واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


طوفان اٹھانے اور شیر و شکر ہونے کا فلسفہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-09, 11:15 PM   #1
طوفان اٹھانے اور شیر و شکر ہونے کا فلسفہ
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 25-10-09, 11:15 PM

یہ سب کچھ بھلا کیسے ہو جاتا ہے‘ ایک دم دُوریاں‘ اتنی دوریاں کہ واپسی کا کوئی‘ مکان ہی نظر نہیں آتا اور پھر ایک دم قربت۔ اتنی قربت کہ کوئی درمیان میں سے گزر نہیں سکتا۔ کیا یہ ایک دوسرے کو جھاکا دے رہے ہیں۔ بھولے بھالے سادہ و معصوم ہیں۔ بے وقوف ہیں یا دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں… میاں نوازشریف کی جانب سے ایوان صدر میں اپنے ’’چھوٹے بھائی‘‘ صدرِ ذی وقار آصف علی زرداری کے ساتھ رات کے کھانے کے لئے ہاں ہوئی ہے تو ان کی سیاست اور سیاسی بصیرت کے حوالے سے بے شمار سوالات پھر سر اٹھانے لگے ہیں۔ نورا کشتی کی ٹرم یا تو انٹرنیشنل ریسلنگ کے جعلی مقابلوں میں استعمال ہوتی ہے جہاں ایک دوسرے کے مدمقابل ریسلر ایک دوسرے کو لاتیں گھونسے مارتے‘ اکھاڑتے‘ پچھاڑتے‘ ہوا میں اچھال اچھال کر نیچے پھینکتے اور ایک دوسرے کو لہولہاں تک کرتے نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان دونوں کا کچھ بھی نہیں بگڑتا البتہ جن تماشائیوں کو ان کی کُشتی حقیقت نظر آتی ہے وہ ان کی فائیٹنگ کے دوران سانس روکے بیٹھے رہتے ہیں کہ اگلے ہی لمحے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ نہ جانے کیا ہو جائے مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دونوں فائیٹروں میں سے کسی ایک کو بھی گزند تک نہیں پہنچتی اور غالباً شرمندگی سے کپڑے جھاڑ کر اٹھنے کی نوبت بھی نہیں آتی۔
ایسی ہی نورا کُشتی ہماری سیاست کا خاصہ بن گیا ہے۔ بڑے اور چھوٹے بھائی پہلے ’’اِک مِک‘‘ ہوتے ہیں ’’تینوں تاپ چڑھے تے میں ہُونگاں‘‘ والی پنجابی کہاوت بنے رہتے ہیں‘ ان کے رطب اللسان بھی ایک دوسرے کے ساتھ مثال شیر و شکر نظر آتے ہیں۔ پھر پارہ چڑھنا شروع ہوتا ہے تو ایک دوسرے پر ہزیانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ توتکار سے یہ مار وہ مار کی نوبت آ جاتی ہے اور ان کے رطب اللسانوں کے لئے بھی آستینیں چڑھا کر‘ نتھنے پھُلا کر ایک دوسرے پر لٹھ ماری اور جو تم پیزار ہونا ضروری ٹھہرتا ہے۔ ایسے سارے مناظر میں اب تک بے چارے عوام ہی ہلکان ہوتے رہے ہیں جنہیں اصولوں کی پاسداری عزیز ہوتی ہے اور جو سیاست کو فی الواقع عبادت سمجھ کر اپنے قائدین کی گفتار و کردار کو جانچتے ہوئے اپنے لئے دوستی اور دشمنی کے معیار وضع کر لیتے ہیں۔ اس لئے جب ان کے لیڈران چھوٹے اور بڑے بھائی ایک دوسرے کے ساتھ گھمسان کے رن کے بعد ایک دم شیر و شکر ہوتے ہیں اور انہیں گزند تک پہنچتی نظر نہیں آتی تو ان کے عقیدت مندوں کو ضرور جھٹکا لگتا ہے کہ اب وہ کس منہ کے ساتھ مراجعت کا راستہ اختیار کریں اور انتہا درجے کی دشمنی کو پہنچ کر ایک دوسرے کو جپھیاں ڈالنا شروع کر دیں۔
میاں نوازشریف کل پیر کے روز ایوانِ صدر جا کر اپنے چھوٹے بھائی صدرِ ذی وقار سے پھر شیر و شکر ہوں گے تو ان کے عقیدت مند متوالے جو ان کی سیاست کے حوالے سے اپنے مخالفین پر اب تک کتنے ہی پوائنٹ سکور کئے بیٹھے ہیں‘ بہت الجھن میں آ جائیں گے۔ فوزیہ وہاب کے لئے تو حالات کے مطابق ڈھل جانا بہت آسان ہوتا ہے مگر صدیق الفاروق کے لئے اپنی جارحیت پر قابو پانا بہت مشکل ہے… وہ تو کیری لوگر کے قانون کو اپنا زیور بنا کر لے آئے ہیں‘ اس پر منتخب ایوانوں کے فیصلہ کی نوبت بھی نہیں آنے دی اور وفاقی کابینہ سے اس بل کو قومی مفادات کے منافی تمام شقوں سمیت لاگو کرنے کی اجازت بھی حاصل کر لی ہے۔ امریکی سینٹ کی جانب سے پاکستان کی دفاعی امداد کے عوض عائد کی گئی مزید کڑی شرائط نے بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ مشرف کے جرنیلی صدارتی اختیارات کو بدستور اپنے پاس رکھنے کے فن میں بھی وہ یکتا ہو چکے ہیں۔ اپنے شہریوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری رکھنے اور امریکی ہدایات کی روشنی میں اسے وسعت دینے میں بھی وہ یکسو ہیں اور این آر او بے شک جتنا بھی عوامی‘ عدالتی اور سیاسی تنقید کی زد میں آ جائے ان کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ بن چکا ہے‘ پھر آپ کھانے کی میز پر اور وہ بھی ایوانِ صدر میں ان کے ساتھ شیر و شکر ہو کر سوائے ان وعدوں کے اور کیا لا پائیں گے جو قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ اگر آپ ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کی عبادت میں مشغول ہیں تو آپ کی مومنیت کا سوال اٹھنا بھی لازمی ہو جائے گا۔ اور اگر یہ سب سیاست ہے تو عوام کو بے خوف بنائے رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں بھی ’’حالات‘‘ کے تقاضوں سے آگاہ کر دیں تاکہ ان کا ہیجان ختم ہو جائے اور وہ ’’اصل میں دونوں ایک ہیں‘‘ سے حقیقت آشنا ہو کر ان کے ذریعے اپنے اچھے دنوں کی امید ترک کر دیں اور عملیت پسندی کی جانب لوٹ آئیں۔ آخر عوام کو بھی تو چائے کے کپ پر طوفان اٹھا کر کھانے کی میز پر شیر و شکر ہونے کے فلسفہ سے آشنا ہونا چاہئے۔
کیا عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری نہیں کہ اس وقت شیر و شکر سیاست ہی ملکی اور قومی مفاد میں ہے کہ دشمن ہمارے گھر میں گھس کر ہمیں للکار رہا ہے۔ یقیناً حالات کا یہی تقاضا ہے کہ دشمن کے واضح طور پر نظر آنے والے عزائم کا توڑ کرنے کے لئے تمام قومی سیاسی اور عسکری قائدین ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور دشمن کو اپنے اتحاد و یکجہتی کا پیغام دے کر اس کے للکارے کا جواب اپنی ایٹمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اسے چاروں شانے چت کر کے دیں تاکہ اس کے سر پر چڑھا ہوا طاقت کا بھوت ہرن ہو سکے۔ اس کے لئے صرف میاں نوازشریف کو ہی نہیں‘ تمام قومی سیاسی قائدین کو ایک میز پر اکٹھا ہونا چاہئے جبکہ ایوان صدر میں صدر زرداری کے ساتھ میاں نوازشریف کی ملاقات کا یہ مقصد ہی نظر نہیں آتا۔ وہ تو کیری لوگر بل پر بھی سوائے اپنے تحفظات کے اظہار کے‘ کسی جارحیت کے موڈ میں نظر نہیں آتے اور جارحیت کی ذمہ داری انہوں نے اپنے برادر خورد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو سونپ رکھی ہے۔ جناب۔ آپ نے عوام کی سیاست اور ان کے جذبات کی ترجمانی کرنی ہے تو خود کو دوعملی کے لبادے سے باہر نکالنا ہو گا ورنہ عوام اب نوراکشتی کی حقیقت کو بھانپ چکے ہیں اور عقیدت مندی والے سحر میں بلاجواز خود کو مبتلا رکھنے کے عادی نہیں رہے۔ اب سیاست گفتار و کردار میں مماثلت والی ہی مقدم سمجھی جائے گی۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 105
Reply With Quote
جواب

Tags
فن, پاکستان, قرآن, نظر, آپریشن, ترک, جواب, حدیث, خلاف, خبر, رات, راستہ, زرداری, سیاست, علی, عبادت, عزیز, عسکری, صلاحیتوں, صدیق, صدارتی, صدر, صدر زرداری, صدرِ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نئی وفاقی کابینہ آج حلف اٹھائے گی گلاب خان خبریں 0 04-02-11 04:13 AM
اللہ نے حجاب اُٹھایا زارا گپ شپ 4 25-01-11 09:45 PM
ذرا ٹھرو چلے جانا wajee شعر و شاعری 3 09-11-09 07:23 AM
انڈا پراٹھا پاکستانی لڑکی باورچی خانہ 16 22-09-09 05:22 PM
ایمان کی مٹھاس KKTT9MM ایمان 3 15-09-09 10:53 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger