| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 513
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا | فرحان دانش (07-09-11), نیلم خان (08-09-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
صدر زرداری کے والد کے قائداعظم کے بارے خیالات
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لعنت ہے اس گھٹیا انسان کی سوچ پر
کھاتا پاکستان کا ہے اور بولتا ہندوستان کی بولی ہے غدار
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سارے غدار کتے کی موت ہی مریںگے انشاء اللہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے بنگال میں اُردو پڑھوانی ایسی لازمی کیوں تھی۔ کیا ہوتا جو اُدھر بنگالی زبان "برداشت" کر لی جاتی تو
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
کمائي: 11,259
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بات بالکل غلط ہے۔ بنگال میں تدریس کے لئے بنگالی زبان میں ہی دی جاتی تھی۔ بلکہ 1956 کے آئین میں بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دیدی گئی تھی۔ بنگالی زبان کو قیام پاکستان کے وقت قومی زبان کا درجہ اس لئے نہیں دیا جاسکتا تھا۔ کہ باقی صوبوں کے لوگ اردو زبان جانتے تھے لیکن بنگالی نہیں جانتے تھے۔ ہندوستان میں دو زبانیں سب سے زیادہ بولی جاتی تھیں ہندی اور اردو جن کی آپس میں بہت مماثلت تھی بلکہ بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اردو جانتی تھی۔ دوسرا اردو کو قومی زبان بنانے کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ اردوکا رسم الخط آسان تھا اور عربی زبان سے ملتا جلتا تھا۔ جبکہ سندھی، پنجابی، پشتو کا رسم الخط ایک ہی قسم کا تھا۔ بعد میں بنگالی زبان کا رسم الخط بھی اردو جیسا کردیا گیاتھا۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (06-09-11), نیلم خان (08-09-11), wajee (06-09-11), احمد نذیر (08-09-11), بلال الراعی (06-09-11), حیدر (06-09-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اب جبکہ پاکستان بن گیا تو جس سے بنیاد پڑھی آج وہی سب کو بری لگ رہی ہے؟ کیوں کیوں سوچیے گا ضرور!!!!
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
"پہلے تو یہ بات ذہن سے صاف کر لیجیے کہ میں قائد اعظم یا اُردو زبان کا مخالف نہیں ہوں۔ باوجود بلوچ ہونے کے ہمارے بچوں کو بچپن سے ہی اُردو زبان بلوائی جاتی ہے۔ اب تو اتنا اثر ہو گیا ہے کہ اُنکو کوئی اور زبان آتی ہی نہیں۔ دوسری بات یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ قائد اعظم کا معترف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کی ہر بات میرے لیے اللہ اور نبی کی بات بن گئی ہے کہ میں اُس پر تنقیدی نگاہ نہ ڈال سکوں۔ قائد اعظم بھی اُسی طرح ہی انسان تھے جس طرح میں ہوں۔ اور جس طرح مجھ سے غلطی ہو سکتی ہے اسی طرح وہ بھی غلط فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس میں ایسا کُچھ نہیں کہ ایک غلط فیصلہ لینے سے قائد اعظم کی شان میں کوئی کمی آ گئی ہے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں اس کے مطابق پاکستان کی تحریک جتنا "اُردو" کا ہاتھ ہے شاید اُتنا ہے "بنگالی" زبان کا بھی ہاتھ ہے۔ شیر بنگال ہی تھے جنہوں نے قرار داد پاکستان پیش کی۔ بنگالیوں کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا تو ہی وہ پاکستان میں شامل ہوئے تھے، اس لیے ہم کسی طور بھی بنگال کی قربانیوں اور کوششوں کو انکار نہیں کر سکتے۔ خواہ وہ اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ قائد اعظم نے ڈھاکہ میں جا کر 1948 میں کہا تھا کہ "ہماری مشترکہ زبان صرف اور صرف اُردو ہی ہو گی"۔ اب یہ کہا جانا کہ قیام پاکستان کے وقت اس اس وجہ سے بنگالی کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکتا تھا اور پھر یہ کہا جانا کہ 1956 کے آئین میں بنگالی کو قومی زبان قرار دے دیا گیا۔ تو اس سلسلے میں مندرجہ ذیل باتیں ذہن میں رکھی جانی چاہییں 1: بنگال ، مغربی پاکستان سے آبادی میں زیادہ تھا۔ اور اس کی غالب اکثریت صرف بنگالی بولتی تھی۔ جبکہ ایک مغلوب اقلیت جو بہاری کہلاتے تھے وہ اُردو بولتے تھے۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان میں بے شک اکثریت اُردو سمجھتی تھی لیکن اس کا مطلب ہرھز یہ نہیں کہ ہر شخص کو اُردو آتی تھی۔ مغربی پاکستان میں غالب زبان پنجابی تھی، پھر سندھی، پشتو، بلوچی وغیرہ بھی بولی جاتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے کئی علاقے اج بھی ایسے ہیں جہاں کے لوگ اُردو نہیں سمجھ سکتے۔ 2:قائد اعظم نے جو اصرار اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ صرف اور صرف اُردو۔۔۔۔تو اس نے دوسرا آپشن ہی نہیں چھوڑا۔۔۔۔ سوائے طاقت کے بل پر اپنی بات منوانے کے۔ اور بنگالیوں نے اسی طرح ہی بات منوائی۔ حالانکہ اگر قائد اعظم یہی کہہ دیتے کہ وقت آنے پر فیصلہ کیا جائے گا فی الحال زیادہ بڑے مسائل کا سامنا ہے تو شاید پہلے دن سے ہی نفرتیں پیدا نہ ہوتیں۔ 3: 1956 کے آئین میں بنگالی کو برابر کا درجہ ضرور دیا گیا لیکن کس قیمت پر؟ 1952،53 کی ہلاکتوں کی قیمت پر۔ کہ جب بنگال میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جن میں درجنوں لوگ مارے گئے ۔۔۔۔ اور یہ مظاہرے جاری رہے حتیٰ کہ مغربی پاکستان نے مجبور ہو کر بنگال کا مطالبہ مان لیا میرے لیے یہ بالکل نئی بات ہے کہ بنگالی کا رسم الخط اُردو جیسا کر دیا گیا تھا۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو اس کے لیے ہی شاید وہی محاورہ ایجاد ہوا ہو کہ "دودھ میں مینگنیاں ڈال کر دینا"۔ بنگالیوں کے ساتھ اس سے بڑا ظلم واقعی کوئی اور نہیں ہو سکتا ہو گا۔ تاہم میرے بڑے بھائی کو پرانے سکے جمع کرنے کا شوق تھا (جو بعد میں دوست بُرد ہوا) اُس میں ، میں نے 60 کی دہائی کا ایک نوٹ دیکھا تھا ، جس پر اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی بھی لکھی ہوئی تھی۔ اور وہ بنگالی عربی رسم الخط میں نہیں بلکہ اپنے اصلی رسم الخط یعنی اس قسم کے মুক্তিযুদ্ধ میں ہی تھی۔ مجھے آپکی معلومات کے سورس کا علم نہیں، لیکن اپنی معلومات پر یقینی ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ بہرحآل بدقسمتی یہ ہے کہ اُس مسئلے کا بغیر ضد کے یہ حل ہو سکتا تھا کہ بنگال کے لیے بنگالی اور مغربی پاکستان کے لیے اُردو۔ آھ اگر ہم سکولوں میں انگلش، عربی، اور ان کے بعد چینی زبان لازمی کر سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو بنگالی اور اُردو بھی سکھا ہی سکتے تھے۔ لیکن اس کے لیے تھوڑی سی برداشت کی ضرورت تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ جس دن بنگالی زبان کے حق میں مظاہروں کے دوران ہلاکتیں ہوئیں۔۔۔۔اقوام متحدہ اُس دن کو "مادری زبان" کے دن کے طور پر مناتی ہے۔
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (06-09-11), نیلم خان (08-09-11), نبیل خان (08-09-11), احمد نذیر (08-09-11), رضی (07-09-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ ویڈیو اب عوام کو کیوں دکھائی جا رہی ہے جب زرداری کا باپ مر چکا ہے ؟
جب کھیت چڑیاں چگ گئیں ہیں تو یہ ویڈیو یاد آگئی |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, mad, ہندوستان, کروایا, پاکستان, والد, قائداعظم, لعنت, موت, watch, www, you, youtube, انہوں, انسان, بولی, بولتا, تعارف, خیالات, زرداری, سیکنڈ, سوچ, شخص, صدر, صدر زرداری |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|