واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


سوات: سازش بے نقاب ہورہی ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-04-09, 12:54 PM   #1
سوات: سازش بے نقاب ہورہی ہے
ایکسٹو ایکسٹو آف لائن ہے 09-04-09, 12:54 PM

سوات: سازش بے نقاب ہورہی ہے

سلیم اللہ شیخ

گزشتہ جمعہ کے روز میڈیا کے ایک مشتبہ ویڈیو جس میں چند مبینہ طالبان ایک لڑکی کو زمین پر لٹا کر اور دبوچ کر کوڑے مار رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے منظر عام ہر آتے ہی ایک بھونچال آگیا عام افراد سکتے کی حالت میں تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن مفاد پرست اور امریکی کاسہ لیس، امریکہ کے پٹھو ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھے کہ کسی طرح دین اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جائے اور بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا کہ یہ ویڈیو نشر ہوگئی بس پھر کیا تھا پھر تو اسلام بیزار این جی اوز، اور مغرب نوازوں کی طرف سے اس واقعے کی آڑ میں دین اسلام کے احکامات، اور شریعت کے خلاف گز گز بھر کی لمبی زبان نکال کر دشنام طرازیاں کی گئی اور بقول جنگ کے کالم نگار جناب عرفان صدیقی صاحب کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ لبرل فاشسٹ مفسر، محدث، فقہیہ اور مجتہد بن گئے جو نماز کی رکعتیں بھی نہیں گنوا سکتے ہر شخص شیخ القرآن اور شیخ الحدیث بن بیٹھا اور المیہ سوات کی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں تشریح و تعبیر کرنے لگا یوں لگا جیسے برسات کی بھوک کے مارے بھیڑیوں کو شکار ہاتھ آگیا ہو، ایک سے بڑھ کر ایک مفتی زماں، مجتہد العصر اور نابغہ وقت بن بیٹھا بالکل یہی صورتحال تھی اس وقت چند ہی لوگ تھے جو اس پر اعتدال پر قائم تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ یہ کوئی سازش لگتی ہے۔ ہم نے بھی اس پر یہی کہا تھا کہ یہ ویڈیو کسی سازش کے تحت جاری کی گئی ہے۔اور ہم نے اس کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کے لیے بھی آواز اٹھانے کی بات کی تھی لیکن کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی خیر یہ تو ہمارا موضوع نہیں ہے اس وقت ہم بات کریں گے کہ آہستہ آہستہ سازش بے نقاب ہوتی جارہی ہے کیوں کہ جس خاتون کو مبینہ طور پر کوڑے مارنے کا ذکر کیا گیا وہ اس واقعے سے اور اس سزا سے انکاری ہے۔ وزیر اعلیٰ سرحد کا یہ کہنا ہے کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے، کمشنر مالا کنڈ کا کہنا ہے کہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسا کوئی واقع نہیں پیش آیا ۔ دراصل یہ سارا معاملہ سوات امن معاہدہ کو ختم کرنے لیے گھڑا گیا ہے تاکہ اسکو جواز بنا کر سوات امن معاہدہ ختم کیا جائے کیوں کہ پاکستان اور بالخصوص شمالی علاقہ جات میں امن امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور امریکہ کی ناراضگی کے ڈر سے ہی ابھی تک صدر جانب آصف علی زرداری نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی تھی، اور بالاخر یہی بات ثابت ہوئی کیوں کہ امریکی وزیر دفاع نے کہہ دیا کہ امن معاہدہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے حق میں نہیں ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اگر اپنے کسی علاقے میں کسی گروپ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتی ہے تو اس سے امریکہ کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں؟ صاف ظاہر کہ امریکہ کا مفاد یہ ہے کہ اگر شمالی علاقہ جات میں امن قائم ہوجاتا ہے تو پھر امریکہ کس بات کو جواز بنا کر پاکستان پر دباؤ ڈالے گا اور کس طرح پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو غیر محفوظ ثابت کرے گا ؟

اسی لیے پر امن پاکستان کے بجائے شورش زدہ اور ہیجان میں مبتلا پاکستان امریکہ کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اسی لیے آئے دن بم دھماکے اور ڈرون حملے کیے جارہے ہیں تاکہ ملک میں امن قائم نہ ہوسکے اور یہ کہا جاسکے کہ ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں۔امریکہ پاکستان کے ذریعے چین اور ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے کیوں پاکستان میں امریکی افواج کی موجودگی میں ان دونوں ممالک پر پریشر بڑھانا آسان ہوگا۔پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں اگر امریکہ کےحوالے سے اگر کسی کی یہ سوچ ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو وہ احمقوں جنت میں رہتا ہے کیوں کہ گزشتہ روز ہی امریکی صدر بارک اوبامہ نے کہا ہے کہ غیر محفوظ اٹیمی اثاثوں کی حفاظت کی جائے گی ۔یہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ آگے کا منصوبہ ہے جو بتایا گیا ہے۔اس سارے کھیل میں ہماری ایجنسیاں دانستہ یا نادانستہ طور پر ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں اور وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔اب پاکستان کے میں ہونے والے ہر واقعے کا تعلق بیت اللہ محسود سے جوڑا جا رہا ہے۔اور دہشت گردی کے ہر واقعے کی ذمہ داری بیت اللہ محسود کے کھاتے میں ڈالی جارہی تھی لیکن اب شائد اس سلسلےکو بریک لگ جائے کیوں کہ بیت اللہ محسود کے نام سے ہر واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے والوں سے ایک غلطی ہوئی کہ نیو یارک میں فائرنگ کے واقعے کی ذمہ داری میں بیت اللہ محسود کے کھاتے میں ڈال دی گئی لیکن خود امریکہ نے اس کی تردید کر دی کہ اس واقعے میں ایک ویتنامی ملوث تھا اور بیت اللہ محسود کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اصل بات کچھ اور ہے اور طالبان اسلام پسندوں کو بدنام کرنے کے لیے ان کے نام سے کاروائیاں کی جارہی ہیں۔اس بات کو تقویت ان باتوں سے بھی ملتی ہے اگر کسی عام سے چھوٹے سے گمنام مجرم کو بھی پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس کی کاروائیوں سے ہوشیار ہوگئے ہیں تو وہ محتاط ہوجاتا ہے لیکن جب سے بیت اللہ محسود کے اوپر امریکہ نے انعام رکھا ہے تو اچانک اس نے لگا تار کاروائیاں شروع کردی ہیں یہی بات اس معاملے کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے دوسرا یہ کہ اگر ہم طالبان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہےکہ ان کی زیادہ تر مخالفت امریکہ اور مغرب کی پالیسیاں ہوتی ہیں اور وہ عموماً مسلکی سیاست میں ملوث نہیں تھے لیکن چند ماہ پیشتر طالبان کے نام سے ایک فرقے کے پیر کے قتل کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی دراصل مسلمانوں کے اتحاد کے توڑنےکی امریکی سازش تھی۔اگرچہ اس واقعے پر اشتعال تو کافی پایا گیا لیکن پھر بھی عوام نے صبر کیا اور یہ سازش ناکام ہوگئی اس کے بعد امام بارگاہوں اور مساجد میں کاروائیاں شروع کی گئیں تاکہ مسمان آپس میں دست و گریبان ہوجائیں اور ہم اپنا کام بہ آسانی انجام دیدیں اس کے ساتھ ساتھ سوات میں چند ماہ پیشتر جان بوجھ کر فورسز کو نشانہ بنایا گیا اور بے گناہوں کا قتل عام کیا گیا تاکہ لوگوں کو اسلام سے متنفر کیا جاسکے اور کہا جاسکے کہ اگر اسلام کی بات کی گئی تو یہ اسلام پسندوں کا اصل چہرہ ہے اس طرح عوام کو اسلام سے بیزاری کی طرف مائل کیا گیا۔اور یہ ویڈیو بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اسی طرح یہ جو فورسز پر اور امام بارگاہوں پر مساجد پر خود کش حملے اور بم دھماکے ہو رہے ہیں یہ اسی سازش کا حصہ ہیں ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس حوالے سے محتاط رہیں اور سازش کو سمجھیں اور نادانستگی میں اس کا حصہ نہ بنیں

 
ایکسٹو's Avatar
ایکسٹو
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 684
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ایکسٹو کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (02-08-10), احمد بلال (01-08-10), حیدر (06-05-10), رضی (13-04-09), عبداللہ آدم (16-06-10)
پرانا 09-04-09, 01:38 PM   #2
Senior Member
 
ایکسٹو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,969
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حقوق نسواں کے علمبرداروں کا اصل چہرہ...................سلیم اللہ شیخ


حقوق نسواں کےعلمبرداروں نے سوات کے واقعے پر جس طرح فوری رد عمل کا اظہار کیا، اور جس طرح اس کی مذمت کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس کے خلاف فوری طور پر مظاہروں اور منظم مذمت کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا۔ یہ بہت ہی مستحسن قدم تھا جو کہ اٹھایا گیا تھا ہم اس بات کے حامی ہیں کہ ظلم کہیں بھی ہو اس کی مذمت اور بیخ کنی ہونی چاہیے اس لیے ہمیں اس پر بڑی خوشی ہے کہ کوئی ظلم کے آگے ڈھال بن جاتا ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ اگرچہ یہ مبینہ واقعہ جس انداز میں پیش آیا وہ غلط ہے لیکن شریعت میں سر عام سزاؤں کا ہی ذکر ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایک خاتون کاذ کر ملتا ہے کہ جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رجم کیا گیا تھا۔ وہ سر عام کیا گیا تھا نہ کہ کسی بند کمرے میں یا ڈھکی چھپی جگہ ۔اسی طرح اسلام میں قاتل کا سر قلم اور چور کے ہاتھ کاٹنے کی جو سزا ہے وہ سر عام دی جاتی ہے تاکہ معاشرے کے دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہو، اور اگر کسی کے دماغ میں کوئی فتور یا فاسق اراد ہو تو وہ وہیں رک جاتا ہے۔ یہ ان سزاؤں کی حکمت ہوتی ہے اس لیے سر عام سزا کو غلط نہیں کہا جا سکتا ہے۔ یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ ہم بات کر رہے تھے کہ سوات کے واقعے پر حقوق انسانی اور حقوق نسوان کے علمبرداروں نے تقدیس مشرق کے ثنا خوانوں نے بہت شور مچایا اور اس کی مذمت کی گئی۔ یہ مشکوک واقعہ پاکستان میں پیش آیا اور اس میں مبینہ طور پر طالبان اس میں ملوث ہیں۔اس لیے سب نےدل کی بھڑاس خوب نکالی ۔ لیکن یہ ثناء خوان تقدیس مشرق امریکی ڈرون حملوں اور امریکہ کی حراست میں موجود بے گناہ ،مظلوم ڈاکٹر عافیہ کے معمالے پر بالکل خاموش تھے۔ وہ ذہین خاتون جس کو اپنے ہی ملک سے اغواء کیا گیا، اور جو قریباً پانچ سال سے امریکہ اور افغانستان کی قید میں ہے جس کے تین میں سے ایک بیٹے کا پتہ ہے باقی دو بچوں کا کچھ اتا پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں گمان غالب ہے کہ ان کے بچوں کو عیسائی مشنری اداروں یا یہودیوں کے پاس بھیج دیا گیا ہے اور ان مسلمان بچوں کو یہودی یا عیسائی بنا دیا گیا ہے، البتہ اس مظلوم خاتون کے لیے ان روشن خیالوں کے بقول دقیانوسی خیالات رکھنے والے مذہبی انتہا پسندوں نے اور نو مسلم برطانوی خاتون صحافی مریم ریڈلے نے آواز اٹھائی تھی۔ یاد رہے یہ وہی نو مسلم خاتون ہیں جو چند دن افغانستان میں طالبان کی قید میں رہی تھیں اور ان وحشی درندوں اور تنگ نظر ملاؤں اور جدید تہذیب سے بے بہرہ جاہل طالبان کے حسن سلوک اور اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔اس سے یہ بات سامنے آئی کہ اول تو اب طالبان کے نام کو استعمال کر کے اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے۔ دوسرا یہ کہ ان نام نہاد حقوق کے علمبرداروں کو صرف اسلام کو بدنام کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔

آیئے ذرا جائزہ لیتے ہیں ان کی حقوق انسانی سے محبت: انتیس جنوری دو ہزار آٹھ کو شمالی وزیرستان میں ایک میزائل حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، پورا ملک میں اس کی مذمت کی گئی البتہ یہ ثناء خوان تقدیس مشرق خاموش تھے۔

چودہ مئی دوہزار آٹھ کو ڈمہ ڈولا میں امریکی مزائل حملہ بچوں سمیت سات افراد ہلاک: حقوق انسانی کے چیمپینز کو اس واقعے کی خبر شاید نہیں پہنچی اس لیے ان کی طرف سے خاموشی چھائی رہی۔

گیارہ اگست دوہزار آٹھ باجوڑ میں گھر پر بمباری سات افراد ہلاک،مرنے والوں میں دو عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں: ثناء خوان تقدیس مشرق کہاں تھے ؟

دو ستمبر دو ہزار آٹھ کو باجوڑ ایجنسی میں سیکورٹی فورسز کی گولہ باری سے نو افراد ہلاک،مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ثناء خوان تقدیس مشرق کو شائد اس واقعے کی اطلاع نہیں ہوئی

تین ستمبر دو ہزار آٹھ کوافغانستان کے قریب ایک پاکستانی سرحدی گاؤں انگور اڈاہ میں امریکی اور اتحادی افواج کے کمانڈوز ہیلی کاپٹر کے ذریعے باقاعدہ اتر کر ایک گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں بیس افراد ہلاک ہوگئے۔ان میں تین خواتین اور دو بچے بھی شامل تھے۔ ثناء خوان تقدیس مشرق کہاں تھے؟؟

اس کے دو دن بعد ہی شمالی وزیرستان میں امریکی میزائل حملوں میں تین بچے اور دو خواتین ہلاک۔ثناء خوان تقدیس مشرق خاموش کیوں تھے؟؟

بارہ ستمبر دو ہزار آٹھ کو وزیرستان میں امریکی میزائل حملہ، بارہ ہلاک ہلاک شدگان میں تین بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ثناء خوان تقدیس مشرق کہاں تھے؟؟

تین اکتوبر دو ہزار آٹھ کو امریکی میزائل حملے میں پندرہ ہلاک، ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں:ثناء خوان تقدیس مشرق خاموش کیوں تھے ؟؟؟

اور اتفاق کی بات ہے کہ جس وقت یہ ثنا خوان تقدیس مشرق، یہ نام نہاد حقوق کے علمبرادر، یہ آزادی نسواں کے حامی، یہ عورتوں کے حقوق کے چیمپئین سوات کے واقعے پر شور مچا ہے تھے،ایک عورت کی بے حرمتی پر آنسو بہا بہا کر ذمہ داران کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ عین اسی دن شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں میں ایک مکان تباہ ہوگیا،جس میں تیرہ اور بعض اطلاعات کے مطابق نو افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں تین خواتین اور چار بچے بھی شامل تھے۔ یہ ثناء خوان مشرق اس وقت بھی ایک لفظ بھی اس واقعے کی مذمت میں نہ کہہ سکے کیوں؟؟ کیا اس لیے کہ یہ حملہ امریکہ نے، گوری چمڑی والوں نے کیا تھا اور مرنے والے پاکستانی تھے۔اور کیا یہ خواتین جو ہلاک ہوئیں ہیں کیا یہ اس ملک کی بیٹیاں، بہنیں نہیں تھیں کہ ان کے لیے بھی آواز اٹھائی جاتی۔

اور سنیے تیئس اگست دو ہزار آٹھ کو بلوچستان میں تین خواتین کو زندہ درگور کیا گیا،اس واقعے میں بلوچستان کے بڑے بڑے سردار ملوث تھے۔سوات کے ذمہ دارارن کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے والوں نے اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ حالانکہ وہاں تو حکومت کی رٹ قائم ہے۔اور یہ تمام لوگ جو سوات واقعے کی مذمت کرنے میں پیش پیش ہیں یہ لوگ بھی تو حکومت کے اتحادی ہیں پھر اس واقعے کے ذمہ داران آزاد کیوں اور اس ممبر قومی اسمبلی کو ابھی تک نااہل کیوں نہیں قرار دیا گیا جس نے اس بہیمانہ واقعے کو اپنی قبائلی روایات کا حصہ قرار دیا تھا؟۔ ثناء خوان تقدیس مشرق نے اس حوالے سے کیا کام کیا ہے ؟؟؟کچھ نہیں

اور تو اور ابھی دو ہی دن پہلے سندھ میں ایک فرد نے شک کی بنیاد پر اپنی بیوی کی ناک کاٹ لی اس پر کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ کیوں؟؟؟

مندرجہ بالا تمام خبریں اور حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ ان دین بے زار لوگوں کو کسی قسم کے انسانی حقوق یا حقوق نسواں کی کوئی فکر نہیں ہے نہ ہی یہ لوگ پاکستان اور اسلام کے خیر خواہ ہیں۔بلکہ امریکی اور مغربی ممالک کی امداد پر پلنے والے ان لوگوں کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ یہ دین اور ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے کے مطابق عمل کرتے ہیں اگر یہ ملک کے خیر خواہ ہوتے تو ان ڈرون حملوں پر بات کرتے، لال مسجد کے ظلم پر آواز آٹھاتے، زندہ درگور کی گئی بچیوں کے قتل پر آواز اٹھاتے، کتوں کے آگے ڈال کر، کتوں سے بھنبھوڑ کر اور سر عام ایک مظلوم بچی کا حمل گرانے کے بعد اس کو قتل کرنے والے سندھ کے وڈیرے اور ظالموں کے خلاف آواز آٹھاتے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا سب خاموش رہے۔

ہماری عوام سے یہی گزارش ہے کہ وہ ان سے ہوشیار رہیں اور ان کی باتوں میں نہ آئیں۔
ایکسٹو آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایکسٹو کا شکریہ ادا کیا
حیدر (06-05-10), رضی (13-04-09), سحر (16-04-09)
پرانا 10-04-09, 09:45 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

ميڈيا خاص طور پر انٹرنيٹ جيسے آزاد ميڈيم پر بعض افراد کی جانب سے بے سروپا اور بے بنياد کہانيوں کی تشہير کوئ تعجب کی بات نہيں ہے۔ حقیقت يہی ہے کہ کچھ افراد نے مصالحے دار کہانيوں اور تجزيوں کو ايک کاروبار کی شکل دے دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی کہانيوں کے ضمن ميں کبھی کسی ايسے ثبوت کو پيش کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہيں کی جاتی جس کی آزادانہ تحقيق اور تفتيش کی جا سکے۔

ليکن اس کے باوجود بيت اللہ محسود کو سی – آئ – اے کا ايجنٹ يا "امريکی اثاثہ" قرار دينا يقينی طور پر سازشی کہانيوں پر اندھا يقين کرنے والے حمايتيوں کو بھی شرما دے گا۔ يہ امر قابل توجہ ہے کہ يہ وہی شخص ہے جس نے محض کچھ دن پہلے يہ اعلان کيا تھا کہ "ہم واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس پر ايسا حملہ کريں گے جو دنيا کو حيران کر دے گا"۔

اس مصالحہ دار سازش کے حمايتی افراد کے ليے شايد يہ امر بھی کوئ معنی نہيں رکھتا کا امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے بيت اللہ محسود کی گرفتاری کے لیے 5 ملين ڈالرز کا انعام مقرر کيا ہے۔

حکومت پاکستان اور اہم حکومتی اہلکاروں نے بےنظير بھٹو کے قتل کا ذمہ دار بيت اللہ محسود کو قرار ديا تھا۔ يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ بے نظير بھٹو پر بھی يہ الزام لگايا گيا تھا کہ انھيں امريکہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس تناظر ميں ايک "امريکی اثاثے" نے ايک "امريکی کٹھ پتلی" کو راستے سے ہٹا ديا۔ يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے ليکن ان کہانيوں کے تخليق کاروں کے لیے منطق کی کوئ اہميت نہيں ہوتی۔

بيت اللہ محسود کے حوالے سے اس تھريڈ پر جو آرٹيکل پوسٹ کيا گيا ہے اس سے يہ تاثر ملتا ہے کہ بيت اللہ محسود سے منسوب خطرہ محض حاليہ دنوں ميں ہی اجاگر کيا گيا ہے اور امريکہ دانستہ اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پيش کر رہا ہے تاکہ اس کو بنياد بنا کر مستقبل ميں پاکستان پر حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

جہاں تک الزام کے پہلے حصے کا تعلق ہے تو اس کے ليے آپ مختلف فورمز پر ميری پوسٹنگز ہی ديکھ ليں۔ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں قريب سال 2008 کے آغاز سے بيت اللہ محسود اور ان سے منسلک گروہوں کی جانب سے پاکستان کو درپيش خطرے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ بلکہ ميں تو اس وقت بھی اس خطرے کی جانب اشارہ کر رہا تھا جب حکومت پاکستان بيت اللہ محسود سے براہراست معاہدے کے عمل ميں شامل تھی۔ قريب دو سال پرانی میری يہ پوسٹ اس کی ايک مثال ہے۔

امریکہ کے نام! - صفحہ 10 - اردو محفل فورم

جہاں تک يہ الزام ہے کہ امريکہ دانستہ اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پيش کر رہا ہے تو اس ضمن ميں آپ کی توجہ امريکی حکومت کے نمايندے کے اس بيان کی جانب دلوانا چاہتا ہوں جس ميں انھوں نے بيت اللہ محسود کی جانب سے امريکہ کے خلاف حاليہ دھمکی کے جواب ميں يہ واضح کيا تھا کہ ايسی دھمکياں بيت اللہ محسود کی جانب سے پہلے بھی دی جاتی رہی ہے ليکن ان کے نيٹ ورک ميں اتنی صلاحيت نہيں ہے۔

Pakistani Taliban threatens attack on White House - USATODAY.com

اس کے علاوہ جب بيت اللہ محسود نے امريکہ ميں ايک اميگريشن سينٹر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی تو امريکی حکام نے اس کالم ميں دی جانے والی منطق کے برخلاف اس "موقع" سے فائدہ اٹھانے کی بجاۓ بيت اللہ محسود کے دعوے کو غلط قرار ديا تھا۔

حققیت يہ ہے کہ بيت اللہ محسود پاکستان کے عوام کے ليے براہراست خطرہ ہے۔ بيت اللہ محسود کے الفاظ اور ان کے عمل سے ان کے ارادے اور عزائم واضح ہيں۔

فلاسفی کا ايک مقبول اصول جو "اوکم ريزر" کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کے مطابق اگر کسی واقعے کے بارے ميں بہت سی پيچيدہ قياس آرائياں ہوں تو عام طور پرسب سے آسان وضاحت ہی درست ہوتی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (06-05-10)
پرانا 10-04-09, 10:12 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,987
کمائي: 49,089
شکریہ: 7,298
5,968 مراسلہ میں 15,149 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار یہ سب ڈرامہ ہے امریکہ کا اور مجھے اس حد تک خطرناک یقین ہے کہ ڈراون حملہ اسلام آباد پر بھی ہو سکتا ہے۔۔
امریکہ کو پتا ہے کہ اسامہ اور بیت اللہ مسعود کدھر ہیں وہ جان بوجھ کر نہین انہیں پکڑتے ،،آہستہ آہستہ ان کو اسلام آباد کی طرف لے جا رہیں ہیں پھر یہ ہمارے اٹیمی پروگرام پر نظر رکھیں ہوئے ہیں۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-04-09), اویسی (06-05-10), حیدر (06-05-10), رضی (13-04-09)
پرانا 13-04-09, 12:13 AM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ ہمارے اٹیمی پروگرام پر نظر رکھیں ہوئے ہیں۔۔
: good
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
اویسی (06-05-10), حیدر (06-05-10), رضی (13-04-09)
پرانا 13-04-09, 02:49 AM   #6
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,541
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسٹر فواد اب بندہ آپ کو کیا کہے، امریکی ترجمان بنے ھوئے ھو ، ہمارے بی گناہ شہری ماری جا رہے ہو اور تم کہتے ہو امریکہ معصوم میں، امریکہ پاکستان کا دوست ہے
ھوئے جو دوست امریکی
پھر دشمن کی کیا ضرورت

ہم بیوقوف نہیں ہیں، بھائی تمہار ا فرائظ میں شامل ھو گا امریکہ کا امیج بنانا
لیکن ہم کوئی اندھے نہیں ھیں، کیا مقصد ہے ڈرون حملوں کا
تمہاری اطلاع کے لیے عرض کر دوں بیت اللہ محسود کو تو طالبان نے خود اپنی صفوں میں سے نکال دیا تھا بیت اللہ محسود امریکی ایجنٹ ہے جس کی پشت پناہی بھارت اور اسرائیل بھی کر رہے ہیں

تم لوگوں کو کشمیر اور فلسطین میں ھوتا ظلم نظر نہیں آتا،
وہ قوم جس کی بنیادیں ہی کھوکلی ہیں وہ انسان دوست کہاں سے ہو گیا
جس ملک کی قوم کی آدھی سے زیادہ نسل حرامیوں کی ہے ود دنیا کو انصاف فراہم کریں گے، لعنت ہے
چڑھ دوڑھتے ھو منہ اٹھا کر، انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کے ٹکڑے نہ ھو گئے
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-04-09), اویسی (06-05-10), حیدر (06-05-10)
پرانا 06-05-10, 12:15 PM   #7
Junior Member
اجنبی
 
اسعد شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 15
کمائي: 456
شکریہ: 15
8 مراسلہ میں 20 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب سے کائنات وجود میں آئی ہے تب سے آج تک مختلف اقوام نے عروج کا زمانہ بھی پایا ہے اور زوال کا دور بھی دیکھا ہے فاران کی چوٹی سے بلند ہونے والی کلمہ حق کی صدا کے نتیجے میں ایک ایسی قوم کی تشکیل ہوئی جسے بام عروج تک پہنچنے میں ذیادہ مدت صرف نہیں ہوئی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے اسے دنیا کے بیشتر حصے پر فکری ،نظریاتی ،ثقافتی ،روحانی ،سیاسی ،عسکری ،معاشرتی اور اقتصادی غلبہ حاصل ہوگیا تو تاریخ نے اس بات کی شہادت پیش کی کہ اس سے پہلے ایسا اقتدار کسی قوم کو حاصل نہیں ہوا ۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام اور ان کے جانشینوں نے ایسا نظام قائم کیا جس کے نتیجے میں اہل اسلا م اور ان کے محکوم اقوام وملل کو عقیدہ توحید ،اعمال صالحہ ،امن وامان ،حوشحالی ،آذادی ،مساوات ،ہمدردی ،اخلاق حمیدہ الغرض دنیا و آخرت کی سعادتیں نصیب ہوئیں ۔چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ وقت کا سب سے بڑا حاکم خلیفہ عام رعایا جیسی زندگی گزار رہا ہے ،لوٹ مار ،راہزنی اور قتل وغارت کا نام ونشان مٹادیا گیا ،بھوک افلاس ،بیروزگاری ،مہنگائی کا وجود نہیں ،ظلم وذیاتی نہ ہونے کے برا بر اور عدل وانصاف بروقت اور بلاخرچ فراہم کیا جارہا ہے ،رعایا کو نہ ملک کے اندر سے اپنی جان ،مال اور نہ آبرو کو خطرہ ہے اور نہ سرحد سے باہر بیٹھے دشمن کو یہ جرات ہوتی ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے کمزور سے کمزور رعایا کو کسی قسم کی تکلیف پہنچاسکے ۔اگر کوئی احمق اس قسم کی غلطی کر بیٹھتا ہے تو اسے خلیفہ کے بھیجے ہوئے لشکرجرار سے اپنی ہی سرزمین دوبدو ہونا پڑتاہے جو سینکڑوں ہزاروں میل دور دارالخلافہ سے چل کر صحراؤں ،جنگلوں ،پہاڑوں ،دریاؤں اور سنگلاخ وادیوں کو چیرتاہوا اس کے عین سر پر آپہنچتا ہے اور بلا اخر اس احمق کو سبق سکھلا کر پوری دنیا کو یہ باور کرادیتا ہے کہ اے اہل کفر !یاد رکھو اب ظلم وستم کو دور گزر چکا اور عدل وانصاف کا نظام ہمارے ہاتھوں قائم ہوچکا ہے لہذاء اس نظام میں داخل ہوکر تم بھی اس کے فوائد وثمرات سے مستفید ہوورنہ اس نظام میں مداخلت کرنے والوں کو ان کے کافرانہ وظالمانہ نظاموں سمیت نیست ونابود کردیا جائے گامسلمان قوم عروج حاصل کرنے کے بعد رویہ زوال ہوگئی تو وہ عبرتناک لمحہ بھی آیا جب عالم کفر اپنے باطل افکار ونظریات سمیت سیاسی وعسکری اور اقتصادی طور پر عالم اسلام پر چڑھ دوڑا اور اس کے حصے کرکے اسے فکری ونظریاتی لسانی سیاسی ،علاقائی اور رنگ ونسل کے طور پر کئی گروہوں ،قوموں ،ملکوں اور ریاستوں میں تقسیم کردیا گیا حتی کہ انما المومنون اخوة کا تصور دھندلانے لگا اور یوں کفریہ طاقتیں مسلمانوں کو ایک ایک کرکے کاٹ کھانے لگیں چنانچہ اکیسوں صدی کے آغاز میں ہی تیسری سامراجی طاقت امریکہ اپنے لاؤلشکر سمیت افغانستان میں داخل ہوئی تو جہاں افغانیوں پر آتش وآہن کی ریکارڈبارش کی گئی وہاں پڑوسی مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے مسلمان رعایا کی زندگی بھی تنگ کردی ۔اسلام سے محبت دینی شعائر کی پابند ی اور اسلامی طرز زندگی کو اختیار کرنا جرم قرار پایا خصوصاًپاکستانی دینی طبقے کی زندگی تو اجیرن کردی گئی چنانچہ دین سے وابستگی رکھنے کی یاداش میں پرویزی دور کی بھینٹ چڑھائے جانے والوں میں سے ایک مظلوم مسلمان بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی سلمہااللہ تعالی عن شرورآئمة الکفر بھی تھی جسے اپنے چھوٹے چھوٹے بچو ں سمیت اغواء کرکے پہلے افغانستان پھر امریکی عقوبت خانے گوانتاناموبے میںمنتقل کرکے انسانیت سوزتشدد سے دوچارکیا گیا

گوانتانوموبے میں قید مسلمانوں پر امریکیوں نے ظلم کے جوپہاڑ توڑے ہیں اس کی ادنی سی جھلک میڈیا کے توسط سے دنیا دیکھ کر امریکیو ں کے انسان دوستی ،مذہبی رواداری ،مساوات اورجمہوریت جیسے فریب کن نعروں کی حقیقت سے واقف ہوچکی ہے ۔گوانتاناموبے وہ زنداں ہے جہا ں پر امریکیوں کے نذدیک کوئی قانون نہ لاگو ہوتا ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے ۔چنانچہ امریکی انتظامیہ اور اس کی فوج ہی یہاں پر خود ہی مدعی ،خود ہی گواہ خود ہی وکیل اور خود ہی منصف ہے ۔اب انصاف چاہا جائے تو کیوں اور کسی خیر کی توقع رکھی جائے توکیوں ؟ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مظلوم و نحیف آواز دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی سماعتوں سے ٹکرا چکی ہے اس پر ہونے والے بے پناہ تشدد کی داستان مشرق ومغرب شمال وجنوب میں رہنے والا ہر کلمہ گو سن چکاہے لیکن اسے کافروں کے ناپاک و غلیظ پنجوں سے چھڑوانے والا کوئی مؤمن کامل نظر آرہاہے اور نہ ایسے مرد مجاہد کے نمودا ر ہونے کی اسے امید ہے ۔اسی طرح اس کی والدہ اور بہن بچلی سطح سے لے کر اعلی سطح کے سیاستدانوں اور وقت کے حکمرانوں سے استدعا کر چکی ہیں کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں اس کے ساتھ ساتھ احتجاجی ریلیوں اورمظاہروں کے ذریعے بھی مذکورہ دونوں طبقوں میں جذبہ ہمدردی بیدار کرنے کی ناکام سعی کرچکی ہیں ۔جس سے انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا ہوگا کہ یہ تو درحقیقت غلام در غلام لوگ ہیں جنہیں اقتدار ،صدارت ،وزارت ،دولت اور شہرت سے سرکار ہے چاہے اس کے لئے انہیں پورا ملک گروی رکھنا پڑے ،اپنے ہی مسلمانوں ،بھائیوں ،بہنوں ،بچوں اور بوڑھوں پر بمباری کرنی پڑے انہیں بے دریغ گولیوں سے بھون ڈالا جائے اغوا کرکے غیر ملکیوں کے حوالے کردیا جائے یا اپنے ہی زندانوں میں رکھ کر اور اذیتیں دے دے کر زندہ لاشیں بنادیا جائے ۔میرے خیال میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی
اسعد شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے اسعد شاہ کا شکریہ ادا کیا
اویسی (06-05-10), حیدر (06-05-10), راجہ اکرام (09-05-10), عبداللہ حیدر (07-05-10)
پرانا 06-05-10, 09:30 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایکسٹو صاحب جتنی میری یادداشت کام کرتی ہے اس کے مطابق تو "ایکسٹو" ایک حکومتی خفیہ کارندے کا کوڈ نیم ہے۔ایک حکومتی نمائندہ حکومت کے موقف کے خلاف بات کرے جس طرح آپ نے کی، کچھ سمجھ نہیں آتی بات
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 06-05-10, 10:43 PM   #9
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بیت اللہ مسعود کا کوئی جاری ہونے والا نئے پیغام کی تصویر یہاں دےسکتا ہے اخبار میں‌دیکھا تھا کہ مجاھد صاحب 2 خوبصورت حسیناوں کے ساتھ پھنسے بیٹھے تھے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-05-10)
پرانا 06-05-10, 10:44 PM   #10
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بیت اللہ مسعود کا کوئی جاری ہونے والا نئے پیغام کی تصویر یہاں دےسکتا ہے اخبار میں‌دیکھا تھا کہ مجاھد صاحب 2 خوبصورت حسیناوں کے ساتھ پھنسے بیٹھے تھے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-05-10, 11:09 PM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ شاید حکیم اللہ محسود کی بات کررہے ہیں
اور کسی بھی تصویر یا ویڈیو میں یہ حضرات کبھی خواتین کے ساتھ نظر نہیں آئے
کہیں تو متعلقہ ویڈیو ہی یہاں لگادوں ؟؟
فلحال یہ تصویر دیکھ لیں جسکا آپ ذکر کررہے ہیں

Name:  5-6-2010 11-04-37 PM.jpg
Views: 142
Size:  39.1 KB

اور ذرا احتیاط بھی رکھا کریں میں نے سنا ہے امریکہ کی طرح طالبان بھی باقاعدہ نیٹ کو مانیٹر کرتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (07-05-10), عبداللہ آدم (07-05-10), عبداللہ حیدر (07-05-10)
پرانا 07-05-10, 12:14 AM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے عبد القدوس بھائی آپ نے کونسا اخبار دیکھا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ بیت اللہ کا پارٹ ٹو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-05-10)
پرانا 07-05-10, 12:56 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل ناصر بھائی کی پوسٹ کردہ تصویر سے مندرجہ ذیل حقائق بھی معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے آپ لوگ میرے بیان کردہ حقائق سے اتفاق کرو گے۔

1: ان نام نہاد طالبان کو اس جنگ زدہ،شورش زدہ علاقے کہ جہاں سے تمام کی تمام آبادی ہجرت کر گئی ہے ، بھی میں ماہر خطاط کی مدد حاصل ہے جو انکو بینرز انتہا کی خوبصورتی کے ساتھ دھڑا دھڑ لکھ لکھ کر دئیے جا رہا ہے۔ آپ اس تصویر میں بینر کی لکھائی کی خوبصورتی تو چیک کیجیے۔ چناچہ نہ صرف ماہر خطاط بھی موجود ہے بلکہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے رنگوں کے ڈبوں سے بھی مسلح ہے۔

2: مجاہد اول و آخر لعنت اللہ علیہ جو اس وقت جنگلوں پہاڑوں میں "کفار اور اسکے اتحادی پاکستانی افواج" کے ساتھ "جہاد" میں سرگرداں ہیں وہ اپنے ساتھ توپ و تفنگ کے ساتھ ساتھ "صوفہ سیٹ" لے جانا نہیں بھولتے۔صوفہ سیٹ بھی بالکل صاف ستھرا ہے اسکا مطلب ہے کہ موصوف نے باقاعدہ "ڈرائی کلیننگ" کا بندوبست بھی کیا ہوا میدان جہاد میں۔ (یا تو یہ "میدان جہاد" میں موجود نہیں یا پھر "یہ معاملہ" کوئی اور ہے
)
3:طالبان آج کل اپنے گروہ میں بھرتیاں بالکل افواج کے نقش قدم پر کر رہے ہیں یعنی انکے گروہ میں داخل ہونے کے لیے آپکا ایک مخصوص قد ہونا چاہیے۔ورنہ آپ اس "جہاد" میں حصہ نہیں لے سکتے۔ قد کا معیار معلوم کرنے کے لیے آپ ملاحظہ کیجیے مجاہد اول و آخر لعنت اللہ علیہ کے ارد گرد موجود دو نقاب پوش حسینوں کے قد۔کیا خوب برابر کے قد ہیں۔ جس طرح کسی پریڈ میں قد برابر لیے جاتے ہیں بعینہ۔ سبحان اللہ۔ نام نہاد طالبان کھپے

4: انہی نقاب پوش حسینوں کو غور سے دیکھیے۔ آپکو بڑی عجیب سے فیلنگ ہوں گی ۔ شاید عبدالقدوس بھائی کے بیان سے ملتی جُلتی فیلنگز۔ (تاہم بھائی لوگ لٹو نہ ہو جانا۔وہ "بھائی لوگ" ہی ہیں ) ۔میں محض عجیب فیلنگ کی بات کر رہا ہوں۔

5: بینر کی ایک طرف کلمہ پاک سے اوپر لکھا ایک لفظ "عم" کس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟

ہیں جی یعنی کہ ہیں جی
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-05-10, 11:37 AM   #14
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی اس کا مطلب ہے کہ اخبار والوں نے تصاویر پر برشنگ کی ہے ویسے میرے علاوہ متعدد افراد نے اس کی تصدیق کی تھی کہ یہ خواتین ہیں۔۔ ویسے میں‌کوشش کرتا ہوں تراشہ تلاش کرنے کی
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-05-10, 10:29 PM   #15
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برشنگ کیا ہوتی ہے بھائی جان؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور یہ عم نہیں عمر لکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
یہ طالبان کی ایڈواٹائزنگ ایجنسی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہ تمام ویڈیوز درحقیقت القائدہ والے انہیں بنا کر دیتے ہیں ان بے چاروں کو کیا پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور القائدہ واقعی اس وقت میڈیا کی جنگ میں امریکہ سے بھی لیڈ کر رہی ہے اور اس کے پاس خطاط سے لیکر ڈاکٹر سب حاضر و موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا سمجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (11-05-10)
جواب

Tags
com, digital, email, fawad, house, pakistan, pakistani, php, فورمز, پوسٹ, پاکستان, واشنگٹن, نظر, موقع, world, اللہ, الزام, انعام, امریکہ, اردو, جواب, خلاف, سال, شخص, صفحہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger