حکمران جماعت پیپلز پا رٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے پیر2نومبر کو پارلیمنٹ ہاوس میں پریس کانفرنس میں
این آر او کا دفاع کرتے ہو ئے فرمایا ہے کہ اگر این آراو متنازعہ ہے تو
قانون توہین رسالت اور حدود آرڈینینس بھی تو متنازعہ وہ کسی کو کیوں نظر نہیں آتے ؟؟؟
پپلزپارٹی کی سیکولر حکومت سے اس طر ح کےبیانات ہی نہیں اقدامات بھی بعید از قیا س نہیں ، صدر اور وزیر اعظم نے بھی اس قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا ہے ؟
لیکن کیا بات یہیں پہ ختم ہو جاتی ہے ؟،
کیا مشرف کو ڈکٹیٹر کہنے والے خو د بھی کہیں ڈکٹیٹر شپ کے خمار میں تو مبتلا نہیں ہو گئے ؟
سوچئے اور تبصرہ کیجئے
۔