واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


سلامتی کونسل کی پھرتیاں‌ !!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-12-08, 05:04 AM   #1
سلامتی کونسل کی پھرتیاں‌ !!!
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 14-12-08, 05:04 AM

ممبئی دھما کوں کی آڑ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جس پھرتی سے فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کے تین سر کردہ را ہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی جماعت کی سر گرمیوں پر پابندی عائد کی ہے ۔اور ان میں اشرف نامی ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو انتقال کر چکا ہے ۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کسی اور نائن الیون کی آڑ میں عراق اور افغانستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے بعد پاکستان کو شکنجے میں جکڑنے کے لیئے جس موقع کی انتظار میں تھا ۔وہ ممبئی دھماکوں نے اسے فراہم کر دیا ہے ۔جسے کیش کرانے میں امریکہ اور اس کے منصوبہ سازوں نے زرا دیر نہیں لگائی ۔اور بھارت سے ہمدردی جتا کر بڑی چالاکی اور مہارت سے گیم اپنے ہاتھ میں لے لی ہے ۔اور اس ڈرامہ کو سٹیج کرنے والوں کی توقعات کے عین مطابق نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔جب کہ ادھر پاکستان کے حکمرانوں نے حسب سابق وفاداری دیکھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے پرٹوکول 1267کی پاسداری کی آڑ میںجماعت الدعوہ کے ملک بھر میں نہ صرف دفاتر سیل کرکے ان کے کارکنوں اور عہدہداروں کو گرفتار کرلیا ہے بلکہ اس ادارہ کے زیر اہتمام چلنے والے ہسپتال اور ریلیف کیمپ بھی بند کر دیئے ہیں ۔اور ساتھ ہی ہمارے غیور وزیر دفاع کا بیان آیا ہے کہ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو اقوام متحدہ پاکستان کودہشت گرد ملک قرار دے کر پابندیاں لگا دیتا ۔ہم دشمنوں سے تو لڑ سکتے ہیں لیکن پوری دنیاکی طرف سے پابندیوں کا سامنا نہیں کرسکتے ۔جب کہ امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کا نیا فرمان آیا ہے کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے پیش نظر بھر پور کاروائی کرنا ہوگی ۔موجودہ صورت حال خطر ناک ہے غیر ریاستی عناصر نے حملے کیلئے پاکستانی سر زمین استعمال کی جس پر ہمیں تشویش ہے ۔حالاں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ٹھوس شواہد اور معلومات کے بغیر ممبئی حملوں کی تحقیقات میں پیش رفت مشکل ہے پاکستان کی پیش کش کے باوجود بھارت نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیئے اوروہ خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے اقوام متحدہ نے یہ تیزی کیو ںدکھائی حالاںکہ بھارت نے ابھی تک کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیئے ۔جب کہ مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس سمیت دیگر بم دھماکوں کا اعتراف کرنے والے بھارتی ہندو فوجی کرنل، شیو شینا سمیت کسی ہندو دہشت گرد تنظیم پر ایسی پابندی نہیں لگائی گئی حا لانکہ دہشت گردوں کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔اور پھر جماعت لدعوہ کے سربراہ یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کا کبھی بھی القاعدہ یا طالبان سے کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی وہ کبھی ان تنظیموں کے عہدیدار رہے ہیں ۔جب کہ ہندو انتہا پسند تنظیم نے تو کھلے بندوں یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر خود کش کاروائیاں کرنے کے لیئے خوکش بمبار تیار کر کے بھیج رپے ہیں ۔اور سربجیت سنگھ جس نے چار بم دھماکو کا اعتراف بھی کیا ہے اور پاکستان کی جیل میں ہے اس کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر کسی ہندو تنظیم کو کیوں نہ دہشت گرد قرار دیا گیا ۔کیا ا قوام متحدہ کوصرف مسلمان ہی دہشت گرد نظر آتے ہیں ۔بھارت کو یہ کیو ںنہ پوچھا جائے کہ اس کے چھبیس کونسل خانے افغانستان میں کیو ںقائم ہیں ۔سوات اور قبائلی علاقوں میں بھارت کی خفیہ ایجنسی رقم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اہلکار مسلمانوں کے بھیس میں جو شورش بر پاکیے ہوئے ہیں اقوام متحدہ اس کے متعلق استسفار کیوں نہیں کرتی ۔میریٹ ہوٹل کے سانحے پر کیوں عالمی ضمیر سویا ہوا ہے ،بے نظیر کی شہادت کس کے کھاتے میں جائے گی ۔چینی انجئینروں کا اغوا اور قتل کس کے ہاتھ تلاش کیا جائے یہاں ثبوت بھی موجود ہیں ۔ اس لئے پاکستان کو یہ مطالبہ کر دینا چائیے کہ بھارتی فوج کے کرنل سمیت وہ تمام دہشت گرد پاکستان کے حوالے کئے جائیں جو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ کیاسلامتی کو نسل نے صرف یہود وہنود کی سلامتی کا ٹھیکا اٹھایا ہوا ہے ۔؟کیا فلسطین ،کشمیر ،افغانستان ،اور عراق میں انسانیت کی تزلیل نہیں کی جارہی؟ اب تک ہزاروں افراد امریکہ اور اس کے اتحادیوںکی بمباری کا شکار ہوچکے ہیں اور یہ تعداد نائن الیون سے کہیں زیادہ ہے ۔جو خود ان بھیڑیوںنے اسٹیج کیا تھا ۔ صدر بش کے اس اعتراف شرمندگی کے بعد کہ عراق پر حملہ غلط معلومات پر کیا گیا جس کا انھیں افسوس ہے ۔عالمی انصاف اور امن کے ٹھیکداروں کو حرکت میں آنا چائیے ۔اور بش سمیت ان کرداروں سے پوچھنا چائیے کہ ان ہزاروں معصوم بچوں اور عورتوں کے ساتھ کھیلے جانے والی ہولی کا ازالہ ہے ان کے پاس جو ان کی غلط معلومات کی بھینٹ چڑ گئے ۔اس قتل غارت گری کا حساب لیتے ہوئے پہلے اقوام متحدہ بش اور اس کے حواریوں کو دہشت گرد قرار دے کر انھیں عالمی انصاف کے کہٹرے میں لائے ۔اور بحثیت ریاست اب امریکہ کو اس جانی اور مالی نقصان کا ازالہ کرنا چائیے ۔ اور جب تک یہ نہیں ہوجاتا امریکہ اور اس کے حواریوں کی کسی انٹیلی جنٹ معلومات پر اعتبار کرتے ہوئے اسے کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف کاروائی کا حق اقوام متحدہ کی طرف سے دیا جانا یاکسی تنظیم اور ملک پر پابندی لگانا ، صریحا انصاف کی خلاف ورزی ہوگی ۔اب یہ ممبر ممالک خصوصا مسلمان ممالک کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی یکطرفہ پروٹو کول کی پابندی سے انکار کرتے ہوئے یہ شرط عائد کردیں ۔کہ پہلے امریکہ کے خلاف کاروائی کی جائے ۔اس انکشاف کے بعد تو افغانستان میں بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی آمد مشکوک ہوگئی ہے ۔جو ایجنسیاں عراق میں غلط معلومات فراہم کرکے معصوم جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہیں ۔ان کی غلط معلومات افغانستان اور اب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں معصوم لوگوں پر ببمباری کا سبب بنی ہوئی ہیں ۔اور القاعدہ کے نام پر بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے ۔اس سفید جھوٹ کے کھل جانے کے بعد یقینا امریکی عوام سوال کرسکتے ہیں کہ ان کو بھوک اور افلاس اور بے روزگاری تک لے آنے کے اس بش فلسفہ کا کیاہوگا ۔ کیوںکہ ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ،۔ بس یہ اندھیری شب بھی بہت دیر تک قائم نہیں رہے گی ۔عالمی سطح پر آیا ہوا مالی بحران اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔راقم پہلے بھی اپنے کالموں میں یہ کہنے کی جسارت کر چکا ہے ۔کہ عالمی سامراجی ٹولے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ بحران اگلے سال اور شدت اختیار کرے گا ۔جب کہ چین نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ اسے اب آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگراموں میںدلچسبی نہیں رہی ۔امریکہ بھارت کو جس طرح پروموٹ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اس سے اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ وہ پاکستان کو اس حد تک مجبور کردینا چاہتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ آنکھ ملا کر بات کرنے کے بجائے اس کی ہاںمیں ہاں ملاتا جائے ۔تاکہ امریکہ بھارت سے وہ کام لے سکے جس کے لیئے اسے تیار کیا جارہا ہے ۔ یعنی چین سے پنجہ آزمائی ۔جس کا چین کو بخوبی اندازہ ہے ۔امریکہ بھارت سے اسی کردار کا متمنی ہے جو روس کو تباہ کرنے کے لیئے پاکستان سے ادا کروایا گیا ۔اور خوب امداد اور ہر سطح پر تعاون کے دروازے کھول دیئے گئے تھے ۔بین ہی آج بھارت پر اسی طرح کی نوازشات کی جارہی ہیں سول ایٹمی ٹیکنالوجی معاہدہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ اور بھارت پاکستان کا بہانہ بنا کر امریکہ سے مفادات اکھٹے کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔اور بھارت خود کو امریکہ ثانی سمجھنے لگا ہے ۔اسی لئے تو وہ بھی ڈو مور ‘‘ کی پریکٹس کر رہا ہے ۔کیا امریکہ ہندو بنیاسے اپنے مفادات کا حصول کر پائے گا ۔ یا ہندو بنیا اسے بھی مات کر جائے گا ۔جیسے اس نے روس کے ساتھ کیا ہے ۔اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔۔۔۔۔۔فی الحال تو سلامتی کونسل کی پھرتیاں دیکھو!۔

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 361
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (19-12-08), محمد الیاس (18-12-08), ابن جلال (19-12-08), شہزاد وحید (18-12-08), عبدالقدوس (14-12-08)
پرانا 18-12-08, 12:12 AM   #2
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سلامتی کونسل کی پھرتیاں‌ !!!

امریکہ نے عراق پر حملہ کرتے وقت سلامتی مجلس پر پاؤں رکھ دیا اور اس عظیم تنظیم کی نفی کر دی جو جنگ عظیم کے بعد کسی اور ایسی بڑی آفت سے بچنے کے لئے وجود میں‌ آئی تھی۔ عراق پر حملہ کرتے وقت بوش نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فورا" بعد شام اور ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوگا۔ عراق، شام اور ایران کے مسلم دنیا سے کاٹنے کے بعد ترکی خود بخود اسلامی ملکوں‌کے سلسلے سے کٹ جاتا تھا اور اس طرح ایک مشرقی امریکی سلطنت یا بازنطینی سلطنت کی طرز پر بوشنطینی سلطنت وجود میں‌ لائے جانے کا امکان تھا۔ معلومات کے مطابق دنیاکی نئی ترتیب(نیو ورلڈآرڈر) کا لائحہ عمل یہ تھا کا تمام یورپی دنیا میں امریکہ کی براہ راست چھاؤنیاں مقرّر ہونا تھیں۔ اس لائحہ عمل سے اور اپنے بڑے مگر بے اعتبار بھائی سے گھبرا کر پیشبندی کے طور پر یورپ نے اپنا الگ اتّحاد قائم کرلیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بین القوامی(او آی سی) تنظیم ہے اور اسکے علاوہ آپس میں سرحدات ملنے والے ملکوں کی(ای سی او) تنظیم بھی ہے مگر ان کا وجود ڈھیلا ہے۔ قذّافی اور صدّام ایسے سربراھان تھے جو خود مسلمان ملکوں‌کی قرارداد کی نفی کرتے رہے ہیں۔ کسی نے ایک زیادہ مضبوط اتّحاد کی طرف قدم نہیں اُٹھایا ہے۔ ایک جنوبی ایشیا کی تنظیم (سارک) بھی ہے مگر یہ اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب یہاں‌ کے دو بڑے ملک پاکستان اور ہندوستان آپس میں اتّحاد قائم کر لیں۔ ہندوستان سے دوستی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کا یہاں تیرہ سو سال سے زیادہ سے بسیرا ہے۔ اگر دریائے جیحون (آمو دریا) سے لے کر برما تک کا علاقہ متّحد ہو تو ان پر الزام لگانے والے کو بھی کافی کچھ سوچنا پڑے گا۔ دنیا میں اقوام متحدہ کی کوئی حیثیّت نہیں رہی ہے اور جسکی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔
کسی کے بار بار پاؤں پڑنے سے مسئلہ حل نہ ہوگا اُلٹا عزّت سے ہاتھ دھو بیٹھنا پڑے گا۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-12-08, 06:23 PM   #3
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سلامتی کونسل کی پھرتیاں‌ !!!

السلام علیکم،

آپ نے کافی اچھا لکھا ہے۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس ! یہ بھی خوب کہی لیکن مشرف دور سے لیکر اب عوامی حکومت کے دور میں بھی حکومت پاکستان بھینس بنی ہوئ ہے جو کہ ہر لاٹھی سے ہانکی جاسکتی ہے۔
سلامتی کونسل میں جب آپ کا نمائندہ ہی نہیں ہو گا جو کہ آپ کی پوزیشن کو واضح کرے تو یہی ہونا ہے۔ باقی سلامتی کونسل سے پہلے ہی حکومت ان تمام پابندیوں کو لاگو کر چکی تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کب پاکستان کو بھبکیاں لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (19-12-08)
پرانا 19-12-08, 07:34 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد الیاس مراسلہ دیکھیں
امریکہ نے عراق پر حملہ کرتے وقت سلامتی مجلس پر پاؤں رکھ دیا اور اس عظیم تنظیم کی نفی کر دی جو جنگ عظیم کے بعد کسی اور ایسی بڑی آفت سے بچنے کے لئے وجود میں‌ آئی تھی۔
نومبر 8 2002 کو اقوام متحدہ نے قرارداد نمبر 1441 منظور کی تھی جس ميں صدام حسين کو عالمی برادری سے تعاون کرنے کا آخری موقع فراہم کيا گيا تھا۔ اس قرارداد کے مطابق

"اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے يہ متفقہ فيصلہ کيا ہے کہ عراقی حکومت پر يہ لازم ہے کہ وہ يو- اين -ایم- او- وی – آئ – سی اور آئ – اے – ای – اے کے ساتھ فوری، غير مشروط اور بغير کسی رکاوٹ کے مکمل تعاون کرے۔ اس تعاون کے دائرہ کار ميں آئ – اے – ای – اے کو زير زمين علاقوں، مختلف عمارات، ريکارڈز کی پڑتال سميت مختلف ماہرين سے سوالات کی اجازت شامل ہے۔ آئ – اے – ای – اے پر يہ لازم ہے کہ وہ اس قرارداد کی منظوری کے 45 دن کے اندر اپنی کاروائ کا آغاز کرے اور 60 دنوں کے اندر سيکورٹی کونسل کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرے۔"

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس قرارداد ميں سيکورٹی کونسل نے عراق پر يہ واضح کر ديا تھا کہ عراق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت ميں عراق کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-12-08, 08:30 PM   #5
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
نومبر 8 2002 کو اقوام متحدہ نے قرارداد نمبر 1441 منظور کی تھی جس ميں صدام حسين کو عالمی برادری سے تعاون کرنے کا آخری موقع فراہم کيا گيا تھا۔ اس قرارداد کے مطابق

"اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے يہ متفقہ فيصلہ کيا ہے کہ عراقی حکومت پر يہ لازم ہے کہ وہ يو- اين -ایم- او- وی – آئ – سی اور آئ – اے – ای – اے کے ساتھ فوری، غير مشروط اور بغير کسی رکاوٹ کے مکمل تعاون کرے۔ اس تعاون کے دائرہ کار ميں آئ – اے – ای – اے کو زير زمين علاقوں، مختلف عمارات، ريکارڈز کی پڑتال سميت مختلف ماہرين سے سوالات کی اجازت شامل ہے۔ آئ – اے – ای – اے پر يہ لازم ہے کہ وہ اس قرارداد کی منظوری کے 45 دن کے اندر اپنی کاروائ کا آغاز کرے اور 60 دنوں کے اندر سيکورٹی کونسل کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرے۔"

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس قرارداد ميں سيکورٹی کونسل نے عراق پر يہ واضح کر ديا تھا کہ عراق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت ميں عراق کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
ہم م م م م م
سمجھ کر لو متھے کنال دے کے لیکن

فواد کے جواب کو پڑھ کر ایک محاورہ یاد آگیا:
؎ اونٹ رے اونٹ تیری کون سے کَل سیدھی؟
سب سے پہلے تو یہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل وغیرہ ہی سب ڈرامہ ہے لیکن کیونکہ بات اسی حوالے سے ہورہی ہے اس لئے ہم بھی کر لیتے ہیں :
اقتباس:
يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس قرارداد ميں سيکورٹی کونسل نے عراق پر يہ واضح کر ديا تھا کہ عراق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت ميں عراق کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔
چلیں‌یہاں‌تک تو بات سمجھ میں‌آرہی ہے کہ ایک ٹائم دے دیا ہے کہ اگر اُس وقت تک کام نہ کیا تو سخت نتائج بھگتنا ہوں‌گے اب وہ نتائج کیا ہوں‌گے ؟ اس کا فیصلہ کس نے کرنا تھا ؟ کیا امریکہ نے ؟ کیوں‌؟ اب اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کہاں‌گئی؟ کیا سلامتی کونسل یا اقوام متحدہ نے ایسا کوئی فیصلہ دیا کہ عراق کی حکومت ہماری ڈیمانڈ پوری کرنے میں‌ناکام رہی ہے اس لئے امریکہ کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ عراقی حکومت کے عدم تعاون کی سزا عراقی عوام کو دینا شروع کر دے ؟ اور پھر امریکہ کون ہے خود سے عراق پر چڑھ دوڑنے والا ؟ جب اس معاملے کو اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل ہینڈل کر رہی تھی تو اس کے اعلان کے بغیر امریکہ نے جو کچھ کیا جبکہ اعلان کے بعد بھی اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جو بھی فوج ہوتی وہ یہ کام کرتی اور اسکے برعکس امریکہ نے برطانیہ کو ملا کر خود ہی تمام کارستانیاں‌شروع کردیں تو یہ عمل کیا ثابت کر رہا ہے ؟ اس سے صاف صاف ظاہر ہے کہ مراسلہ نمبر 1 اور 2 میں‌امریکہ کے حوالے سے جن امور کی نشاندہی کی گئی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہیں اور امریکہ کی ان بے ہودہ پالیسیوں‌کو چلانے والے صدر آج جس انداز میں تمام دنیا میں ذلیل ہو رہے ہیں یہ امریکہ کی ان بے ہودہ پالیسیوں‌پر تمام دنیا کا جواب ہے اسی لئے بھارت اس جوتا چلاؤ‌مہم میں‌21 ویں نمبر پر ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے جو آشیرباد ملی ہوئی ہے اس کا حق ادا کیا گیا ہے ورنہ تو عوامی نفرت کی اس مہم میں‌امریکی سب سے آگے ہیں اور اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ خود امریکی عوام بھی امریکہ کی ان " بین الاقوامی بے ہودگیوں " سے نالاں‌ہیں
__________________
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-12-08, 10:13 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
چلیں‌یہاں‌تک تو بات سمجھ میں‌آرہی ہے کہ ایک ٹائم دے دیا ہے کہ اگر اُس وقت تک کام نہ کیا تو سخت نتائج بھگتنا ہوں‌گے اب وہ نتائج کیا ہوں‌گے ؟ اس کا فیصلہ کس نے کرنا تھا ؟ کیا امریکہ نے ؟ کیوں‌؟ اب اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کہاں‌گئی؟
سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔ حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلۓ پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا۔ اس ايشو کا ايک تاريخی تناظر بھی ہے جسے اکثر نظرانداز کيا جاتا ہے۔ سال 1990 ميں کويت پر عراق کے قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے 60 کے قريب قرارداديں منظور کی گئ تھيں۔ عراق ان ميں سے جن قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب تھا ان ميں قرارداد نمبر

678،686،687،688،707،715،949،1051،1060،
1115،1134،1137،1154،1194،1205،128،1441

شامل ہيں۔ قرارداد نمبر 1441 ميں يہ واضح درج ہے کہ ان قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی صورت ميں عراق کے خلاف سخت کاروائ کی جاۓ گی۔

SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002

قرارداد نمبر 678 ميں اقوام متحدہ کی ماضی اور مستقبل ميں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد يقينی بنانے کے ليے تمام اختيارات کی منظوری دی گئ ہے۔

ODS HOME PAGE

اس قرارداد کے مطابق "کويت کی حکومت کی مدد کرنے والے تمام ممبر ارکان کو يہ اختيار ہے کہ وہ (1) اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 660 اور دیگر قراردادوں پر عمل درآمد اور کويت پر عراقی قبضے کو ختم کروانے اور عراقی افواج کی واپسی کو يقينی بنوانے کے ليے تمام اختيارات کو استعمال کرنے کے مجاز ہيں۔ (2) خطے ميں ديرپا سيکورٹی اور امن کے قيام کو يقينی بنايا جاۓ۔

اس ضمن ميں ديگر بے شمار قراردادوں کے علاوہ سال 1991 ميں قرارداد نمبر 687 بھی منظور کی گئ تھی جس ميں عراق کی حکومت سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ وہ اپنے کيمياوی ہتھياروں (ڈبليو – ايم – ڈی) اور بالسٹک ميزائل کے بارے ميں مفصل حقائق سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرے۔

سال 1991 ميں اتحادی افواج کی کاروائ کے نتيجے ميں قرارداد نمبر 678 کے پہلے حصے پر عمل درآمد کروا ليا گيا تھا ليکن اس قرارداد کے باقی حصوں پر عمل درآمد نہيں ہوا تھا۔ کويت سے عراقی افواج کی پسپائ کے بعھ بھی اتحادی افواج اور عراقی افواج کے درميان جھڑپيں جاری رہيں۔ اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 678 نہ تو منسوخ ہوئ اور نہ ہی اس ضمن ميں منظور کی جانے والی ديگر قراردادوں ميں قرارداد نمبر 678 کے حوالے سے کوئ شرط عائد کی گئ۔ اس قرارداد کی رو سے امريکہ کو عراق کے خلاف طاقت کے استعمال کا اختيار حاصل تھا۔ اس کے علاوہ عراق کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کو کيمياوی ہتھياروں کے ضمن ميں معلومات کی فراہمی سے انکار سال 1991 ميں جنگ بندی کے خاتمے کے معاہدے اور منظور شدہ مينڈيٹ کی واضح خلاف ورزی تھی۔ عراق کی حکومت نے وہ شرائط پوری نہيں کی تھيں جن کا مطالبہ اقوام متحدہ کی جانب سے کيا گيا تھا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-12-08, 10:31 AM   #7
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

[
Fawad - Digital Outreach Team US State Dept;131930]
SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
[url=http://usinfo.state.gov]America - Telling America's Story - America.gov[/url

Last edited by محمد الیاس; 22-12-08 at 10:45 AM.
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-12-08, 10:34 AM   #8
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
نومبر 8 2002 کو اقوام متحدہ نے قرارداد نمبر 1441 منظور کی تھی جس ميں صدام حسين کو عالمی برادری سے تعاون کرنے کا آخری موقع فراہم کيا گيا تھا۔ اس قرارداد کے مطابق

"اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے يہ متفقہ فيصلہ کيا ہے کہ عراقی حکومت پر يہ لازم ہے کہ وہ يو- اين -ایم- او- وی – آئ – سی اور آئ – اے – ای – اے کے ساتھ فوری، غير مشروط اور بغير کسی رکاوٹ کے مکمل تعاون کرے۔ اس تعاون کے دائرہ کار ميں آئ – اے – ای – اے کو زير زمين علاقوں، مختلف عمارات، ريکارڈز کی پڑتال سميت مختلف ماہرين سے سوالات کی اجازت شامل ہے۔ آئ – اے – ای – اے پر يہ لازم ہے کہ وہ اس قرارداد کی منظوری کے 45 دن کے اندر اپنی کاروائ کا آغاز کرے اور 60 دنوں کے اندر سيکورٹی کونسل کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرے۔"

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس قرارداد ميں سيکورٹی کونسل نے عراق پر يہ واضح کر ديا تھا کہ عراق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت ميں عراق کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
حقیقت کو وکیلوں کی طرح الفاظ میں نہ ڈبوئیں۔ میں اس وقت زندہ تھا۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, فرض, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیر, نظر, منصوبہ, آج, اقوام متحدہ, امریکہ, اغوا, بچوں, تلاش, جھوٹ, جیل, حال, خون, خلاف, دیکھو, سال, شخص, طالبان, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مسئلہ کشمیر:امریکہ پھر بھاگ گیا، بان کی مون کردار ادا کرنے کے لئے تیار، پاکستانی اشارے کا انتظار جاویداسد خبریں 0 11-10-10 02:53 PM
بھولی داستا ن پھر یاد کرلو ،دماغی پرزہ تیار جاویداسد خبریں 0 15-08-10 10:54 AM
پھر آج کوئی غزل تیرے نام نہ ہو جائے The Great شعر و شاعری 0 07-08-08 06:44 PM
کراچی: بجلی کا بحران پھر شدت اختیار کر گیا، 3 تا 4 سو میگا واٹ کمی کا سامن عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:36 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:46 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger