واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


ذوالفقار مرزا بمقابلہ عزیز آبادی!کیا طبل جنگ بچ چکا؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-11-09, 01:37 PM   #1
ذوالفقار مرزا بمقابلہ عزیز آبادی!کیا طبل جنگ بچ چکا؟
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 28-11-09, 01:37 PM

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی آتش بیانی بے محل نہیں ہو سکتی۔ یوم تاسیس پر جلسہ عام سے خطاب کے دوران ایم کیو ایم پر تندوتیز حملوں کے فوراً بعد خاص طور پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کر کے 12 مئی کے یوم خون رنگ کی تحقیقات کا مطالبہ اور ساڑھے تین ہزار فوجداری مقدمات کا دفتر کھولنے کا اعلان، یقینا کسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ کیا ذوالفقار مرزا کے یوں خم ٹھونک کر سامنے آنے اور ایم کیو ایم کو للکارنے کا فیصلہ صدر زرداری کے ایماء کے بغیر ہی کر لیا؟ اگر ایسا ہی تھا تو سندھ کے وزیراعلیٰ کو پہلو میں بیٹھ کر اس پریس کانفرنس کو سرکاری توثیق عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن کیا یہ سنگ زنی کا آغاز ذوالفقار مرزا کی طرف سے ہواہے؟ کیا عین پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ایم کیو ایم کے دانشور شاعر مصطفی عزیز آبادی کی نظم کا شائع ہونا محض اتفاق ہے اور اسے شاعرانہ تخیل آرائی قرار دے کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ مصطفی عزیزآبادی لندن میں مقیم ہیں۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو لندن سیکرٹریٹ سے وابستہ ہیں اور جناب الطاف حسین سے قربت کا اعزاز رکھتی ہیں۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مصطفی عزیز آبادی نے یہ نظم ایک محدود مشاعرے میں اپنے قائد کو نہ سنائی ہو اور اسے منظر عام پر لانے کی اجازت حاصل نہ کی ہو۔ ذرا قند مکرّر کے طور پر اس نظم کے آخری تین بند ایک دفعہ پھر پڑھئے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا لندن کے شاعر ِخوش بیان کا حملہ ذوالفقار مرزا کی للکار سے کہیں زیادہ زہرناک نہ تھا۔ فرماتے ہیں۔
اصول وظرف سے کیا کام ان کو
فقط دولت ہو جن کا دین وایماں
ہیں جن کے واسطے کیڑے مکوڑے
غریبی میں سسکتے روتے انساں
ہے جو مشہور، رہزن سارے جگ میں
وہ بن کے آج رہبر آگیا ہے
سنبھل جاؤ دسمبر آگیا ہے
دیا تھا جس نے مشکل میں سہارا
اسی کو داغ رسوائی دیا ہے
دیئے جس نے بھروسے کے خزانے
اسے ہر گام پر دھوکا دیا ہے
جسے سمجھا گیا تھا دوست اب وہ
لئے ہاتھوں میں خنجر آگیا ہے
سنبھل جاؤ دسمبر آگیا ہے
کہاں تک اب رفیقانِ چمن بھی
تمہارے درد کے رشتے نبھائیں
یہی بہتر ہے سب کچھ بھول کر ہم
اب اپنے راستوں کو لوٹ جائیں
جہاں پہ زہر بن جائے رفاقت
سفر میں اب وہ منظر آگیا ہے
سنبھل جاؤ دسمبر آگیا ہے
مصطفی عزیز آبادی لندن میں قیام، ایم کیو ایم سیکرٹریٹ سے وابستگی اور قائد تحریک سے قربت کے باعث تحریک کے مستند ترجمان خیال کئے جاتے ہیں اگر قافیہ ردیف کی شعری نزاکتوں اور حسن بیان کی شاعرانہ رنگینیوں سے صرفِ نظر کر لیا جائے تو جناب عزیز آبادی کے کلام کا سلیس اردو میں خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ”جو لوگ دولت ہی کو اپنا دین اور ایمان خیال کرتے ہیں ان کا کوئی ظرف ہوتا ہے اور نہ وہ کسی اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غربت کا شکار روتے بلکتے انسانوں کو کیڑے مکوڑے خیال کرتے ہیں۔ کیا ستم ہے کہ جو شخص ساری دنیا میں ڈاکو کے طور پر جانا جاتا ہے آج وہی ہمارا رہبر بن گیا ہے۔ جن لوگوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا، اس کی مدد کی، انہی لوگوں کے ماتھے پر رسوائی کا داغ لگا دیا گیا، جس نے اعتماد اور بھروسے کے خزانوں سے مالا مال کیا، اسے قدم قدم پر دھوکہ دیا گیا۔ جسے ہم نے اپنا دوست خیال کیا تھا، وہی ہاتھ میں خنجر لئے مدمقابل آگیا ہے۔ اے چمن کے رفیقو! ہم کہاں تک درد کا یہ تعلق نباہتے جائیں۔ اب تو یہی بہتر ہے کہ سب کچھ بھول بھال کر ہم اپنی اپنی راہوں پر لوٹ جائیں۔ اب سفر کا وہ فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے۔ جہاں دوستی، دوستی نہیں رہتی، زہر بن جاتی ہے۔ دسمبر کا مہینہ آرہا ہے، سو سنبھل جاؤ۔“
سچی بات یہ ہے کہ میں مصطفی عزیز آبادی کی شاعری سے زیادہ واقف نہیں لیکن ان کی اس نظم سے ان کی قادر الکلامی کا اندازہ ہوتا ہے بلاشبہ وہ عمدہ شاعر ہیں جنہیں اپنی فکر کو نہایت خوبصورتی سے شعری جامہ پہنانے کا ملکہ حاصل ہے۔ خاص طور پر حالات حاضرہ کی سیاسی کروٹوں کو شاعرانہ اسلوب دینا آسان نہیں ہوتا۔ یہ حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، آغا شورش کاشمیری، فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی روایت ہے۔ میری لندن تک رسائی ہوتی تو مصطفی عزیز آبادی کو خوب داد دیتا۔ انکی نظم کے معنی ومفہوم کی نہیں، ان کے شاعرانہ بانکپن کی۔ الطاف حسین بھی سخن فہم ہیں اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنے شاعرِ خوش نوا کی تخلیق کے معنی ومفہوم اور اسلوب کی خوب داد دی ہو گی۔
دونوں طرف بھڑک اٹھنے والی یہ آگ کئی محرکات رکھتی ہے۔ تلخی بلدیاتی نظام سے شروع ہوئی ایم کیو ایم مشرف عہد کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ، اُدھر چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم گیلانی کی زیرصدارت ایک اجلاس میں اس نظام کے خاتمے کی رائے دے چکے ہیں۔ صدر زرداری ایم کیو ایم کی دلداری کے لئے کوئی دوٹوک فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ ڈھیل دیئے جا رہے ہیں لیکن 31 دسمبر سے زیادہ رسّی بہرحال دراز نہیں ہو سکتی۔ این آر او پر ایم کیو ایم نے ایسا موٴقف اختیار کیاجس کی جناب زرداری کو ہرگز توقع نہ تھی۔ یہ بڑا کاری زخم تھا۔ زرداری صاحب شاعر تو نہیں لیکن بہت سے اچھے شعر انہیں یاد ہیں۔ ایم کیو ایم کا موٴقف سامنے آنے پر انہوں نے مخصوص دوستوں کی محفل میں کہا تھا #
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
ستم یہ ہوا کہ عوام اور میڈیا نے ایم کیو ایم کے اس موٴقف کا ساتھ دیا۔ پیپلز پارٹی تلملا کر رہ گئی اس کے پاس این آر او پر پسپائی کے سوا کوئی راستہ ہی نہ رہا۔ اب دفتر کھل گیا ہے عید قربان کے فوراً بعد این آر او دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جو کئی حیرتیں اور لاتعداد انہونیاں جنم دے سکتا ہے ۔مصطفی عزیز آبادی کی نظم اور ذوالفقار مرزا کی نثر، دونوں کو جوڑ کر پڑھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صف بندی ہو گئی ہے اور طبل جنگ بجنے کو ہے۔
قائد تحریک الطاف حسین کی طرف سے عزیز آبادی کی نظم پر اظہار برہمی اور صدر زرداری کی طرف سے ذوالفقار مرزا کی سرزنش، لیپا پوتی کا وہ عمل ہے جو کچھ عرصہ جاری رہے گا۔ دونوں رہنما اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں عزیز آبادی اور ذوالفقار مرزا بھی اس ”برہمی“ اور ”سرزنش“ سے اچھی طرح آشنا ہیں۔ حقیقت اولیٰ صرف یہ ہے کہ معاملات ٹھیک نہیں۔ دسمبر آرہا ہے اور سردیوں کی رُت ہمیشہ ہجروفراق کی بڑی درد انگیز کہانیاں جنم دیتی ہے۔
-----------------------------------------------
روزنامہ جنگ۔ عرفان صدیقی

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 204
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
عامرشہزاد (28-11-09)
پرانا 28-11-09, 01:41 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسمیں جیت ہماری ہو گی یعنی کے فوج کی
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-09, 02:14 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلیں اس موضوع کے بہانے عزیز آبادی سے بھی تعارف ہو گیا ورنہ اچھنبا ہی رہتا کہ کوں حضرت ہیں یہ جس پر پیپلز پارٹی والے اتنا تلملا رہے ہیں۔ ویسے سچ ہمیشہ تکلیف دیتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (28-11-09), عامرشہزاد (28-11-09)
پرانا 28-11-09, 05:03 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہیں اس دفعہ فوج نہیں ایک عوامی حکومت آنی ہیں
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (28-11-09)
پرانا 28-11-09, 05:13 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عوامی آئے گی تو ایسا ہی لگا رہے گا۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-11-09)
پرانا 28-11-09, 09:06 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہ تو فوج آنی چاہیے اور نہ ہی عوامی حکومت۔ اسی کو چلنے دینا چاہیے زرداری کی سربراہی میں۔ انشا اللہ کبھی نہ کبھی تو برداشت ختم ہو گی عوام کی۔ پھر فیض احمد فیض کا شعر سچ ثابت ہوگا کہ جب مزدوروں کے پاؤں سے دھرتی دھڑ دھڑ لرزے گی
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-09, 11:20 PM   #7
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے خیال میں حکومت عوام کی نمائندہ ہوتی ہے۔ یہ ہمارے وزیر جو کچھ کرتے ہیں، عوام میں سے کسی کو اگر موقع ملے تو ہاتھ سے جانے نہیں دینگے۔ آخر ہم لوگوں کے ووٹ سے ہی تو یہ حکومت بنتی ہے، اس کو گرا کر کسی اور چور یا ڈاکو کو لے کر آنا ہے۔ اس لئے میرے خیال میں عوام کو حکومت گرانے کی کسی بھی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہئے، کیونکہ ہمارے تجربات اس سلسلے میں کچھ اچھے نہیں رہے ہیں۔
یہ میری ذاتی رائے ہے، اگر کوئی ساتھی اس کے برعکس سوچتا ہے، تو براہ کرم ہمیں بھی قائل کرلیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-11-09, 02:55 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہیں میں آپکی بات کی تائید کروں گا۔ کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب تک پاکستان میں اچھا یا برا انقلاب نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ بار بار کی فوجی حکمرانی ہے۔جب عوام سیاست دانوں سے مایوس ہونے لگتے ہیں، سسٹم کے خلاف عوامی نفرت سرگوشیوں سے بڑھ کر مظاہروں اور دھرنوں کا رخ اختیار کر لیتی ہیں اور انقلاب کی بنیاد رکھے جانے کا وقت آتا ہے، تبھی فوجی حکومت بر سر اقتدار آ جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عوامی بے چینی، تناؤ، نفرت اور غصے میں عارضی تعطل آ جاتا ہے۔ اور یہی عارضی تعطل انقلاب کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔
اس لیے ان سیاست دانوں کو حکومت کرنے دی جائے ۔ ۔ ۔ تب تک کہ جب تک اسلامی انقلاب نہ سہی فرانسیسی انقلاب نہیں آجاتا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (29-11-09)
جواب

Tags
کلام, وزیر, وزیراعظم, لوگ, لندن, موقع, آبادی, آج, ایمان, اردو, حسن, خون, دوست, ذوالفقار, راستہ, رشتے, زرداری, شاعری, عہد, عید, عزیز, صف, صدیقی, صدر, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حضرت عمربن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ sahj تاریخ و عبر 0 18-11-09 12:06 PM
جب عمر بن عبد العزیز رضی اللٰہ عنہ نے 'این آر او' ختم کیا ھارون اعظم سیاست 7 10-11-09 07:26 PM
وطن عزیز احمدنواز شعر و شاعری 3 14-08-09 01:50 AM
شوکت عزیز طارق راحیل سیاست 0 01-01-09 07:57 PM
سفارتکار طارق عزیز الدین کی رہائی محمدعدنان خبریں 0 17-05-08 08:54 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger