واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


عوام کی قربانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-11-10, 09:11 PM   #1
عوام کی قربانی
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 17-11-10, 09:11 PM

عوام کی زندگیوں میں کیسے کیسے انقلاب لے آنے کے دعویدار اس ملک کے حکمران اپنے وعدوں کا بھرم جب ٹوتتے دیکھتے ہیں تو انھیں اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کے سوا سب کے غلط افعال واضح نظر آنے لگتے ہیں۔اقتدار کی اس نورا کشتی میں نہ تو ہمیں اس ملک کے عوام کی حالت زار بیقرار کرتی ہے اور نہ اس ملک کی معاشی ،سماجی اور معاشرتی صورتحال کی فکر دامن گیر کرتی ہے۔ہم نے کبھی اس اعتماد اور بھروسہ کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش ہی نہ کی جو عوام اور حکمران کے درمیان ایک مضبوط تعلق کو قائم دائم رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔طبقاتی تقسیم کا ناسور آج ہمیں ہر میدان میں بری طرح گھائل کر رہا ہے۔عوام اس امید میں ہوتے ہیں کہ ان کے روز بروز بڑھتے مسائل کو کم کرنے کیلئے حکمران اپنا کردار ادا کریں ۔ملکی پالیسیوں کا مرکز و محور صرف چند خاندانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے وضع نہ کی جائیں بلکہ اس ملک کی اکثریت یعنی غریب کے روز مرہ حالات میں بہتری کیلئے وضع کی جائیں۔طبقاتی کلاس کے فرق نے حکمرانوں کو اس احساس سے ہی محروم کر رکھا ہے جو کسی منتظم یا ذمہ دار کو اپنے عوام سے جوڑے رکھتا ہے۔تبدیلی کا فلسفہ ہمارے حالات سے مطابقت ہی نہیں کھاتا۔زیادہ سے زیادہ ہم کیا تبدیلی لے آئیں گے،ایک کی جگہ دوسرے کو بٹھادیں گے،لیکن یہ بھی تو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں،بار بار وہی چہرے ،نت نئی اصلاحات کی یلغار،وہی ماضی کو کریدنے کی پرانی روش،ہر تین دسال بعد اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کی مچلتی خواہشات،بس یہی ہمارا مقدر ہیں۔ہمارے ان حکمرانوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس ملک کے عوام اب کسی بھی نئی تبدیلی کا نعرہ سن کر مزید خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ہمارے ارمانوں کا خون کر نے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے،جو چہرے بدل بد ل کر اس ملک کی تقدیر سنوارنے کا نعرہ لے کر آتے ہیں اور اس ملک کے مسائل کم ہو نے کی بجائے ان میں اور اضافہ ہو جاتاہے۔بجٹ کی آمد سے پہلے ہمارے دلو ںکے اندر جانے کیسی کیسے وسوسے جنم لینا شروع کر دیتے ہیں،ہر کوئی اسی سوچ میں ڈوبا ہوتا ہے کہ جانے اب کی بار بجٹ خسارہ پورا کر نے کیلئے ہمیں کس طر ح قربانی کیلئے تیار رہنا پڑے گا۔بجٹ کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ سے چیزیں غائب ہونا شروع ہو جاتی ہیں،کئی قسم کے نئے ٹیکسوں کا نزلہ گرا کر عوام دوست بجٹ ہونے کی قوم کو خو شخبریاں سنائی جاتی ہیں۔ابھی بجٹ کے اثرات سے پوری طرح نکل ہی نہیں پاتے کہ منی بجٹ رہی سہی کسر نکال دیتے ہیں۔ذخیرہ اندوز اور مفاد پرست عناصر کیلئے یہ بجٹ کسی رحمت سے کم نہیں ہوتا جو راتوں رات اربوں کما لیتے ہیں اور اس ملک کا غریب دووقت کی روٹی کیلئے بھی ترس جاتا ہے۔رمضان المبارک جیسے عظیم اور رحمتوں سے مالامال مہینے کی عظمت کی قدر دانی بھی ہم یوں کرتے ہیں کہ کھانے پینے کے تما آئٹمز کی قیمتیں عام دنوں کے مقابلے میں دوگنا بڑھ جاتی ہیں۔عام حالات میں مہنگائی کے ہاتھوں مجبور و لاچار عوام کیلئے اس مہینے میں مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔سارا دن بھوکا پیا سا رہنے والا جب شام کو افطاری کیلئے کچھ خریدنے کی سکت ہی نہ رکھتا ہو تو وہ کیا دعائیں دیتا ہو گا حالات کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمہ داران کو۔رمضان کا مہینہ جونہی ختم ہونے کے قریب آتا ہے تو عید الفطر کی تیاریا ںشروع ہو جاتی ہیںء کپڑوں اور جوتوں کیلئے رقم کہاں سے لائیں جب گھر میں فاقہ پڑے ہوں اور یوں یہ مقدس تہوار اور پر مسرت موقع بھی ان منافع خوروں کی لالچ کی نظر ہو جاتا ہے۔عید الاضحی جس پر صاحب استطاعت لوگ سنت ابراہیمی کی یاد میں جانورذبح کرتے ہیں منڈی مویشیاں کے چکر لگا لگا کر خالی ہاتھ ہی لوٹ آتے ہیں۔جو لوگ خود دن رات قربانی کا بکرا بنے ہوئے ہوں ان میں قربانی کی سکت کہاں باقی بچے گی۔اسلامی تہوار ہوں یا قومی عوام کی خوشیاں اور خواہشات اس بے جا مہنگائی کی نظر ہو جاتی ہیں۔یہ تہوار تو سال میں ایک دو دفع آتے ہیں چند دن کی مشکلات اور پھر حالات نارمل ہو جاتے تھے ۔مگر اب تو ایسے لگ رہا ہے کہ ان ذخیرہ اندوزوں اور مافیاز کے لوگوں کو بغیر کسی خاص موقع اور تہوار کے عوام کی قربانی کا سرٹیفکیٹ دے دیا گیا ہے۔اب ہر پندرہ دن کے بعد عوام کے صبر اور برداشت کا امتحان لیا جاتا ہے وہ یوں کہ اوگرا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا از سر نو جائزہ لیکر اسے نئی قیمتوں کے تناظر میں وضع کرتا ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی یہ قیمتیں نہ تو عالمی مارکیٹ سے مطابقت کھاتی ہیں اور نہ ہی انھیں ملکی رسد اور طلب کے فرق کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے بلکہ اب تو ان قیمتوں کا تعین حکومتی خسارہ پورا کر نے اور اس سے حاصل ہو نے والے منافع کے تناظر میں ہی وضع کیا جاتا ہے۔یہ قیمتیں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں مثلا اگر کسی ماہ ان قیمتوں میں ستر پیسے کمی کی گئی ہے تو اگلے ماہ پانچ سے سات روپے اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ قیمتیں کم، پیسوں میںکی جاتی ہیں اور بڑھائی روپوں میں جاتی ہیں۔حکومت اگر اتنی مہربانی کر دے کہ قیمتیں ششماہی ترتیب سے بڑ ھائی جائیں تاکہ ہر پندرہ یا تیس دنوں کے بعد عوام کو مصیبت کی اس گھڑی کا سامنا نہ کر نا پڑے۔کیونکہ شائد حکمران کو پتا نہ ہو مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ قیمتیں ڈ یزل یا پٹرول کی پانچ روپے بڑھتی ہیں اور اسی روز ٹماٹر کی فی کلو قیمتیں بیس روپے بڑھ جاتی ہیں۔یہ سب کچھ گزشتہ کئی سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے مگر آج تک نہ تو اس کی روک تھام کیلئے کوئی سخت اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں اور نہ زمہ داران کو قانون میں کٹہرے میں لایا جا سکا ہے۔اب تو ذخیرہ اندوز اور مفاد پرست مافیا نے اتنی ہمت پکڑ لی ہے کہ اب وہ جب چاہتے ہیں کسی بھی آئٹم کی قلت پیدا کر کے متوقع مقاصد کی راہ ہموار کر لیتے ہیں۔حکومت کو اس پر قابو پانے کیلئے بہت جلد ایسے سخت اقدامات اٹھانا پڑیں گے تاکہ یہ مٹھی بھر لوگ محض اپنے چند روپوں کی خاطر عوام سے ضروریات زندگی تک آسان رسائی کا حق ہی چھین لیں۔ حکومت کو ہر صورت اس بات کا عوام کو احسا س دلانا ہوگا کہ حکومت اپنی رٹ کو قائم رکھنے کیلئےہر صورت زخیرہ اندوزوں اور مافیاز کے لوگوں کو قطع نظر ان کی حیثیت اور عہدے کے ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


( یاسر خان نیازی ایڈووکیٹ)
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 398
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب (17-11-10)
جواب

Tags
color, com, php, کوشش, کلاس, لوگ, نظر, مہنگائی, موقع, متوقع, مسائل, آج, المبارک, امتحان, جلد, خون, دوست, دعائیں, شام, عید, غائب, غریب, صورتحال, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عوامی حکومت کا اک اور کارنامہ naeemuddin خبریں 3 01-12-09 10:05 AM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger