واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


سانحہ گوجرہ:مسیحی برادری کے افراد کا قتل اورایک عیسائی رہنما کی شر انگیزی پر تبصرہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-08-09, 06:44 PM   #1
سانحہ گوجرہ:مسیحی برادری کے افراد کا قتل اورایک عیسائی رہنما کی شر انگیزی پر تبصرہ
حیدر حیدر آف لائن ہے 05-08-09, 06:44 PM

14 اگست 1947 کوپاکستان جب معرض وجود میں آیا میں تو اسکا بنیادی مقصد مسلمانوں کو وہ حقوق دلانا تھا جو انگریز سامراج نے کبھی بھی نہ دئے تھے اور خدشہ یہی تھا کہ انکے جانے کے بعد جو نئی ہندو حکومت برسر حکومت آئے گی وہ مسلمانوں کا جینا مزید دوبھر کر دے گی۔ یہی وجہ تھی کہ محض ایک خواب کے حسول کے لیے مسلمانوں نے اپنی لاکھوں جانوں کی بازی لگا دی لیکن بلاد اسلامیہ حاصل کر کے رہے۔

پاکستان نے اپنی اقلیتوں کو وہ تمام تر حقوق دینے کا وعدہ کیا جن کا اسلام وعدہ کرتا ہے۔ اور پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنے اس وعدے کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے مسلمان بھایئیوں کو پیچھے کر کے اپنی اقلیتوں اور خاص کر اپنے اہل کتاب بھائیوں یعنی عیسایوں کو دل کے قریب رکھا ہے۔ کئی کیسز میں ایسا ہوا کہ مسلمان مدعیہ کے حق پر ہونے کے باوجود عیسائی مدعی کی حمایت کی گئی۔ اس کے سب سے بڑی مثال پنجاب میں ایک عیسائی لڑکی جب مسلمان ہوتی ہے تو طاقتور عیسائی کمیونٹی اس کا جینا دوبھر کر دیتی ہے۔ وہ لڑکی نومسلمیہ عایشہ انصاف کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتی رہی لیکن عدالتوں سے لے کر مقتدر طبقات نے اسکی مدد نہ کی۔ بالآخر جب عسائی بشپ نے اسکو معاف کیا تھا تب جا کر اسکی جان چھوٹی تھی۔
یہ ہمارا کوئی احسان نہیں تھا اپنے عسائی بھائیوں پر۔ اقلیتوں اور خاص کر اہل کتاب کے ساتھ محبت کا سلوک کرنے کا حکم ہم کو ہمارے دین اسلام نے دیا ہے۔ اور یہ ہمارے دین کا بنیادی جزو ہے۔

پاکستان کی تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ اقلیتوں کے معاملہ میں پاکستان کا کردار دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والی بھارت کے مقابلے میں کئی درجہ بہتر ہے۔ سیکولر بھارت میں ہر سال ہزاروں عیسائی قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ چرچوں اور انکے گھروں کو جلا دیا جاتا ہے۔انکو مذہیبی آزادی نہیں دی جاتی۔انتہا پسند ہندووں نے اپنی اقلیتوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ بھارت میں صرف ایک سال میں جنونی ہندووں کے ہاتھوں جتنےخونریز واقعات ہوتے ہیہں پاکستان میں توشاید سا ساٹھ سالوں میں نہ ہوئے ہوں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح ہم مسلمان اپنی اقلیتوں خاص کر عیسائی بھائیوں کے مذہبی اور ملی جزبات کا احترام کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ انکے مزہبی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کی جائے،بعینہِ اقلیتیں بھی ہم مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا احترام کرتیں۔مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔اقلیتوں کی طرف سے چند عناصر ایسے ہیں جو بڑھ چڑھ کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروھ کرتے ہیں اور پھر اس پر پشیمان بھی نہیں ہوتے۔

حالیہ سانحہ گوجرہ پر کس مسلمان کو افسوس نہیں؟ وہ کونسا مسلمان ہوگا جس نے اس کی مذمت نہ کی ہو؟ حکومت کی طرف سے کس قدر جلدی ایکشن لیا گیا کہ اس تیزی کا کبھی ہم مسلمانوں کی طرف مظاہرہ نہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔لیکن پھر بھی آج ایک ٹیلیویژن چینل پر ایک عیسائی رہنما کی گفتگو سن کربہت افسوس ہوا۔

اس عیسائی رہنما نے اس بات کو کلی طور پر رد کر دیا کہ سانحہ گوجرہ میں کوئی بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے اس نے کہا کہ میرے پاس ثبوت ہیں کہ وہاں کے مقامی افراد ہیں۔ اس نے کہا کہ مسیحیوں کی نسل کشی بند کی جائے۔مزید یہ کہ اس نے مسیحی بھایوں سے کہا کہ گھر چھوڑ کر کسی جگہ جانے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کریں اور انکو بتا دیں کہ ہم بھی بزدل نہیں ہیں۔ اس نے مزید شر انگیزی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہمکو حکومتی اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مذہبی شخصیات کا بیٹھنا اور چلنا پسند نہیں۔آئیندہ سے انکو ساتھ نہ لایا جائے۔توہین رسالت اور توہین قران والا قانون ختم کر دیا جائے۔

میرے اس بارے میں مندرجہ ذیل تحفظات ہیں

1۔توہین رسالت قانون کا اس معاملہ میں کیا تعلق نکل آیا؟ِ اگر یہ قانون نہ ہوتا تو کیا یہ واقعہ نہ ہوتا؟ کیا غازی علم دین شہید نے اسی قانون کا سہارا لے کر نبی پاک کی توہین کرنے والے کو قتل کیا تھا؟ کیا جرمنی میں ایک پاکستانی نے اسی قانون کا سہارا لے کر ایک مفسد گستاخ کو قتل کیا تھا؟ پاکستان میں آج تک اس قانون کے تحت کسی کو سزا نہیں ہوئی تو پھر اس قانون کا خوف کیوں؟ آکر کوئی بات تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

2۔ اس سانحہ کو عیسایوں کی نسل کشی قرار دینے والے کیا یہ بھول گئے ہیں کہ اس سے زیادہ فسادات کہ جن کے نتیجے میں خود مسلمان ہی شہید ہوتے رہے ہیں وہ بھی پاکستان میں ہوئے۔ بجائے اس کے کہ سانحہ گوجرہ کے محرکین کی گرفتاری کا مطالبہ سادہ الفاظ میں کرتے اس شر انگیز انداز میں نسل کشی قرار دینے کا کیا مقصد؟ جب کبھی قران یا نبی پاک کی توہین کی گئی مسلمانوں نے تو ایسے کسی شر پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا کہ وہ کہتے کہ مسیحی عوام قران کا اسلام کی توہین بند کر دے۔ پھر انکی طرف سے ایسا رویہ کیوں؟

3۔ وہ رہنما بجائے اس بھڑکتی آگ کو بجھانے کے اس کو کیوں مزید کیوں بھڑکا رہے ہیں کہ مقابلہ کریں؟ کیا حکومت آپ کو تحفظ نہیں دے رہی جو آپ اس قسم کے فساد پھیلانے والے بیان دے رہے ہیں؟

4۔ اگر کسی حکومتی شخصیت کے ساتھ کوئی بسپ بیٹھا ہو تو ان رہنما کو خوشی ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی ماہبی وزیر بیٹھا ہوتو انکو اعتراض کیوں؟ مزید یہ کہ مسلمان اپنی حکومت کس طرح چلاتے ہیں اس میں دخل اندازی کیوں؟ کیا کبھی مسلمانوں نے اس قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے عیسایوں سے کہ وہ اپنے آرچ بشپ سے ملاقات نہ کیا کریں؟

5۔ سبھی کی توجہ اب اس ظرف مبزول کروا دی گئی ہے کہ گھر جلا دیئے گئے اور کون ملوث تھا وغیرہ۔ تو اس کے محرک کے بارے میں کوئی بات کیوں نہیں کرتا؟ کیا وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ نوٹوں کے ساتھ قرانی اوراق بھی نچھاور کیے جا رہے تھے؟ اس بات سے کنارہ کش کیوں ہوتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کے مذہبی جزبات کا خیال کرنا اور شرپسندوں کو موقع نہ دینا انکی بھی ذمہ داری نہیں؟

6۔جب مسلمانوں کا جلوس گزر رہا تھا تو مسیحی محلے کی طرف سے ان پر فائرنگ کی گئی۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس بارے میں بات کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا مسیحی بھائی ان ذمہ داروں کو حکومت کے حوالے کریں گے؟

یہ سوالات نما تبصرہ نہ صرف مسیحی برادری کے لیے بھی ہے بلکہ یہ سوالات میرے اپنے میڈیا سے بھی ہے۔ مجھے اپپنے میڈیا سے سخت شکایت ہے اس بارے میں کہ وہ ایک ہی بات کو رگڑ رہے ہیں کہ کیا یہ منصوبہ کے تحت تھا یا وقتی اشتعال ۔اور طالبان سے لے کر نہ جانے کون کون اس میں ملوچ کر دیا گیا ہے ۔لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا کہ واقعہ کیا تھا ،کیوں ہوا اور مسیحی محلہ کی طرف سے فائرنگ کس نے کی۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان گناہوں‌ کی سزا بھی بھگتنی پڑ رہی ہے جو دوسروںنے کیے ہوتے ہیں۔
سانحہ گوجرہ کی مذمت اور قیمتی جانوں کا اتلاف کا افسوس اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن پھر بھی دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 209
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (30-03-10), رضی (06-08-09), عبداللہ حیدر (06-08-09)
پرانا 06-08-09, 02:31 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بی بی سی کی رپورٹ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس رپورٹ میں بھی وہی سوال اٹھتے نظر آ رہے ہیں جو میں نے اپنی مندرجہ بالا پوسٹ میں کیے،


گوجرہ حملہ: نقاب پوش کہاں سے آئے؟

عبادالحق

بی بی سی اردو ڈاٹ کام،گوجرہ

نقاب پوش حملہ انتہائی مہارت سے اسلحہ استعمال کر رہے تھے

پنجاب کے وسطی شہر گوجرہ میں مسیحی آبادی مشتمل بستی پر حملے اور سات افراد کی ہلاکت کے واقعہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

ان سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر بستی پر حملہ کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ نہیں کیا گیا تو مسیحی بستی کے سامنے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے پاس ایسا مواد کیوں موجود تھا جس کی مدد سے بستی گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق گوجرہ کے ایک گاؤں میں قرآن کی بے حرمتی کے میبنہ واقعہ کےخلاف یکم اگست کو شہر میں احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی گئی ہے اور ایک جلوس نکالا گیا۔ انتظامیہ کے بقول جب مظاہرین مسیحی آبادی کی بستی کرسچن کالونی کے سامنے پہنچے تو مظاہرین اور بستی کے رہائیشوں کے درمیان پرتشدد چھڑپ ہوگئی۔

کرسچن کالونی کے متاثرین کا کہنا ہے مظاہرین نے جب ان کی بستی پر دھاوا بولا تو مظاہرین میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے اپنے چہرے نقاب میں چھپا رکھے تھے اور ان نقاب پوشوں مظاہرین نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ گھروں کو آگ بھی لگادی۔ متاثرین کے بقول گھروں کو نذر آتش کرنے کے لیے پیڑول یا تیل نہیں بلکہ خاص قسم کا کمیکل استعمال کیا گیا۔

متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بستی پر حملے کے لیے نقاب پوش حملہ آور کو جھنگ سے بلایا گیا تھا۔

اگرچہ گوجرہ کو پاکستان میں ہاکی کی نرسری کہا جاتا ہے لیکن یہ شہر ضلع جھنگ سے لگ بھگ دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جو ایک کالعدم تنظم کی سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے۔

متاثرہ کرسچن کالونی کے ایک رہائشی خالد کا کہنا ہے کہ بستی پر حملہ کوئی مذہبی لڑائی نہیں بلکہ دہشتگردی کی کارروائی ہے۔

ان کے بقول حملہ آوروں نقاب پہن رکھے تھے اور ان کے پاس جدید قسم کا اسلحہ تھا جسے نقاب پوش حملہ آور انتہائی مہارت سے استعمال کر رہے تھے۔خالد کا کہنا ہے کہ بستی پر حملے کےلیے لوگوں کو جھنگ سے بلایا گیا ہے اور یہ لوگ جھنگ سے اسحلہ اور کمیکل کے ساتھ گوجرہ آئے لیکن ان کی آمد کی اطلاع نہ تو پولیس اور ایجنسی والوں کو ہوئی۔

خالد کہتے ہیں کہ حملہ آوروں کی مزاحمت کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم سب حملوں آوروں کی فائرنگ کے سامنے بے بس ہوگئے لیکن ان پر مشکل کی اس گھڑی میں قریب کے علاقے میں رہنے والے مسلمانوں نے ان سے تعاون کیا۔

اسی بستی کے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ریاض بھی ہیں جن کا گھر سب سے پہلے حملہ آور کا نشانہ بننا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اس تمام معاملے میں بروقت مداخلت کرتی تو یہ تباہی نہ ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ نقاب پوشوں نے پہلے فائرنگ کی پھر ان کے گھر کو آگ لگا دی جس کے بعد انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے اور اپنے خاندان کے دیگر ارکان کی جان بچائی۔

نقاب پوش نےگھر کی دیواروں پر کمیکل پھینک کر اس پر فائرنگ کی جس سے آگ لگ گئی: اخلاق حمید

اخلاق حمید کرسچن کالونی کے اس بدقسمت خاندان کا رکن ہے جس کے سات ارکان اس حملے کے دوران ہلاکت ہوئے۔ مرنے والوں میں اخلاق کے والد کے علاوہ دو بھابیاں، ایک بھتیجا ، بھتیجی اور قریبی خاتون رشتہ دار بھی شامل تھی۔

اخلاق بتاتے ہیں مظاہرین کے حملے کے دوران ان کے والد حمید کو سر میں گولی لگی جس کے بعد پانچ نقاب پوش ان کے گھر میں گھس گئے اور گھر کی دیواروں پر کمیکل پھینک کر اس پر فائرنگ کی جس سے آگ لگ گئی۔

بستی کے پادری سرفراز کا کہنا ہے کہ گوجرہ کے گاؤں کی مسجد میں ہونے والے اعلانات کے بعد پولیس اور انتظامیہ سے تحفظ کے لیے مدد مانگی تھی لیکن پولیس کی طرف سے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیا گیا جن سے تحفظ ملتا۔

ادھر پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہ کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ کرسچن کالونی پر جو حملہ ہوا ہے وہ اچانک نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے اور انتظامیہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نےحملے کے دوران مرنے والوں کی آخری رسومات کے موقع پر اپنے خطاب میں کرسچن کالونی پر حملہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے اب ملک میں دو مختلف مذاہب کے لوگوں کو لڑنے کے لیے سازش کی ہے۔

جبکہ اسی موقع پر پنجاب کے اقلیتی امور کے وزیر کامران مائیکل نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان قوانین میں ترمیم کرانے کے لیے تحریک کی ضرورت ہے جس کا نشانہ مسیحی برادری بنتی ہے۔

حکومت پنجاب نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اقبال حمید رحمان پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا ہے۔ جسٹس اقبال حمید رحمان سابق چیف جسٹس پاکستان حمود الرحمان کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کی عدالتی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ مرتب کی تھی۔

یہاں پر اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا کہ قرآن کی میبنہ بے حرمتی پر احتجاج کرنے والوں مظاہرین کا اپنے ساتھ جدید اسلحہ اور خطرناک کیمیکل لے کر احتجاج میں آنے کیا مقصد تھا ؟

اقلیتوں کےحقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہناہے کہ عدالتی کمیشن جہاں اپنی تحقیقات میں اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا کرسچن کالونی پر حملہ دہشتگردی کی کارروائی کا کوئی نیاطریقہ ہے یا پھر یہ حملہ اقلیتی کے حقوق کے استحصال کی روایتی کہانی ہے۔وہاں حکومت کو بھی اقلیتی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (06-08-09)
پرانا 06-08-09, 05:46 PM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,541
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی اس کیوں کا ہی تو جواب ہمیں کوئی نہیں دیتا ۔ کس سے اس کا جواب پوچھا جائے ۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-08-09, 10:30 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں درست کہا آپ نے

ہر شاخ پہ الو بیٹھے ہیں
انجام گلستاں کیا ہو گا
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (07-08-09)
جواب

Tags
ہندو, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, وزیر, قرآن, قران, لڑکی, چیف جسٹس پاکستان, چینل, موقع, مقابلہ, منصوبہ, محبت, مسجد, آج, احتجاج, اعلیٰ, بھائی, جواب, حکم, طاقتور, طالبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہزاروں مسلمان مذہب تبدیل کر کے عیسائی بن گئے راجہ اکرام عمومی بحث 11 22-01-11 03:12 PM
تاثیر نے مسیحوں کےلیے جان دی(عیسائی تنظیم) عدنان دانی خبریں 0 10-01-11 01:06 PM
ایک عیسائی کے سوال گلاب خان دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 6 15-12-10 03:26 AM
ہمارے سیاست دانوں کی انگریزی نورالدین سیاسی تصاویر اور ویڈیوز 13 25-09-10 11:42 AM
مکہ معظمہ میں عیسائی عبادت گاہ! Real_Light خبریں 7 04-05-09 08:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:15 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger