واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


دیواروں سے باتیں کرنا....سب جھوٹ…امر جلیل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-11-10, 06:14 AM   #1
دیواروں سے باتیں کرنا....سب جھوٹ…امر جلیل
عبدالقدوس عبدالقدوس آف لائن ہے 21-11-10, 06:14 AM

میں اچھا خاصا آدمی، کھاتا تھا، پیتا تھا، موج مستی میں رہتا تھا۔ نہ جانے کب صبح ہوتی تھی، کب شام ہوتی تھی۔ عمر یونہی تمام ہوتی تھی، پھر بیٹھے بٹھائے میں نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی اجیرن کر دی۔ ایک غلطی کہ جس کا خمیازہ مجھے کافی عرصہ تک بھگتنا پڑا تھا، وہی ایک غلطی میں مورکھہ دوبارہ کر بیٹھا۔ جب ایک غلطی ہم پہلی مرتبہ کرتے ہیں تب اس کی سرزنش الگ نوعیت کی ہوتی ہے۔ وہی غلطی جب دوبارہ ہم سے سرزد ہو جاتی ہے، تب اس غلطی کی سزا مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ جب آپ پہلی مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تب آپ کے دوست احباب آپ کو اسپتال لے جاتے ہیں، آپ مرنے سے بچ جاتے ہیں لیکن جب آپ دوبارہ خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تب دوست احباب آپ کو اسپتال نہیں لے جاتے وہ آپ کو پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔
پاکستانی ٹیلیویژن چینلز کے لگاتار ایک جیسے سیاسی پروگرام میں انہماک سے لگاتار دیکھا کرتا تھا اور لگاتار ذہنی صدمے برداشت کرتا تھا۔ دن کے دس بجے ہوں یا رات کے دس بجے، دن کے دو بجے ہوں یا رات کے دو بجے ہوں، میں جب بھی ٹیلیویژن آن کرتا، ہر چینل سے ایک ہی فارمیٹ میں چلتا ہوا پروگرام مجھے دیکھنے کو ملتا تھا۔ لگتا تھا کوئی پروڈکشن کمپنی تھوک میں سیاسی پروگرام بنا کر مختلف چینلز کو بیچتی تھی۔ ایک جلا بھنا، غصے سے بھرا ہوا کمپیئر یا اینکر پرسن یا ہوسٹ بیٹھے ہوئے دکھائی دیتا تھا۔ اس کے سامنے مختلف سیاسی پارٹیوں کے تین چار سیاستدان بیٹھے ہوتے تھے۔ پروگرام میں سیاستدان ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے تھے۔ ایک دوسرے کو ڈراتے تھے، دھمکاتے تھے ایک دوسرے پر فقرے چست کرتے تھے ایک دوسرے کے پول کھولتے تھے۔ ایک دوسرے کو بے ایمان، لیٹرا، چور اور ڈکٹیٹروں کے تلوے چاٹنے والے کہتے تھے۔ کبھی کبھار گالم گلوچ پر بھی اتر آتے تھے۔ عمر کا لحاظ کئے بغیر کوئی کسی کو نہیں بخشتا تھا اور اس طرح کے پروگرام لائیو یعنی براہ راست نشر ہوتے تھے اور اب بھی ہوتے ہیں۔
ایک طرح کے سیاسی پروگرام دیکھتے دیکھتے میں نیم پاگل ہو گیا تھا۔ اس ملک اور ملک میں بسنے والوں سے میرا ایمان اٹھ گیا تھا۔ میں ہر چیز کو وہ چاہے آدمی ہو یا عمارت، بے ایمان اور ٹھگ سمجھنے لگا تھا۔ میں در و دیوار کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ گھاس پھوس کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا ملنے والی چائے یا شربت میں مجھے زہر کا گماں ہوتا تھا۔ میں اپنے پٹھے پرانے جوتے اور کپڑے اس ڈر سے سنبھال کر رکھتا تھا کہ کوئی لٹیرا سیاستدان میری املاک مجھ سے چھین کر سوئٹزرلینڈ نہ لے جائے۔ ٹیلیویژن پروگراموں سے میری تصدیق ہوگئی تھی کہ سیاسی لٹیرے دمڑی کے ساتھ ساتھ ہماری چمڑی بھی اتار کر لے جاتے ہیں۔ دمڑی نہ میرے پاس تھی اور نہ ہے لہٰذا میں چمڑی کی فکر میں گرفتار رہتا تھا۔ بار بار خود کو چھو کر دیکھتا تھا کہ کہیں کوئی میری چمڑی ادھیڑ کر نہ لے گیا ہو! نتیجتاً مجھے کچھ عرصہ ذہنی امراض کے ڈاکٹروں اور ماہر نفسیات کی نگہداشت میں گزارنا پڑا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جہاں انہوں نے مجھے رکھا تھا وہ پاگل خانہ تھا۔
میرے معالجوں نے علاج کے دوران ایسا ٹیلیویژن سیٹ میرے کمرے میں لا کر رکھا تھا جس میں دنیا بھر کے چینل آتے تھے سوائے پاکستانی سیاسی چینلز کے۔ میں کھیل کود، کارٹون، جانوروں کے پروگرام اور کھانے پکانے کے پروگرام دیکھا کرتا تھا۔ اسی دوران میں نے کھانے پکانے کے ایک چینل سے مچھلی کی کھیر پکانے اور جھینگوں کا اچار ڈالنے کی ترکیب سیکھی تھی کھانے پکانے کے پروگراموں سے میں نے یہ بھی سیکھا تھا کہ آپ کے کچن میں پڑا ہوا الّم غلّم ایک دیگچی میں ڈال کر پکانے سے آپ چائنیز حلیم بنا سکتے ہیں۔
میری صحت آہستہ آہستہ، ہولے ہولے، ہچکولے کھاتے ٹھیک ہونے لگی۔ پہلے مجھے ڈاکٹروں پر پاکستان کی کسی ڈراؤنی خفیہ ایجنسی کے کارندے ہونے کا گماں ہوتا تھا۔ وہ گماں میں نے دل سے نکال دیا۔ اسپتال کی نرسیں مجھے چڑیلیں لگتی تھیں۔ ٹھیک ہو جانے کے بعد وہ مجھے کوہ قاف کی پریاں نظر آنے لگیں۔ نتاشا نام کی بے انتہا خوبصورت نرس مجھے بہت اچھی لگنے لگی تھی۔ انجانے میں مجھے اس سے محبت ہوگئی تھی۔ اس سے پینگیں بڑھانے کے بعد پتہ چلا کہ وہ سچ مچ کی چڑیل تھی۔ نرس کے روپ میں اسپتال آتی تھی اور مریضوں کا کلیجہ نکال کر کھا جاتی تھی۔
اسپتال سے فارغ کرتے ہوئے ڈاکٹروں اور ماہر نفسیات نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں پھر کبھی پاکستانی چینلوں کے ایک سے سیاسی پروگرام نہیں دیکھوں گا۔ انہوں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پھر کبھی میں نے سیاسی پروگرام دیکھے، تو میں ایک لاعلاج مرض میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ میں نے گھبرا کر ڈاکٹروں سے پوچھا تھا۔ ”کیا میں ایڈز میں مبتلا ہو جاؤں گا؟“
”نہیں نہیں۔“ ایک ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”ایڈز میں پاکستان کے حکمراں مبتلا رہتے ہیں“۔
”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ، ڈاکٹر صاحب؟“ میں نے تعجب سے کہا ”مجھے لگتا ہے آپ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں“۔
”میں اس ایڈز کے بارے میں بات نہیں کر رہا جو تمہارے ذہن میں سے“۔ ڈاکٹر نے کہا ”ایڈز سے میری مراد امداد ہے۔ پاکستانی حکمراں تمام عمر امداد بٹورنے کے چکر میں مبتلا رہتے ہیں“۔
ایک مخولئے ڈاکٹر نے کہا ”امداد والا ایڈز بھی جان لیوا ایڈز سے کم مہلک مرض نہیں ہوتا“۔
اپنے خانہ خراب غریب خانہ میں طرح طرح کے ٹیلیویژن پروگرام دیکھتے ہوئے ایک روز میرا جی للچایا۔ کیوں نہ کسی پاکستانی چینلز سے سیاسی پروگرام کی ایک جھلک دیکھ لوں! میں نے اللہ کا نام لیا اورایک چینل سے سیاسی پروگرام دیکھنے بیٹھ گیا۔ غصے سے بھرے ہوئے اینکر پرسن کی باچھیں جوش میں کانوں تک کھینچ گئی تھیں۔ اس کی پیشانی پر بل پڑا ہوا تھا۔ وہ آگے جھک جھک کر مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے تین حواس باختہ سیاستدانوں سے بحث کر ر ہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میں اپنی سمجھ بوجھ کھونے لگا۔ جو بحث میں سن رہا تھا وہ میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ ٹیلیویژن ابلاغ عامہ کا موثر ذریعہ ہے۔ مگر ون وے ہے آپ ان کی باتیں سن سکتے ہیں لیکن اپنی باتیں ان کے گوش گزار نہیں کر سکتے۔ جیسے جیسے میں اینکر پرسن اور تین سیاستدانوں کی باتیں سنتا جا رہا تھا ویسے ویسے الجھنوں کے جال میں پھنستا جا رہا تھا یہ کیسی باتیں تھیں جو میرے لئے معمہ بنتی جا رہی تھیں؟
وہ دن اور آج کا دن میں دیواروں سے باتیں کرنے لگ گیا ہوں۔ اس وقت بھی میں آپ سے نہیں دیواروں سے باتیں کر رہا ہوں۔ آپ چاہیں تو میری باتیں سن سکتے ہیں۔1973ء کے آئین میں کب اور کس نے صدر پاکستان کو قانون سے بالاتر ہستی بنا دیا ہے؟ اگر شکار کھیلتے ہوئے صدر پاکستان کی گولی سے کوئی کسان مر جائے تو صدر پاکستان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں ہوگی۔ نہ ایف آئی آر کٹے گا اور نہ کوئی مقدمہ چلے گا۔ صدارتی عہدے کی موت کے دوران اگر صدر صاحب اربوں کی ہیرا پھیری کرے تب بھی ان سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ حضرت علی اور حضرت عمر قاضی کی عدالت میں پیش ہوتے تھے لیکن صدر پاکستان کسی بھی عدالت میں کسی بھی جج کے سامنے پیش نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی جرائم پیشہ شخص تگڑم بازی سے پاکستان کا صدر بن جائے تو اس کے خلاف چلنے والے تمام مقدمے ٹھپ ہو جائیں گے ہے قانون کے پاس ایسی کوئی گارنٹی کہ صدر پاکستان اپنے خلاف ٹھپ پڑے ہوئے مقدموں پر اثرانداز ہونے کی حرکت نہیں کرے گا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صدر کو قانونی چارہ جوئی سے مستثنیٰ اور قانون سے بالاتر رکھنے کی شق آئین میں متعارف کرانے والا شخص جانتا تھا کہ آگے چل کر ڈان پاکستان کے صدر بنیں گے لہٰذا ایسے صدور کے لئے پہلے سے آئینی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے ایسے میں دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.

 
عبدالقدوس's Avatar
عبدالقدوس
Administrator

تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 447
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-11-10), فرخ ظفر (22-11-10), ھارون اعظم (21-11-10), مرزا عامر (21-11-10), wajee (21-11-10)
پرانا 21-11-10, 01:07 PM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حوالہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟/؟؟؟؟؟؟؟؟
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-11-10), ھارون اعظم (21-11-10)
پرانا 21-11-10, 01:12 PM   #3
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قاضی عبدالجلیل ایک مشہور سندھی کالم کار ہیں جنہیں امر جلیل کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔
بھائی تھوڑا ہاتھ آپ بھی ہلا لو
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-11-10), مرزا عامر (21-11-10)
پرانا 22-11-10, 12:01 AM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-11-10, 01:41 AM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئرنگ ہے
انکے مزید کالم شئر کریں عبدالقدوس بھائی
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-11-10, 01:41 AM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئرنگ ہے
انکے مزید کالم شئر کریں عبدالقدوس بھائی
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-11-10, 01:56 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
عمر: 24
مراسلات: 244
کمائي: 2,624
شکریہ: 465
167 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی شیرنگ ہے۔۔۔۔۔۔
فرخ ظفر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-11-10, 05:15 PM   #8
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اچھی شئرنگ ہے
انکے مزید کالم شئر کریں عبدالقدوس بھائی
جی بھائی ضرور انشاءاللہ
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-11-10, 07:53 PM   #9
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,206
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,163 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھا لکھا آپ نے بھائی
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-11-10, 06:27 AM   #10
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

بہت اچھا لکھا آپ نے بھائی
میں نے تو نہیں لکھا
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا
مسٹر شیف (25-11-10)
جواب

Tags
پولیس, پاگل, چور, نظر, موت, متعارف, محبت, آج, اللہ, انتباہ, خودکشی, خلاف, دوست, دل, رات, زندگی, سوئٹزرلینڈ, شام, شخص, علاج, عدالت, صبح, صحت, صدارتی, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دیوانے کی باتیں زارا دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 1 12-02-11 08:21 AM
دیواروں سے باتیں کرنا سیپ گانے 2 15-12-10 11:27 PM
پاکستان میں ڈرون حملوں اور یورپ میں ٹی بی سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں:شہباز شریف جاویداسد خبریں 6 08-11-10 07:46 PM
256ارب کے بنک قرضے معاف کرانیوالوں کی فہرستیں سپریم کورٹ طلب کرلیں۔واپس نہ کرنیوالوں کو جیل جاویداسد خبریں 0 19-06-10 07:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger