واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


سیاسی جماعتوں میں جمہوریت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-04-10, 10:28 PM   #1
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 10-04-10, 10:28 PM

ارشاد احمد عارف


کشمالہ طارق اور ریاض فتیانہ تو ان دنوں جماعتی ڈسپلن سے آزاد ہیں۔ لالہ کشن چندکے بارے میں، میں جانتا نہیں کہ ان کا تعلق کس جماعت یا دھڑے سے ہے لیکن مخدو م جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق نے سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات کی پابندی کے حق میں ووٹ دے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مسلم لیگی قیادت کی نظروں میں جاوید ہاشمی مس گائیڈڈ میزائل ہے جبکہ خواجہ سعد رفیق عرصہ د راز تک معتوب رہنے کے بعد اب بمشکل راہ ِراست پر آیا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ سردار ذوالفقار کھوسہ اور چودھری نثار علی خان ہاشمی اور خواجہ کی اس آزاد روی کو کیا رنگ دیتے اور میاں صاحب کے سامنے کس انداز میں پیش کرتے ہیں، یہی دونوں آج کل شریف برادران کی آنکھ اور کان ہیں چاہیں تو ہاشمی اور خواجہ کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کریں اور دل کرے تو ان کی گستاخی کو طفلانہ شوخی قرار دے کر نظرانداز کردیں۔

قومی اسمبلی کے 292 ارکان نے اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کرکے 1973 کے آئین کو جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ فوجی تجاوزات سے بڑی حد تک پاک کردیا ہے۔ مکمل صفائی اس لئے نہیں ہوسکی کہ ہماری سیاسی جماعتیں کڑوا کڑوا تھو میٹھا مٹھا ہپ کی عاد ی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات کی پابندی کسی کو پسند نہیں تھی۔ اس شق کو 278ارکان نے دیس نکالا دے دیا تاکہ شخصی حکمرانی، موروثی سیاست اور خاندانی قیادت کے رسیا ہمارے قومی سیاستدان اپنی جماعتوں کو جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی طرح چلا سکیں۔

فوجی آمروں کے ہاتھ میں چھڑی اور تن پر وردی تھی جبکہ ہمارے سیاسی و جمہوری بادشاہوں کے ہاتھ میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کا کوڑا ہے جسے و ہ ہر اس رکن اسمبلی کی پشت پر بے دردی سے برسا سکتے ہیں جو ان کی رائے سے اختلاف یا اپنی جمہوری سوچ پر اصرار کرے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عوام تو درکنار اپنی پارٹی کے کارکنوں پر انتخابی سند حاصل کئے بغیر کسی بھی منتخب رکن پارلیمینٹ کی رکنیت ختم کرسکتے ہیں۔ ان کے جاری کردہ پروانہ ٴ نا اہلی کی اطاعت سپیکر اور چیف الیکشن کمشنر پر واجب ہے۔

اگرچہ ایل ایف او کے تحت سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابی عمل کی پابندی کبھی کسی بڑی سیاسی جماعت نے نہیں کی۔ جماعت اسلامی اس پابندی کے پہلے ہی انتخابی عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور یہاں خاندانی قیادت کا رواج نہیں لیکن اس پابندی کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو فائل کا پیٹ بھرنا پڑتا تھا جو ہماری جمہوری قیادت کو گوارا نہ تھا اس لئے سیاسی جاگیرداروں نے یہ شق ختم کرا دی مبادا کسی مرحلہ پر جاوید ہاشمی، سعد رفیق، اعتزاز احسن اور رضا ربانی جیسا کوئی جمہوریت پسند کارکن اپنی قربانیوں اور جدوجہد کے بل بوتے پر قیادت کے خواب دیکھنا شروع کردے۔

فوجی آمر تو دنیا کو دکھانے اور اپنی حکمرانی کا جواز پیش کرنے کے لئے ریفرنڈم یا انتخابات کا تکلف کرتے ہیں مگر ہمارے مقدس سیاسی خانوادے اسے کسرشان سمجھتے ہیں۔ وہ عامتہ الناس کو یہ موقع دینے کے لئے تیار ہیں کہ پولنگ بوتھ پر جا کر ٹھپہ لگائیں لیکن کسی سیاسی کارکن کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ بیچارہ ووٹ کے ذریعے کسی کو قیادت کا منصب سونپے۔ اس کا کام صرف دریاں بچھانا، نعرے لگانا اور بوقت ِ ضرورت حوالات اور جیل میں پولیس و دیگر ریاستی اداروں کی اذیتیں برداشت کرنا ہے۔ سیاسی کارکن پیدا ہی مار کھانے کے لئے ہوتا ہے سو وہ اب تک کھاتا چلا آرہا ہے۔

اس طرح کی خامیوں، امتیازی قوانین اور آمرانہ رویوں کی وجہ سے ملک کا آئین، جمہوری عمل اور سیاسی ڈھانچہ تقدس حاصل نہیں کرسکا۔ عوام اس کے تحفظ کے لئے سینہ سپر ہوں تو کیونکر ان کی نظر میں یہ مراعات یافتہ طبقے کا کھیل ہے۔ کسی عامی کو اس سے کیا لینا دینا۔ اگر اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے سیاسی جماعتوں میں انتخابات کی پابندی کو برقرار رہنے دیا جاتا تو میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، چودھری پرویز الٰہی، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی کو خاص فرق نہ پڑتا۔ 2002 سے اب تک اس شق کی موجودگی میں بھی خاندانی اور موروثی قیادت پوری آب و تاب سے موجود ہے۔ صرف فوجی آمر ایوب خان اور ضیاء الحق کے صاحبزادے انتخابی کامیابی کے محتاج ہیں او ر رکن اسمبلی بن کر ہی کسی سیاسی جماعت میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ بلاول زرداری، حمزہ شہباز، مونس الٰہی رکن اسمبلی ہوں نہ ہوں پوری جماعت ان کے اشارہ ٴ ابرو پر چلتی ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر میں بیٹی، بیٹا تو کیا داماد بھی ما ن نہیں۔ پارٹی لیڈر کا داماد ، پارٹی کا داماد اور شوہر، پارٹی رہنما کا مجازی خدا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی عزت، گھر اورخاندان میں ہو نہ ہو پارٹی میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بسا اوقات حقیقی اولاد سے زیادہ۔ صنم بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو اس کی نمایاں مثال ہیں۔

کل کلاں کو موروثی قیادت کے آئینی تحفظ کی یہ شق مساوی انسانی حقوق کے منافی ہونے کی وجہ سے عدالت ِ عظمیٰ میں چیلنج ہوگئی تو پارلیمینٹ اور عدلیہ میں تصادم کے نعرے بلند ہوں گے۔ پارلیمینٹ کی بالادستی کا شور مچے گا اور سیای قائدین کو گلہ ہوگا کہ عدالتیں موروثی قیادت کے رنگ میں بھنگ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ سلطانی جمہوری کے علمبردار ہمارے مقبول و معتبر رہنما اکیسویں صدی میں سولہویں صدی کی خاندانی سیاست کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں اور اس پسماندہ سچ سے چھٹکارا کیوں نہیں پاتے۔ وہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا اپنی اپنی جماعتوں میں موجود نیک نام، ایثار پیشہ اور فوجی آمروں کے مدمقابل پورے قد سے کھڑے ہونے والے مردان کار سے خوفزدہ ہیں جو کسی نہ کسی روز ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا نعرہ بلند کرسکتے ہیں لیکن یہ تو بالآخر ہوگا کہ نوشتہ ٴ دیوار ہے۔

رہیں نہ رند یہ زاہد کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــ
روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 260
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (11-04-10), بزم خیال (11-05-10), حیدر (10-04-10)
پرانا 10-04-10, 10:40 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مخدوم ہاشمی مس گائیڈڈ میزائل ۔ واہ واہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-04-10, 10:44 PM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے جو جمہوریت کے ٹھیکیدار ہیں، ان کی اپنی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں۔ چراغ تلے اندھیرا۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (10-04-10)
پرانا 10-04-10, 10:50 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس جی لتر پین دی دیر اے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-04-10, 10:27 PM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (11-04-10)
پرانا 11-04-10, 11:19 PM   #6
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہونی چاہیے۔ اگرسیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہوگی توغریب لوگ کیسے ایوان کے اقتدار میں پہنچیں گے۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (11-04-10)
پرانا 12-04-10, 07:08 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,008
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فرحان دانش کا بلاگ وال چاکنگ farhandanish.tk
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہونی چاہیے۔ اگرسیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہوگی توغریب لوگ کیسے ایوان کے اقتدار میں پہنچیں گے۔

بھائ اگرغریب لوگ آگے اگئے تو وڈیروں ، چودہری ، جاگیرداروں کو کون پوچھے گا۔
شریف آف لائن ہے   Reply With Quote
شریف کا شکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش (12-04-10)
پرانا 10-05-10, 11:46 PM   #8
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے غریب بھی ایوانوں تک پہنچتے پہنچتے امیر بن ہی جاتا ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, پاک, پسند, نثار, مکمل, موقع, آج, اسلامی, ترمیم, جیل, خلاف, خان, خدا, دیس, دل, ذوالفقار, سیاست, سردار, شہر, شور, علی, عدالت, صنم, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان آج الاٹ کیے جائیں گے عبدالقدوس خبریں 0 09-12-07 04:27 PM
تمام جماعتوں کو برابر مواقع دیئے جارہے ہیں،انتخابات میں کسی خاص سیاستداں یا جماعت کی حمایت نہیں کر ونگا،صدر پر ویز عبدالقدوس خبریں 0 09-12-07 02:20 PM
وکلاء سیاسی جماعتوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کر ائیں ،اعتزاز احسن کا کھلا خط خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:03 AM
سیاسی جماعتوں میں اختلافات، فوجی ہٹ دھرمی برقرار شیخ ہمدان سیاست 0 01-12-07 06:29 PM
بحا لیٴ جمہوریت کیلئے پیپلزپارٹی کے مختلف سیاسی جماعتوں ورہنماؤں سے رابطے عبدالقدوس خبریں 0 05-11-07 08:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger