واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟

اس موضوع کے 20 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 2085 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-02-08, 11:18 AM   #1
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟

دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟

جس موضوع ’’دہشت گردی‘‘پر بحث شروع کر رہا ہوں اس کی تفصیلات میں جانے سے پہلے خود اس لفظ کی تعریف کرنا چاہوں گا لیکن دہشت گردی کی تعریف یا ڈیفائن کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ اس کی مختلف تعریفیں‌ ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان میں کئی اس لفظ کی صحیح تعریف واضح نہیں کرتی اور اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اس لفظ کی تعریف / ڈیفینیشن بہت واضح نہیں‌ ہے۔ جیسے جیسے جغرافیائی مقام تبدیل ہوتا ہے ویسے ویسے اس لفظ کی تعریف تبدیل ہوتی جاتی ہے لیکن آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق:
’’سیاسی مقاصد کے حصول یا کوئی بھی سرکاری کام کی پرزور انجام دہی کے لیے پرتشدد طاقت کا استعمال ‘‘
اس لفظ کا پہلی بار استعمال 1790 میں فرانسیسی انقلاب کے دوران کیا گیا تھا اور یہ لفظ ایک برطانوی شخص ایڈمنڈ برک نے فرانس کے جیکوبیئن دور کی حکومت کے لیے استعمال کیا تھا۔ 1793 اور 1794 کے درمیان اس ہی حکومت کو ’’دہشت کی حکومت‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس حکومت کو میکسیمیلن روبز پیئر چلا رہا تھا۔ جتنا عرصہ بھی اس نے حکومت کی اس نے ہزاروں لاکھوں معصوم لوگوں کو مروایا / گلوٹونائز کیا۔ تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ روبز پیئر نے تقریباً پانچ لاکھ افراد کو گرفتار کرایا جس میں سے چالیس ہزار کو فوراً مروا دیا، دو لاکھ کو ملک بدر کیا گیا جبکہ دو لاکھ سے زائد کو جیلوں میں تشدد اور اذیتیں دے کر اور بھوکا رکھ کر ہلاک کیا گیا۔ تو بہرالحال لفظ دہشت یا دہشت گردی کا ابتدائی استعمال اس طرح کیا گیا۔
لیکن آج جب ہمارے پاس بین الاقوامی میڈیا موجود ہے، ایک بہت عام سا بیان اکثر و بیشتر خصوصاً سامنے آتا رہتا ہے یا یہ کہہ لیں کہ اس بیان کی اکثر بمباری کی جاتی ہے اور وہ بیان یہ ہے کہ:

’’تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں‘‘
All Muslims are not terrorists but
All Terrorists are Muslims

یہ تشریح یا تعریف ایک خاص مقصد سے شرق الاوسط اور دیگر ایشیائی ممالک میں پھیلائی گئی ہے۔ تو آیئے آج دیکھتے ہیں کہ تاریخی ریکارڈز کے مطابق دنیا میں دہشت گردی یا حملوں سے متعلق معلومات ہمیں کیا بتاتی ہے۔

جب ہم 19ویں صدی کی بات کرتے ہیں‌ ہمیں پتا چلتا ہے کہ شاید ہی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو جس میں مسلمان ملوث ہوں۔
1881 میں روس کے زار الیگزینڈر دوئم کو قتل کردیا گیا۔ وہ سینٹ پیٹرز برگ (سابقہ لینن گراڈ) میں ایک بلٹ پروف گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک بم پھٹا جس سے معصوم 22 لوگ مارے گئے۔ سر الیگزینڈر اپنی گاڑی سے باہر آتے ہیں کہ اچانک ایک اور بم پھٹا اور وہ مارے گئے۔ انہیں کسی مسلم نے نہیں بلکہ بیلاروس اور پولینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص‌ ایگنی ویرچی نامی غیر مسلم شخص نے مارا۔
1886 میں شکاگو (امریکا) کی ہے مارکیٹ اسکوائر میں لیبر ریلی کے دوران دھماکا ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 12 افراد مارے گئے جبکہ 7 زخمی ہونے والے پولیس اہلکار اسپتال میں‌ جانبر نہ ہوسکے۔ اس واقعے میں ملوث افراد مسلم نہیں بلکہ غیر مسلم انارکسٹ تھے۔
اب آتے ہیں 20ویں صدی کی طرف۔
6 ستمبر 1901ء کو امریکی صدر ولیم میک کینلی کو ایک غیر مسلم انارکسٹ لیئون زولوگوس نے قتل کردیا۔ اس شخص نے امریکی صدر کو پستول کے دو فائر کرکے قتل کیا۔
یکم اکتوبر 1910ء کو امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کی عمارت میں ہوا جس میں 21 معصوم افراد مارے گئے۔ اس حملے میں ملوث دو افراد عیسائی تھے جن کے نام جیمز اور جوزف ہیں، دونوں یونین لیڈر تھے۔
28 جون 1914ء کو آسٹریا کے آرک ڈیوک فرانز فرڈیننڈ (رائل پرنس آف ہنگری اینڈ بوہیمیا) کو ان کی اہلیہ سمیت بوسنیا ہرزیگووینا کے دارالحکومت ساراجیوو میں قتل کردیا گیا جس کے نتیجے میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس قتل میں‌ ملوث‌ افراد کا گروپ خود کو ’’ینگ بوسنیا یا نوجوان بوسنیا‘‘ کہلاتے تھے اور تمام کے تمام غیر مسلم سرب تھے۔
16 اپریل 1925ء کو بلغاریہ کے دارالحکومت سوفیا کے سینٹ نیڈیلیا چرچ میں بم دھماکا ہوا جس میں 150 سے زائد معصوم افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ بلغاریہ کی تاریخ میں سب سے بڑا حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ حملے میں ملوث افراد غیر مسلم تھے اور بلغارین کمیونسٹ پارٹی کے ارکان تھے۔
9 اکتوبر 1934ء کو یوگوسلاویہ کے شاہ الیگزینڈر کو ایک بندوق بردار شخص ولاڈا جورجیف نے قتل کردیا جو غیر مسلم تھا۔
یکم مئی 1961 کو امریکی تاریخ کا پہلا طیارہ ایک عیسائی ریمریز آرٹیز نے ہائی جیک کیا۔ وہ شخص‌ طیارے کو کیوبا لے گیا جس کے بعد اس نے وہاں پناہ حاصل کرلی۔
28 اگست 1968ء‌ کو گوئٹے مالا میں امریکی سفیر کو ایک غیر مسلم نے قتل کردیا۔
30 جولائی 1969ء میں جاپان میں امریکی سفیر کو ایک غیر مسلم جاپانی شخص نے قتل کیا۔
3 ستمبر 1969ء کو برازیل میں امریکی سفیر کو اغواء کرلیا گیا جس میں ایک غیر مسلم ملوث‌ تھا۔
19 اپریل 1995ء میں مشہور و معروف اوکلوہاما فیڈرل بلڈنگ میں ہونے والے دھماکے میں دھماکہ خیز اور آتشگیر مواد سے بھرے ایک ٹرک کو عمارت سے ٹکرا دیا گیا تھا، اس واقعے میں 166 معصوم افراد مارے گئے جبکہ سیکڑوں دیگر زخمی ہوئے۔ ابتدائی طور پر پریس میں جو بات سامنے آئی وہ تھی ’’مڈل ایسٹ کانسپائریسی‘‘۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہفتوں‌تک بریکنگ نیوز چلتی رہی کہ یہ مڈل ایسٹ کانسپائریسی ہے، مسلم ملوث‌ ہی، فلسطینی‌ ملوث ہیں لیکن بعد میں تحقیقات سے پتا چلا یہ حملہ کرنے والے 2 بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد تھے ، دونوں‌ عیسائی تھے اور ان کے نام ٹموتھی اور ٹیری تھے۔ لیکن جب یہ بات پتا چلی کہ حملے میں عیسائی ملوث تھے تو میڈیا میں ایک دو روز تک یہ بات چلی لیکن اس کے بعد غائب ہوگئی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد 1941ء سے 1948ء تک دنیا میں 259 دہشت گرد حملے ہوئے جس میں یہودی دہشت گرد اور کئی دیگر یہودی تنظیمیں جیسا کہ ارگون، اسٹن گینگ اور ہیگنا ملوث تھیں۔
22 جولائی 1946ء میں آج کے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے کنگ ڈیوڈ‌ ہوٹل کا بم دھماکا اس حوالے سے بہت معروف ہے اور اس میں‌ یہودی تنظیم ارگون کا رکن مینکم بیگن ملوث تھا۔ واقعہ میں 91 معصوم افراد مارے گئے جس میں سے 28 برطانوی، 41 عرب، 17 یہودی اور 5 دیگر قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ حملے میں یہودیوں نے جو بدمعاشی کی تھی وہ یہ تھی کہ حملہ آوروں کو عرب شیوخ کے لباس میں بھیج کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حملہ عرب قوم نے (فلسطینیوں) نے کرایا ہے۔ اس وقت تک یہ برطانوی مفادات پر سب سے بڑا حملہ تصور کیا جا رہا تھا۔ اس واقعہ کے بعد برطانوی حکومت نے مینکم بیگن کو اول نمبر کا دہشت گرد قرار دیا تھا۔ بعد میں کچھ سال بعد یہی بیگن اسرائیل کا وزیراعظم منتخب ہوجاتا ہے اور اس کے چند سال بعد اسے امن کا نوبل انعام دیا جاتا ہے۔ ذرا سوچیں! معصوم افراد کا قاتل وزیراعظم بن گیا اور نوبل پیس پرائز لے گیا اور یہی نام نہاد مغربی میڈیا، جو جھوٹے ہولوکاسٹ کو جھوٹا تک ثابت نہیں کرسکتا، بیگن کی تعریفوں کے گن گانے لگا۔ اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون بھی معصوم لوگوں‌ کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ انہوں نے 1982ء میں‌ جب وہ اسرائیل کے وزیر دفاع تھے، لبنان کے صابرہ اور شتیلا کیمپ میں تقریباً 3500 فلسطینی پناہ گزینوں‌ کو لبنان کی عیسائی تنظیم لیبنیز میرونائٹ کرسچن ملیشیا کے ہاتھوں‌ اور اسرائیلی فوجی ایجنٹس کے ذریعے مروا دیا۔ یہ ساری سازش فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او)‌ کے ان کارکنوں کو مارنے کے لیے کی گئی تو جو اسرائیل سے اپنی چھینی ہوئی زمین واپس لینے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
اگر آپ 1945ء سے پہلے کا دنیا کا نقشہ دیکھیں‌ تو پتہ چلے گا کہ اسرائیل کا نام و نشان تک نہیں‌ تھا۔ مذکورہ بالا یہودی جنہیں مسلمانوں نے نہیں بلکہ برطانیہ نے دہشت گرد تنظیم کا نام دیا تھا، یہودی ریاست کے حصول کے لیے لڑ رہی تھیں۔ بعد میں طاقت کے دم پر انہوں نے زمین پر قبضہ کیا، فلسطینیوں کو وہاں سے لات مار کر بھگایا اور اب وہی لوگ جو اپنی زمین کے واپس حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں انہیں‌ اسرائیل نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔
ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کرایا، وہ جرمنی سے یہودیوں کو بھگادیتا ہے تو وہ یہودی فلسطین میں کیوں گھسیں۔ یہ تو فلسطینیوں کی مہمان نوازی اور اخلاص تھا جنہوں نے ان یہودیوں کو موسیٰ کی اولاد سمجھ کر گلے لگایا اور رہنے کے لیے جگہ دی۔ اگر ان یہودیوں کو زمین چاہئے تو وہ واپس جرمنی جائیں یا پھر یورپ جائیں جہاں سے انہیں نکالا گیا ہے۔ دنیا میں خود کو انسانی حقوق کا علمبردار ماننے والے فرسٹ ورلڈ ممالک اسرائیل جیسے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں، اس کے خلاف اقوام متحدہ میں آنے والی قراردادوں کو ویٹو کر رہے ہیں اور جو معصوم ہیں ان کا پابندیوں کے نام پر دانہ پانی بند کرکے انہیں دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ امام خمینی نے امریکا کے لیے بزرگ شیطان کا جو نام رکھا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔
جرمنی میں 1968ء سے لے کر 1992ء تک بادر مین ہوف گینگ نامی تنظیم نے کئی معصوم انسانوں کا قتل کیا۔
اٹلی میں ریڈ بریگیڈ نامی تنظیم نے سیکڑوں معصوم لوگوں کا قتل کیا اور یہی تنظیم اٹلی کے وزیراعظم الڈو مورو کے اغوا میں بھی ملوث تھی اور 55 روز بعد اسے قتل بھی کردیا۔
جاپان میں بھی ایسی ہی ’’جاپنیز ایٹ آرمی‘‘ نامی تنظیم تھی جس کے ارکان بدھ مت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تنظیم نے ٹوکیو سب وے میں ہزاروں لوگوں کو ایک زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے ان کی سازش ناکام ہوئی اور صرف 12 لوگ مارے گئے لیکن 5 ہزار افراد زہریلی گیس کے اثرات سے شدید متاثر ہوئے اور کچھ زخمی بھی ہوئے۔
برطانیہ میں تقریباً 100 سال تک آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی کیتھولک عیسائی ارکان پر مشتمل تنظیم آئی آر اے برطانوی مفادات کے خلاف حملے کرتے آئے لیکن انہیں کبھی کیتھولک دہشت گرد نہیں کہا گیا۔ اس تنظیم نے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں‌ دہشت گرد حملے کئے۔ 1972ء میں اس تنظیم نے تین دھماکے کرائے۔ پہلے میں سات، دوسرے میں 11 جبکہ تیسرے میں 9 مارے گئے۔ 1974ء میں تنظیم نے دو گلفورڈ‌ پب (شراب خانہ) میں دھماکے کرائے 6 افراد مارے گئے جبکہ 45 سے زائد زخمی ہوئے۔ برمنگہم کے شراب خانے میں کئے جانے والے حملے میں 21 افراد مارے گئے جبکہ 162 زخمی ہوئے۔ 1996ء میں لندن میں ہونے والے دھماکے میں 2 افراد زخمی ہوئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ 1996ء میں ہی مانچیسٹر کے شاپنگ ایریا میں دھماکے سے 206 افراد زخمی ہوئے۔ 1998ء میں بین برج بم دھماکے، جہاں ایک گاڑی میں 500 پائونڈ وزنی دھماکا خیز مواد ایک گاڑی میں رکھ کر تباہ کردیا گیا، جس سے 35 معصوم افراد زخمی ہوئے۔ اس ہی سال کے دوران اوماگ بم دھماکے میں آئی آر اے نے 500 پائونڈ وزنی دھماکا خیز مواد کو تباہ کرکے 25 افراد کو موت کی نیند سلادیا جبکہ 330 افراد زخمی ہوئے۔ یہ تمام کے تمام واقعات آئی آر اے نامی تنظیم کے کھاتے میں جاتے ہیں جنہیں کسی مسلم مورخ کی کتابوں سے نہیں بلکہ غیر مسلم مغربی میڈیا (ایمنسٹی انٹرنیشنل، بی بی سی وغیرہ وغیرہ۔ تفصیلات انٹرنیٹ پر سرچ کی جا سکتی ہیں) کی رپورٹس سے حاصل کیا گیا ہے۔ کیتھولک دہشت گرد تنظیم۔


(فی الحال اتنا ہی۔۔۔۔جاری ہے)

Last edited by شیخ ہمدان; 28-02-08 at 01:15 PM. وجہ: Typographical error in tittle
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
مندرجہ ذیل 6 صارفین نے شیخ ہمدان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
منتظمین (03-03-08), شاہد جمیل حفیظ (09-10-09), عادل سہیل (30-01-09), عبدالقدوس (28-02-08), عبداللہ حیدر (23-10-08), عدنان (28-02-08)
کمائي نے شیخ ہمدان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
03-03-08 منتظمین دستیاب نہیں 50
پرانا 29-02-08, 09:59 PM   #2
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ دوئم

گزشتہ سے پیوستہ:

4 مارچ 2001ء کو آئرش ری پبلکن آرمی (آئی آر اے) نے مغربی لندن میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے صدر دفتر کے باہر ایک کار بم حملہ کیا، اس سلسلے میں نومبر 2001ء میں نوئل میگوائر، رابرٹ ہلمے اور اسکے بھائی ایڈن ہلمے کو گرفتار کرلیا گیا، تینوں کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ایسے عیسائی دہشت گردوں کو کبھی کیتھولک دہشت گرد نہیں‌ کہا گیا۔ لیکن اس کے باوجود آج برطانوی حکومت سب سے زیادہ مسلم دہشت گردوں سے خوف زدہ ہے۔ اس بات کی آج تک تصدیق نہیں‌ ہوسکی کہ برطانیہ میں جن حملوں کو مسلمانوں سے منسوب کیا گیا ہے وہ واقعی مسلمانوں نے کئے بھی تھے یا نہیں۔ لندن میں 7 جولائی کو ایک ڈبل ڈیکر بس اور انڈر گرائونڈ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے حملوں کے بارے میں‌ بھی تاحال پتہ نہیں چل سکا کہ آیا وہ واقعی مسلمان تھے۔ ان کے بارے میں صرف ’’مشتبہ‘‘ مسلمان جیسے الفاظ استعمال کئے گئے۔ (یعنی شاید مسلمان ہوں)۔ اگر صرف بحث‌ کے مقصد سے اس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے کہ حملہ آور مسلمان تھے تو ان کا مقابلہ آئی آر اے کی کارروائیوں سے نہیں‌ کیا جا سکتا۔ مسلمانوں‌ کی چند کارروائیاں اور آئی آر آئی کی ہزاروں کارروائیاں! شرم آتی ہے۔ آئی آر اے گزشتہ ایک سو برس سے دہشت گردی کر رہی ہے لیکن جارج بش کی صلاح پر ٹونی بلیئر اور گورڈن برائون جیسے لوگ آئی آر اے جیسے 100 سالہ پرانے مسئلے کی بجائے مسلمانوں سے خوف زدہ ہیں۔

تاریخی ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ اسپین اور فرانس بھی عیسائی دہشت گردوں سے پاک نہیں۔ فرانس اور اسپین میں‌ کارروائیاں کرنے والے گروہ کا نام ETA ہے۔ اس تنظیم نے دونوں ممالک میں تقریباً 36 حملے کئے ہیں۔

افریقا میں بھی ایسی کئی تنظیمیں ہیں جو عیسائی دہشت گرد تنظیمیں کہلائی جاسکتی ہیں لیکن ان میں‌ سے ایک جو سب سے زیادہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے وہ یوگنڈا کی لارڈز سالویشن آرمی ہے اور عیسائی دہشت گرد تنظیم ہے۔ یہ تنظیم چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو دہشت گرد حملوں کے لیے تربیت دیتی ہے۔

جب ہم سری لنکا پہنچتے ہیں تو ہمارا واسطہ LTTE نامی تنظیم سے پڑتا ہے جنہیں حرف عام میں‌ تامل باغی یا تامل ٹائیگرز بھی کہا جاتا ہے۔ اس تنظیم کو دنیا کی سب سے خطرناک تنظیموں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے لوگوں کو خود کش حملوں کا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے، یہ بچوں کو بھی تربیت دیتے ہیں اور ان سے خود کش حملے کراتے ہیں۔ ہم صرف خبروں میں‌ یہی پڑھتے ہیں کہ فلسطینی خود کش بمبار، عراقی خود کش بمبار یا پھر مسلم خود کش بمبار۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود کش حملوں کو مقبولیت کا شرف ان ہی ایل ٹی ٹی ای کے لوگوں نے بخشا ہے۔ اس تنظیم کے رکن مسلمان نہیں بلکہ ہندو ہیں۔ لیکن بھارتی رپورٹس میں‌ کبھی یہ نہیں‌ کہا گیا کہ حملہ آور ہندو دہشت گرد تھے۔ صرف یہ کہا جاتا ہے کہ حملہ ایل ٹی ٹی ای نے کیا۔

صرف بھارت میں‌ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مختلف دہشت گرد تنظیمیں ہیں‌ لیکن جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے تو صرف اس میں مسلم دہشت گرد کا نام کیوں لیا جاتا ہے۔ یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ اس میں ہندو دہشت گرد ملوث ہے، اُس میں سکھ دہشت گرد ملوث ہے وغیرہ وغیرہ ۔

بھارت میں بھنڈرانوالہ گروپ ایک سکھ دہشت گرد گروپ ہے۔ 5 جون 1984ء میں‌ بھارتی فورسز نے سکھوں‌ کے گولڈن ٹیمپل پر قبضہ کرلیا جس کے نتیجے میں تقریباً ایک سو لوگ مارے گئے۔ اس کے چند ماہ بعد بدلے کے طور پر 31 اکتوبر کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے اپنے ہی سکھ باڈی گارڈ نے قتل کردیا۔ بھارتی ریاست تری پورہ میں NLFT اور ATTF نامی عیسائی دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ انہوں‌ نے کئی ہندوئوں کو اپنے حملوں میں‌ ہلاک کیا ہے۔ ان گروپوں نے 2004ء میں 44 ہندوئوں کو مارا۔ آسام میں ULFA نامی تنظیم ہے۔ صرف اس اکیلی تنظیم نے گزشتہ 16 سال کے دوران 1990 سے 2006 تک 749 کامیاب دہشتگرد حملے کئے ہیں۔ حملوں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھ کر کشمیری مجاہدین کو شرم آنی چاہئے۔ نکسل باغیوں اور مائو باغیوں کی کارروائیوں تو میں‌ نے ابھی لکھی ہی نہیں۔ جتنے حملے غیر مسلم تنظیموں‌اور دہشت گردوں‌ نے کئے ہیں ان کے سامنے تو مسلمانوں‌ کے حملوں کی تعداد تو ایسی ہے جیسے آٹے میں نمک۔ لیکن حکومت سب سے زیادہ مسلم دہشت گردوں‌ سے خوف زدہ ہے، ان کی داڑھیوں سے خوف زدہ ہے، ان کی ٹوپیوں، اسکارف اور حجاب سے خوف زدہ ہے ۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔ صرف جارج بش کی وجہ سے۔
حوالے کے لیے آپ سائوتھ ایشیا ٹیرر ازم پورٹل کی ویب سائٹ http://www.satp.org کا مطالعہ ضرور کیجیئے گا۔ یہ ویب سائٹ‌ مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم چلا رہے ہیں۔ یہاں پر آپ کو حملوں کی تفصیلات ملیں گی جس میں‌ آپ کو مسلمانوں کے حملے بھی ملیں گے لیکن ان کی تعداد بہت ہی کم ہوگی، لیکن اس بات کو میڈیا میں‌ نمایاں نہیں کیا جاتا۔غیر مسلم تنظیموں کے حملوں‌ کو شہ سرخیوں میں نہیں بلکہ نیوز بریفس میں‌ چلایا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف پروپگینڈے کے لیے ان کے حملوں کو بڑھا چڑھا کر شہ سرخیوں‌ میں چلایا جاتا ہے۔
جب ہم سب چیزوں‌ کو دیکھتے ہیں تو ایک سوال سامنے آتا ہے ایسا صرف مسلمانوں کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے۔ یہ ساری بدمعاشی مغربی میڈیا کی ہے جسے سیاست دان کنٹرول کر رہے ہیں۔ ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی پر مسلمانوں‌ کی اجارہ داری نہیں ہے، حتیٰ کہ مسلمان دہشت گردی کر ہی نہیں سکتا اور تو اور اسلام میں‌ بھی اس کی ممانعت ہے اور دنیا کے اکثر مذاہب معصوموں کے قتل کو گناہ تصور کرتے ہیں۔
سورۃ المائدۃ کی آیۃ نمبر 32 کے مطابق:

مِنْ اجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي اسْرَائِيلَ انَّہُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ اوْ فَسَادٍ فِي الاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ اَحْيَاھَا فَكَاَنَّمَا اَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاء تْھُمْ رُسُلُنَا بِالبَيِّنَاتِ ثُمَّ اِنَّ كَثِيرًا مِّنْھُم بَعْدَ ذَلِكَ فِي الاَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

معصوم معصوم ہوتا ہے، چاہے وہ مسلم ہو یا عیسائی یا ہندو۔ ایک معصوم کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب قتل کی ترغیب نہیں دیتا۔
دنیا میں‌ سب سے زیادہ قتل کرنے والوں میں ہٹلر (6 ملین یہودی)، جوزف اسٹالن جسے انکل جو بھی کہا جاتا ہے (14 اعشاریہء 5 ملین)، چائنا کے مائو سی سنگ نے تقریبا 20 ملین افراد کو مروا دیا۔ اٹلی کے بینیٹو مسولینی نے چار لاکھ افراد کو مروایا۔ فرانس کے میکسیمیلین روبز پیئر (فرانسیسی انقلاب) نے تشدد اور بھوکا مار کر دو لاکھ افراد کو مروایا۔ بدھ مت کے پیرو کار بادشاہ اشوکا نے صرف کالنگ کی جنگ میں ایک لاکھ افراد کو مروایا۔ مسلمانوں کو دیکھا جائے تو یہاں بھی کالی بھیڑ موجود ہے جسے صدام حسین کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور اس نے بھی کئی معصوموں کی جان لی لیکن امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے عراق پر پابندیوں کے باعث 5 لاکھ بچے بھوک اور قحط سے مارے گئے۔ انڈونیشیا کے صدر محمد سوہارتو نے 5 لاکھ افراد کو مروایا۔ لیکن ان مسلمان سربراہان کے گناہوں کا مقابلہ اسٹالن اور ہٹلر کے جرائم سے نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی تقابلی جائزہ ہی نہیں بن پاتا۔ سب غیر مسلم رہنمائوں کی کارروائیوں کو ملا کر اگر مسلم رہنمائوں کی کارروائیوں کو دیکھا جائے گا تو مسلمانوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے۔ اگر یہ مسلم رہنما واقعی مسلمان ہوتے تو ان کے ہاتھوں معصوموں کا اس طرح قتل عام نہ ہوتا۔ لیکن ان سب کے باوجود مسلمانوں کو بنیاد پرست، انتہا پسند اور شدت پسند کے ناموں کے لقب دیئے جاتے ہیں۔
اگر لفظ بنیاد پرست کی معنی دیکھے جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص کسی خاص موضوع یا چیز کی بنیادی عقائد پر یقین رکھے تو اسے بنیاد پرست کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص اچھا سائنسدان یا ریاضی دان بننا چاہتا ہے تو اسے سائنس یا ریاضی کی بنیادی چیزوں کا علم حاصل کرنا ہوگا۔ جب تک وہ سائنسی ریاضی علوم میں بنیاد پرست نہیں بنے گا اس وقت تک وہ اچھا سائنسدان یا ریاضی دان بھی نہیں‌ بن پائے گا۔
اس ہی طرح اسلامی تعلیمات پر گہرائی سے عمل کرنے والا ہر شخص بنیاد پرست ہے کیونکہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل کر رہا ہے۔ اس تشریح کے تحت ہر مسلمان شخص کو بنیاد پرست ہونا چاہئے۔

چلیئے اب تھوڑا امریکا کی طرف چلتے ہیں:
امریکی انقلاب 19ویں صدی میں‌ برپا ہوا۔ 1875ء میں ہزاروں امریکی آزادی کے لیے لڑ رہے تھے اور برطانیہ سے اپنی زمین کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ جو لوگ برطانوی فورسز کے خلاف لڑ رہے تھے برطانیہ انہیں دہشت گرد قرار دے چکا تھا۔ آزادی حاصل کرنے والے لوگوں‌ کے سربراہ بینجمن فرینکلن اور جارج واشنگٹن تھے اور برطانیہ نے انہیں‌ اس وقت دہشت گرد نمبر ون قرار دے دیا تھا لیکن بعد میں‌ آزادی ملنے کے بعد جارج واشنگٹن امریکا کا صدر بن جاتا ہے اور اگر اس طرح تناظر میں دیکھا جائے تو جارج واشنگٹن جو کہ دہشت گرد نمبر ون ہے وہ امریکا کے تمام آنے والے صدور کا گاڈ فادر بن گیا۔۔۔۔ایک زمانہ تھا جب برطانیہ امریکیوں کو دہشت گرد قرار دیتا تھا اور اب دونوں دوست ہیں، اتحادی ہیں۔

اگر امریکا اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ کرسکتا ہے تو کیا یہ جواز بھارت کو بھی مل سکتا ہے کہ وہ بھوپال گیس حادثے (یونین کاربائیڈ) کے ذمہ دار شخص کو گرفتار کرنے کے لیے امریکا پر حملہ کردے؟
امریکا افغانستان پر حملہ کرتا ہے، پھر عراق میں ہاتھ ڈال دیتا ہے، نتیجہ ہزاروں لاکھوں معصوم لوگوں کی ہلاکت۔ عراق میں‌ جب وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ ملے تو نکلو باہر ۔۔۔۔ جان چھوڑو عراقیوں کی ۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو تیل کیسے ملے گا امریکا یعنی شیطان بزرگ کو۔ دنیا گواہ ہے کہ صدام کی موجودگی میں‌ عراقیوں کے لیے چاہے کتنے بھی مسائل تھے ملک پرامن تھا لیکن امریکی مداخلت کے بعد عراقیوں کے مسائل سیکڑوں گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں‌ لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار جارج بش ہے تو سب سے بڑا دہشت گرد بھی جارج بش ہوا۔
یہ صرف میں نہیں کہتا وینیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز، بولیویا کے صدر ایوو مورالیس، امریکی گلوکار ہیری بلیفونٹ، برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے، بھارتی ریاست مغربی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ جیوتی باسو اور کئی دیگر شخصیات یہ کہہ چکی ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد جارج بش ہے اور اس کے ہاتھوں پر لگے خون کی مقدان لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد کے ہاتھوں پر لگے خون سے کہیں زیادہ ہے۔
جارج گیلووے تو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی خود کش بمبار جا کر ٹونی بلیئر پر خود کش حملہ کرے اور اس میں سوائے ٹونی بلیئر کے اور کوئی نہ مرے تو وہ حملہ بالکل جائز ہوگا۔
جیوتی باسو کے کہنے کے باوجود بھارتی حکومت جارج بش کو دہشت گرد قرار دینے سے گریز کرتی ہے۔ پاکستان کے عوام بش کو دہشت گرد سمجھتے ہیں لیکن عوامی مینڈیٹ کو فوجی جوتے کی نوک پر رکھ دیا گیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے نوبل انعام یافتہ خاتون بیٹی ولیمز نے کہا تھا کہ وہ جارج بش کو قتل کرنا پسند کریں گی۔
حوالہ: http://sweetness-light.com/archive/n...president-bush

http://en.wikipedia.org/wiki/Betty_W...George_W._Bush

تو بھئی بات آتی ہے کہ کیا دہشت گردی پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ جی نہیں دہشتگردی پر سیاستدانوں کی اجارہ داری ہے۔


(جاری ہے)

Last edited by شیخ ہمدان; 29-02-08 at 10:33 PM.
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 5 صارفین نے شیخ ہمدان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
منتظمین (03-03-08), زین خان (23-10-08), شاہ110 (05-02-09), شاہد جمیل حفیظ (02-12-08), عدنان (01-03-08)
کمائي نے شیخ ہمدان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
03-03-08 منتظمین دستیاب نہیں 50
پرانا 31-03-08, 10:01 AM   #3
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ سوئم

(گزشتہ سے پیوستہ).۔۔۔۔۔

یہ میری ذاتی رائے ہے کہ دہشت گردی پر مسلمانوں کی نہیں بلکہ سیاستدانوں کی اجارہ داری ہے۔سیاستدانوں کا تعلق چاہے کسی بھی ملک سے ہو لیکن اس ساری بدمعاشی میں سیاست دانوں کا کردار ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ آخر دہشت گردی کی وجہ کیا ہے۔ اگر ہمیں دہشت گردی کو مٹانا ہے تو سب سے پہلے اس کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ نا انصافی ہے۔ جب کسی بھی گروپ یا گروہ کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں اور اس بدلے لینے کی فطرت کو دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ گیارہ ستمبر کے امریکا میں ہونے والے ٹوئن ٹاورز کے دھماکوں کو دیکھ لیں، لندن اور اسپین کے ٹرین بم دھماکے، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے خود کش دھماکے، بوسنیا ہرزیگووینا، عراق افغانستان، مراکش یا دوسرے ممالک میں معصوم انسانوں کا قتل؛ یہ سب کیا ہے! ان سب کے پیچھے سیاست دان ہیں۔
سیاست دان ہمیشہ موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے ایک کام کو چھپانے کے لیے یا اپنے فائدے کے لیے دوسرے کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2006ء کا واقعہ دیکھ لیں: ایک طرف اسرائیل فلسطینی پناہ گزین کیمپوں اور لبنان پر حملے کر رہا تھا تھا تو اس وقت پوری دنیا اسکی مذمت کر رہی تھی تو دوسری طرف سیاست دانوں نے اس خبر کے تاثر اور امپیکٹ کو کم کرنے کے لیے برطانیہ میں 21 مسلمان نوجوانوں کو یہ کہہ کر گرفتار کرایا کہ یہ دہشت گرد ہیں اور ان پر کافی عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی۔ ان گرفتاریوں کا اثر یہ ہوا کہ فلسطینی مسلمانوں کی ہلاکت پر احتجاج اور مذمت کا سلسلہ کم ہوگیا۔ لوگ فلسطینیوں اور لبنانیوں کی ہلاکتوں کو بھول گئے اور انہوں نے اپنی پوری توجہ ان مسلمانوں کی گرفتاریوں پر مرکوز کرلی۔ بالکل یہی صورتحال انڈیا اور پاکستان کے ساتھ بھی ہے۔ جب بھی انڈیا یا پاکستان میں کوئی مقامی سطح پر مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے تو اس پر سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یکایک کشمیر، کارگل یا پھر ایسے دوسرے ایشوز پیدا کردیئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وزیرستان میں ہلاکتوں کے ایشو پر قوم کے غم و غصے کو کم کرنے کے لیے کشمیر سنگھ کا ایشو پیدا کیا گیا۔ ایک عام آدمی دماغ سے نہیں بلکہ پیٹ سے سوچتا ہے، اس کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ کشمیر سنگھ رہا ہوتا ہے یا نہیں، حکومت پیپلز پارٹی کی بنتی ہے یا نواز لیگ کی۔غریب لوگ صرف دو وقت کی روٹی چاہتا ہے اور سکون سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ سیاستدان ہی ہوتے ہیں جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہوتی ہے۔ معاملات پر سے توجہ ہٹانے کی اس سیاست کو ڈائیورژن پالیٹیکس کہتے ہیں۔
ہم صرف 60 سال پیچھے جاتے ہیں۔ جب ہمارے آقا برطانیہ کی برصغیر پر حکومت ہوا کرتی تھی تو اس وقت ان کی پالیسی ڈوائیڈ اینڈ رول یعنی تقسیم کرکے حکمرانی کرو کی ہوتی تھی۔ بدقسمتی سے 5 سے 6 دہائیاں قبل آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ان کی چھوڑی ہوئی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ انگریز تو چلے گئے لیکن اپنی پالیسیاں چھوڑ گئے اور پاکستانی سیاستدانوں نے یہی پالیسی ووٹ بینک حاصل کرنے کے لیے اپنائی ہوئی ہے۔
ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں دو ملک ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ فسادات ہوتے ہی: ان میں کولمبیا اور بھارت شامل ہیں۔ بھارت میں اگر روزانہ نہیں تو ہفتے میں ایک یا دو بار نسلی فسادات ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی جمہوریت کہے جانے والے ملک بھارت میں کئی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے درمیان اکثر فسادات ہوتے رہتے ہیں جن میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاست دان ملوث ہوتے ہیں جو ووٹ بینک بچانے کے چکر میں معصوموں کو مروا دیتے ہیں۔ فی الوقت یہ کام تبت میں نوبل انعام یافتہ شخص دلاءی لامہ انجام دے رہے ہیں جو بھارت کے اشاروں پر ناچ کر چین سے تصادم کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سیاستدان ووٹ بینک کے لیے ایسے ایسے قصے کہانیاں گھڑتے ہیں جن کا عام زندگی میں ایک شخص سوچ بھی نہیں سکتا۔اس بات کو چھوڑ دیں کہ ایک شخص ہندو ہے یا مسلم یا سکھ، عیسائی۔ ہر شخص ایک دوسرے کے ساتھ سازگار ماحول میں ہم آہنگی کے ساتھ پرامن طور پر رہنا چاہتا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ
Politicians engineer hatred among different religions to fill up their VOTE BANK
بابری مسجد اور رام مندر کے واقعہ کو ہی دیکھ لیں۔ بھارتی شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی (بھگوان رام کی پیداءش کا مقام) ایشو سیاست دانوں نے اٹھایا۔ یہ ایشو سامنے آنے سے پہلے مجھے یہ بتایا جائے کہ کسی بھاءی کو یہ معلوم تھا کہ یہاں بابری مسجد تھی یا رام جنم بھومی۔ لوگوں کو مشتعل کرنے اور ایک دوسرے سے لڑانے اور ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے یہ ایشو سیاستدانوں نے ابھارا اور پھر اسے استعمال کیا۔ کم از کم میں نے اس واقعہ سے قبل نہ تو بابری مسجد کے بارے میں سنا تھا اور نہ ہی رام جنم بھومی کے بارے میں۔ جب یہ ایشو سامنے آیا تو سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ رولنگ جاری کی تھی کہ جب تک یہ تنازعہ حل نہیں ہوجاتا اس وقت تک متنازعہ مقام کے ارد گرد کسی طرح کا مجمع نہ لگایا جائے۔ اس وقت کی حکومت کو یہ معلوم تھا کہ سپریم کورٹ حکم جاری کر چکی ہے اور سانحہ پیش آنے سے قبل ہی حکومت با آسانی وہاں جمع ہونے والے لوگوں کو ہٹا سکتی تھی۔ لیکن سیاستدانوں نے یہ سوچا کہ اگر وہاں جمع ہونے والے لوگوں کو ہٹایا گیا تو شاید یہ لوگ دوبارہ ہمیں ووٹ نہ دیں اس لیے انہیں نہیں روکا گیا۔بعد میں جب یہ سانحہ رونما ہوگیا تو حکومت جھینپے ہوئے انداز میں کہنے لگی کہ اچانک لوگ وہاں جمع ہوگئے اور بابری مسجد یکایک شہید ہوگئی۔ بابری مسجد کو شہید کئے جانے کا عمل جاری تھا تو کئی ٹی وی چینلز نے یہ سلسلہ لاءیو کوریج کرکے نشر کیا۔ ہندو انتہا پسند لاٹھیاں اور نوکدار تیر / ترشول لے کر مسجد کے مینار / گنبد پر چڑھے نظر آئے۔ آپ لوگوں میں سے کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ لاٹھیوں اور تیروں / نیزوں سے کوئی عمارت گرائی جاسکتی ہے یا نہیں۔ یہ ناممکن ہے۔
مسجد میں دھماکا خیز مواد نصب کردیا گیا تھا۔ یہ سب پہلے سے طے کیا گیا منصوبہ تھا۔ آپ کو اگر وہ فوٹیج ملے تو آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس طرح یہ مسجد شہید ہوئی ہے اس سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ مسجد لاٹھیوں سے نہیں بلکہ دھماکا خیز مواد کے ذریعے ہی شہید ہوئی ہے اور یہ اندازہ لگانے کے لیے آپ کو ملٹری ایکسپرٹ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی لاٹھیوں، تیروں یا نیزوں سے شہادت دیکھ کر ہی گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو نیو یارک کے ٹوءن ٹاورز گرانے کا خیال آیا ہو۔ بابری مسجد کے اس واقعہ کے بعد بھارت میں تقسیم ہند کے بعد سب سے بڑے فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے اور ان میں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمانوں نے خاموشی سے یہ مظالم سہے، انہوں نے بھی کچھ نہ کچھ تو ضرور ہاتھ مارا ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب واقعات کے پیچھے کون تھا! صرف اور صرف سیاست دان۔ معصوم لوگوں کو مخالف مذاہب کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں تعلیم کی کمی ہو وہاں لوگ واقعہ بھڑک جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے بالکل جانوروں کی طرف ایک دوسرے کو کاٹنا شروع کردیتے ہیں۔ ہندو یہ نہیں سوچتے کہ مسلمان ہے تو کیا ہوا، ہے تو آخر برہما کی پیدائش۔ اور مسلمان یہ نہیں سوچتے کہ ہندو ہے تو کیا ہوا ہے تو آدم کی اولاد۔ جہاں تک کولمبیا کی بات ہے تو وہاں پولیس ایسے فسادات کو کچلنے کے لیے انتہا کی حد تک چلی جاتی ہے اس لئے وہاں فسادات ہوتے تو ہیں لیکن بھارت کے مقابلے میں کم۔ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے حکومت صرف اور صرف تحقیقاتی کمیشن قائم کرتی ہے جو سالوں تک واقعے کی تحقیقات کرتے ہیں اور جب کافی وقت گزر جاتا ہے اور لوگ واقعہ بھول جاتے ہیں تو ان کمیشنز کی تحقیقاتی رپورٹس سامنے آتی ہیں۔ پاکستان ہی میں دیکھ لیں۔ بے نظیر بھٹو پر کارساز کے مقام پر حملہ ہوا، کمیشن بنا کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ بے نظیر کو قتل کردیا گیا کمیشن بنا، باہر سے گورے منگائے گئے لیکن کیا ہوا، کچھ نہیں۔ سقوط ڈھاکا کا واقعہ ہوا کمیشن بنا کیا ہوا کچھ نہیں، ضیا کے دور میں سانحہ اوجھڑی کیمپ ہوا کمیشن قائم ہوا، کیا ہوا کچھ نہیں۔ تو کمیشنز کیوں قائم کئے جاتے ہیں جب ان کا کوئی امپیکٹ ہی نہیں۔ کمیشنز اس لیے قائم کئے جاتے ہیں تاکہ وقتی طور پر بے وقوف عوام خوش ہوجائیں اور کچھ عرصے کے بعد قصہ بھول جائیں۔


(جاری ہے)
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے شیخ ہمدان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
عدنان (31-03-08), عرفان حیدر (31-03-08)
پرانا 31-03-08, 12:53 PM   #4
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ سوئم

یار حصہ دوئم سیاست کے موضوع میں ''چپکو'' کیا گیا ہے۔ آپ وہاں سے دیکھ سکتے ہیں۔ لنک نیچے دے رہا ہوں:
http://forums.com.pk/showthread.php?t=12356
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 31-03-08, 05:32 PM   #5
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 28
مراسلات: 2,091
کمائي: 6,635
ميرا موڈ:
شکریہ: 910
692 مراسلہ میں 1,286 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ سوئم

سلام،

آپکا بہت بہت شکریہ

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-04-08, 09:33 AM   #6
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ سوئم

Kindly see the Central Topics list for the Part-IV of this thread. Tks.

Last edited by شیخ ہمدان; 01-04-08 at 12:56 PM.
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر (01-04-08)
پرانا 01-04-08, 09:38 AM   #7
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ چہارم (آخری)

(گزشتہ سے پیوستہ)

اسلام میں‌ اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل کیا جائے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ غلط ہے۔ اگر کوئی ایسے لوگوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے جو مخالفین کو قتل کرکے اسے جہاد کا نام دیتے ہیں تو یہ بھی غلط ہے۔ اسلام اس بات کی بالکل اجازت نہیں‌ دیتا۔ اسلام اخوت اور رواداری کا مذہب ہے جو ہمیں‌ صرف اور صرف معاف کرنا سکھاتا ہے کسی کو ذبح کرنا یا جہاد کے نام پر قتل کرنا نہیں۔ اسلام میں صحیح منزل کے حصول کے لیے غلط راستہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ اسامہ بن لادن امریکیوں کو سبق سکھا کر بہترین کام کر رہا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ دو غلط مل کر ایک صحیح نہیں بناسکتے۔ اگر کوئی مسلمانوں کو قتل کرتا ہے تو مسلمانوں یہ جواز پیش نہیں کرسکتے کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے تو ہم اس کے خلاف جہاد کریں گے، یہ نہیں‌ ہوسکتا کیونکہ ایسا کرنا بدلے کے زمرے میں آتا ہے اور بدلہ لینا اسلام میں برا سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ہمیشہ سبق دیتا ہے کہ اپنے حسن و اخلاق سے دوسرے کو مجبور کردو کہ وہ بغیر کسی زور زبردستی کے اسلام کے دائرے میں آنے کے لیے تیار ہوجائے۔ مثال کے طور پر ہندوئوں نے مسلمانوں کی بستی پر حملہ کردیا، دو ڈھائی سو بے گناہ افراد مارے گئے۔ پھر مسلمان اٹھے اور ہندوئوں‌ کے دو ڈھائی سو افراد کو مار دیا۔ یہ کیا ہے۔ یہ سب بدلہ ہے، ایک سچا مسلمان کبھی کسی معصوم کو نقصان نہیں پہنچائے گا، محض کچھ ہندوئوں کی وجہ سے ہونے والے حملے کی سزا کبھی دوسرے کو نہیں دے گا۔ اگر مسلمان ایسا کرنے لگا تو اس میں دوسروں میں کیا فرق رہ جائے گا۔ ایسا کرنے سے تبلیغ کے معنی ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک ایسی غلط کارروائی سے کوئی بھی غیر مسلم اسلام کا مستقل دشمن بن سکتا ہے۔

ایک اور مثال پیش کرتا ہوں:
اگر بھارتی اپوزیشن جماعتیں ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا تنازعہ کھڑا نہ کرتی تو بمبئی میں 1993ء کے بم حملے نہ ہوتے اور اس میں 150 سے زائد معصوم افراد نہ مارے جاتے۔ حکمران جماعت بابری مسجد کے قریب لوگوں کو باآسانی جمع ہونے سے روک سکتی تھی لیکن نہیں روکا۔ اس لئے کہتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ Prevention is Better than Cure. لیکن اس پر عمل کوئی نہیں کرتا۔

اس پورے کھیل میں پانچ عناصر برابر کے ذمہ دار تصور کئے جاسکتے ہیں
1۔ حکومتی سیاست دان
2۔ اپوزیشن سیاست دان
3۔ معصوم لوگ، جو جہالت کا راستہ اختیار کرکے دوسروں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئو اور ہمیں بہکائو / بھڑکائو
4۔ پولیس، جس کے پاس طاقت ہوتی ہے لیکن اکثر مواقع پر خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہتی ہے یا پھر معصوموں کے سروں پر ڈنڈے برسا کر یہ ثبوت دیتی ہے کہ وقت آنے پر وہ ان ہی لوگوں کے خلاف جا سکتی ہے جس کے دیئے ہوئے ٹیکس سے وہ اپنی تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ پولیس کی مثال ایک ایسے سانپ کی سی ہے جو وقت آنے پر اپنے بچے بھی کھا جاتا ہے۔ پولیس کو جیسا ہونا چاہئے ویسی نہیں ہے۔ اکثر اہلکار یا عہدیدار کارروائی کرتے ہوئے اس لئے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی نوکری نہ چلی جائے یا ٹرانسفر نہ ہوجائے۔
5۔ وہ لوگ جو دہشت گردی میں براہِ راست ملوث ہیں۔

اسلئے بنیادی نکتے کی طرف دوبارہ آتے ہوئے میں عرض کروں گا کہ اگر کسی بھی ملک کی حکومت چاہتی ہے دہشت گردی کا خاتمہ ہو تو اسے ناانصافی کو ختم کرنا ہوگا اور بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سیاست ترک کرنا ہوگی۔

26 فروری 2002ء کو بھارتی ریاست گجرات میں ایک ٹرین ’’سابرمتی ایکسپریس‘‘ کی ایک بوگی میں آگ لگ گئی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق آگ لگنے سے ہندو انتہا پسند تنظیم کے 59 سے زائد کارکن جل کر ہلاک ہوگئے لیکن اخباری اطلاعات میں بھی شک کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ تاہم واقعاتی شہادتیں اور فارینسک رپورٹس یہ ثابت کرچکی ہیں کہ آگ باہر سے نہیں بلکہ بوگی کے اندر سے لگائی گئی تھی اور اخبارات میں جن لوگوں کو مرا ہوا بتایا گیا بعد میں ان میں سے کئی لوگ زندہ پائے گئے۔ بوگی جلنے کے نتیجے میں ارد گرد کے علاقوں میں قیام پذیر مسلمان مدد کے لیے پہنچے تو یہ سمجھا گیا کہ آگ مسلمانوں نے لگائی ہے۔ تو یہ سب پری پلانڈ تھا:

1۔ بابری مسجد سیاستدانوں کی چھپی سازشیں
2۔ گیارہ ستمبر کا امریکا میں حملہ ۔ سیاستدانوں کی چھپی سازشیں
2۔ گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ۔ سیاستدانوں کی چھپی سازشیں
سب کے ذمہ دار سیاست دان۔

گجرات میں بوگی جلنے کے اس وقت فورا بعد یعنی 27 فروری سے مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔ سیاستدانوں نے اپنے ہندو کارندوں کو پیسے دے کر مسلمانوں کو قتل کرایا۔ سب پری پلانڈ۔ آزاد ذرائع کے مطابق اس قتل عام میں ڈھائی ہزار سے پانچ ہزار مسلمان مارے گئے، پانچ ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی، املاک جلائی گئیں، لوگوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ جتنا نقصان گجرات میں مسلمانوں کا ہوا اس کا تو گیارہ ستمبر کے حملے سے موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ گیارہ ستمبر کا حملہ گجرات کے واقعہ کے مقابلے میں معمولی ہے۔ لیکن اس کے باوجود جارج بش کا گجرات کے واقعے پر کہنا ہے کہ جن لوگوں کو گجرات کے قتل میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ صرف امریکا کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہاں مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ گجرات کے واقعات میں اب تو یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ وہاں کے وزیراعلیٰ نریندر مودی ملوث تھے۔ سیاستدانوں نے گجرات ہائی کورٹ پر اتنا دبائو‌ ڈالا تھا کہ وہ بھی کچھ نہ کرپائی۔ اس کی بے بسی دیکھ کر بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارک دیا تھا کہ گجرات ہائی کورٹ‌ نے جانبدارانہ کارروائی کی اور ہائیکورٹ نے جو فیصلہ سنایا وہ غلط تھا۔ سب سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے۔

دہشت گردی کے مسئلے کا حل:
1۔ سیاستدانوں کو ایماندارانہ اور منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے اور ووٹ بینک کے حصول کے لیے انہیں کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہئے۔
2۔ سیاستدانوں کو نہیں چاہئے کہ وہ معصوم اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو دوسرے معصوم انسانوں کے قتل کے لیے بھڑکائیں۔
3۔ پولیس کا ادارہ غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے۔ اسے اپنی عزت اور وقار کا خیال ہونا چاہئے۔ انصاف سے کام لینا چاہئے اور معصوم لوگوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ انہیں سیاست دانوں کے ہاتھوں میں‌ نہیں کھیلنا چاہئے۔ حرام کھانے والے پولیس اہلکاروں کی اولاد بھی حرام کاری میں لگ جاتی ہے۔ صرف رشوت کھانا ہی حرام نہیں ہے۔ بروقت تنخواہ لے کر فرائض انجام نہ دینا بھی حرام خوری ہے۔ اگر پولیس کے ادارے کا ہر سپاہی یا افسر ایماندار ہو تو اس کے ٹرانسفر سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اسکی جگہ پر تبدیل ہو کر جو چارج سنبھالے گا تو وہ بھی ایماندار ہوگا اس طرح سے سیاست دان اسے بھی استعمال نہیں کرسکے گا۔
4۔ لوگوں کو قانون اپنے ہاتھوں میں نہیں لینا چاہئے۔ چاہے مخالفین کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے کیوں نہ ہو، قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور لوگوں کو اپنا کام کرنا چاہئے۔ اپنے طور پر کسی کے خلاف بھی کارروائی سے بدلے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔ لوگوں کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے اور مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہئے۔

کسی بھی ملک کو بہتر انداز میں‌ چلانے کے لیے مذکورہ بالا چار پوائنٹس پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے اور اگر ان پر عمل درآمد کرانے کے لیے حضرت عمر علیۃ سلام جیسے ڈکٹیٹر کی ضرورت پڑے تو کم از کم مجھے کوئی احتراز نہیں کیونکہ اسلامی تاریخ میں ان سے زیادہ ایماندار کوئی حکمران آج تک سامنے نہیں آیا۔

تو دوستو میں اپنے اس طویل تھریڈ کو قرآن کریم کی اس آیت کے ساتھ ختم کروں گا:

وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ِانَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَھُوقًا

اآخر میں ڈاکٹر ایڈم پیئرسن کی ایک مشہور کہاوت:

People who worry that nuclear weaponry will one day fall in the hands of the Arabs, fail to realize that the Islamic bomb has been dropped already, it fell the day MUHAMMAD was born.

Last edited by شیخ ہمدان; 01-04-08 at 09:42 AM.
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے شیخ ہمدان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
منتظمین (03-11-08), جیدی (05-12-08), عبدالقدوس (10-12-08)
پرانا 01-04-08, 12:07 PM   #8
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 28
مراسلات: 2,091
کمائي: 6,635
ميرا موڈ:
شکریہ: 910
692 مراسلہ میں 1,286 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ سوئم

سلام،

ماشاءاللہ، خدا آپکی توفیقات میں اضافہ کرے،

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-04-08, 12:55 PM   #9
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ سوئم

غلطی سے چوتھا حصہ یہاں پوسٹ ہوگیا تھا اس لیے یہاں سے ہٹا کر سیاست کے مرکزی فورم میں‌ پوسٹ کر رہا ہوں۔
شکریہ
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-10-08, 05:12 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

ميں آپکی اس راۓ سے اتفاق کرتا ہوں کہ مذہب کو دہشت گردی کے ضمن ميں غلط طريقے سے استعمال کيا گيا ہے۔ ليکن ميں اس راۓ سے متفق نہیں ہوں کہ صدر بش يا امريکی حکومت نے اسلام کو دہشت گردی سے تعبير کيا ہے۔ آپ شايد يہ بھول رہے ہيں کہ القائدہ نے ہميشہ يہ دعوی کيا ہے کہ وہ اسلامی تعليمات پر عمل پيرا ہيں۔

اس ضمن ميں آپ کی توجہ ايک رپورٹ کی طرف دلوانا چاہتا ہوں جو مارچ 2006 ميں ايک ريسرچ گروپ نے شا‏ئع کی تھی۔ ايسی ہی بہت سی رپورٹيں ديگر اداروں نے بھی شائع کی ہيں۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=820348&da=y

اس رپورٹ ميں دہشت گرد تنظيموں کی جانب سے اپنی سوچ کی ترويج کے ليے استعمال کيے جانے والے تشہيری مواد کی تفصيلات موجود ہيں۔ اس رپورٹ کو پڑھے بغير اگر آپ اس ميں موجود تصويروں اور پوسٹرز پر سرسری نظر ڈاليں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ ان تنظيموں کی تمام تر اشتہاری مہم اور جدوجہد کا مرکز امريکہ سے نفرت کو فروغ دے کر مذہب کی آڑ ميں جذبات کو بھڑکانہ ہے۔

ميرا آپ سے سوال ہے کہ کوئ بھی ملک يا انتظاميہ جان بوجھ کر اپنے وسائل ايسی تنظيموں کو تيار کرنے ميں کيوں صرف کرے گی جن کے فعال ہونے کا مطلب يہ ہے کہ دنيا بھر ميں اس کے شہری اور املاک براہراست دہشت گردوں کی زد ميں آ جائيں ؟

11 ستمبر کے واقعے ميں ملوث افراد نہ صرف يہ کہ مسلمان تھے بلکہ انھوں نے اپنے جرم کو قابل قبول بنانے کے ليے مذہب کا سہارا بھی ليا تھا۔ اس کے باوجود امريکی کميونٹی کا ردعمل مسلم اقليتوں کے خلاف اتنا سنگين اور شديد نہيں تھا۔

صدر بش نے گيارہ ستمبر 2001 کے واقعات کے چند دن بعد واشنگٹن ڈی سی ميں ايک اسلامک سينٹر کا دورہ کيا تھا اور عوامی سطح پر يہ مطالبہ کيا تھا کہ امريکہ ميں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کيا جاۓ۔ يہ درست ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کچھ واقعات پيش آۓ تھے ليکن وہ انفرادی نوعيت کے تھے، اس کے پيچھے کوئ باقاعدہ منظم تحريک نہيں تھی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
Page has moved
Fawad - Digital Outreach Team US State Dept آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-10-08, 10:43 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیخ ہمدان مراسلہ دیکھیں
لیکن آج جب ہمارے پاس بین الاقوامی میڈیا موجود ہے، ایک بہت عام سا بیان اکثر و بیشتر خصوصاً سامنے آتا رہتا ہے یا یہ کہہ لیں کہ اس بیان کی اکثر بمباری کی جاتی ہے اور وہ بیان یہ ہے کہ:

’’تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں‘‘
All Muslims are not terrorists but
All Terrorists are Muslims

یہ تشریح یا تعریف ایک خاص مقصد سے شرق الاوسط اور دیگر ایشیائی ممالک میں پھیلائی گئی ہے۔

"مغربی ميڈيا کا پروپيگينڈا" ايک ايسی اصطلاح ہے جس کا استعمال پاکستانی ميڈيا پر خاصہ مقبول ہے۔ اس سوچ کو تقويت اس حقيقت سے بھی ملتی ہے کہ امريکی ميڈيا عمومی طور پر دنيا بھر ميں مقبول ہے۔ دلچسپ بات يہ ہے کہ امريکی ميڈيا پر جس مواد سے ايک مخصوص نقطہ نظر کی حمايت ہوتی ہے اسے استعمال کرنے ميں پاکستانی ميڈيا کوئ قباحت محسوس نہيں کرتا۔ مثال کے طور پر کچھ عرصہ پہلے جيو ٹی وی پر 911 کے واقعات کو سازش قرار دينے والی ايک دستاويزی فلم "لوز چينج" اردو ترجمے کے ساتھ چلائ گئ۔ ليکن اس کے مقابلے ميں اگر کوئ ايسی دستاويزی فلم تيار کی جاۓ جس ميں "لوز چينجز" ميں اٹھاۓ جانے والے سوالات کا جواب سائنسی تحقيق کی روشنی ميں ديا جاۓ تو اسے "مغربی ميڈيا کاپروپيگينڈا" قرار ديا جاتا ہے۔

جب آپ "ميڈيا پروپيگينڈا" اور امريکی اور يہودی لابی کے نقطہ نظر کی تشہير کی بات کرتے ہيں تو آپ تصوير کا دوسرا رخ يکسر نظرانداز کر ديتے ہین۔ کيا پاکستانی ميڈيا پر امريکی نقطہ نظر اور اميج غير جانب دار انداز ميں پيش کيا جاتا ہے ؟

ميں آپ کو ايک چھوٹی سی مثال ديتا ہوں۔ 8 ستمبر کو لاہور ميں امريکی قونصليٹ کے پرنسپل آفيسر برائن ڈی ہنٹ نے پنجاب کے انسپکٹر جرنل آف پوليس شوکت جاويد کو پچاس ہزار ڈالرز کی امداد کا چيک ديا تا کہ راجن پور کے علاقے ميں سيلاب سے متاثرہ علاقوں ميں پوليس کی مدد کی جا سکے۔

ImageShack - Hosting :: 090808picturekz5.jpg

کسی بھی اخبار ميں اس بات کا کوئ ذکر نہيں تھا۔ اسی روز ايک شاہراہ پر چاليس پچاس نوجوانوں کی جانب سے امريکی پرچم نذر آتش کرنے کا "واقعہ" رونما ہوا جس کی تصاوير تمام اخبارات کے پہلے صفحے پر موجود تھيں۔

اسی طرح 9 ستمبر کو يو – ايس – ايڈ کے مالی تعاون اور امداد سے پاکستان کے کمپيوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کے نظام اور يو ايس ايڈ پاکستان کے دفتر جمہوريت و حکمرانی کی امداد سے 22 اگست کو پنجاب اور سرحد اسمبليوں کی ويب سائٹس کے اجراء کے منصوبے پايہ تکميل کو پہنچے۔ يہ دونوں منصوبے پی – ايل – ايس – پی کا حصہ تھے جس کے ليے مجموعی طور پر 18 ملين ڈالرز کی رقم فراہم کی گئ۔ ليکن پاکستانی ميڈيا پر اس کا کوئ ذکر نہيں تھا۔


http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=799353&da=y


http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=799354&da=y


يہ محض چند چھوٹی سی مثاليں ہيں ليکن يہ اس حقيقت کو سمجھنے کے ليے کافی ہيں کہ پاکستانی ميڈيا کن باتوں کو خبر کا درجہ دينا ضروری سمجھتا ہے۔

آپ پاکستان کے ميڈيا، اخبارات ورسائل، کتابيں، ٹی وی پروگرامز، فلميں، اخباری کالم اور ٹی وی ٹاک شوز کا ايک سرسری جائزہ ليں اور خود فيصلہ کريں کہ کيا ان ميں کبھی امريکی نقطہ نظر بھی بيان کيا جاتا ہے؟ آج پاکستان کے درجنوں ٹی وی چينلز پر حالات حاضرہ کے بے شمار پروگراموں ميں ہر خبر کو مختلف زاويوں سے پيش کيا جاتا ہے۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے مجھے يہ موقع ملتا ہے کہ ميں پاکستانی ميڈيا اور اخبارات کا تفصيلی مطالعہ کروں۔ بہت کم مواقعوں پر مجھے امريکہ نقطہ نظر يا کسی موضوع کے حوالے سے عوممی تاثر کے برعکس امريکہ حکومت کا سرکاری اور غير جانب دار موقف دکھائ ديتا ہے۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ ميڈيا کو عوام کی راۓ پر اثرانداز ہونا چاہيے ليکن متضاد راۓ بھی سامنے آنی چاہيے تاکہ جذباتيت سے ہٹ کر ايک متوازن راۓ قائم کی جا سکے۔

مغربی ميڈيا کے يکطرفہ رويے کے بارے ميں بہت کچھ کہا جاتا ہے مگر حقيقت يہ ہے کہ ميں آپ کو ايسی کئ مشہور دستاويزی فلموں اور نيوز رپورٹس کے حوالے دے سکتا ہوں جس ميں امريکی حکومت اور اس کی پاليسيوں پر کھل کر تنقيد کی جاتی ہے۔ يہ فلميں نہ صرف امريکہ کے قريب تمام نشرياتی اداروں پر چلتی ہیں بلکہ ہالی وڈ کے بڑے سٹوڈيوز کے ذريعے دنيا بھر ميں نمائش کے ليے پيش کی جاتی ہيں۔ کچھ ہدايت کار تو ايسے بھی ہيں جنھوں نے ہميشہ امريکی حکومت پر تنقيد ہی کو اپنی فلموں کا موضوع بنايا ہے اور اسی بنياد پر شہرت حاصل کی ہے۔ اس ضمن ميں مائيکل مور کی مثال دی جا سکتی ہے۔ کيا آپ پاکستانی ميڈيا پر کسی ايسی دستاويزی فلم يا نيوز رپورٹ کی مثال دے سکتے ہيں جس ميں يو – ايس – ايڈ کی امداد سے جاری فاٹا ميں ترقياتی منصوبوں سے عوام کو آگاہ کيا گيا ہو؟

فلاسفی کا ايک مقبول اصول جو "اوکم ريزر" کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کے مطابق اگر کسی واقعے کے بارے ميں بہت سی پيچيدہ قياس آرائياں ہوں تو عام طور پرسب سے آسان وضاحت ہی درست ہوتی ہے۔

حقيقت يہ ہے کہ انفارميشن کے اس دور ميں جبکہ دنيا ايک گلوبل وليج کی شکل اختيار کر چکی ہے، نہ ہی امريکہ کے پاس اتنے وسائل ہيں اور نہ ہی يہ خواہش کہ وہ کسی دوسرے ملک کے ميڈيا کو کنٹرول کرے آپ يہ بات بھول رہے ہيں کہ خود امريکی صدر اور امريکی حکومت پر سب سے زيادہ تنقيد امريکی ٹی وی پر ہوتی ہے۔ اگر امريکی صدر خود اپنے ملک ميں اپنے اوپر ہونے والی تنقيد پر کنٹرول نہيں کر سکتے تو وہ کسی دوسرے ملک کے ميڈيا کو کيسے کنٹرول کر سکتے ہيں۔ ياد رکھيے کے آج کے دور ميں ميڈيا کے بڑے بڑے ادارے بزنس کے اصولوں پر چلتے ہيں۔ ميڈيا وہی کچھ دکھاتا ہے جو لوگ ديکھنا چاہتے ہيں۔ اگر لوگ کسی چينل کو يکسر مسترد کر ديں تو وہ اپنے آپ معاشی موت مر جاۓ گا۔

اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث امريکی حکومت يا مغربی ميڈيا نہيں بلکہ اسامہ بن لادن اور اس کی تنظيم ہے جو دانستہ اسلام کا نام استعمال کر کے پوری دنيا ميں مذہب کی تفريق کے بغير بے گناہ انسانوں کا قتل کر رہے ہيں اور مسلمانوں کے ليے بدنامی کا باعث بن رہے ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
Page has moved
Fawad - Digital Outreach Team US State Dept آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 28-10-08, 06:02 AM   #12
محسن
مقبول
 
الو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Lodon
عمر: 32
مراسلات: 114
کمائي: 1,744
ميرا موڈ:
شکریہ: 28
84 مراسلہ میں 212 بارشکریہ ادا کیا گیا
الو کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ دوئم

تجزیاتی تبصرہ اچھا رہا۔ مگر مجھے فواد صاحب سے پوچھنا ہے کہ، جس ملک اور لیڈر کا وہ دفاع کر رہے ہیں کیا ان کو معلوم ہے کہ اسی ملک کی تاریخ ایسے بےشمار واقعات سے بھری پڑی ہے جن پر تبصرہ انہوں نے ابھی کیا ہے۔ اگر بالفرض ہم یہ مان ہی لیں کہ اس میں واقعتاً مسلمان ملو ث ہیں تو، تو ہماری ناقص معلومات میں اضافہ فرماتے ہوئے یہ بھی بتا دیں کہ، اسامہ کس کی پیداوار ہے؟ چلیں آپ یہ بھی یقین نہیں کرتے تو ہم آپ سے یہ پوچھ لیتے ہیں کہ۔ 1996 میں ایک چیچن لیڈر اور سابقہ سوویت یونین ائیرفورس کے جنرل زوخار ددایوف، جن کہ سیٹلائٹ ٹیلیفون استعمال کرتے ہوئےتلاش کرکہ روسی سخوئی ایس یو - 25 طیارے کی مدد سے میزائل حملہ کے کہ مارا گیا تھا، تو کیا اسامہ بن لادن طالبان کا بنایا ہوا کوئی مواصلاتی سیارہ ااستعمال کرتے ہیں جو ابھی تک ٹریس نہیں ہو سکا اور نہ ہی مارا جا سکا۔ یا وہ غاروں میں بیٹھ کر کوئی ایسی تکنیک ایجاد کر چکے ہیں، جو امریکہ اور دوسرے اتحادیوں کی ٹیکنالوجی کی زد میں نہ آسکے۔ یہ ساری طوطا کہانیاں ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ بادہ نشین لوگ مغرب کہ جدت کو پچھاڑ ڈالیں اور پکڑ میں نہ آ سکیں۔

قصہ مختصر یہ سارے لوگ ان ہی مغرب والوں کی پیدائش ہیں ان ہی کے پروردہ ہیں اور تربیت یافتہ ہیں، اور پھر مہرے کے طور پر استعمال کر کہ جہاں حملہ کرنا ہو وہاں میڈیا کو کہہ دیا کہ یہاں ہیں اور پھر چند دن ڈھنڈورا پیٹا اور پھر وہاں پر حملہ کر دیا۔ ورنہ پچھلے دنوں کچھ فرانسیسی فوجی جو افغانستان سے واپس آئے انہوں نے شکایت کی تھی کئی دفعہ وہ اسامہ تک پہنچے بھی لیکن امریکن آرمی نے ہر دفعہ وہاں پہنچ کر جگہ کو اپنے کنٹرول میں لیا اور اسامہ کو بچ کر نکل جانے کا موقع فراہم کیا۔ تو یہ بیانات بلاشبہ کسی بنادپرست مدرسہ کے پڑھے ہوئے طلبا کے نہیں بلکہ انہی نام نہاد جدت پسند قوموں کے فوجیوں کے ہیں۔ تو بتائے یا امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک اس دہشت گردی کو بڑھا رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں۔ دراصل وہ سامنے چہرے مسلمانوں کے رکھ کر پہلے ان کو میڈیا پر مسلمانوں کے ہیرو بنا کر بعد میں ان کو مہروں کو طور پر استعمال کر کہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی اور قتل عام کر رہے ہیں۔

وقت کی کمی کے باعث زیادہ لکھنے سے قاصر ہوں لیکن جواب کا منتظر ہوں۔
الو آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے الو کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
منتظمین (02-11-08), شاہ110 (05-02-09), عدنان (01-11-08)
پرانا 28-10-08, 08:32 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : الو مراسلہ دیکھیں
تو کیا اسامہ بن لادن طالبان کا بنایا ہوا کوئی مواصلاتی سیارہ ااستعمال کرتے ہیں جو ابھی تک ٹریس نہیں ہو سکا اور نہ ہی مارا جا سکا۔ یا وہ غاروں میں بیٹھ کر کوئی ایسی تکنیک ایجاد کر چکے ہیں، جو امریکہ اور دوسرے اتحادیوں کی ٹیکنالوجی کی زد میں نہ آسکے۔ یہ ساری طوطا کہانیاں ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ بادہ نشین لوگ مغرب کہ جدت کو پچھاڑ ڈالیں اور پکڑ میں نہ آ سکیں۔
آپ کا يہ سوال کہ تمام تر ٹيکنالوجی ميسر ہونے کے باوجود امريکہ آج تک اسامہ بن لادن، ملا عمر اور ديگر دہشت گردوں کو گرفتار کيوں نہيں کر سکا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ شايد سی – آئ – اے اور ايف – بی – آئ کے طريقہ کار، اختيارات اور اميج کے حوالے سے صرف اتنا ہی جانتے ہيں جو ہالی وڈ کی فلموں ميں دکھايا جاتا ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ يہ ايجنسياں اپنی فيلڈ ميں بڑے پروفيشنل طريقے سے کام کرتی ہيں ليکن يہ کوئ ايسی جادوئ اور غير انسانی قوتوں کی مالک تنظيميں نہيں ہيں جو دنيا ميں پيش آنے والے تمام واقعات کو کنٹرول کريں۔ آپ کسی بھی دور ميں سی – آئ – اے اور ايف – بی –آئ کو مطلوب افراد کی فہرست ديکھ ليں، اس ميں زيادہ ترلوگ ايسے ہوں گے جو امريکہ کی سرحدوں کے اندر ہی رہائش پذير ہيں۔ ايسے کئ کيسيز کی مثال دی جا سکتی ہے (مثال کے طور پريونا بمبر) جس ميں ان ايجنسيوں کو مطلوب افراد کو امريکہ کے اندر رہائش کے باوجود کئ سالوں تک گرفتار نہيں کيا جا سکا۔ جہاں تک القائدہ کی ليڈرشپ کی گرفتاری ميں امريکہ کی ناکامی کا سوال ہے تو آپ يہ بھول رہے ہيں کہ يہ مجرم امريکہ کے اندر نہيں بلکہ دنيا کے مشکل ترين پہاڑی علاقوں کے سلسلے ميں روپوش ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
Page has moved
Fawad - Digital Outreach Team US State Dept آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 30-10-08, 08:51 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : الو مراسلہ دیکھیں
یہ سارے لوگ ان ہی مغرب والوں کی پیدائش ہیں ان ہی کے پروردہ ہیں اور تربیت یافتہ ہیں، اور پھر مہرے کے طور پر استعمال کر کہ جہاں حملہ کرنا ہو وہاں میڈیا کو کہہ دیا کہ یہاں ہیں اور پھر چند دن ڈھنڈورا پیٹا اور پھر وہاں پر حملہ کر دیا۔
بحث کو آگے بڑھانے کے ليے ہم کچھ دير کے ليے اس مفروضے کو درست تسليم کر ليتے ہيں۔ اگر امريکی حکومت اتنی طاقت ور اور بااثر ہے کہ دنيا کے کسی بھی ملک کے سياسی، معاشی اور معاشرتی نظام کو تبديل کر سکتی ہے تو تصور کريں کہ امريکی حکومت، امريکی صدر اور امريکی ايجنسيوں کی طاقت اور اثر رسوخ امريکہ کے اندر کتنا زيادہ ہو گا۔ ظاہر ہے کہ طاقت اور اختيارات کا آغاز تو آپ کے اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ اس مفروضے کے پيش نظر تو امريکی حکومتی اہلکاروں اور امريکی صدر کے اختيارات اور پاليسيوں کو امريکہ کے اندر چيلنج کرنا ناممکن ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جو انٹيلی جينس ايجنسياں دنيا کے کسی بھی ملک کی تقدير بدل سکتی ہيں ان کی موجودگی ميں امريکہ کے اندر کسی بھی قسم کے جرم کا ارتکاب قريب ناممکن ہوگا۔ ہم سب جانتے ہيں کہ حقيقت يہ نہيں ہے۔ آپ امريکہ کی تاريخ اٹھا کے ديکھ ليں،آپ کو ايسے انگنت کيس مليں گے جس ميں امريکی صدر سميت انتہائ اہم اہلکاروں کو نہ صرف يہ کہ احتساب کے عمل سے گزرنا پڑا بلکہ عدالت کے سامنے پيش ہو کر اپنے اقدامات کی وضاحت بھی پيش کرنا پڑی۔

حقيقت يہ ہے کہ امريکی حکومت اپنے ہر عمل کے ليے جواب دہ ہے۔ امريکہ کا آئين اس بات کو يقينی بناتا ہے کہ طاقت اور اختيارات محض چند ہاتھوں تک محدود نہ رہيں۔ ہر واقعے کو محض "بيرونی ہاتھ" اور "امريکی سازش" قرار دے کر اپنی قومی ذمہ داريوں کو نظرانداز کرنا ايک جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتا ہے ليکن اس کا حقيقت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
Page has moved
Fawad - Digital Outreach Team US State Dept آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-11-08, 04:36 PM   #15
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 48
مراسلات: 280
کمائي: 7,858
ميرا موڈ:
شکریہ: 12
156 مراسلہ میں 400 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ دوئم

فواد صاحب آپ کے کہنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ امریکا تو سب کی بینڈ بجائے لیکن جب اس کے اپنے بینڈ بجائے جانے کی باری آئے تو وہ Pre-Emptive اسٹرائیک کا ڈرامہ کرنا شروع کردے؟
جناب عالی! کسی کو پتھر مارنے کے بعد کم از کم یہ امید تو بالکل نہیں کی جا سکتی کہ وہ چھوڑ‌دے گا۔ آپ لوگ تو وزیرستان میں‌ پتھر نہیں میزائل برسا رہے ہیں، کوئی آپ کو کیوں چھوڑے۔ ظلم سہنا بھی ایک ظلم ہے۔ پٹھان قوم کی بہادری کی مثالوں سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔ انہیں‌ ہیجڑا مت سمجھنا۔
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
عدنان (01-11-08)
جواب

Bookmarks

Tags
color, ہندو, کورٹ, کارگل, کتابوں, کراچی, گانے, پولیس, پاک, پاکستان, پاکستانی, پسند, ڈکشنری, ویب, واقعات, واشنگٹن, وزیراعظم, قرآن, قصہ, لوگ, لندن, نیوز, چین, نیند, نوکری, نظر, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, مسائل, مسجد, معلوم, آج, آدمی, اقوام متحدہ, انٹرنیٹ, انعام, احتجاج, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, بھائی, بے نظیر, بچوں, بم دھماکا, تلاش, ترک, تعلیم, جواب, حل, حسن, خون, خواتین, خوش, خلاف, خبر, دھماکہ, دوست, راستہ, سفر, سپریم, سیاست, سال, سری لنکا, شکاگو, علاج, عزت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
علم غیب کیا ہے اور اس کی تعریف کیا کی جا سکتی ہے.؟ چاچا کمال مذہبی مسائل اور ان کا حل 22 19-08-08 01:21 AM
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ مذہبی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف منظم سازش ہے: عمران خان وجدان خبریں 0 28-02-08 06:34 AM
دہشت گردی کے بانی جاوید اپکے کالم 0 16-10-07 07:54 PM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger