واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


سیانا سیاستدان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-04-10, 11:43 PM   #1
سیانا سیاستدان
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 24-04-10, 11:43 PM

پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر قانون جناب رانا ثناءاللٰہ کا بیان پڑھا کہ سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ واقعی یہ بات ہم لوگوں کے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آئی۔ سیانے سیاستدان کو بہت ساری چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اپنے سیانے پن سے وہ ایسے شعبدے دکھاتے ہیں کہ ضروریات خود بہ خود پوری ہوجاتی ہیں۔سیاستدانوں کو عوام کی ضرورت نہیں ہے، ان کو پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ عوام پر تو ان کا احسان ہے کہ ان کی ڈوبتی ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کو یقین ہے کہ عوام ان کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر پارلیمنٹ کے دروازے تک پہنچاکر ہی دم لیں گے۔

سیاستدان پیدائشی سیانا ہوتا ہے۔ اسکول میں دیکھیں، کالج میں دیکھیں، گلی محلے میں دیکھ لیں، ہر شعبے میں ایک نہ ایک سیاستدان بیٹھا ہوا ہے۔ جو اپنی مملکت پر راج کرکے اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اور تو اور، مساجد میں بھی مولوی صاحبان کے علاوہ ایک سیاستدان ضرور ہوگا، جو مسجد کے انتظامی امور کو بجا لاتے ہوئے بھی راجہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سارے لوگ سیاستدان ہی تو ہیں۔

سیاستدان سیانا اس لئے ہوتا ہے، کہ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہمیں بے وقوف بنارہا ہے لیکن اس کے باوجود بے وقوف بنے چلے جاتے ہیں۔ انسان کسی سے جان کر بھی بے وقوف دو طرح کے حالات میں ہوتاہے۔ یا تو وہ سامنے والے سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی اس ادا پر دل و جان سے فدا ہوتا ہے، یا پھر وہ واقعی بے وقوف ہوتا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ ہم لوگ پہلی قسم میں آتے ہیں یا دوسری قسم کے لوگوں میں۔

بچپن میں اکثر ٹافیاں خریدتے ہوئے ساتھ میں کچھ عجیب قسم کی پینٹنگز والی اسٹکرز بھی ملتی تھیں۔ ان میں سے ایک اسٹکر پر ایک نوجوان کی تصویر بنی ہوتی تھی، جس کو اگر الٹا کر کے دیکھا جاتا تو ایک بوڑھے آدمی کی تصویر میں بدل جاتی تھی۔ سیاستدان کی مثال بھی اس اسٹکر پر بنی ہوئی تصویرجیسی ہے۔ عوام جب ان کے کرتوتوں سے تنگ آکر مزید بے وقوف بننے سے انکار کرکے ان کو الٹا لٹکانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اسٹکر والے چہرے کی طرح الٹا ہونے کی بجائے ایک نئے چہرے کے ساتھ آجاتے ہیں۔ کچھ عرصے تک تو یہ نیا چہرہ لوگوں کے دلوں کو بہلا دیتا ہے۔ لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے، تو پھر عوام ان کا بھی وہی حال کرنے کی کوشش کرتی ہے، جو پچھلوں کے ساتھ کرچکی ہوتی ہے۔ نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے۔پچھلی تصویر پھر آجاتی ہے۔( مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو دیکھ لیں۔ مثال واضح ہوجائے گی۔)البتہ اس کھیل میں عوام کی کھوپڑی ضرور الٹ جاتی ہے۔

سیانے سیاستدان کی کچھ خوبیاں‌ہوتی ہیں جو کہ دوسرے لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ مثلاً سیانا سیاستدان جھوٹ نہیں بولتا۔ جی ہاں------------ اگر وہ دن کو رات کہیں تو یہ بھی سچ ہے۔ کیونکہ ایسا وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں بولتے ہیں۔ کل اگر رات کو دن کہہ لیں تو یہ بھی کچھ غلط نہیں ہوگا۔ قوم کامفاد سب سے پہلے ہے۔

کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ ہر کام میں قوم کے مفاد ہی کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی غلط بات تو نہیں۔ اب دیکھیں نا، سیاستدان بھی تو اس قوم کے افراد ہیں۔ تو ان کا مفاد قوم کا مفاد ہے۔ اس لئے کسی کو ان کی نیت پر شبہ کرنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیئے کہ بدگمانی اچھی بات نہیں ہے۔ حسن ظن بہت اچھی عادت ہے۔ اس لئے حسن ظن سے کام لیں، اور قوم کے مفاد کی خاطر سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنا بند کردیں!

سیانے سیاستدانوں کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ہر قسم کے حالات میں اپنے سیانے پن سے کام لیتے ہوئے حکومت سے چپکے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ کل جس پارٹی کی مخالفت کررہے تھے، آج اس کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ایسے سیاستدانوں کو آپ سدابہار سیاستدان کہہ سکتے ہیں۔ کچھ یار لوگ اپنے بغض کی وجہ سے ان کو لوٹے کہہ کر ان کا توہین کرتے ہیں، جو کہ ان کے خدمات کی توہین کے مترادف ہے۔

دوسری قسم ان سیاستدانوں کی ہے جو بظاہر تو اصول پسندی کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات خربوزے کی طرح دوسرے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑلیتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، لیکن اپنی غلطیوں اور غیر مستقل مزاجی کی بدولت ملک کی کشتی کو بیچ منجدھار میں ہی ڈبو دیتے ہیں۔ ان کو آپ موڈی سیاستدان بھی کہہ سکتے ہیں۔ صبح پریس کانفرنس کریں گے، لوگوں کو بھڑکا کر ان کے جذبات سے کھیل کر سڑکوں پر لے کر آئیں گے۔ لیکن جب لوگوں کا احتجاج کچھ قابو سے باہر ہوجاتا ہے، یا پھر ان کو اوپر سے ڈنڈا دکھایا جاتا ہے، تو اسی وقت 180 درجے کی یوٹرن لے کر پیچھے ہٹ جاتےہیں۔ اس عمل کو سیاسی مفاہمت کہتے ہیں۔ جس میں ان سیاستدانوں کے لئے بھی فائدہ ہوتا ہے اور ملک کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ رہی عوام کی بات، تو ان کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہوجاتی ہے، جو نہ گھر کا ہو نہ گھاٹ کا!

سیاستدانوں کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں۔ میں نہ مانوں والی سیاست کرتے ہیں۔ اپنے اس طرز عمل کو یہ لوگ اصول پسندی کا نام دیتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ زمانے کی دوڑ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ یہ ہر الیکشن میں ناکام رہتے ہیں۔ عوام ان کی تقاریر پر سر دھنتی ہے، لیکن ان کو ووٹ بالکل نہیں دیتی۔ کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہر وقت اصول کی مالا جپتے ہیں، پتا نہیں کب جوش میں آکر استعفیٰ دے کر بوریا بستر گول کرلیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایسے سر پھروں کو حکومتی معاملات سے دور ہی رکھا جائے۔ یہ سیاستدان اگر چہ بذات خود بہت مطمئن ہوتے ہیں،لیکن ان میں سیاستدانوں کی خصوصیات بالکل نہیں ہوتی۔ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے، اور آٹے میں کتنا ہی نمک کیوں نہ ڈالا جائے، آٹا آٹا ہی کہلائے گا۔ اس لئے اس تیسری قسم کو سیاستدان نہیں کہا جاسکتا۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1038
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-04-10), فیصل ناصر (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), wajee (25-04-10), ام طلحہ (26-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10), عارف اقبال (25-04-10), عبداللہ حیدر (25-04-10)
پرانا 24-04-10, 11:49 PM   #2
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,041
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہارون اعظم بھائی
سیاستدانوں کی تحلیل نفسی کی اس سے بہتر صورت نہیں دیکھی
اچھی شئیرنگ ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), راجہ اکرام (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:37 AM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، ہارون بھائی! بہت اچھی تصویر کشی کی ہے۔ یہ جمہوری ابلیسی نظام کے گندے انڈے ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:41 AM   #4
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
ہارون اعظم بھائی
سیاستدانوں کی تحلیل نفسی کی اس سے بہتر صورت نہیں دیکھی
اچھی شئیرنگ ہے
شاہ جی، حوصلہ افزائی کا شکریہ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:48 AM   #5
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم، ہارون بھائی! بہت اچھی تصویر کشی کی ہے۔ یہ جمہوری ابلیسی نظام کے گندے انڈے ہیں۔
وعلیکم السلام

عبداللٰہ بھائی، یہ میرے اپنے مشاہدات ہیں۔ آئے روز یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10), عارف اقبال (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 01:28 AM   #6
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ہے
بہت بہت شکریہ
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 25-04-10, 09:36 AM   #7
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر قانون جناب رانا ثناءاللٰہ کا بیان پڑھا کہ سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ واقعی یہ بات ہم لوگوں کے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آئی۔ سیانے سیاستدان کو بہت ساری چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اپنے سیانے پن سے وہ ایسے شعبدے دکھاتے ہیں کہ ضروریات خود بہ خود پوری ہوجاتی ہیں۔سیاستدانوں کو عوام کی ضرورت نہیں ہے، ان کو پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ عوام پر تو ان کا احسان ہے کہ ان کی ڈوبتی ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کو یقین ہے کہ عوام ان کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر پارلیمنٹ کے دروازے تک پہنچاکر ہی دم لیں گے۔

سیاستدان پیدائشی سیانا ہوتا ہے۔ اسکول میں دیکھیں، کالج میں دیکھیں، گلی محلے میں دیکھ لیں، ہر شعبے میں ایک نہ ایک سیاستدان بیٹھا ہوا ہے۔ جو اپنی مملکت پر راج کرکے اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اور تو اور، مساجد میں بھی مولوی صاحبان کے علاوہ ایک سیاستدان ضرور ہوگا، جو مسجد کے انتظامی امور کو بجا لاتے ہوئے بھی راجہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سارے لوگ سیاستدان ہی تو ہیں۔

سیاستدان سیانا اس لئے ہوتا ہے، کہ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہمیں بے وقوف بنارہا ہے لیکن اس کے باوجود بے وقوف بنے چلے جاتے ہیں۔ انسان کسی سے جان کر بھی بے وقوف دو طرح کے حالات میں ہوتاہے۔ یا تو وہ سامنے والے سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی اس ادا پر دل و جان سے فدا ہوتا ہے، یا پھر وہ واقعی بے وقوف ہوتا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ ہم لوگ پہلی قسم میں آتے ہیں یا دوسری قسم کے لوگوں میں۔

بچپن میں اکثر ٹافیاں خریدتے ہوئے ساتھ میں کچھ عجیب قسم کی پینٹنگز والی اسٹکرز بھی ملتی تھیں۔ ان میں سے ایک اسٹکر پر ایک نوجوان کی تصویر بنی ہوتی تھی، جس کو اگر الٹا کر کے دیکھا جاتا تو ایک بوڑھے آدمی کی تصویر میں بدل جاتی تھی۔ سیاستدان کی مثال بھی اس اسٹکر پر بنی ہوئی تصویرجیسی ہے۔ عوام جب ان کے کرتوتوں سے تنگ آکر مزید بے وقوف بننے سے انکار کرکے ان کو الٹا لٹکانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اسٹکر والے چہرے کی طرح الٹا ہونے کی بجائے ایک نئے چہرے کے ساتھ آجاتے ہیں۔ کچھ عرصے تک تو یہ نیا چہرہ لوگوں کے دلوں کو بہلا دیتا ہے۔ لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے، تو پھر عوام ان کا بھی وہی حال کرنے کی کوشش کرتی ہے، جو پچھلوں کے ساتھ کرچکی ہوتی ہے۔ نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے۔پچھلی تصویر پھر آجاتی ہے۔( مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو دیکھ لیں۔ مثال واضح ہوجائے گی۔)البتہ اس کھیل میں عوام کی کھوپڑی ضرور الٹ جاتی ہے۔

سیانے سیاستدان کی کچھ خوبیاں‌ہوتی ہیں جو کہ دوسرے لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ مثلاً سیانا سیاستدان جھوٹ نہیں بولتا۔ جی ہاں------------ اگر وہ دن کو رات کہیں تو یہ بھی سچ ہے۔ کیونکہ ایسا وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں بولتے ہیں۔ کل اگر رات کو دن کہہ لیں تو یہ بھی کچھ غلط نہیں ہوگا۔ قوم کامفاد سب سے پہلے ہے۔

کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ ہر کام میں قوم کے مفاد ہی کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی غلط بات تو نہیں۔ اب دیکھیں نا، سیاستدان بھی تو اس قوم کے افراد ہیں۔ تو ان کا مفاد قوم کا مفاد ہے۔ اس لئے کسی کو ان کی نیت پر شبہ کرنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیئے کہ بدگمانی اچھی بات نہیں ہے۔ حسن ظن بہت اچھی عادت ہے۔ اس لئے حسن ظن سے کام لیں، اور قوم کے مفاد کی خاطر سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنا بند کردیں!

سیانے سیاستدانوں کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ہر قسم کے حالات میں اپنے سیانے پن سے کام لیتے ہوئے حکومت سے چپکے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ کل جس پارٹی کی مخالفت کررہے تھے، آج اس کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ایسے سیاستدانوں کو آپ سدابہار سیاستدان کہہ سکتے ہیں۔ کچھ یار لوگ اپنے بغض کی وجہ سے ان کو لوٹے کہہ کر ان کا توہین کرتے ہیں، جو کہ ان کے خدمات کی توہین کے مترادف ہے۔

دوسری قسم ان سیاستدانوں کی ہے جو بظاہر تو اصول پسندی کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات خربوزے کی طرح دوسرے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑلیتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، لیکن اپنی غلطیوں اور غیر مستقل مزاجی کی بدولت ملک کی کشتی کو بیچ منجدھار میں ہی ڈبو دیتے ہیں۔ ان کو آپ موڈی سیاستدان بھی کہہ سکتے ہیں۔ صبح پریس کانفرنس کریں گے، لوگوں کو بھڑکا کر ان کے جذبات سے کھیل کر سڑکوں پر لے کر آئیں گے۔ لیکن جب لوگوں کا احتجاج کچھ قابو سے باہر ہوجاتا ہے، یا پھر ان کو اوپر سے ڈنڈا دکھایا جاتا ہے، تو اسی وقت 180 درجے کی یوٹرن لے کر پیچھے ہٹ جاتےہیں۔ اس عمل کو سیاسی مفاہمت کہتے ہیں۔ جس میں ان سیاستدانوں کے لئے بھی فائدہ ہوتا ہے اور ملک کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ رہی عوام کی بات، تو ان کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہوجاتی ہے، جو نہ گھر کا ہو نہ گھاٹ کا!

سیاستدانوں کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں۔ میں نہ مانوں والی سیاست کرتے ہیں۔ اپنے اس طرز عمل کو یہ لوگ اصول پسندی کا نام دیتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ زمانے کی دوڑ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ یہ ہر الیکشن میں ناکام رہتے ہیں۔ عوام ان کی تقاریر پر سر دھنتی ہے، لیکن ان کو ووٹ بالکل نہیں دیتی۔ کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہر وقت اصول کی مالا جپتے ہیں، پتا نہیں کب جوش میں آکر استعفیٰ دے کر بوریا بستر گول کرلیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایسے سر پھروں کو حکومتی معاملات سے دور ہی رکھا جائے۔ یہ سیاستدان اگر چہ بذات خود بہت مطمئن ہوتے ہیں،لیکن ان میں سیاستدانوں کی خصوصیات بالکل نہیں ہوتی۔ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے، اور آٹے میں کتنا ہی نمک کیوں نہ ڈالا جائے، آٹا آٹا ہی کہلائے گا۔ اس لئے اس تیسری قسم کو سیاستدان نہیں کہا جاسکتا۔

ماشاللہ ہارون بھایی کافی دلچسپ تحریر ہے، اور وہ سٹکر والا
مثال تو بہت ہی اچھا لگا، کہ سیاستدان الٹا ہونے کے بجایے شکل بدل لیتے ہے، لیکن ان سب کے ذمہ دار تو ہم ہی ہے کہ بقول آپ کے کہ ہم ہی ان سیاستدانوں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر پارلیمنٹ تو پہنچاتے ہیں اور ایسی غلطی ایک بار نہیں بار بار کرتے ہیں ۔ پتہ نہیں کہ عوام کو عقل کب آیے گی۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 25-04-10, 09:48 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,265
شکریہ: 25,210
16,396 مراسلہ میں 41,643 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ہارون بھائی بہت بہترین
دراصل یہ نظام ہی ایسا ہے جب تک یہ رہے گا کئی سیانے پیدا ہوتے رہیں گے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10), عبداللہ حیدر (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 07:33 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,537
کمائي: 88,200
شکریہ: 5,212
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب ہارون بھائی زبردست ...
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (26-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 26-04-10, 09:52 AM   #10
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,661
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب ہارون بھائی!! آپ ماشاللہ میدان مار گئے۔ خوش رہیں
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (28-04-10), ھارون اعظم (26-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (29-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 26-04-10, 01:07 PM   #11
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیاستدان اس مصنوعی جمہوری نظام میں‌ آکر اس گندے دلدل میں‌ گُھسنے والے کا نام ہے۔ اگر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس میں‌ آکر پھر ملک میں‌ کوئی اور انقلاب لائے گا تو یہ سراسر غلط ہے۔ نہ اس میں‌ آؤ نہ ہی استعفٰی دو ورنہ پھر کامیاب سیاستدان کے نام سے فضلو چاچا کی طرح‌ اسلام کا نام جپ جپ کر لگاتار وعدے توڑنے پڑیں‌ گے اور سیدھی باتوں‌ کو گھُمانا پھرانا پڑے گا جسکا سب کو پتہ چلتا ہے کہ یہ جھوٹ ہی ہے۔ کامیاب سیاستدان یہاں وہ ہے جو کوئی کُرسی پکڑے یہاں‌ اس کے بھی کوئی اصول وضع نہیں‌ ہیں‌، جو سب سے سستا ایمان بیچے گا وہ سب سے کامیاب ہے مثلا" رحمان ملک جو کہ واشنگٹن سے آٹپکا ہے اور نواز شریف کا مخالف ہونے کی وجہ سے سیاسی طور پر کامیاب ہے یعنی ایک کُرسی پکڑ رکھی ہے۔ رحمان ملک کسی بھی بڑے حادثے اور دھماکے کے بعد موقعہ پر پہنچ کر کامیاب سیاستدان ہونے کے ناطے یہ روایتی بات کرتا ہے ' ہم نے دہشتگردوں‌ کا تقریبا" خاتمہ کر دیا ہے۔ فلاں فلاں مہم میں‌ اتنے دہشت گرد مارے گئے اور انکی حالت اب کمزور ہے اور وہ یہ ایک آدھ بزدلانہ کاروائی مجبور ہو کر رہے ہیں‌ جن پر جلد قابو پایا جائے گا'۔
آپ نے لکھا ہے کہ اصول پسند ناکام ہے کیونکہ وہ تاب نہ لا کر استعفٰی دیتا ہے اور ایک طرف نکل جاتا ہے جو اسکے ناکامی کی نشانی ہے۔ بات یہ ہے کہ اسطرح‌ کی شورٰی میں‌ بیٹھنا کہ جس میں‌ سینکڑہ کے اعداد میں وزیر ہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک سیاست دان ہو اسکی سب سے بڑی بے اصولی ہے'۔

Last edited by محمد الیاس; 26-04-10 at 07:59 PM.
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (26-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (28-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 26-04-10, 08:20 PM   #12
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
بہت خوب ہارون بھائی!! آپ ماشاللہ میدان مار گئے۔ خوش رہیں
ام طلحہ بہن، پسندیدگی کا شکریہ۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (16-11-10), ام طلحہ (28-04-10), حیدر (28-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 27-04-10, 03:25 PM   #13
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,997
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی تحریر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمدنواز آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (27-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (28-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
پرانا 28-04-10, 09:16 AM   #14
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (28-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (29-04-10)
پرانا 28-04-10, 11:04 AM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,265
شکریہ: 25,210
16,396 مراسلہ میں 41,643 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم منتظمین بھائی
شکر ہے آپ واپس آ گئے
میں اعلان گمشدگی کا تھریڈ لگانے والا تھا۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (28-04-10), مرزا عامر (16-11-10), حیدر (29-04-10), شاہ جی 90 (28-04-10)
جواب

Tags
کوشش, کالج, گھر, وقت, وزیر, لوٹے, محبت, مسجد, معلوم, آدمی, انسان, احتجاج, تصویر, جھوٹ, حسن, دل, رات, عوام, عادت, عجیب, عزت, غلط, غلطیوں, صبح, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی! ھارون اعظم سیاست 3 15-04-10 06:00 PM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:49 PM
19/جون پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ایم کیو ایم امریکا مسٹر گرزلی خبریں 0 20-06-08 09:45 PM
سیاچین سیاحت: بھارت نے پاکستانی اعتراضات کو نظر انداز کر دیا پاکستانی خبریں 0 20-09-07 08:47 AM
بھارت نے سیاچن کو سیاحت کیلئے کھولنے کے حوالے سے پاکستان کا اعتراض مسترد کر دیا، پاکستانی خبریں 0 17-09-07 10:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger