21-09-11, 08:10 PM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
کمائي: 11,259
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
7۔ سیاستدان پاکستان کے حالات پر سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔ ایک سیاستدان نے کہا کہ ہم ملک کولوٹلوٹ کر کھاگئے لیکن کتنا ڈھیٹ ملک ہے ابھی تک اس کا وجود قائم ہے۔ اس کے جواب میں ایک مذہبی سیاسی رہنما نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ یہ تاقیامت قائم رہے گا۔ اس لئے فکرنہ کرو اور جی بھر کر لوٹو۔
8۔ علمائے کرام نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت پرشیرٹن ہوٹل میں ایک گول میز کانفرنس بلائی۔ ایک عالم دین نے کہا کہ امریکہ عالم اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ دوسرے عالم دین نے ہاتھ سے نیسلے کی منرل واٹرکی بوتل پکڑی اور اس سے گلاس میں پانی انڈیلا اور غٹاغت پی کر کہا کہ ہمیں اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ تیسراعالم دین جو پیسی کی بوتل پی رہاتھا اس نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ان میں اچانک ایک عالم دین کا فون بجا اس نے اپنا بلیک بیری نکالا اور فون بند کرکے مخاطب ہوا کہ بالکل ٹھیک! ہمیں امریکی مصنوعات کے استعمال کےخلاف تحریک چلانا ہوگی۔ ایک عالم دین نے اپنے چائے کے کپ میں لپٹن کا ٹی بیگ رہا اور دو چمچ ایوری ڈے کے ڈال کر کہنے لگا کہ ہماری تحریک سے امریکہ اور اسرائیل تباہ وبربادہ ہوجائیں گے۔ اچانک ایک شخص اندر آیا اور اس نے اعلان کیا کہ کھانا لگ چکا ہے۔ سب علماء اٹھے اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر اپنی اپنی پراڈو، لیموزین اور لینڈ کروزر پر بیٹھ کر گھرروانہ ہوگئے۔
9۔ ہماری پارٹی نے جمہوریت کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہماری بی بی شہید اور ہمارے قائدعوام نے جمہوریت نے لئے اپنی جان کی قربانی دیدی اور آج ہم اسی قربانی کا گوشت کھارہے ہیں۔
10۔ شہباز شریف نے کہا کہ میں ڈینگی مچھر کو قابو نہ کر سکا تو جنرل کیانی کو بلاوں گا کہ توپوں سے ان کا قلع قمع کریں۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ سالا ایک مچھر آدمی کو الماس بوبی بنادیتا ہے۔
|
|
|