آفتاب اقبال
اسلام آباد4 اکتوبر2111ء(پ ر) ملک کے انتہائی بزرگ اور کہنہ مشق سیاستدان ایئرمارشل اصغر خان کو ایک بار پھر تحریک استقلال کا صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک استقلال جب سے قائم ہوئی ہے۔ اس کے صدر ہمیشہ ایئر مارشل صاحب ہی منتخب ہوتے چلے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ پارٹی چندرگپت موریہ # کے دور میں قائم ہوئی اور یہ سنہ326قبل مسیح کی بات ہے۔ یہ سال اس حوالے سے بھی بڑا اہم شمار ہوتا ہے کہ اس میں سکندر یونانی نامی ایک بادشاہ نے ہندوستان پر حملہ کرکے یہاں خوب اودھم مچایا اور چند غدار قسم کے مقامی راجاؤں کی بے حمیتی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وسطی پنجاب تک آن پہنچا۔ تاہم یہاں کے بہادر سورما راجہ پورس کی شجاعت اور مقامی مچھروں کی مردانگی نے اس باولے بادشاہ کے قدم اکھاڑے اور یوں یہ ذلیل و رسوا ہوتا زخموں سے چور واپس معسودونیہ روانہ ہوا مگر راستے میں ہی مصر کی بندرگاہ سکندریہ پہنچ کر عبرتناک موت سے دوچار ہوا۔
خیر، تحریک استقلال کے نو منتخب صدر اور بزرگ رہنما ایئر مارشل اصغر خان کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار تقریب پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے بزرگ سماجی کارکن جناب عبد الستار ایدھی نے کہا کہ پاکستان کو ایئرمارشل صاحب جیسے تجربہ کار اور جہاندیدہ رہنماؤں کی اشد ضرورت ہے مگر حیرت ہے کہ پاکستانی عوام کی پچھلے ڈھائی ہزار سال سے ان پر نظر ہی نہیں پڑی۔ کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں برپا ہونے والی اس تقریب سے جن دیگر مقررین نے خطاب کیا ان میں محترمہ فاطمہ ثریا (بجیا)، انور مقصود، جمیل الدین عالی اور غازی صلاح الدین شامل ہیں۔
من موہن سنگھ نے آئی ایس آئی پر امریکی تنقید کا خیر مقدم کیا
نئی دلی، 4اکتوبر سنہ 2111(پ ر) بھارت کے سابق وزیراعظم اور حد سے زیادہ قدیم سیاسی رہنما من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ امریکہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لتے ضرور لیتا ہے اور اس پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام بھی لگاتا ہے جس پر انہیں دلی مسرت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات میں پوری صداقت ہے اور وہ خود پچھلے سو سال سے اس کے گواہ چلے آرہے ہیں مگر افسوس کہ آئی ایس آئی کمال مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ثبوت مٹا دیتی ہے اور ہم سب صرف زبانی جمع خرچ کرکے خاموش ہو جاتے ہیں۔ من موہن سنگھ نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی ہر بار ان الزامات کی تردید تو کر دیتی ہے اور امریکی احمق بڑی حد تک اسے بے قصور قرار بھی دے دیتے ہیں مگر جہاں تک میرا اپنا معاملہ ہے میں اپنے موقف پر قائم ہوں اور میرے سامنے اگر کوئی ”تتے تّوے“ یعنی گرم توے پر بھی ”ہاتھ“ رکھ دے، میں تب بھی اسے بے قصور قرار نہیں دوں گا۔
فلمسٹار میرا نے کہا ہے کہ مناسب وقت آنے پر ضرور شادی کروں گی
لاہور4اکتوبر 2111ء (پ ر) نامور اداکار ہ میرا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہر کام اپنے مناسب وقت پر ہی اچھا لگتا ہے، چنانچہ میں شادی بھی مناسب وقت پر ہی کروں گی۔ تاہم اس کے بعد کف افسوس ملتے ہوئے فلمسٹار میرا نے مزید کہا کہ فی الحال وہ مناسب وقت نہیں آیا اور جب آیا تو میں خو د ہی احباب کو مطلع کر دوں گی۔ اس لئے تمام ناکام فلم پروڈیوسر حضرات اور ہاکر صاحبان نوٹ فرما لیں۔
شعیب اختر کی خودنوشت کی تقریب رونمائی اس سال بھی منسوخ
ممبئی 4اکتوبر سنہ 2111ء (پ ر) عہد رفتہ کے انتہائی متنازعہ فاسٹ باؤلر شعیب اختر المشہور راولپنڈی ایکسپریس کی کتاب کا فنکشن اس سال بھی منسوخ ہوگیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بدنصیب کتاب کی تقریب رونمائی ہرسال طے تو پاتی ہے مگر عین ہفتہ پہلے بعض پراسرار وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ پچھلے ایک سوسال سے چل رہا ہے۔
بعض تجربہ کار کہتے ہیں کہ شعیب اختر کی مذکورہ کتاب پر کسی نے کالا علم کر رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بچارے کا بنا بنایا کام ہر بار عین وقت پر بگڑ جاتا ہے۔ البتہ ماہرین اس خیال سے اس لئے اتفاق نہیں کرتے کہ ان کے خیال میں یہ کتاب انتہائی بے کار، فضول اور بکواس ہے اس لئے دنیا کا کوئی جادوگر اتنا بے وقوف اور فارغ نہیں ہوسکتا کہ اس جیسی کتاب پر اپنا قیمتی کالا علم ضائع کرے۔
میاں اظہر نے تحریک انصاف کو بھی خیرباد کہہ دیا
لاہور4اکتوبر2111(پ ر) سابق گورنر پنجاب میاں اظہر نے اعلان کیا ہے کہ پورے سو سال صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اچھے دنوں کی راہ تکنے کے بعد وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان تا صبح قیامت اقتدار میں نہیں آسکتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ملک کے تمام جوتشیوں، نجومیوں اور مجزوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسوائے ہارون الرشیدحجازی# کے تمام احباب متفق ہیں کہ عمران کے تلوں میں تیل ہے ہی نہیں ورنہ اتنے سال کی خواری برداشت کرکے تو راجہ ریاض بھی وزیراعظم بن سکتا تھا، ہارون الرشیدحجازی# صاحب کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے میاں اظہر نے کہا کہ یہ حضرت اپنے کالم میں جو پیش گوئی بھی کرتے ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل سے ہواس کے الٹ، یعنی برعکس جاتا ہے۔ چنانچہ عمران خان کو اسی سے ہی سبق سیکھنا چاہئے۔
حوالہ
روزنامہ جنگ