| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 415
|
||||
| ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا | skjatala (26-05-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کراچی میں پاک بحریہ کے ائربیس پی این ایس مہران میں دہشت گردی کی خوفناک اور تشویشناک کارروائی 17 گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد اختتام کو پہنچ تو گئی مگر اپنے پس منظر اور پیش منظر کے بارے میں بہت سارے سوالات چھوڑ گئی ہے۔
خصوصاً جبکہ تمام عسکری ماہرین اس حملے کا ذمہ دار بھارتی ”را“، سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے ساتھ افغانی ایجنسی راما کو قرار دے رہے ہیں تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان جس کا تعلق نہ تو افغانی طالبان سے کبھی ثابت ہو پایا ہے اور نہ ہی کبھی القاعدہ نے انہیں اپنے وجود، مقاصد یا تنظیمی حتیٰ کہ کلیدی ذیلی انتظامی ڈھانچے کے طور پر تسلیم نہیں کیا؟ ترجمان احسان اللہ احسان کا اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنا اور کہنا کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کا بدلہ بڑے حملے کرکے لیں گے۔ حیران کن بات ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کا ترجمان یا کوئی نہ کوئی رکن اکثر جیسا کہ اس مرتبہ بھی پی این ایس مہران کی ذمہ داری ٹیلیفون پر قبول کی گئی ہے، انہیں کبھی کسی ٹیکنالوجی کے استعمال کو عمل میں لا کر پکڑا نہیں جا سکا جبکہ ماضی میں بہت سارے امریکہ کو مطلوب افراد ٹیلیفونک گفتگو کی وجہ سے پکڑے جاتے رہے ہیں، کئی تو امریکہ کے حوالہ بھی کئے گئے۔ نواب اکبر بگٹی کے بارے میں بھی یہی تاثر فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ سیٹلائٹ ٹیلیفون استعمال کرنے پر پوائنٹ آ¶ٹ ہو گئے تھے۔ خود امریکہ عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ڈرون حملوں کیلئے یہی جواز پیش کرتا ہے تو پھر کالعدم تحریک طالبان کے پاس کون سی ٹیکنالوجی ہے جو وہ قابو میں نہیں آتے۔ نیول بیس میں آپریشن اور حملے کے دوران ترجمان نیوی عرفان الحق کے مطابق 10 اہلکار شہید ہوئے جن میں 2 رینجرز کے اہلکار تھے جبکہ 20 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان نیوی کے مطابق دہشت گردوں کی تعداد 10 سے 15 تھی لیکن وزیر داخلہ رحمان ملک مسلسل رٹ لگاتے رہے کہ حملے میں 6 دہشت گرد ملوث تھے جن میں 4 مارے گئے اور 2 فرار ہو گئے۔ اب پاک نیوی کے ڈیوٹی لیفٹیننٹ کمانڈر مسٹر عرفان کی مدعیت میں جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے مطابق 4 دہشت گرد مارے گئے اور 12 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ان دہشت گردوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شارپ شوٹر تھے اور جدید اسلحہ، خودکش جیکٹوں سے لیس تھے۔ پاک بحریہ کے سربراہ نعمان بشیر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی کی خامی نہیں۔ وہ جہاں سے آئے وہیں سے فرار ہو گئے۔ پاک بحریہ کے اس فارمولے پر شاید عسکری ماہرین کا اتنا تبصرہ کافی ہے کہ ایک طرف لگتا ہے عوامی حکومت ایسے حساس معاملات سے بالکل بے خبر ہے جیسے وزیر داخلہ کے تمام لمحہ بہ لمحہ بیانات حقائق کے برعکس ثابت ہوتے رہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ حسب روایت ملکی مفادات کے تقاضوں کے برعکس وزیر موصوف غلط بیانی سے کام لیتے رہے اور ایسا کردار ادا کرتے رہے جو کسی بھی ملک کے وزیر داخلہ کے شایان شان نہیں! سوال پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز اس وقت جبکہ انتہائی خطرناک، حساس اور نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور ملکی خودمختاری پر حملے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حکمران اور سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں؟ کراچی بحریہ کے ائربیس پر حملہ سکیورٹی کی خامی کیوں نہیں کہ دہشت گرد جہاں سے آئے وہیں سے فرار ہو گئے۔ دراصل حقائق کو مسلسل چھپایا جا رہا ہے اور امریکی مفادات کیلئے ملکی بقاءاور سلامتی کے برعکس وزیر داخلہ رحمان ملک فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ان بیانات کو کون نہیں سمجھتا جب وہ کراچی بحریہ ائربیس پر حملے کے ردعمل میں کہہ رہا ہے کہ نیول بیس پر حملہ پاکستان، امریکہ تعاون کی ضرورت کا مظہر ہے اور جب امریکی میڈیا الزام عائد کر رہا ہے کہ مانسہرہ میں عسکریت پسندوں کا کیمپ موجود ہے جس کی پاک فوج نے تردید کی ہے۔ وقت رواں میں ہماری حکومت حقائق کی مسلسل پردہ پوشی کرتے ہوئے ملکی مفادات اور دفاعی معاملات سے چشم پوشی کر رہی ہے۔ ایسے غیرسنجیدہ اقدامات کا مزید ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ امریکیوں کو بے تحاشا ویزے اور ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکیوں کے ملک میں کھلے عام داخلے اور ویزوں کا سلسلہ بند کر دیا جانا چاہئے۔ مستند باخبر حلقے بار بار آواز بلند کر رہے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے 1200 سی آئی اے، را، موساد اور راما کے ایجنٹ ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں، دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں مگر حکومت چپ کا روزہ توڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اتنا تو ضرور فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں 5000 سے زائد سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں مگر اصل حقائق بے نقاب نہیں کرتے کہ ان کو شہید کرنے والے دہشت گرد کون ہیں؟ ہمارے وزیر داخلہ کے بارے میں عوامی رائے کچھ زیادہ اچھی نہیں وہ اس وقت بھی کہہ رہے ہیں کہ القاعدہ پاکستان کی دشمن ہے اور طالبان کے حق میں بیان دینے والے مسلمان نہیں۔ وہ کیا بتانا پسند کریں گے کہ جن مشکوک امریکیوں کو ایک اہم وزارت کے ذریعے ویزے پر ویزے دے کر پاکستان میں درجنوں کی تعداد میں داخل کیا جاتا ہے، وہ کونسا مسلمان دوست عمل ہے۔ اگر بھارت میں کراچی بحریہ جیسا حملہ ہوا ہوتا تو وہ ممبئی حملوں کی طرح اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتا مگر ماہرین کی آراءمیں ایسے وزیر داخلہ کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے جبکہ ہماری فوج کا موٹو جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اپنے اس موٹو سے روگردانی ملکی و ملی دفاع کو مقدم اور مضبوط نہیں بنا سکتی۔ اندازہ لگائیں 2 مئی کو ایبٹ آباد آپریشن کیا گیا اور امریکہ اپنا تباہ شدہ ہیلی کاپٹر بھی لے گیا۔ چند ہفتے پیشتر شبقدر میں ایف سی کے جوان شہید کئے گئے۔ اس سے قبل جی ایچ کیو پر دہشت گردی کی کارروائی میں سکیورٹی انچارج بریگیڈئر اور ایک کرنل سمیت 4 سے 5 جوان شہید ہو گئے۔ بعض ذرائع کے مطابق جب جی ایچ کیو پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا تو چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی وہاں موجود تھے۔ لہٰذا عسکری، دفاعی ماہرین کے یہ خدشات خوفناک رُخ اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ پاکستان آرمی، آپریشن ایبٹ آباد کی صورت میں پاک فضائیہ اور اب کراچی میں بحریہ کو ٹارگٹ بنا کر عرصہ دراز سے وطن عزیز میں دہشت گردی سے خون کی ہولی کھیلنے والی امریکی سی آئی اے، را، موساد اور افغانی راما کا اتحاد ثلاثہ ہمارے ایٹمی اثاثوںکو دہشت گردی کا نشانہ بنائے گا،عوام محو حیرت ہیں کہ ایسی صورت میں ان اثاثوں کے دفاع کی کس سے اور کیا توقع رکھیں۔ اس وقت ضروری ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کے حوالہ سے سکیورٹی کے مسائل کے حل اور ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کیلئے ہمارے سکیورٹی ادارے سی آئی اے، را، موساد اور راما کے مذموم منصوبوں کے تدارک کیلئے اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں جبکہ اس ملک دشمن اتحاد ثلاثہ کے مکمل تدارک کیلئے خطے کے دوست ممالک کے ساتھ اتحاد تشکیل دے کر ان کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔اس ”ٹوپی ڈرامے“ کا ملک و قوم مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ اب امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا دیا جائے!!
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک بات یہ سمجھ میں نہیں آتی کے یہ ساری قبولداریاں بین الاقوامی میڈیا میں ہی کیوں آتی ہیں ؟
بی بی سی ،گارجین ،نیویارک ٹائمز لگتا ہے طالبان کو پاکستانی میڈیا کے نمبر نہیں معلوم ہوتے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | skjatala (26-05-11), کنعان (26-05-11), احمد بلال (07-06-11), عبدالقدوس (26-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم بحثیت قوم پتہ نہیں کب بیدار ہوں گے-
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پہلي وجہ يہ ہے كہ خود ہمارے ميڈيا كو سچي خبر وہي لگتي ہےجو مغربي ميڈيا سے نشر ہو يا جس كي مغربي ميڈيا كا كوئي تگڑا صحافي يا ادارہ تصديق كر دے۔۔۔ اور پھر ہمارا ميڈيا بھي اسي ليكر كو پيٹنا شروع كر ديتا ہے۔۔۔۔۔ دوسري وجہ يہ ہے كہ چونكہ ہماري حكومت دہشت گردوں كے خلاف جنگ لڑ رہي ہے اس لئے اس نے ہمارے آزاد ميڈيا پر پابندي عائد كر ركھي ہےكہ وہ دہشت گردوں كو پرموٹ كرنے والي كسي بھي خبر كو نشر نہيںكر گے۔۔۔۔۔۔ تيسر اہم وجہ يہ ہے كہ ہمارے ميڈيا كے آزاد ہونےكا مطلب ہے صرف مادر پدر آزاد ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب كہ مغربي ميڈيا كے آزاد ہونے كا مطلب ہے ہر چيز ميں آزاد ہونا۔۔۔ شايد اس لئے اصلي اور نقلي ترجمان سارے كے سارے مغرب كي طرف ہي رخ كرتے ہيں۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (26-05-11), منتظمین (07-06-11), محمد یاسرعلی (26-05-11), آبی ٹوکول (26-05-11), احمد نذیر (26-05-11), شھزادباجوہ (08-06-11), عبداللہ آدم (27-05-11) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے وہم ہے کہ اگلے ایک سال کے اندر جنگ ہوئے ای ہوئے۔
میں تو اسی لیے اپنی شادی کے لیے جلدی مچا رہا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جس دن شادی ہو اس دن ہی جنگ چھڑ جائے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | skjatala (26-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کے تجزيے سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ دہشت گرد تنظيموں اور ان کا انتظامی ڈھانچہ ميڈيا کی اس مبينہ مہم سے بےخبراور جديد دور کے تکنيکی معاملات سے اس حد تک لاعلم اور لاتعلق ہے کہ وہ ان سے منسوب کسی بھی انجان شخص کے ايسے بيان کی ترديد کرنے کی بھی صلاحيت نہيں رکھتے جس ميں ان حملوں کی کھلم کھلا ذمہ داری قبول کی جاتی ہے۔
لگتا ہے کہ آپ پشاور اور ملک کے ديگر شہروں ميں عوامی مقامات پر ان ہزاروں سی ڈيز کی موجودگی سے لاعلم ہيں جن ميں پاکستان کے عوام کے خلاف اپنی "عظيم کاميابيوں" کو امريکہ کے خلاف ايک مقدس جہاد کے پيراۓ ميں پيش کيا جاتا ہے۔ ان تنظيموں کی تشہيری صلاحيتوں، فعال اور متحرک کاوشوں اور ميڈيا کے حوالے سے ان کی پہنچ کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ اکتوبر 13 2010 کو پاکستان اليکٹرونک اور ميڈيا ريگوليٹری اتھارٹی (پيمرا) نے 124 ايف ايم ريڈيو اسٹيشنز کے خلاف تاديبی کاروائ کی اور ان کے دفاتر اور سازوسامان کو قبضے ميں لے کر اسے سيل کر ديا۔ پيمرا کی رپورٹ کے مطابق خيبر پختون خواہ کے مختلف شہروں بشمول پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، بنوں، ڈيرہ اسماعيل خان، کوہاٹ اور لکی مروت ميں غير قانونی ايف ايم ريڈيو اسٹيشنز کے خلاف آپريشن کا آغاز کيا گيا تھا۔ دہشت گرد ان ايف ايم اسٹيشنز کے ذريعے لسانی اور منفی مواد کی تشہير کر رہے تھے۔ پيمرا کی جانب سے ان علاقوں کے پوليس اسٹيشنز ميں ان ايف ايم اسٹيشنز کے خلاف باقاعدہ کيسيز بھی رجسٹرڈ کيے گۓ۔ رپورٹ کے مطابق تحريک طالبان کی کالعدم تنظيم کے ريڈيو اسٹيشنز بھی پمرہ کی اس لسٹ ميں شامل تھے۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ اگر کوئ شخص ان تنظيموں کی رضامندی کے بغير ان سے منسوب کر کے کوئ بيان داغ دے تو ان کے پاس ايسے کوئ وسائل يا ميڈيا تک رسائ کے ذرائع نہيں ہيں جن کے ذريعے وہ ان بيانات کا جواب دينے سے قاصر ہوں؟ گزشتہ ہفتے آج ٹی وی کے مقبول پروگرام بولتا پاکستان ميں سينير صحافی نصرت جاويد نے اس طريقہ کار کی تفصيل سے وضاحت کی تھی جس کے مطابق وہ ان تنظيموں کے ترجمان اور نمايندوں سے روابط قائم کرتے ہیں۔ وہ واحد سينير صحافی نہيں ہيں جنھوں نے براہراست ان تنظيموں کے نمايندوں سے گفتگو کی ہے۔ پاکستان کے مختلف اخبارات اور ٹی وی چينلز سے وابستہ بے شمار صحافيوں اور ٹی اينکرز نے ان تنظيموں کے خيالات اور بيانات عوام کے سامنے پيش کيے ہیں۔ يہ ممکن نہيں ہے کہ يہ تمام صحافی، اخبارات اور ٹی وی چينلز بيک وقت ان دہشت گردوں کے عوامی تشخص کو مسخ کرنے کی سی آئ اے کی مبينہ سازش اور مہم کا حصہ بن جائيں۔ اس کے علاوہ اگر آپ ان تنظيموں کے بينرز، پوسٹرز اور تشہيری مواد کا جائزہ لیں اور اس پيغام کو پڑھيں جسے وہ عوام میں برملا پھيلا رہے ہيں تو آپ پر يہ واضح ہو جاۓ گا کہ وہ ان اقدامات سے مختلف نہيں ہيں جن کی ذمہ داری يہ ميڈيا پر اکثر قبول کرتے رہتے ہيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اے ہوئی نا گل۔
بہت خوب
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | شھزادباجوہ (08-06-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
فیس بک ہی کی مثال لے لیجئے۔ یہودی لابی فیس بک پر مسلم ممالک سے بہت سی معلومات ایسے طریقے سے اکٹھا کرتے ہیں کہ بتانے والے کو احساس تک نہیںہوتا کہ سوشل نیٹ ورکنگ ، اور سچائی کو عام کرنے کی آڑ میں وہ یہیودی لابی کا شکارہورہے ہیں۔ اور یہ بھی چھپی ہوئی بات نہیں کہ سی آئی اے فری میسن یہودی لابی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بہت اچھے صدیق بھائی
![]()
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا | حیدر (08-06-11), شھزادباجوہ (08-06-11) |
![]() |
| Tags |
| com, house, national, news, newspaper, online, pakistan, ten, url, کونسی, کرنیوالی, ٹیکنالوجی, پکڑنے, ھمارے, پاس, قبول, مبینہ, www, انہیں, ادارے, تحریک, حملے, داری, ذمہ, طالبان |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سی آئی اے چیف کا آئی ایس آئی سربراہ کو فون، انٹیلی جنس شیئرنگ کے نئے میکنزم پر اتفاق | گلاب خان | خبریں | 0 | 27-02-11 04:18 AM |
| انگلینڈ سیریزکےتیسرے ون ڈے میں پاکستان کی ٹیم کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے شواہد نہیں ملے:آئی سی سی | جاویداسد | خبریں | 0 | 13-10-10 11:27 PM |
| پی سی بی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-08-10 10:28 PM |
| پاکستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں چوتھے نمبر | champion_pakistani | کرکٹ | 0 | 18-11-08 05:19 PM |
| شوماکر اور حیرت زدہ ٹیکسی ڈرائیور | ابن ضیاء | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 25-12-07 02:42 AM |