|
فوجی تاخت، 3 نومبر 2007ء

28-12-08, 09:24 PM
فوجی تاخت، 3 نومبر 2007ء
اردو اصطلاح English term
تاخت
coup
3 نومبر 2007ء کو پاکستان میں برسر اقتدار فوجی آمر پرویز مشرف نے "ہنگامی حالت" کا اعلان کرتے ہوئے آئین کو معطل کر دیا۔ یہ اعلان رئیس عسکریہ کی جانب سے "عبوری آئینی حکم" کے عنوان سے جاری کیا گیا (نہ کہ صدر پاکستان کے دفتر سے)۔ اس وجہ سے مبصرین نے اس ہنگامی حالت کو دراصل martial law قرار دیا ہے، اگرچہ مشرف نے اس لفظ کو استعمال کرنے سے گریز کیا۔ خیال رہے کہ پرویز مشرف صدر کے عہدے پر بھی قابض ہے اور وفاقی اور صوبائی وزرا پہلے ہی مشرف کے تابع اور حمایتی تھے ۔ البتہ اکتوبر 2007ء میں مشرف کے صدارتی انتخاب پر عدالت اعظمی چند روز میں فیصلہ سنانے والی تھی جس کے تحت مشرف کو صدارتی عہدہ 15تنومبر 2007ء کے بعد خالی کرنا پڑ سکتا تھا۔ چنانچہ مشرف نے 3 نومبر کو دوسری بار فوجی تاخت کر دیا۔ اس لیے یہ تاخت عدالت عظمی اور منصف اعظم افتخار چودھری کے خلاف کیا گیا ہے۔ پہلا تاخت مشرف نے 1999ء میں وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی حکومت کے خلاف کیا تھا۔ [1]3 نومبر کو پولیس اور فوج کی بڑی تعداد نے عدالت عظمٰی کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔ اسی دوران جناب افتخار چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمی کے سات رکنی محکمہ نے عبوری حکم میں ہنگامی حالت کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا، اور فوج اور انتظامیہ کو حکم دیا کہ آمر کے غیر قانونی حکم کی تعمیل نہ کی جائے۔[2] تاہم فوجی آمر کے کارندوں نے خبر دی ہے کہ منصفِ اعظم کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی۔ مبصرین نے اس فوجی اقدام کو عدلیہ کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے۔[3] واضح رہے کہ عدالت اعظمی کا ایک گیارہ رکنی محکمہ منصف جناب جاوید اقبال کی سربراہی میں پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب پر چند دنوں میں فیصلہ سنانے والا تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ فیصلہ فوجی آمر کے خلاف ہو گا۔[4] اس کے علاوہ امریکہ کی شہ پر مشرف کی طرف سے بینظیر بھٹو کو عام معافی دینے کے حکم پر بھی عدالت عظمی نظر ثانی کر رہی تھی، جس سے بینظیر کو اقتدار میں شریک کرنے کا امریکی منصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا تھا۔ عدالت عظمی غیرقانونی طور پر "دہشت گردی" کے شبہ میں خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں لیے گئے افراد کو رہائی دلانے کے لیے بھی حکومتی اداروں کو آڑے ہاتھوں لے رہی تھی، جو کہ دہشت پر جنگ میں مشغول مغربی حکومتوں کو ناپسند تھا۔ اس لیے مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ عدلیہ کے خلاف اس کاروائی میں مشرف کو خفیہ طور امریکی آشیرباد حاصل تھی۔[5] مشرف نے اپنی تقریر میں عدلیہ کو بھونڈے انداز میں نشانہ بنایا اور شکوہ کیا کہ کچھ منصفین ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہے تھے اور "دہشت گردوں" کو رہائی دلوا رہے تھے۔[6]
* 1 5 نومبر
* 2 بین الاقوامی ردعمل
* 3 بعد از واقعات
o 3.1 بعد از انتخابات 2008ء
* 4 مذید
* 5 بیرونی روابط
o 5.1 مدونات
* 6 حوالہ جات
5 نومبر
4 نومبر کو اتوار کا دن گزرنے کے بعد پیر کے دن یعنی 5 نومبر کو ملک میں وکلاء کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ لاہور ، کراچی ہائی کورٹ میں پولیس کے ساتھ تصادم میں کئی وکلا زخمی ہوئے۔ اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا پر پابندی بدستور برقرار رہی اور تمام پرائیوٹ چینلز کی نشریات کو اس دن بھی روک دیا گیا۔ اس دن مشرف کی نظر بندی کی افواہ نے بھی زور پکڑا اور میڈیا پر بندش کی وجہ سے اس افواہ نے چند گھنٹوں میں پورے پاکستان کو لپیٹ میں لے لیا۔ کئی سیاسی لیڈروں کو نظر بند کر دیا گیا لیکن پیپلز پارٹی کا کوئی بھی لیڈر گرفتار نہیں ہوا۔ اور نہ ہی ان کے ورکرز نے اس سلسلے میں کسی قسم کا احتجاج کیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اس معاملے میں عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہی۔ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کو اپنے گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر ایمرجنسی کی شدید مذمت کی گئی۔ پاکستان کا کراچی سٹاک ایکسچینج ریکارڈ مندی کا شکار رہا۔ اور مارکیٹ چھ سو پینتیس پوائنٹ کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔
[ترمیم] بین الاقوامی ردعمل
اگرچہ "ہنگامی حالت" کا مقصد عدالت عظمی کو خاموش اور فوجی آمر کے تابع کرنا تھا، مگر مغربی ممالک کے ردعمل میں اعلی عدالتوں کے منصفین کو بجال کرنے کا مطالبہ نہیں ملتا۔ تجزیہ نگاروں نے اس معنی خیز رویے کو خاص طور پر محسوس کیا ہے۔[7] مغربی ممالک کا مطالبہ "ہنگامی حالت" کو ختم کرنے اور نئی قومی اسمبلی کے انتخابات کرانے تک محدود رہا ہے۔
بعد از واقعات
احتجاج کی قیادت وکلاء کے پاس ہے۔ جامعات کے طلباء نے بھی مظاہروں میں حصہ لیا۔ بینظیر بھٹو نےراولپنڈی میں احتجاجی جلسہ اور "long march" کی دھمکی دی۔ اس سے پہلے بینظیر نے اسلام آباد میں امریکی سفیر سے ملاقات کی۔ مبصرین کے نزدیک اس کا مقصد حکومت سے اچھی سودے بازی کرنا ہے۔[8][9] ہوا کا رُخ دیکھتے ہوئے بینظیر نے 10 نومبر کو پہلی دفعہ عدالت عظمی کے منصفین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے پہلے وہ بحران کی اصل وجہ پر بات کرنے سے گریزاں تھی، اور یہی حال امریکی اور برطانوی حکومتوں کا ہے۔ بینظیر نے جناب افتخار چودھری سے ملاقات کی ناکام کوشش بھی کی۔ مبصرین نے بینظیر کو اس نکتہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔[10]
8 نومبر 2007ء کو متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کا سربراہی اجلاس منصورہ، لاہور، میں پولیس کی مداخلت کی وجہ سے نہیں ہو سکا، جس پر قاضی حسین احمد نے احتجاج کا بیان دیا ہے۔
عدالت عظمی کے جن منصفین نے آمر کے "عبوری حکم" کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا، ان سے برا سلوک کرنے کی اطلاعات ہیں۔[11]اس کے علاوہ گرفتار شدہ وکلاء پر تشدد کی خبریں ہیں۔[12]
ہنگامی حالت کی آڑ لیتے ہوئے "آرمی ایکٹ" میں ترمیم کی گئ جس کے تحت عوام پر بھی فوجی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دی جا سکے گی۔[13]
11 نومبر کو پرویز مشرف نے اخبار نویسوں سے بات چیت جرتے ہوئے عدلیہ اور منصف اعظم پر الزامات لگائے، اور اگلے انتخابات "ہنگامی حالت" کے زیرسایہ کرانے کا عندیہ دیا۔[14] جناب افتخار چودھری نے مشرف کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے خلاف کاروائی کا ایک مقصد انتخابات میں دھاندلی کے زریعے اپنے من پسند امیدواروں کا کامیاب کروانا ہے۔ [15]
14 نومبر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جامعہ پنجاب پہنچے جہاں انھوں نے فوجی آمر کی حرکات کے خلاف طلبا کے جلوس کی قیادت کرنے کے بعد کھلے عام گرفتاری دینا تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں نے جامعہ میں عمران سے بدتمیزی کی، اور انھیں حبسِ بیجا میں رکھا اور بعدازاں پولیس نے عمران خان کو گرفتار کر لیا۔ اسلامی جمعیت طلباء طے شدہ حکمت عملی کے تحت پولیس سے مل کر تحریک انصاف کے جلوس کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں تھی۔[16]
15 نومبر کو قومی assembly اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہو گئی۔ اس ادارے کی سیاہ کاریوں میں متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے سترھویں ترمیم منظوری، اور اپنے آخری دنوں میں مسلم لیگ ق کی اکثریت سے فوجی تاخت کی تائید شامل تھے۔[17]
19 نومبر کو فوجی آمر کی ہاتھ سے چنے ہوئے منصفین نے عدالت عظمی کی عمارت میں بیٹھ کر پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات پر اعتراضات باہر پھینک دیے۔ جید وکلا جیل میں ہونے اور عدالت کو تسلیم نہ کرنے کے باعث پیش نہیں ہوئے۔ مخالف وکلا کو عبدالحمید ڈوگر نے برا بھلا کہا اور جیل میں ڈال دینے کی دھمکی دی۔[18]
20 نومبر 2007ء کو مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران اپنی "اعتدال پسندی" کا یقین دلایا۔ مولانا کا کہنا ہے کہ موقع ملنے پر وہ دوسروں سے بہتر نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔[19]یاد رہے کہ انتخابات کا 8 جنوری 2008ء کے لیے اعلان کیا جا چکا ہے، تاہم سیاسی جماعتیں اس تذبذب میں مبتلا ہیں کہ ان میں حصہ لیا جائے یا نہ۔
فوجی آمر نے 21 نومبر کو حکم جاری کیا کہ اس کے 3 نومبر کے بعد کے تمام احکام کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ مبصرین نے اس کے پیچھے محرک کو انجانے مستقبل کا خوف قرار دیا ہے۔[20]
افتخار محمد چودھری نے سیاسی جماعتوں کو ملک کی غیر آئینی صورت حال کے پیش نظر جنوری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر زور دیا ہے۔ یاد رہے "ہنگامی حالت" کے اعلان کے بعد ساٹھ کے لگ بھگ منصفین زیر حراست ہیں۔[21] سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وطن واپس پہنچنے کے بعد عدلیہ کے منصفین کو بجال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔[22]
پرویز مشرف 29 نومبر 2007ء کو رئیس عسکریہ کے عہدے سے سبکدوش ہو گیا۔ پھر بطور صدر اعلان کیا کہ 16 دسمبر 2007ء کو "ہنگامی حالت" "ختم" کر دی جائے گی (یاد رہے کہ "ہنگامی حالت" کا نفاذ رئیس عسکریہ نے کیا تھا)۔[23] حذب اختلاف کی بہت سی جماعتوں نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جب تک عدلیہ کو بجال نہیں کر دیا جاتا۔[24]
پرویز مشرف کی متنازعہ حکومت نے 4 دسمبر 2007ء کو اعلان کیا کہ "ہنگامی حالت عبوری حکم" کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے اعلی عدالتوں کے 37 منصفین کو برطرف کر دیا گیا ہے۔[25] 7 دسمبر کو سعودی سفیر العسیری نے افتخار چودھری سے (جو گھر پر نظر بند ہیں) ملاقات کی۔ مبصرین کے مطابق وہ مشرف حکومت اور عدلیہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کی کوشش میں ہیں۔[26]
13 دسمبر کو بینظیر بھٹو نے منصفین کی بجالی کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے پرویز مشرف کے نکتہ نظر کی حمایت کا اعلان کیا۔[27] 14 دسمبر 2007ء کو مسلم لیگ ن نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے منصفین کی بجالی کو اپنی اولین ترجیع قرار دیا۔[28]
ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے 14 دسمبر 2007ء کو حکم جاری کر کے آئین میں متعدد ترامیم کر دیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ترامیم غیر قانونی ہیں کیونکہ آئین میں ترمیم صرف قومی اسمبلی کر سکتی ہے اور وہ بھی دو تہائی اکثریت کی صورت میں۔ مشرف کی ان حرکتوں سے اس کے خوف زدہ ہونے کی نشان دہی ہوتی ہے۔[29]
17 دسمبر کو اسلام آباد پولیس نے طلبہ، وکلاء، اور سرگرم ارکان کو منصف اعظم افتخار چودھری کی رہائش گاہ (جہاں وہ نظر بند ہیں) کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔[30]
27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد 8 جنوری 2008ء کو ہونے والے انتخابات کو 18 فروری پر ملتوی کر دیا گیا۔[31]
12 جنوری 2008ء کو سابق منصف رانا بھگوان داس کو نظربند کر دیا گیا۔ وکلاء سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ عدلیہ جلد بجال ہو جائے گی۔[32]
23 جنوری 2008ء کو نواز شریف کو نظربند منصف اعظم افتخار چودھری سے ملاقات کرنے سے روک دیا گیا۔[33]
سابق فوجیوں کی انجمن نے پرویز مشرف پر زور دیا کہ وہ صدارت کا عہدہ ملکی مفاد میں چھوڑ دیں کیونکہ وہ ایک تقسیم کرنے والی شخصیت بن چکے ہیں۔[34]
منصف اعظم افتخار چودھری نے پرویز مشرف کی طرف سے اپنے یورپی دورہ میں منصف اعظم کے خلاف الزاماتی بیانات کے جواب میں ایک خط میں پرویز مشرف کو انتہا پسند فوجی جرنیل قرار دیا جس نے اپنی خاطر 60 منصفین کو ٹھکانے لگا دیا، جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔[35]
5 فروری 2008ء کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار سابق فوجیوں، جن میں متعدد اعلی افسر شامل تھے، کی طرف سے پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہرہ کیا گیا۔[36]
18 فروری 2008ء کے انتخابات کے موقع پر پرویز مشرف نے افتخار چودھری کو "زمین کا گند" قرار دیا، اور کہا کہ وہ نئے منتخب وزیراعظم کے "باپ" کا کردار ادا کریں گے۔[37][38]
بعد از انتخابات 2008ء
یہ مضمون عہد حاضر کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے
اس میں درج معلومات تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہیں
انتخابات کے نتیجہ میں منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت 30 روز کے اندر منصفین کو بجال کر دے گی۔ 29 مارچ 2008ء کو اسلام آباد میں منصف خلیل الرّحمن رمدے کا سرکاری گھر جبری خالی کرا لیا گیا۔[39]
31 مارچ 2008ء کو افتخار محمد چودھری نے کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دوسرے منصفین آئین کی بالادستی قائم کریں گے۔ یہ ان کا 24 مارچ 2008ء کو نظربندی ختم ہونے کے بعد پہلا بڑا خطاب تھا۔[40]
عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت اعلانِ مری کے بعد بنی جس میں دونوں فریقوں نے منصفین کو 30 دن کے اندر بحال کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری وعدہ نبھانے پر راضی نہ ہوئے جس کے بعد مسلم لیگ ن نے 12 مئی 2008ء کو اپنے وزراء کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا۔[41] آصف زرداری نے متعدد موقعوں پر اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کا منصفین کی بجالی کا وعدہ کوئ "حدیث" تو نہ تھا جس سے پھِرا نہ جا سکے![42] آصف علی زرداری کے اعلانِ مری سے مُکر جانے کے بعد وکلا نے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ 9 مارچ 2008 کو وکلاء کے قافلے کراچی سے سکھر، ملتان سے ہوتے ہوئے اسلامآباد کی طرف روانہ ہوئے۔ اسے long march کا نام دیا گیا۔[43] انجمن محاماہ عدالت اعظمی کے سربراہ اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ منصفین کی بجالی میں اب پارلیمنٹ رکاوٹ ہے نہ کہ پرویز مشرف۔[44] افتخار چودھری کا ملتان پہنچنے پر گرمجوش استقبال کیا گیا۔[45] 14 جون کو تاریخی قافلے اسلام آباد پہنچے جہاں پارلیمنٹ کے سامنے وکلاء اور سیاستدانوں نے تقاریر میں منصفین کی بجالی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کی عدلیہ سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم مسترد کر دیں۔[46] 10 جولائ 2008ء کو وکلاء نے عدالت اعظمی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں منصفین کی بجالی میں تاخیر پر تنقید کی گئ۔[47]
وکلا نے 19 جولائ کے اجلاس میں حکومت کو منصفین کی بجالی کے لیے 14 اگست 2008ء تک کی مہلت دینے کا اعلان کیا۔[48]
منتخب حکومت اس معاملہ میں اتنی ناقص اور بدنیت ثابت ہوئی ہے کہ منصف خلیل الرّحمن رمدے نے حکومت کو عدلیہ کے اداررے کے بارے میں پرویز مشرف سے بھی برا قرار دیا ہے۔[49]
25 جولائی کو ملتان میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے افتخار محمد چودھری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو ایک تقدس ضرور حاصل ہے لیکن بالادست قانون صرف آئین ہے جسی کی تشریح صرف عدالت کر سکتی ہے۔[50]واضح رہے کہ پیلزپارٹی کے حکومتی ارکان انتخابات کے بعد سے "پارلیمنٹ کی بالادستی" کا راگ آلاپ رہے ہیں۔ 29 جولائ کو افتخار چودھری نے کراچی کا تاریخی دورہ کیا جہاں وکلا اور عوام نے وکلا تحریک میں پرزور شرکت کی۔[51] درین اثنا پیپلزپارٹی کے وزیر قانون نے کہا کہ منصفین کے لیے نئے سرے سے حلف لینا ضروری ہے۔
پیپلزپارٹی کے وزیر قانون نے اعلان کیا کہ جن منصفین نے نیا حلف اٹھانے سے انکار کیا ہے، انہیں معزول سمجھا جائے، جس کی وکلاء تحریک نے مخالفت کی ہے۔ جناب افتخار چودھری نے 18 اکتوبر 2008ء کو کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک ختم ہو گی نہ مرے گی۔[52][53] 27 اکتوبر 2008ء کو علی احمد کرد کے عدالت اعظم کی وکلا انجمن کے صدر منتخب ہونے کے بعد وکلاء تحریک میں نئی روح پڑنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔[54] 3 نومبر 2008ء کو راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئے افتخار چودھری نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ نے 3 نومبر 2007ء کے فوجی تاخت کو قانونی حیثیت نہیں دی اور امید ظاہر کی کہ وہ ایسا نہیں کرے گی۔[55]
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
|
طارق راحیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|