(تجزیہ: رؤف کلاسرا)
کیا رحمن ملک ڈاکٹر زوالفقار مرزا کے ہاتھوں اپنی ذات پر ہونے والے شدید حملوں کے اثرات سے خود کو اس طرح بچا لیں گے جیسے انہوں نے اپنے آپ کو اس وقت بڑے آرام سے بچا لیا تھا جب آصف زرداری نے بے نظیر بھٹو کو دفن کرنے کے بعد ملک صاحب کو نوڈیرو سے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر نکل جانے کا تھا۔ سندھ پیپلز پارٹی کے لیڈر زوالفقار مرزا نے جس بے رحمانہ طریقے سے رحمن ملک کی ذات کا پوسٹ مارٹم کیا ہے اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا تھا، شاید وہ بھی نہیں جنہوں نے مرزا صاحب کو گرین سگنل دیا تھا۔
ڈاکٹر مرزا کی باتیں سن کر مجھے تیس دسمبر 2007 کی نوڈیرو کی ایک دوپہر یاد آگئی جب آصف زرداری کے ایک بہت ہی قریبی دوست نے مجھے نوڈیرو میں خود بتایا تھا کہ تین لوگوں کو آصف زرداری معاف نہیں کریں گے۔ ایک کا نام ناہید خان ،دوسرا ڈاکٹر صفدر عباسی اور تیسرا رحمن ملک۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آنے والے دنوں میں وہ تنیوں پارٹی میں نظر نہیں آئیں گے۔ ناہید خان اور صفدر عباسی کی حد تک تو یہ پیش گوئی فورا پوری ہو گئی تھی!
میں اس وقت اخبار دی نیوز کی طرف سے بے نظیر کے جنازے کی کوریج کرنے کے لیے نوڈیرو گیا ہوا تھا ۔ ایک رات پہلے میری رحمن ملک سے نوڈیرو کے بے نظیر بھٹو کے خاندانی گھر میں ملاقات ہو ئی تھی۔ جو کمرہ رحمن ملک کو رہنے کے لیے دیا گیا تھا اس کی حالت قابل رحم تھی۔ رات کے دس بجے کے قریب رحمن ملک کو ایک پلیٹ میں کسی نے چاول لا کر دیے۔ میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ ان سے پوچھ سکوں کہ بے نظیر بھٹو پر یہ حملہ کیسے ہواتھا کیونکہ وہ تو بے نظیر بھٹو کے سیکورٹی ایڈوائز تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بے نظیر بھٹو کو دفن ہوئے ایک دن ہی گزرا تھا اور کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ رحمن ملک پر ان کی موت کا کوئی اثر بھی ہوا ہو۔ وہ نارمل تھے اور بڑے مزے سے چاول کھا رہے تھے۔ مجھے انہوں نے کہا کہ کل رات کو پھر ملیں گے اور وہ مجھے ساری بات بتائیں گے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا تھا اور بے نظیر بھٹو کیسے ماری گئی تھیں۔
رحمن ملک کو نوڈیرو میں اجنیوں جیسا سلوک ملتے دیکھ کر میں اس لیے بھی حیران تھا کیونکہ میں کئی دفعہ لندن میں بے نظیر بھٹو کو رحمن ملک کے ایجوئر روڈ پر واقع گھر میں دیکھ چکا تھا اور محترمہ ان کے بغیر کوئی کام کرنے کا تصور بھی نہیں کرتی تھیں۔ بے نظیر سے ملاقات کا ہر دروازہ رحمن ملک کے گھر پر کھلتا تھا۔ ہر کسی کو رحمن ملک کے دست شفقت کی ضرورت تھی۔ باقی چھوڑیں میں نے اعتزاز احسن اور یوسف رضا گیلانی جیسے لیڈروں کو بھی رحمن ملک کے فلیٹ کے باہر دروازہ کھلنے کا انتظار کرتے دیکھا ہوا تھا۔ اعتزاز احسن کسی دور میں بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ تھے۔ یہ واقعہ اعتزاز احسن نے خود ایک محفل میں سنایا تھا کہ کیسے ایک دن رحمن ملک جو اس وقت ائرپورٹ پر امیگریشن افسر تھے، ان کے گھر فریج تحفہ لے کر آئے تھے جو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تھا۔
اب وقت بدل گیا تھا اور وہی اعتزاز احسن اسی رحمن ملک کے گھر کے باہر دروازہ کھلنے کا انتظار کرتے تھے تاکہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات ہو سکے۔
پاکستان کی بے رحم سیاست میں ستائیس سال گزارنے، اپنے باپ اور بھائیوں کی قربانی دینے کے بعد بے نظیر جان چکی تھیں کہ کس شخص کو کب اور کیسے استمال کرنا تھا۔ ان کے باپ کو پھانسی سے بچانے پارٹی کا کوئی لیڈر باہر نہیں نکلا تھا کیونکہ بھٹو کا سورج غروب ہورہا تھا اور سب چڑھتے سورج کے پجاری تھے۔ اب بھٹو انہیں کوئی فائدہ یا نقصان نہیں دے سکتا تھا ، لہذا بی بی کو خوب اندازہ تھا کہ سیاست کا دوسرا نام ایک دوسرے کو استمال کرنا تھا کہ کون کب کس کو فائدہ یا نقصان دے سکتا تھا ۔ شہید بی بی موت سے پہلے اس کام خاصی زیرک ہو چکی تھیں۔
رحمن ملک بے نظیر کے زیادہ قریب اس وقت آئے تھے جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم ملک نے بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو منی لانڈرنگ کیس میں سزائیں سنائی تھیں اور رحمن ملک نے انٹیلیجنس بیورو کے ایک سورس کے زریعے احتساب بیورو کے سیف الرحمن اور جسٹس قیوم ملک کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ حاصل کی تھی جس میں جج صاحب کو کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف چاہتے تھے کہ وہ میاں بیوی کو فورا سزائیں سنائیں۔ اس کے بدلے ان کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ اور دیگر فوائد دئے گئے تھے۔
یہ ایک اور کہانی ہے کہ اسی جسٹس قیوم ملک کے خلاف سپریم کورٹ2009 میں انکوائری آڈر کی تھی۔ وزیراعظم سیمت پوری پیپلز پارٹی حکومت مشرف دور کے اس اٹارنی جنرل کو بچانے پر لگ گئی تھی کیونکہ وہ اب ان کے سوئس کیسز میں مدد کرکے اپنے گناہ کی تلافی کر رہا تھا۔ جس جج نے زرداری اور بی بی کو سزا سنائی تھی وہی اب ان کے لے بھاگ دوڑکر رہا تھا !
رحمن ملک نے ریکارڈ کی ہوئی ان ٹیپوں کی مدد سے سنڈے ٹائمز میں یہ سٹوری چھپوائی تھی اور اس کے بعد نہ صرف سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور سزائیں معطل کیں بلکہ جسٹس قیوم کو بھی استعفا دینا پڑا گیا تھا۔
یہ تھا بے نظیر بھٹو اور رحمن ملک کے درمیان ایک نئے تعلق کا آغاز جس کے بعد پارٹی کے دیگر رہنماء بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ رحمن ملک نے بے نظیر بھٹو کو پیسے کمانے کی ترکیبں بھی بتائیں اور دونوں نے ملک کر اقوام متحدہ کے عراق کے لے پروگرام تیل برائے خوراک میں بھی پیسہ کمایا جس پر بعد میں انکوائری بھی ہوئی۔ ایک جلاوطن بے نظیر کو دوئبی اور لندن میں اپنے اخراجات کے لیے ایک ایسے بندے کے ضرورت تھی ۔ یہ خلاء کسی اور نے نہیں بلکہ رحمن ملک نے پورا کیا جو بی بی کے نہ صرف لندن، دوبئی امریکہ اور دیگر ملکو ں کے سفری معاملات دیکھتے تھے بلکہ بزنس پارٹنر بھی تھے۔ ایک موقع پر محترمہ نے اتنی دولت کما لی تھی کہ میں نے خود سنڈے ٹائمز میں ان کا اگست 2007 میں انٹرویو پڑھا جو انہوں نے دوئبی میں خریدے گئے اپنے ایک گھردیا تھا۔
جب خاتوں رپورٹر نے بی بی سے اس محل کی قیمت پوچھی تو انہوں نے بڑے فخر سے بتایا تھا کہ یہ بائیس ملین درہم میں خریدا تھا۔ اگر آپ ممتاز پاکستانی صحافی مجاہد بریلوی کی کتاب ’’ فسانہ رقم کریں‘‘ میں بے نظیر بھٹو پر لکھا گیا مضمون پڑھیں تو اس میں لکھا ہے کہ بی بی نے چند صحافیوں کو خود بتایا تھا کہ نوازشریف نے مقدمات بنا کر اور ان کے بچوں کے باپ کو جیل میں رکھ کر ان کی مالی حالت پاکستان میں یہ کر دی تھی کہ بچوں کی سکول فیس دینے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ یہ علحیدہ بات ہے کہ بے نظیر بائیس ملین کے اس محل میں چھ ماہ بھی نہ رہ سکی تھیں۔
جلاوطن ہونے کے بعد ان کے حالات اور تقدیر بدلنے میں رحمن ملک کا بڑا ہاتھ تھا۔
یہ رحمن ملک ہی تھے جنہوں نے طارق عزیز کے ذریعے بی بی اور مشرف کے درمیان ابتدائی روابط پیدا کرائے تھے اور بعد میں امریکن اور برطانوی حکام کی مدد سے ڈیل کامیاب ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بے نظیر بھٹو جب بھی جنرل مشرف سے دوبئی میں ملیں ، رحمن ملک ہر ملاقات میں ان کے ساتھ تھے، اگرچہ دروازے کے باہر!!
یوں جلاوطن نظیر بھٹو کے لیے رحمن ملک مالی سے لے کر سیاسی معاملات کے لیے ناگزیر ہو چکے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد بھی یہ رحمن ملک تھے جو ڈی جی آئی آیس ائی ندیم تاج کے ساتھ ملاقاتیں کر کے لندن میں ان کے پیش رو جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بعد اب باقی کے معاملات طے کر رہے تھے۔ بے نظیر ان پر اتنا بھروسہ کرنے لگ گئی تھیں کہ سکاٹ لینڈ یارڈ یا کسی تجربہ کار پاکستانی آفسر کو اپنا سکیورٹی ایڈوائز بنانے کی بجائے انہوں نے رحمن ملک کو یہ کام سونپا جنہوں نے زندگی بھرپولیس یا انٹیلجنس کی نوکری نہ کی تھی۔
بے نظیر نے اپنی اس بھیانک غلطی کی سزا اپنی جان دے کر بھگتی۔ جب بے نظیر اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں توان کے ایڈوائز رحمن ملک موقع سے فرار ہوکر زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اس وقت تک اندر سے دروازہ بند کر کے بیٹھے رہے جب تک آصف زرداری چکلالہ ائرپورٹ پر دوبئی سے نہیں پہنچ گئے تھے۔
اس پس منظر میں، میں نوڈیرو میں رحمن ملک کا انٹرویو کرنے کے لیے بے چین تھا کہ وہ سب باتیں جانتے تھے اور مجھے ان سے بہت بڑی خبر مل سکتی تھی۔ انہوں نے مجھے اگلی رات کا وقت دے دیا۔ اگلی صبح آصف زرداری کے بہت قریبی دوست نے مجھے یہ انکشاف کیا رحمن ملک کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ فورا نوڈیرو چھوڑ کر چلے جائیں۔ میں نے اسے بتایا کہ انہوں نے تو مجھے آج رات کا وقت دیا ہوا ہے۔ میرے دوست نے بتایا کہ بھول جاؤ وہ اب آپ کو یہاں نظر نہیں آئیں گے۔ زرداری صاحب کے اس دوست کا خیال تھا کہ زرداری صاحب دو لوگوں کو بے نظیر کے قاتلوں کا ساتھی سمجھتے تھے۔ ایک ناہید خان اور دوسرے رحمن ملک کیونکہ وہ بی بی کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جب کہ ناہید خان کے بارے میں زرداری صاحب کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے محترمہ کو گاڑی سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا اور وہ ماری گئی تھیں۔
تھوڑی دیر بعد میں نے چیک کیا تو پتہ چلا کہ رحمن ملک واقعی اسلام آباد چلے گے تھے۔ ان کا ایک رات پہلے تک کوئی پلان نہ تھا لیکن ان کا جانے کا سن کر مجھے زرداری صاحب کے دوست کی بات پر یقین آ گیا تھا کہ رحمن ملک کی کہانی ختم ہو گئی تھی۔
رحمن ملک کے جانے کے بعد بے نظیر اور ناہید خان کے ایک قریبی ساتھی جو حملے کے وقت ان کے ساتھ تھے، نے مجھے بتایا کہ کیسے سب لوگ بے نظیر کے قتل کی ذمہ داری رحمن ملک پر ڈال رہے تھے ۔ اس کی معلومات کی روشنی میں ، مین نے دی نیوز کے لیے ایک سٹوری فائل کی تھی کہ کیسے رحمن ملک کر کردار پر شک کیا جا رہا تھا
( کلک سٹوری لنک)۔
تاہم اگلے دن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب رحمن ملک دوبارہ نوڈیرو پہنچ گئے اور سب انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
میں نے زرداری صاحب کے اس دوست سے پوچھا کہ یہ کیا تھا؟ وہ خود بھی حیران تھے اور بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ رحمن ملک کے لیے ایک برطانوی ایجنسی نے فون کیا تھا اور ان کی سفارش پر ہی اسے واپس آنے کی اجازت ملی تھی۔
میرا خیال ہے کہ زرداری صاحب کو کچھ دیر بعد احساس ہو ا ہو گا کہ رحمن ملک ان کے مسقبل کے سیاسی کھیل کا ایک اہم مہرہ تھا جو نہ صرف مشرف کمیپ کے اندر تک رسائی رکھتا تھا بلکہ وہ بے نظیر کے اکاوئنٹس اور خزانے کے بارے میں بھی جانتا تھا۔
ابھی لندن میں بہت کچھ کرنا باقی تھا۔ اب زرداری صاحب پاکستان میں سیاست سنبھالتے یا پھر ان تمام معاملات کو جن کے لیے انہیں رحمن ملک کی ضرورت تھی۔ لہذا زرداری صاحب نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور اس’ نایاب ہیرے‘ کو دوبارہ بلوالیا جس کی اہمیت بے نظیر بھٹو جیسی خاتوں کو بھی تھی اور اس کا احساس ایک دن میں ہی زرداری صاحب کو بھی ہو گیا تھا۔
جب پی پی پی حکومت بنی رحمن ملک ایک ایسا وزیر تھا جس سے وزیر تو چھوڑیں وزیراعظم گیلانی بھی ڈرتے تھے۔ ایک دن مجھے خود گیلانی صاحب نے بتایا کہ اگر ان کے پاس تھوڑا سا بھی اختیار ہوتا تو وہ رحمن ملک کو اس کی وزارت سے چھٹی کرانے پر ضرور استمال کرتے۔ یہ علیحدہ کہانی ہے کہ بعد میں کیسے اس رحمن ملک نے اپنے روایتی انداز میں گیلانی صاحب کو بھی رام کر لیا۔ مجھے ایک اچھے سیاسی سورس نے بتایا تھا کہ رحمن ملک کسی دن اس ملک کے حامد کرزائی کا کردار ادا کریں گے۔
میں نے اس کی بات کو سیریس ہی لیا تھا۔
رحمن ملک اور زوالفقار مرزا میں کھٹ پٹ بڑے عرصے سے چل رہی تھی۔ ایک دن میں نے اپنے اخبار ایکسپریس ٹریبون میں یہ خبر فائل کی
( سٹور ی کے لنک پر کلک کریں ) کہ مرزا کو وزارت سے چھٹی پر اس لئے بھیجا گیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ تھا ۔ زوالفقار مرزا نے مجھے کراچی سے فون کیا اور ان کا خیال تھا کہ یہ خبر رحمن ملک نے مجھ سے پلانٹ کرائی تھی اور انہیں بدنام کرنے کے لیے مجھے استمال کیا گیا تھا۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا تھا کہ دونوں کے تعلقات بہت خراب تھے۔
زرداری صاحب خود بھی اپنے بہت سارے وزیروں کو خوش کرنے کے لیے رحمن ملک کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں ایسے تبصرے کرتے ہیں جس سے سب کا دل خوش ہو جاتا اور وہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ زرداری صاحب کی کوئی بہت بڑی مجبوری تھی کہ انہوں نے رحمن ملک کو برداشت کیا ہواتھا وگرنہ وہ بھی ان کی طرح ملک سے نفرت کرتے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ زرداری صاحب نے وہ ذاتی مجبوری کبھی بیان نہ کی جس نے انہیں رحمن ملک سے باندھ کر رکھا ہوا تھا۔
تو کیا اب ذوالفقار مرزا کے کراچی میں رحمن ملک پر شدید حملوں کے بعد یہ سمجھا جائے کہ زرداری صاحب نے جتنا رحمن ملک کا استمال کرنا تھا وہ کرلیا ہے اور اب ان سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے، اور اس کام کے لیے ان کے اپنے بچپن کے دوست ڈاکٹر مرزا سے بہتر کون ہو سکتا تھا؟
یا پھر ڈاکٹر زوالفقار مرزا پر خودکشی کرنے کا دورہ سوار ہو گیا تھا کہ وہ الطاف بھائی کے ساتھ ساتھ ذرداری صاحب کے خلاف بھی بغاوت پر اتر آئے تھے اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے؟
کہیں مرزا صاحب اس بات سے تو نہیں بھڑک گئے تھے کہ ان کے بچپن کے دوست زرداری صاحب ان سے زیادہ رحمن ملک کو اہمیت دے رہا تھا اور اب کافی ہو گیا تھا اب جو ہوگا دیکھا جائے گا؟
سب جانتے ہیں کہ مرزا اتنا بڑا سیاسی اور ذاتی رسک نہیں لے سکتے جب تک انہیں اوپر سے گرین سگنل نہ ملا ہو۔
مبصرین کا دعوی ہے کہ مرزا صاحب نے یہ جواء نہیں کھیلا بلکہ انہوں نے اپنے پچپن کے دوست کی فرمائش پوری کی ہے اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گئے۔ مرزا بھولے ضرور ہوں گے لیکن اتنے بھی نہیں کہ وہ محض کراچی کے نام پر اپنی وزارت ، سیاسی مسقبل اور اپنی بیگم صاحبہ کی سپیکرشپ قربان کر کے زرداری کی پالیسوں کے خلاف علم جہاد بلند کریں گے۔ ہرگز نہیں۔
جس طرح مزرا نے فوج اور آئی آیس آئی کی تعریف کی اس سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے اور کچھ دن پہلے ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کی کراچی ائرپورٹ سے گرفتاری کے بعد جو فضاء بنی ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی کے باسیوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا جھٹکا ہو گا کہ عمران فاروق کو قتل کر نے اور کرانے والے ان کے اپنے لوگ ہی تھے۔
رہی سہی کسر مرزا نے سر پر قرآن پاک رکھ کر الطاف حسین سے لندن میں ہونے والی گفتگو کا حوالہ دے کر پوری کردی ہے کہ کیسے بھائی صاحب نے پاکستان توڑنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ پاکستان میں لوگ قرآن کی قسموں پر زیادہ آسانی سے یقین کرتے ہیں اور مرزا نے تو پیر مظہرالحق کی گواہی بھی ڈال دی ہے۔ ایم کیو ایم کے لیے یہ ایک بم شیل سے کم بات نہیں ہو گی اور اس کے لیے اپنی صفائی دینا اتنا آسان نہیں ہو گا۔
میڈیا کو جیو ٹی وی کے رپورٹر ولی بابر کے قاتلوں کے نام دئیے جو ایم کیوایم سے تعلق رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر مرزا نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ وہ فوری طور پر سندھ میں اور پاکستان میں مقبول ہو گئے ہیں اور ان کی پریس کانفرنس نے پورے ملک میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ انہیں اپنی پارٹی کے اندر ایک ایم کیوایم سے بہاردی سے لڑنے والے لیڈر کی ضرورت تھی جو انہیں زوالفقار مرزا کی شکل میں مل گیا ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کسی صورت سندھ میں نیا الیکشن ایم کیوایم کے ساتھ پاور شیرئنگ کے ساتھ نہیں لڑسکتی۔
فرض کریں کہ یہ سارا قیاس غلط ہے اور واقعی زرداری صاحب اس پریس کانفرنس کے بعد اپنے دوست سے ناراض ہیں، اور مرزا صاحب کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا ہے تو بھی وہ اب جیالیوں کے لے ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب جزا یا سزا دونوں صورتوں میں زوالفقار مرزا کو فائدہ ہی ہو گا۔
اس سے بڑا اہم سوال یہ ہے کہ کیا آخر کار رحمن ملک کی ضرورت صدر آصف زرداری کو نہیں رہی اور بے نظیر کے پالے ہوئے اس قمیتی گھوڑے سے جتنا کام لینا تھا وہ لے لیا گیا تھا اور اب اسے دوبارہ لندن بھیجنے کا وقت آگیا ہے؟
رحمن ملک نے بھی کچی گولیا ں نہیں کھیلی ہوئیں۔ اگر زوالفقار مرزا کے سر پر قران پاک رکھ کر اٹھائی گئی قسم کو مان لیا جائے کہ الطاف حسین امریکی منصوبے پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد پاکستان کو توڑنا تھا، تو کیا اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے اتنی آسانی سے رحمن ملک کی چھٹی ہونے دیں گے جو ایم کیوایم کے سب سے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں جیسے مرزا نے بار بار اپنی پریس کانفرنس میں بھی حوالہ دیا؟
شاید نوڈیرو کی طرح زرداری صاحب کو ایک دفعہ اپنا یہ فیصلہ بھی بدلنا پڑے کیونکہ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ زرداری صاحب سب سے اپنے سینگ پھنسا لیتے ہیں لیکن امریکیوں اور برطانویوں سے ان کے پر جلتے ہیں!!!
زرداری صاحب نے اگر رحمن ملک کو نوڈیرو واپس آنے کی اجازت بہت سوچ سمجھ کر دی ہو گی ، تو اب کی بار بھی ان کی چھٹی کرانے سے پہلے انہیں ہزار دفعہ سوچنا پڑے گا اور لگتا ہے کہ شاید آخری مکا رحمن ملک کا ہوگا جو سب کے منہ پر پڑے گا !!