| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 361
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | میاں شاہد (19-12-08), محمد الیاس (18-12-08), ابن جلال (19-12-08), شہزاد وحید (18-12-08), عبدالقدوس (14-12-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
امریکہ نے عراق پر حملہ کرتے وقت سلامتی مجلس پر پاؤں رکھ دیا اور اس عظیم تنظیم کی نفی کر دی جو جنگ عظیم کے بعد کسی اور ایسی بڑی آفت سے بچنے کے لئے وجود میں آئی تھی۔ عراق پر حملہ کرتے وقت بوش نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فورا" بعد شام اور ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوگا۔ عراق، شام اور ایران کے مسلم دنیا سے کاٹنے کے بعد ترکی خود بخود اسلامی ملکوںکے سلسلے سے کٹ جاتا تھا اور اس طرح ایک مشرقی امریکی سلطنت یا بازنطینی سلطنت کی طرز پر بوشنطینی سلطنت وجود میں لائے جانے کا امکان تھا۔ معلومات کے مطابق دنیاکی نئی ترتیب(نیو ورلڈآرڈر) کا لائحہ عمل یہ تھا کا تمام یورپی دنیا میں امریکہ کی براہ راست چھاؤنیاں مقرّر ہونا تھیں۔ اس لائحہ عمل سے اور اپنے بڑے مگر بے اعتبار بھائی سے گھبرا کر پیشبندی کے طور پر یورپ نے اپنا الگ اتّحاد قائم کرلیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بین القوامی(او آی سی) تنظیم ہے اور اسکے علاوہ آپس میں سرحدات ملنے والے ملکوں کی(ای سی او) تنظیم بھی ہے مگر ان کا وجود ڈھیلا ہے۔ قذّافی اور صدّام ایسے سربراھان تھے جو خود مسلمان ملکوںکی قرارداد کی نفی کرتے رہے ہیں۔ کسی نے ایک زیادہ مضبوط اتّحاد کی طرف قدم نہیں اُٹھایا ہے۔ ایک جنوبی ایشیا کی تنظیم (سارک) بھی ہے مگر یہ اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب یہاں کے دو بڑے ملک پاکستان اور ہندوستان آپس میں اتّحاد قائم کر لیں۔ ہندوستان سے دوستی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کا یہاں تیرہ سو سال سے زیادہ سے بسیرا ہے۔ اگر دریائے جیحون (آمو دریا) سے لے کر برما تک کا علاقہ متّحد ہو تو ان پر الزام لگانے والے کو بھی کافی کچھ سوچنا پڑے گا۔ دنیا میں اقوام متحدہ کی کوئی حیثیّت نہیں رہی ہے اور جسکی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔
کسی کے بار بار پاؤں پڑنے سے مسئلہ حل نہ ہوگا اُلٹا عزّت سے ہاتھ دھو بیٹھنا پڑے گا۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
آپ نے کافی اچھا لکھا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ! یہ بھی خوب کہی لیکن مشرف دور سے لیکر اب عوامی حکومت کے دور میں بھی حکومت پاکستان بھینس بنی ہوئ ہے جو کہ ہر لاٹھی سے ہانکی جاسکتی ہے۔ سلامتی کونسل میں جب آپ کا نمائندہ ہی نہیں ہو گا جو کہ آپ کی پوزیشن کو واضح کرے تو یہی ہونا ہے۔ باقی سلامتی کونسل سے پہلے ہی حکومت ان تمام پابندیوں کو لاگو کر چکی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کب پاکستان کو بھبکیاں لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (19-12-08) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
"اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے يہ متفقہ فيصلہ کيا ہے کہ عراقی حکومت پر يہ لازم ہے کہ وہ يو- اين -ایم- او- وی – آئ – سی اور آئ – اے – ای – اے کے ساتھ فوری، غير مشروط اور بغير کسی رکاوٹ کے مکمل تعاون کرے۔ اس تعاون کے دائرہ کار ميں آئ – اے – ای – اے کو زير زمين علاقوں، مختلف عمارات، ريکارڈز کی پڑتال سميت مختلف ماہرين سے سوالات کی اجازت شامل ہے۔ آئ – اے – ای – اے پر يہ لازم ہے کہ وہ اس قرارداد کی منظوری کے 45 دن کے اندر اپنی کاروائ کا آغاز کرے اور 60 دنوں کے اندر سيکورٹی کونسل کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرے۔" يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس قرارداد ميں سيکورٹی کونسل نے عراق پر يہ واضح کر ديا تھا کہ عراق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت ميں عراق کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002 فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov America - Telling America's Story - America.gov |
|
|
|
|
|
|
#5 | ||
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
سمجھ کر لو متھے کنال دے کے لیکن فواد کے جواب کو پڑھ کر ایک محاورہ یاد آگیا: ؎ اونٹ رے اونٹ تیری کون سے کَل سیدھی؟ سب سے پہلے تو یہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل وغیرہ ہی سب ڈرامہ ہے لیکن کیونکہ بات اسی حوالے سے ہورہی ہے اس لئے ہم بھی کر لیتے ہیں : اقتباس:
__________________
![]() |
||
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
678،686،687،688،707،715،949،1051،1060، 1115،1134،1137،1154،1194،1205،128،1441 شامل ہيں۔ قرارداد نمبر 1441 ميں يہ واضح درج ہے کہ ان قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی صورت ميں عراق کے خلاف سخت کاروائ کی جاۓ گی۔ SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002 قرارداد نمبر 678 ميں اقوام متحدہ کی ماضی اور مستقبل ميں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد يقينی بنانے کے ليے تمام اختيارات کی منظوری دی گئ ہے۔ ODS HOME PAGE اس قرارداد کے مطابق "کويت کی حکومت کی مدد کرنے والے تمام ممبر ارکان کو يہ اختيار ہے کہ وہ (1) اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 660 اور دیگر قراردادوں پر عمل درآمد اور کويت پر عراقی قبضے کو ختم کروانے اور عراقی افواج کی واپسی کو يقينی بنوانے کے ليے تمام اختيارات کو استعمال کرنے کے مجاز ہيں۔ (2) خطے ميں ديرپا سيکورٹی اور امن کے قيام کو يقينی بنايا جاۓ۔ اس ضمن ميں ديگر بے شمار قراردادوں کے علاوہ سال 1991 ميں قرارداد نمبر 687 بھی منظور کی گئ تھی جس ميں عراق کی حکومت سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ وہ اپنے کيمياوی ہتھياروں (ڈبليو – ايم – ڈی) اور بالسٹک ميزائل کے بارے ميں مفصل حقائق سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرے۔ سال 1991 ميں اتحادی افواج کی کاروائ کے نتيجے ميں قرارداد نمبر 678 کے پہلے حصے پر عمل درآمد کروا ليا گيا تھا ليکن اس قرارداد کے باقی حصوں پر عمل درآمد نہيں ہوا تھا۔ کويت سے عراقی افواج کی پسپائ کے بعھ بھی اتحادی افواج اور عراقی افواج کے درميان جھڑپيں جاری رہيں۔ اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 678 نہ تو منسوخ ہوئ اور نہ ہی اس ضمن ميں منظور کی جانے والی ديگر قراردادوں ميں قرارداد نمبر 678 کے حوالے سے کوئ شرط عائد کی گئ۔ اس قرارداد کی رو سے امريکہ کو عراق کے خلاف طاقت کے استعمال کا اختيار حاصل تھا۔ اس کے علاوہ عراق کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کو کيمياوی ہتھياروں کے ضمن ميں معلومات کی فراہمی سے انکار سال 1991 ميں جنگ بندی کے خاتمے کے معاہدے اور منظور شدہ مينڈيٹ کی واضح خلاف ورزی تھی۔ عراق کی حکومت نے وہ شرائط پوری نہيں کی تھيں جن کا مطالبہ اقوام متحدہ کی جانب سے کيا گيا تھا۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov America - Telling America's Story - America.gov |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
[
Fawad - Digital Outreach Team US State Dept;131930] SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002 فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov [url=http://usinfo.state.gov]America - Telling America's Story - America.gov[/url Last edited by محمد الیاس; 22-12-08 at 10:45 AM. |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, فرض, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیر, نظر, منصوبہ, آج, اقوام متحدہ, امریکہ, اغوا, بچوں, تلاش, جھوٹ, جیل, حال, خون, خلاف, دیکھو, سال, شخص, طالبان, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مسئلہ کشمیر:امریکہ پھر بھاگ گیا، بان کی مون کردار ادا کرنے کے لئے تیار، پاکستانی اشارے کا انتظار | جاویداسد | خبریں | 0 | 11-10-10 02:53 PM |
| بھولی داستا ن پھر یاد کرلو ،دماغی پرزہ تیار | جاویداسد | خبریں | 0 | 15-08-10 10:54 AM |
| پھر آج کوئی غزل تیرے نام نہ ہو جائے | The Great | شعر و شاعری | 0 | 07-08-08 06:44 PM |
| کراچی: بجلی کا بحران پھر شدت اختیار کر گیا، 3 تا 4 سو میگا واٹ کمی کا سامن | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-04-08 07:36 AM |
| واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 08:46 AM |