واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


عوام سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-12-10, 09:29 PM   #1
عوام سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتی؟
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 03-12-10, 09:29 PM

چیلنج دو نتائج پیدا کرتا ہے۔ کچھ لوگ چیلنج کو ایک بوجھ بنا لیتے ہیں اور اس کے نیچے دب کر رہ جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ چیلنج کو قوت ِمحرکہ میں ڈھال لیتے ہیں اور اس قوت ِمحرکہ کے ذریعے دنیا کو تبدیل کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں حالات کی خرابی ”عوام“ کو بھی ”خواص“ بنادیتی ہے۔ پہلی صورت میں حالات کی خرابی ”خواص“ کو بھی ”عوام“ بناکر رکھ دیتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال معروف دانش ور اور کالم نگار نصرت مرزا کا کالم ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ عوام غربت و مہنگائی کے طوفان پر روپیٹ تو رہے ہیں مگر وہ کچھ کرنے پر آمادہ نہیں۔ مطلب یہ کہ وہ احتجاج نہیں کررہی، سڑکوں پر نہیں آرہے۔ یہ صرف نصرت مرزا کی بات نہیں، بعض سیاسی قائدین بھی اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ عوام غربت و مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں مگر اپنی ناراضی کو احتجاج میں ڈھالنے پر آمادہ نہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ عوام ہی کو کرنا ہے تو سیاسی رہنماﺅں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ عوام اگر خود ہی اپنے رہنما بن گئے تو وہ سیاسی رہنماﺅں کو کیوں منہ لگائیں گی؟ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ بدترین معاشی حالات کے باوجود عوام کا پیمانہ¿ صبر کیوں نہیں چھلک رہا؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ برصغیر میں جتنی عوامی تحریکیں چلی ہیں ان کا مرکزی حوالہ مذہب رہا ہے۔ خلافت تحریک مسلمانوں کی عظیم الشان تحریک تھی اور اس کا بنیادی حوالہ خلافت ِعثمانیہ کا تحفظ تھا۔ خلافت اپنی نہاد میں ایک مذہبی تصور ہے اور اس کے ساتھ بے پناہ تقدس وابستہ ہے۔ تحریک ِپاکستان ان معنوں میں بھی تاریخ ساز تھی کہ اس کی وجہ سے پاکستان وجود میں آگیا، اور ان معنوں میں بھی تاریخ ساز تھی کہ اس تحریک نے برصغیر کے ایک ایک مسلمان کو فکر و عمل پر مائل کیا، اس کو نیند کی حالت سے نکالا۔ لیکن یہ کام ”پاکستان کا مطلب کیا.... لاالہٰ الا اللہ“ کے نعرے کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک ایک بڑی تحریک تھی، لیکن اس میں جان ا±س وقت پڑی جب یہ تحریک، تحریک ِنظام مصطفیٰ کا رنگ اختیار کرگئی۔ اس رنگ نے عوام کے جوش و جذبے کو بہت بڑھا دیا اور وہ بڑی بڑی قربانیاں پیش کرنے لگے۔ یہ تحریک طویل تھی۔ طویل تحریکیں ”تھک“ جاتی ہیں مگر مذہبی جوش و جذبے نے اس تحریک کو تھکنے نہیں دیا۔ اسلامی جمہوری اتحاد اگرچہ ایک سیاسی اتحاد تھا اور اس کی کامیابی سیاسی کامیابی تھی مگر اس اتحاد کی مہم میں تحریک نظام مصطفیٰ کی گونج کو صاف سنا جاسکتا تھا۔ ان تحریکوں کا زمانہ الگ تھا، کردار جدا تھی، مگر ان کے نظریاتی مواد میں بڑی مماثلت تھی۔ اسلامی جمہوری اتحاد کی انتخابی مہم کے بعد لوگوں نے مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ پیپلزپارٹی کے خلاف ووٹ ڈالے۔

متحدہ مجلس عمل نے انتخابات میں 70 سے زائد نشستیں حاصل کیں اور وہ سرحد اور بلوچستان میں اپنی حکومتیں بنانے میں کامیاب رہی۔ لیکن مجلس عمل کی کامیابی بھی مذہب کی مرہون منت تھی۔ مجلس عمل کی کامیابی کی پشت پر افغانستان میں امریکہ کی جارحیت تھی۔ اس جارحیت کی پشت پر صلیبی جنگ کا تاثر تھا، تہذیبوں کے تصادم کا خیال تھا۔ غربت ومہنگائی کے طوفان کے باوجود لوگ سڑکوں پر نہیں آرہے ہیں تو اس کی وجہ مذہب کے بعض تصورات ہیں۔ پاکستانی معاشرہ فکری و عملی طور پر ہزاروں خامیوں میں مبتلا ہی، لیکن جب کوئی معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی معاشرہ ہوتا ہے تو اس معاشرے میں مذہب کے بعض تصورات صدیوں کا سفر کرتے ہوئے عام اور ان پڑھ لوگوں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مثلاً ان میں ایک تصور تقدیر سے متعلق ہے۔ اس تصور کے تحت زندگی جیسی ہو اسے قبول کرنا پڑتا ہے۔ تقدیر کا تصور عمل کی راہ نہیں روکتا مگر یہ نازک بات عام لوگ مشکل ہی سے سمجھ سکتے ہیں۔

مذہب کا ایک تصور صبر ہے۔ صبر اپنی نہاد میں اختیاری ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اپنی تفہیم کے لیے ایک ذہنی سطح کی محتاج ہی، ورنہ عام لوگ تو حالات کے جبر کو صبر سمجھتے ہیں اور صبر کا ا±ن کے نزدیک یہ تصور ہے کہ حالات کو جوں کا توں قبول کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ہے۔ بلاشبہ یہ اسلام کی تعلیم نہیں مگر ہمارے عوام میں صبر کا یہی تصور رائج ہے۔ غربت و مہنگائی کے سونامی کے باوجود عوام متحرک کیوں نہیں ہوتی، اس کی ایک وجہ ایک لطیفے میں بیان ہوئی ہے۔ لطیفہ یہ ہے: ایک صاحب نے دست شناس کو ہاتھ دکھایا اور پوچھا ”میں کب تک غریب رہوں گا؟“ دست شناس نے کہا: ”پندرہ سال تک۔“ ان صاحب نے پوچھا: ”اس کے بعد؟“ ”اس کے بعد تمہیں غربت کی عادت ہوجائے گی“ دست شناس نے جواب دیا۔ عادت زندگی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انسان پرامن زندگی گزار رہا ہوتا ہی، پھر جنگ ہوجاتی ہے اور کچھ دنوں میں انسان جنگی حالات کا عادی ہوجاتا ہے۔

انسان طویل عرصہ تک صحت مند رہتا ہے اور پھر کچھ عرصے کے لیے بیمار پڑ جاتا ہے تو اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے وہ ہمیشہ سے بیمار ہے۔ غربت و مہنگائی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کروڑوں لوگ ان سے عاجز ہیں مگر وہ ان کے ”عادی“ ہوگئے ہیں۔ یہ تو خدا کا شکر ہے کہ غربت و مہنگائی میں نشہ بننے کی اہلیت نہیں، ورنہ اب تک غربت و مہنگائی کی عادت نشہ بن چکی ہوتی۔ زیربحث مسئلے کا ایک پہلو تحریکوں سے وابستہ عوام کی مایوسی بھی ہے۔ عوام نے جنرل ایوب کے خلاف تحریک چلائی مگر انہیں اس تحریک سے کیا ملا؟ ایک تازہ دم جرنیل۔ عوام نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور قربانیاں دیں مگر انہیں اس تحریک سے کیا ملا؟ ایک نیا مارشل لائ۔ عوام نے متحدہ مجلس عمل کی جھولی کو ووٹوں سے بھر دیا مگر اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا؟ مایوسی۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں عوام اٹھیں تو کیوں اور کیسی؟ اس سلسلے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ لوگ عوام، عوام تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے ذہن میں عوام کا واضح تصور نہیں ہوتا۔

ہمارے یہاں عوام کا ایک طبقہ وہ ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں کے زیر اثر ہے۔ یہ طبقہ صرف اپنے رہنماﺅں کے پیچھے چلتا ہے۔ اس طبقے کے لیے اس کی سیاسی وابستگی ہی سب کچھ ہے۔ اس کے سائے کے بغیر وہ ایک قدم اِدھر ا±دھر نہیں ہوتا۔ چنانچہ عوام کے اس طبقے کے متحرک نہ ہونے کی بات کرنا ہی فضول ہے۔ عوام کا دوسرا طبقہ وہ ہے جس کی یا تو کوئی سیاسی وابستگی ہی نہیں ہے، یا ہے بھی تو ڈھیلی ڈھالی۔ یہ طبقہ کسی سیاسی تربیت کا حامل نہیں، چنانچہ اسے یہ تک معلوم نہیں کہ ردعمل کیسے ظاہر کیا جائی؟ کس کے خلاف؟ اور کہاں؟ تجزیہ کیا جائے تو اس وقت ہماری قیادت دو حصوں میں منقسم ہے۔

ایک طرف وہ قیادت ہے کہ جس کے پاس اخلاقی ساکھ ہے مگر عوامی ساکھ نہیں ہے۔ دوسری طرف وہ قیادت ہے جو عوام میں جڑیں رکھتی ہے مگر جس کی اخلاقی ساکھ نہیں ہے۔ تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ عوام کو وہی قیادت متحرک کرسکتی ہے جس کے پاس اخلاقی ساکھ بھی ہو اور عوامی ساکھ بھی۔ ملک کے مجموعی حالات اور عوام کی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو اس امر کی نشاندہی دشوار نہیں کہ عوامی مسائل کے سلسلے میں چھوٹے موٹے اقدامات غیر مو¿ثر ہوچکے ہیں اور اب صرف بڑے اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے سیاسی حرکیات یا Political Dynamics پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔ اتفاق سے سیاسی جماعتیں بالخصوص اخلاقی ساکھ کی حامل سیاسی جماعتیں بڑے اور فیصلہ کن اقدام کے لیے تیار نہیں۔ مسلمانوں کے مزاج اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ شہیدِمذہب، شہیدِعشق اور شہیدِ وفا تو ہوسکتے ہیں مگر ”شہیدِ معاشیات“ مشکل ہی سے ہوسکتے ہیں۔ مسلمان معاشی مسائل کے لیے جلسے جلوس میں جاسکتا ہی، ووٹ دے سکتا ہے لیکن شعوری طور پر جان نہیں دے سکتا۔ مطلب یہ کہ سیاسی جماعتوں کو یا تو مذہبی بنیاد پر تحریک برپا کرکے معاشی مسائل کو اس کا حصہ بنانا ہوگا، یا معاشی مسائل کا اسلام سے ربط ثابت کر کے عوام کو اس سلسلے میں متحرک ہونے پر آمادہ کرنا ہو گا۔


عوام سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتی؟ (شاہنواز فاروقی)
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 753
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (22-12-10), نیلم خان (03-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 09:31 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,987
کمائي: 49,089
شکریہ: 7,298
5,968 مراسلہ میں 15,149 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ابو جہل اس کو عوام کا کچھ لگتا تھا میرے خیال سے اس لیے نہیں آتی
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:02 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عوام کبھی بھی خود نہیں نکلتی اسکو سیاسی لیڈر ہی نکال سکتے ہیں
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:02 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سڑکیں ہی ساری ٹوٹی ہوئی ہیں۔ عوام کہاں نکلے؟
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:17 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arifkarim مراسلہ دیکھیں
سڑکیں ہی ساری ٹوٹی ہوئی ہیں۔ عوام کہاں نکلے؟
سڑکیں‌ٹوٹ ہوں ‌یا نئ عوام نکلے گی ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:57 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : wajee مراسلہ دیکھیں
عوام کبھی بھی خود نہیں نکلتی اسکو سیاسی لیڈر ہی نکال سکتے ہیں
سیاسی لیڈروں نے ہی تو عوام کا بیڑا غرق کیا ہے
انہی کے خلاف تو سڑکوں پر آنا ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:02 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
سیاسی لیڈروں نے ہی تو عوام کا بیڑا غرق کیا ہے
انہی کے خلاف تو سڑکوں پر آنا ہے
تو انکو ووٹ بھی تو آپ لوگ ہی دیتے ہیں نا۔ ووٹ مت ڈالئے نام نہاد جمہوریت ختم!
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:08 PM   #8
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arifkarim مراسلہ دیکھیں
تو انکو ووٹ بھی تو آپ لوگ ہی دیتے ہیں نا۔ ووٹ مت ڈالئے نام نہاد جمہوریت ختم!

آپ ووٹ نہ بھی ڈالیں تو باکس بھرے نکلیں گے
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:08 PM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی
شاید آپ پاکستان میں نہیں ہوتے
یہاں ووٹ ڈالنے کی زحمت عوام کو نہیں دی جاتی
پارٹیوں اور لیڈران نے گُرکے رکھے ہوئے ہیں اس کام کے لئے

انجینئرڈ الیکشن کی اصطلاح ہمارے ملک سے ہی نکلی ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:09 PM   #10
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
جی
شاید آپ پاکستان میں نہیں ہوتے
یہاں ووٹ ڈالنے کی زحمت عوام کو نہیں دی جاتی
پارٹیوں اور لیڈران نے گُرکے رکھے ہوئے ہیں اس کام کے لئے

انجینئرڈ الیکشن کی اصطلاح ہمارے ملک سے ہی نکلی ہے
آپ کی گل سے ع متفق ہوں‌ ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:12 PM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ پارٹنر !
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 12:23 PM   #12
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,165
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بہت شکریہ پارٹنر !
ویلکم جی ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-12-10, 01:21 PM   #13
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عوام .....................صرف عوام نہیں ہے اس امت مرحوم کا حصۃ ہے جس کے بارے میں ہا گیا ہے کہ

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی............اس لیے اسلام اور صرف اسلام ہی اس قوم کا واحد حل بی ہے اور

جذبہ محرکہ بھی یہی ہو سکتا ہے..................

ایک عرصہ تک لوگوں کو وقتی اور "عوامی" ایشوز پر استعمال کیا جاتا رہا.............پھر اسلام کے نام پر بھی یہی کھیل کھیلا گیا............... اور کسی نہ کسی صورت سب ہی جاری ہیں.............

اسلام کی اصل اور ٹھیٹھ دعوت.............جو انبیاء نے معاشروں کو دی.........جب تک انفرادی اور اجتماعی طور پر عوام کو اسی دعوت کی طرف پیہم نہیں بلایا جائے گا....................... کوئی بھی "اٹھنے کی توقع" یا اٹھانے کی "تحریک" کامیاب ہونے والی نہیں............

الغرض حرکت میں لانے کے لیے درست جذبہ محرکہ ہی نہیں ہے.....................
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (05-12-10), فیصل ناصر (05-12-10), طاھر (04-12-10)
پرانا 05-12-10, 02:00 AM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ایک عرصہ تک لوگوں کو وقتی اور "عوامی" ایشوز پر استعمال کیا جاتا رہا.............پھر اسلام کے نام پر بھی یہی کھیل کھیلا گیا............... اور کسی نہ کسی صورت سب ہی جاری ہیں.............
یہ استعمال آج تک جاری ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-12-10, 08:34 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
سیاسی لیڈروں نے ہی تو عوام کا بیڑا غرق کیا ہے
انہی کے خلاف تو سڑکوں پر آنا ہے
عوام کبھی بھی نہیں آئی گی سڑکوں پر جب تک کوئی سیاسی لیڈر کا آشر باد عوام کے سر پر نہ ہو ورنہ یہ پھستی رہے گی
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (06-12-10)
جواب

Tags
php, پاکستانی, قدم, لوگ, لطیفہ, نیند, مہنگائی, مسائل, معلوم, معاشرہ, انسان, امریکہ, احتجاج, اسلامی, تعلیم, جواب, خدا, زندگی, زمانہ, سفر, سال, صبر, صحت, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جماعة الدعوة کا جامعہ الدراسات سے سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جلسہ عام پہنچا ALI-OAD خبریں 2 09-01-11 11:27 PM
ماں تم کیوں نہیں آتی؟ سیپ میری ڈائری 3 21-12-10 11:06 AM
معاشرتی تبدیلیوں میں مسلمان عورت کا کردار ھارون اعظم اپکے کالم 2 19-06-10 12:29 AM
سورۃ توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں لکھی جاتی؟ فیصل ناصر متفرقات 7 05-01-10 01:01 PM
مہنگائی کیسے ختم کر ینگی ،غر یبوں کو ٹکٹ کیوں نہیں دیئے،بینظیر سے عوام کے سوال عبدالقدوس خبریں 0 15-12-07 07:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger