| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 209
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بی بی سی کی رپورٹ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس رپورٹ میں بھی وہی سوال اٹھتے نظر آ رہے ہیں جو میں نے اپنی مندرجہ بالا پوسٹ میں کیے،
گوجرہ حملہ: نقاب پوش کہاں سے آئے؟ عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام،گوجرہ نقاب پوش حملہ انتہائی مہارت سے اسلحہ استعمال کر رہے تھے پنجاب کے وسطی شہر گوجرہ میں مسیحی آبادی مشتمل بستی پر حملے اور سات افراد کی ہلاکت کے واقعہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر بستی پر حملہ کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ نہیں کیا گیا تو مسیحی بستی کے سامنے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے پاس ایسا مواد کیوں موجود تھا جس کی مدد سے بستی گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق گوجرہ کے ایک گاؤں میں قرآن کی بے حرمتی کے میبنہ واقعہ کےخلاف یکم اگست کو شہر میں احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی گئی ہے اور ایک جلوس نکالا گیا۔ انتظامیہ کے بقول جب مظاہرین مسیحی آبادی کی بستی کرسچن کالونی کے سامنے پہنچے تو مظاہرین اور بستی کے رہائیشوں کے درمیان پرتشدد چھڑپ ہوگئی۔ کرسچن کالونی کے متاثرین کا کہنا ہے مظاہرین نے جب ان کی بستی پر دھاوا بولا تو مظاہرین میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے اپنے چہرے نقاب میں چھپا رکھے تھے اور ان نقاب پوشوں مظاہرین نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ گھروں کو آگ بھی لگادی۔ متاثرین کے بقول گھروں کو نذر آتش کرنے کے لیے پیڑول یا تیل نہیں بلکہ خاص قسم کا کمیکل استعمال کیا گیا۔ متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بستی پر حملے کے لیے نقاب پوش حملہ آور کو جھنگ سے بلایا گیا تھا۔ اگرچہ گوجرہ کو پاکستان میں ہاکی کی نرسری کہا جاتا ہے لیکن یہ شہر ضلع جھنگ سے لگ بھگ دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جو ایک کالعدم تنظم کی سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے۔ متاثرہ کرسچن کالونی کے ایک رہائشی خالد کا کہنا ہے کہ بستی پر حملہ کوئی مذہبی لڑائی نہیں بلکہ دہشتگردی کی کارروائی ہے۔ ان کے بقول حملہ آوروں نقاب پہن رکھے تھے اور ان کے پاس جدید قسم کا اسلحہ تھا جسے نقاب پوش حملہ آور انتہائی مہارت سے استعمال کر رہے تھے۔خالد کا کہنا ہے کہ بستی پر حملے کےلیے لوگوں کو جھنگ سے بلایا گیا ہے اور یہ لوگ جھنگ سے اسحلہ اور کمیکل کے ساتھ گوجرہ آئے لیکن ان کی آمد کی اطلاع نہ تو پولیس اور ایجنسی والوں کو ہوئی۔ خالد کہتے ہیں کہ حملہ آوروں کی مزاحمت کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم سب حملوں آوروں کی فائرنگ کے سامنے بے بس ہوگئے لیکن ان پر مشکل کی اس گھڑی میں قریب کے علاقے میں رہنے والے مسلمانوں نے ان سے تعاون کیا۔ اسی بستی کے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ریاض بھی ہیں جن کا گھر سب سے پہلے حملہ آور کا نشانہ بننا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اس تمام معاملے میں بروقت مداخلت کرتی تو یہ تباہی نہ ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ نقاب پوشوں نے پہلے فائرنگ کی پھر ان کے گھر کو آگ لگا دی جس کے بعد انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے اور اپنے خاندان کے دیگر ارکان کی جان بچائی۔ نقاب پوش نےگھر کی دیواروں پر کمیکل پھینک کر اس پر فائرنگ کی جس سے آگ لگ گئی: اخلاق حمید اخلاق حمید کرسچن کالونی کے اس بدقسمت خاندان کا رکن ہے جس کے سات ارکان اس حملے کے دوران ہلاکت ہوئے۔ مرنے والوں میں اخلاق کے والد کے علاوہ دو بھابیاں، ایک بھتیجا ، بھتیجی اور قریبی خاتون رشتہ دار بھی شامل تھی۔ اخلاق بتاتے ہیں مظاہرین کے حملے کے دوران ان کے والد حمید کو سر میں گولی لگی جس کے بعد پانچ نقاب پوش ان کے گھر میں گھس گئے اور گھر کی دیواروں پر کمیکل پھینک کر اس پر فائرنگ کی جس سے آگ لگ گئی۔ بستی کے پادری سرفراز کا کہنا ہے کہ گوجرہ کے گاؤں کی مسجد میں ہونے والے اعلانات کے بعد پولیس اور انتظامیہ سے تحفظ کے لیے مدد مانگی تھی لیکن پولیس کی طرف سے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیا گیا جن سے تحفظ ملتا۔ ادھر پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہ کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ کرسچن کالونی پر جو حملہ ہوا ہے وہ اچانک نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے اور انتظامیہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نےحملے کے دوران مرنے والوں کی آخری رسومات کے موقع پر اپنے خطاب میں کرسچن کالونی پر حملہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے اب ملک میں دو مختلف مذاہب کے لوگوں کو لڑنے کے لیے سازش کی ہے۔ جبکہ اسی موقع پر پنجاب کے اقلیتی امور کے وزیر کامران مائیکل نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان قوانین میں ترمیم کرانے کے لیے تحریک کی ضرورت ہے جس کا نشانہ مسیحی برادری بنتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اقبال حمید رحمان پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا ہے۔ جسٹس اقبال حمید رحمان سابق چیف جسٹس پاکستان حمود الرحمان کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کی عدالتی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ مرتب کی تھی۔ یہاں پر اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا کہ قرآن کی میبنہ بے حرمتی پر احتجاج کرنے والوں مظاہرین کا اپنے ساتھ جدید اسلحہ اور خطرناک کیمیکل لے کر احتجاج میں آنے کیا مقصد تھا ؟ اقلیتوں کےحقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہناہے کہ عدالتی کمیشن جہاں اپنی تحقیقات میں اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا کرسچن کالونی پر حملہ دہشتگردی کی کارروائی کا کوئی نیاطریقہ ہے یا پھر یہ حملہ اقلیتی کے حقوق کے استحصال کی روایتی کہانی ہے۔وہاں حکومت کو بھی اقلیتی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (06-08-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,541
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی اس کیوں کا ہی تو جواب ہمیں کوئی نہیں دیتا ۔ کس سے اس کا جواب پوچھا جائے ۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, وزیر, قرآن, قران, لڑکی, چیف جسٹس پاکستان, چینل, موقع, مقابلہ, منصوبہ, محبت, مسجد, آج, احتجاج, اعلیٰ, بھائی, جواب, حکم, طاقتور, طالبان, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہزاروں مسلمان مذہب تبدیل کر کے عیسائی بن گئے | راجہ اکرام | عمومی بحث | 11 | 22-01-11 03:12 PM |
| تاثیر نے مسیحوں کےلیے جان دی(عیسائی تنظیم) | عدنان دانی | خبریں | 0 | 10-01-11 01:06 PM |
| ایک عیسائی کے سوال | گلاب خان | دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات | 6 | 15-12-10 03:26 AM |
| ہمارے سیاست دانوں کی انگریزی | نورالدین | سیاسی تصاویر اور ویڈیوز | 13 | 25-09-10 11:42 AM |
| مکہ معظمہ میں عیسائی عبادت گاہ! | Real_Light | خبریں | 7 | 04-05-09 08:09 AM |