جمہوریت او ر شورائی نظام حکومت
۔ جمہوریت او ر شورائی نظام حکومت میں فرق اتنا سا ہے۔جمہوریت کے ذریعہ گلی،محلہ،گاؤں،یونین کونسل،تحصیل اور ضلع کی سطح پرلوگ اپنا نام الیکشن میں حصہ لینے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ الیکشنوں میںجو لوگ مالی استطاعت رکھتے ہیں وہ ان میں حصہ لیتے ہیں۔جن افراد کی مالی حالت بہتر ہوگی۔جو لوگ الیکشن مہم چلا نے کیلئے جتنے زیادہ اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوں گے‘ اتنا ہی میڈیا پر کنٹرول اور اتنا زیاد ہ پبلسٹی، معیثت اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے اپنی پوز یشن بہتر اور مضبوط بنا تے جائیں گے۔وہ دولت کی طاقت سے اپنی کامیابی کی منزل کی طرف قدم بہ قدم بڑھتے جائیں گے۔ جتنی ان کی انفرادی قوت زیادہ ہو تی جائے گی ۔ وہ جلسے جلوسوں کے ذریعہ لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیا ب ہو تے جائیں گے۔ کہ وہ دوسروں کی نسبت ایک، عمدہ،بہترین اور اعلیٰ اہلیت کے مالک اور بہترین صلاحیتوں پر مشتمل اوصاف کے مالک اور ایک موزوں علاقہ کے قائد ہیں۔اس طرح ان کو دولت کی طاقت سے معاشر ہ میں ایک منفرد مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یوں وہ معاشی اور معاشرتی برتری کی بنا پر دوسرے بالمقابل الیکشن میں حصہ لینے والے دوسرے ممبران پر سبقت لے جا تے ہیں۔
۲۔ ابن الوقت معا شی برتری والے سیاستدان عوام الناس کو گمراہ کرنے کیلئے طرح طرح کے نعرے بازی اور سبز باغ دکھا کر سادہ لوح عوام سے ووٹ حاصل کر کے الیکشن جیتنے میں کامیا ب ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ جمہوریت کے الیکشنوں میں اہلیت وصلا حیت، امانت و دیا نت ، نیک و بد جیسی اعلیٰ صلاحیتوں کے فرق کو ختم کر دیا جاتا ہے ۔ با وقار‘ نیک دل‘ امین رہبر اور بے ضمیر رہزن کی شناخت ختم کرنا اس جمہوریت کے نظام کی بنیادی کڑی ہے۔پڑھے لکھے،دانشور اور جاہل کے ووٹ کا وزن برابر ہوتا ہے۔ ووٹوں کو گنا جاتا ہے۔امانت و دیانت،عدل و انصاف ، اعتدال مساوات کے شاہکاروں کو مات اور سرمایہ داروں اور جاگیرد ا روں کی کامیابی کے بگل بجتے رہتے ہیں۔ اس طرح آمری اور فرعونی طبقہ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح کے سرما یہ دار اور جاگیر دار طبقہ پر مشتمل افراد ملک کی سیاست ، ملک کی معاشیات، ملک کی انتظامیہ،ملک کی عدلیہ ،ملک کے وسائل، ملک کے ا قتدار کو اپنی گرفت اور شکنجے میںلے لیتے ہیں۔اس طرح ملک کایہ فرعونی یز ید ی طبقہ فرعونی یزیدی جمہوریت کا سیاسی کھیل مادی وسائل اور دولت کے بلبوتے پر نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک اقتدار کے حصول کی جنگ جیت جاتاہے۔
۳۔ پھر یہ جمہوریت کا الیکشن جیتی ہو ئی آمری اور فرعونی قوتیں دینی، روحا نی اور آسمانی اقدار ، اس کے نظریات، اس کا ضابطہ حیات اور دستور مقدس کی تعلیمات،اس کے تعلیمی ادارے، اس کا تعلیمی نصاب ، اس کا نظام،اس کا سسٹم سرکاری طور پر ،ملکی سطح اور حکومتی سطح پر مسترد اور منسوخ کر کے ملت کی نسلوں کو آمری اور فرعونی جمہو ر یت کے ضابطہ حیات کے نظام اور سسٹم کی چتا میں جھونک دیتا ہے۔
۴۔ جمہو ریت دنیا کا ایک ایسا رائج ا لوقت نظام حکومت ہے۔جس کے اصول و ضوابط ، اس کے قوا نین،اس کا طرز حیا ت،اس کا تعلیمی نصاب،اس کے تعلیمی ادارے، اس کا نظام ،اس کا سسٹم اور اس کے فرعونی یزیدی نظریات کی انفرادی اور اجتما عی تعلیم و تربیت ملک میں جاری ہو جاتی ہے ۔ اس طرح موسیٰ علیہ اسلام،عیسیٰ علیہ اسلام اور محمدا لرسو ل اللہ ﷺ کی پیاری امتوں کی نسلو ں کو ان کے مذاہب کی روحانی نظریاتی تعلیمی روشنیوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ان کا دینی اور فرضی نام موسیٰ خان،عیسیٰ خان اور محمد دین پکارا جاتا ہے ۔ ان کا فرضی مذہب یہودی ، عیسا ئی اور اسلام ہی کہلاتا ہے۔ جمہوریت کی لغت میں ان کااصل نام مادہ پرست۔ان کا دین حصول اقتدار اور ان کی نسل فرعونیت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔وہ مذاہب کی تعلیمات ،وہ مذاہب کی قیادت اور اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کی بجائے فرعونی یزید ی نظریات کی تعلیمات، اس کے نظریات کو چلانے والی قیادت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے خلاف فرعونیت اور یزیدیت کی حاکمیت قائم کر لیتے ہیں۔پاکستان کے حاکموں کی داستاں بھی ان سے مختلف نہیں۔
۵۔ جب وہ ملکی سطح پر اقتدار کی کرسی تسخیر کر لیتے ہیں۔اس پر قابض ہو جا تے ہیں تو یہ جمہوریت کے داعی اسلام نافذکرنے کی بجائے اسلام کی روح کو کینسر بن کر چمٹ جاتے ہیں۔ پھر یہ منافق جدید اسلام اور آفاقی اسلام کی اصطلا حیں استعمال کر کے ملت اسلا میہ کی نسلوں کو فرعونیت کی تیار کردہ تعلیمی بھٹی میں ڈال دیتے ہیں۔فرعونیت کے ضابطہ حیات پر مشتمل جمہوریت کا تعلیمی نصاب ، اس کا علم،عمل اور اس کے کردار کی تشکیل کا کام ملکی سطح پر جاری کر دیا جاتا ہے۔اس کے تعلیمی ادارے جمہوریت کی حکومتی مشینری کی انتظامیہ، عدلیہ اور سیاستدانوں اور دانشوروں کی افواج تیارکرنا شروع کر دیتے ہیں۔حکمران ملک کا نظام چلا نے کے لئے انتظامیہ اور عدلیہ کی نگرانی میں جمہور یت کے مذہب کو پروا ن چڑھا تے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملکی سطح پر مذہبی نظریات کو معبد،کلیسا اور مسجد کے پنجر و ں میں مقید کر دیا جاتا ہے۔یہ نظام حکومت مغرب کے سیاسی دانشوروں کے نظریا ت اور ان کی اسمبلیوں کے سکالر ممبران کے رسولوں کا تیار کردہ طرز حیات ہے۔جو دینی روحانی نظریات اور اقدار کو نگلتا جارہاہے۔مذاہب پرست دینی ،روحانی، دنیاوی ،اخلاقی اور ازدواجی ضابطہ حیات کو مسخ کرنے کے مرتکب حکمرانوں کو عوام اور مذ ہبی پیشوا روکنے سے بے بس ہو جاتے ہیں۔یہ جمہوری اور یزیدی نظام اس وقت پوری دنیا میں رائج ہو چکا ہے۔
۶۔ جمہوریت کے برعکس اسلام نے بھی ایک الہامی ،روحانی اور آسمانی نظریات پر مشتمل طرز حیات اور طرزحکومت پوری انسانیت کو دستور مقدس کی شکل میں عطا کر رکھا ہے۔مسلم امہ اسکو شورائی جمہوری طرزحکومت کا نام دیتی ہے۔ وہ شورائی طرز حکومت کے نمائندگان کا چناؤ الیکشن کے ذریعہ نہیں بلکہ سلیکشن کے ذریعہ دین کی روشنی کی حدود اور دستور مقدس کی تعلیمات کے مطابق معرض وجود میں لا تے ہیں۔ اس شورائی نظام سے جو قیادت ملک و ملت کو نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح پر نصیب ہوتی ہے۔ وہ جمہوریت کی طرح دولت کے انبار کی طاقت سے الیکشن کے ذریعہ وجود میں نہیں آتی ۔ بلکہ دین کے نظریات کی روشنی میں اعلیٰ دینی اقدار اور دینی اخلاق پر مشتمل نمائندگان کی سلیکشن ہو تی ہے۔ جو اہل محلہ، گاؤں، یونین کونسل،تحصیل اور ضلعی سطح پر عوام الناس میں سے جس کی دینی اہلیت اور عمدہ صلا حیت ، امانت و دیا نت ، اعتدال و مساوات،عدل و انصاف اور اسوہ حسنہ ﷺ کے قریب ترین ہو۔ ان جیسی طیب فطرت کا وارث ہو۔جو مخلوق خدا کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو ۔ اس طریقہ کار سے جن ممبرا ن کی سلیکشن ہوتی ہے۔وہ اطاعت رسول ﷺ کے نظریات پر مشتمل دستور مقدس کے پیروکار ہو تے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کو قائم کرتے ہیں۔ اس کے منشور کی اطاعت من و عن خود بھی کرتے ہیں اور پوری امت کو بھی اس کی پیروی کروانا ان کا بنیادی طیب فریضہ ہوتا ہے۔ ملک میں تعلیمی نصاب، تعلیمی ادارے اسلامی نظریا ت کی روشنی میں ملت کے فرزندان کی تعلیم و تربیت کا عمل جاری کرتے ہیں۔جس سے اسلامی ما حول، اسلامی کردار،اسلامی نظریات اوراسلامی تشخص اور اسلامی قائد اور اسلامی قیادت کے روشن امکان خود بخود ابھرنے شروع ہوجاتے ہیں۔