر دوں۔
یہ صرف یہ مضمون باقاعدہ ربط میں ہے بلکہ اس میں بیان کردہ تاریخی واقعات بھی ربط میں ہیں۔ اور ان میں کوئی تناقض نہیں۔ ہاں صرف انکو بے ربط لگے گا جو تاریخ کو سرکاری کتب کے صفحآت پر ہی پڑھتے ہیں۔ اور اس مضمون کا مقصد خآتوں کا واقعہ بیان کرنا نہیں بلکہ کچھ اور بیان کرنا ہے وہ جو ہمارے لیے دہشت گردی کے طوفان سے زیادہ خطرناک امنڈتا ہوا طوفان ہے۔ دوبارہ پڑھیے۔

اور اگر لیاقت نے واقعی توہین صحابہ کی ہے تو افسوس ناک، شرم ناک اور قابل مذمت بات ہے۔ لیکن یہ شیعہ سنی فساد کی کوشش کس طرح ہو گئی؟ کیا وہ بھی سنی العقیدہ نہیں؟ تاہم کیا یہ ویڈیو بغیر تبصروں کے نہیں مل سکتی؟ ایڈیٹڈ ویڈیو پر اعتبار کرنا بیوقوفی ہوتی ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (10-11-09)
پرانا 08-11-09, 08:43 PM   #7
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واقعی عامر لیاقت ایک ناپسندیدہ شخص ہی ہے اور کم از کم میں تو اس وقت سے ہی اس کو نا پسند کرتا ہوں جب یہ نیا نیا مشہور ہوا تھا جانے کیوں اس وقت بھی مجھے اس کی باتوں میں منافقت کی بو آتی تھی
لیکن کون کہہ رہا ہے سے زیادہ کیا کہہ رہا ہے پر توجہ ہونی چاہئے اچھی بات اچھی ہی ہوگی چاہے کوئی بھی کہے اور غلط بات غلط ہی ہوگی چاہے کوئی بھی کہے
ویسے میں نے سنا ہے عامر لیاقت نے اپنی گستاخیوں پر معافی تلافی کر لی تھی جانے یہ سچ ہے یا یہ بھی منافقت ہے لیکن ہمیں کسی بھی شخص کے بیان پر ہی اعتبار کرنا پڑے گا حتہ کے وہ جھوٹ ثابت نا ہوجائے
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا
پرانا 10-11-09, 07:26 PM   #8
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں نے کالم کا مواد دیکھ کر اسے یہاں پوسٹ کیا، عامر لیاقت جھوٹا ہو یا سچا، لیکن جو واقعات یہاں بیان کیے گئے ہیں، وہ ضرور سچ ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (10-11-09), حیدر (12-11-09)
جواب

Tags
ٹیک, پہچان, لڑکی, ماں, مسجد, معلوم, آج, ایمان, اللہ, انسان, امیر, اسلام, بہترین, بچوں, تحریر, جواب, حکم, خبر, دریافت, رات, ظالم, عورت, علی, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ذوالفقار مرزا بمقابلہ عزیز آبادی!کیا طبل جنگ بچ چکا؟ ھارون اعظم سیاست 7 29-11-09 02:55 PM
حضرت عمربن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ sahj تاریخ و عبر 0 18-11-09 12:06 PM
وطن عزیز احمدنواز شعر و شاعری 3 14-08-09 01:50 AM
شوکت عزیز طارق راحیل سیاست 0 01-01-09 07:57 PM
سفارتکار طارق عزیز الدین کی رہائی محمدعدنان خبریں 0 17-05-08 08:54 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:10 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger