واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


جسٹس افتخار محمد چوہدری کو زبردستی کمانڈو آپریشن کے ذریعے گھر سے باہر نکالنے کا منصوبہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-02-08, 02:12 PM   #1
جسٹس افتخار محمد چوہدری کو زبردستی کمانڈو آپریشن کے ذریعے گھر سے باہر نکالنے کا منصوبہ
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 10-02-08, 02:12 PM

اسلام آباد میں گذشتہ ہفتے ایک انتہائی اعلی سطح کے اجلاس میں اس منصوبے پر غور کیا گیا کہ برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے اہل خانہ کوججز کالونی سے آدھی رات کو کمانڈو آپریشن کے ذریعے زبردستی گھرسے نکال کر فضائی طور پر کوئٹہ منتقل کردیا جائے لیکن اسلام آباد پولیس اور سول انتظامیہ کے ہوشمندانہ مشوروں نے عقابوں کو قابو میں رکھا۔
چیف کمشنر اسلام آباد حامد علی خان نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ وزارت داخلہ کے اجلاس میں ایسی بے دخلی کے منصوبے پر غور ہوا تھا تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اجلاس کا مقصد مختلف دستیاب آپشنز کا جائزہ لینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مخصوص حلقے اس بات کے حق میں تھے کہ جسٹس چوہدری سے گھر زبردستی خالی کرایا جائے لیکن اسلام آباد کی انتظامیہ نے مسئلے کو پرامن انداز میں حل کرنے کی پالیسی کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کا نکتہ نظر یہ تھا کہ کچھ برطرف ججز پہلے ہی اپنی سرکاری رہائش گاہیں خالی کر چکے ہیں اور اگر وقت دیا جائے تو باقی بھی ان کی پیروی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ماضی کے برعکس اہم فرق یہ تھا کہ اس اجلاس میں خفیہ اداروں، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے حکام نے شرکت نہیں کی، مذکورہ اداروں کے حکام اس حوالے سے مسئلے کے حل کے لیے اثر انداز بھی نہیں ہوئے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ ایجنسیوں کے طرز عمل میں یہ مثبت تبدیلی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی نئی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ اجلاس قانونی نظام کے ان اعلی اہلکاروں اور ایوان صدر کے اصرار پر بلایا گیا تھا جو یہ چاہتے تھے کہ برطرف چیف جسٹس سے سرکاری رہائش گاہ خالی کروا کے انہیں ان کے کوئٹہ میں آبائی گھر بھیج دیا جائے۔
سیکرٹری کمال شاہ اس خبر پر تبصرے کےلئے دستیاب نہ ہو سکے تاہم وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر جاوید اقبال چیمہ نے بتایا کہ انہوں نے ایسے کسی اجلاس میں شرکت کی اور نہ ہی وہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے برطرف چیف جسٹس کو گھر سے زبردستی نکالنے کے منصوبے سے آگاہ ہیں۔ چیمہ نے وعدہ کیا کہ وہ متعلقہ اہلکاروں سے بات کر کے اس نمائندے ضرور آگاہ کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ برطرف چیف جسٹس اور ان کے اہل خانہ کو آدھی رات کو تیزی سے نکالنے کے منصوبے پر تفصیلی غور ہوا تھا۔منصوبے کے مطابق جسٹس چوہدری کے اہل خانہ کا سامان بعد میں ان کے گھر پہنچا دیا جاتا۔
ذریعے نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں نے اس منصوبے کی مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح کا اقدام غیر قانونی ہوگا اور اس کا کسی بھی عدالت میں دفاع نہیں کیا جا سکے گا۔
اجلاس کے ایک شریک نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر آدھی رات کے آپریشن کو میڈیا نے فلم بند کر لیا تو اس سے حکومت کو زبردست شرمندگی ہوگی اس پر اجلاس کے ایک اور شریک نے تجویز پیش کی کہ اس کام کے لئے نقاب پوش پولیس کمانڈوز کو استعمال کرنا چاہیے لیکن اجلاس کی کچھ ہوشمند آوازوں نے اصرار کیا کہ معتلقہ حلقوں کو بتا دینا چاہیے کہ چیف جسٹس کی رہائش کا معاملہ الیکشن کے بعد نئی حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ کچھ پولیس اہکاروں اور اسلام آباد انتظامیہ نے اس طرح کے کمانڈو آپریشن کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ ذریعے کے مطابق معاملے کے قانونی پہلوئوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے متعلق ہے نہ کہ وزارت داخلہ سے۔
تین نومبر کی ایمرجنسی پلس کے بعد چیف جسٹس سمیت ججوں کی جبری بے دخلی کا معاملہ سامنے آیا تھا لیکن وزارت داخلہ کے انتہائی اعلی سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مقصد حاصل کرنے کے لیے راغب کرنے والے اقدامات کئے جائیں اس وقت خفیہ ادارے سرگرمی سے اس معاملے پر کام کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے ججوں سے سرکاری رہائش گاہیں خالی کرائی جائیں۔
وزارت داخلہ کے ذریعے نے بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کے حکام کو بھی گھروں سے جبری بے دخلی کے منصوبے کے لیے اپنے دفاتر طلب کیا تھا تاہم کچھ بیورو کریٹس کی جانب سے مزاحمت کے خطرے کے پیش نظر یہ کام نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں سیکرٹری داخلہ نے چند ایسے سرکاری اہلکاروں سے رابطہ کیا جن کے کچھ برطرف ججوں سے قریبی تعلقات تھے تا کہ وہ ججوں کو اپنے آبائی گھروں کو جانے کےلئے راضی کرسکیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔
دریں اثناء حکومت کے اندر سے بھی حکمرانوں کو انتباہ کیا گیا کہ برطرف ججوں کی گھروں سے جبری بے دخلی سپریم کورٹ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہوگی۔ سینئر حکام کو آگاہ کیا گیا کہ تین نومبر سے قبل کی سپریم کورٹ نے بالااتفاق ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت قواعد میں ترمیم کی گئی تھی کہ اعلی عدالت کے جج اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد 6 ماہ بعد تک سرکاری رہائش گاہ میں قیام کر سکتے ہیں۔

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 306
Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (10-02-08)
جواب

Tags
کوئٹہ, کورٹ, کمال, پولیس, پاکستان, قواعد, نظر, منتقل, منصوبہ, ممکن, آپریشن, انتباہ, انتظامیہ, اسلام, ترمیم, جلد, جاوید اقبال, خلاف, خبر, رات, سپریم, عدالت, صاف, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نیٹو کنٹینرز کے ذریعے سمگلنگ سے پاکستان معشیت کو نقصان ۔۔ چیف جسٹس جاویداسد خبریں 5 22-09-10 12:20 PM
چیف جسٹس قتل منصوبہ، کرنل احسان نے ذمہ دار ی قبول کرلی جاویداسد خبریں 0 18-09-10 02:52 PM
سیلاب: صورتِ حال نقشوں کے ذریعے کنعان میرا پاکستان 1 15-08-10 05:13 AM
ابو یوسف یعقوب المنصور خرم شہزاد خرم تاریخ کا آئینہ 4 27-02-09 02:56 PM
جسٹس وجیہہ الدین صوبہ بدر چاچا کمال خبریں 0 08-12-07 09:59 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:10 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger