| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1910
|
||||
| 12 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | nsa47 (02-11-08), پیاسا (09-08-08), وجدان (11-08-08), ماموں نعمان کا (06-08-08), محمد کاشف حبیب (04-09-08), محمدعدنان (27-08-08), ابن جلال (18-09-08), جان جی (06-09-08), عُکاشہ (12-08-08), عادل سہیل (10-08-08), عبدالقدوس (02-11-08), عبداللہ حیدر (07-08-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پچھلے چند دنوں سے پاکستانی ميڈيا پر ڈاکٹر عافيہ صديقی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبريں اور افواہيں اور اس کے نتيجے ميں اردو فورمز پر جاری بحث سے ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم پوری طرح آگاہ ہے۔ بہت سے دوستوں نے ان فورمز پر مجھ سے يو – ايس –اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کا نقطہ نظر پيش کرنے کا مطالبہ کيا ہے۔
ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کا سب سے پہلا اصول يہ ہے کہ کسی بھی موضوع کے حوالے سے راۓ دينے سے قبل متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے اصل حقائق حاصل کيے جائيں اور الزامات کی تحقيق کی جاۓ۔ جبکہ اسکے مقابلے ميں فورمز پر دوست احباب کسی بھی خبر پر بغيرتحقيق اور ثبوت کے اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہيں۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے متعلقہ حکام سے رابطہ بھی کيا ہے اور تحقيق بھی کی ہے تا کہ "قيدی نمبر650 " کا معمہ حل کیا جا سکے۔ اس حوالے سے ميڈيا پر جو خبريں آ رہی تھيں ان ميں بڑا واضح تضاد تھا۔ مثال کے طور پر قريب تمام اخباری کالم، ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری خبروں ميں يہ دعوی کيا گيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو مارچ 2003 ميں پاکستان ميں گرفتار کيا گيا تھا ليکن امريکی اٹارنی جرنل جان ايش کرافٹ نے ڈاکٹر عافيہ صديقی کو مطلوبہ افراد کی فہرست ميں 26 مئ 2004 کو شامل کيا تھا۔ http://www.accessmylibrary.com/coms2...86-6507794_ITM اگر امريکی حکام نے ڈاکٹر عافيہ صديقی کو سال 2003 ميں گرفتار کر ليا تھا اور وہ اس کی گرفتاری کو خفيہ رکھنا چاہتے تھے (جيسا کہ پاکستانی ميڈيا ميں کچھ صحافيوں نے دعوی کيا ہے) تو پھر امريکی اٹارنی جرنل گرفتاری کے ايک سال کے بعد ان کا نام مطلوبہ افراد کی فہرست ميں شامل کر کے اس کی تشہير کيوں کر رہے تھے؟ ڈاکٹر عافيہ صديقی کے واقعے کے حوالے سے يہ اور ايسے سے بہت سے تضادات ہيں جس کی تحقيق ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کر رہی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر عافيہ صديقی امريکہ ميں ہيں اور آج عدالت کے سامنے پيش ہو رہی ہيں۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو اپنی کہانی سنانے کا پورا موقع ملے گا اور سچ سب کے سامنے آ جاۓ گا۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو اپنے وکيل تک رسائ حاصل ہے اور اگر وہ چاہيں تو انھيں پاکستان کے کونسلر آفيسرز تک رسائ کی اجازت بھی دے دی گئ ہے۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی کے خلاف پيش کی جانے والی چارج شيٹ آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔ http://www.usdoj.gov/opa/pr/2008/Aug...-complaint.pdf ميرے خيال ميں اس حوالے سے افواہوں اورقياس آرائيوں کی بجاۓ عدالت کی کاروائ اور فيصلے کا انتظار کرنا چاہيے تاکہ حقائق سب کے سامنے آ سکيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا | جان جی (06-09-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
جنا فواد صاحب پہلے تو بہت شکریہ آپ کے جواب کا کہ آپ لوگوں نے اس پر کچھ کام کیا۔ ایک بات سمجھ نہیں آئ کہ آپ کے حساب سے انہیں امریکہ نے کب گرفتار کیا ہے؟ میں نے اس چارج شیٹ کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ The Warrant Officer saw and heard SIDDIQUI fire at least two shots as Interpreter 1 tried to wrestle the gun from her. No one was hit. The Warrant Officer heard SIDDIQUI exclaim, "Allah Akbar!" Another interpreter ("Interpreter 2") heard SIDDIQUI yell in English, "Get the fk out of here", as she fired the rifle. The Warrant Officer returned fire with a 9 mm service pistol and fired approximately two rounds at SIDDIQUI's torso, hitting her at least once. کم از کم اس الزام سے تو لگتا ہے کہ آپ لوگ خواتین کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ ایک قیدی جس کا القاعدہ سے باقاعدہ تعلق کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا، اس کو کتنی آزادی اور احترام سے رکھا گیا کہ اس کو ایک عدد رائفل بھی پیش کر دی گئ - ہاں پیش نہیں کی گئ بلکہ اس پی-ایچ-ڈی ڈاکٹر لڑکی نے جس نے اپنی زندگی کے کئ سال تعلیم حاصل کرنے میں ایک عام سی یونیورسٹی میں جہاں کوئ کمپلسری کورس رائفل شوٹنگ کا بھی نہیں تھا، ایک تربیت یافتہ فوجی سے رائفل چھین کر الٹا اپنے محافظوں پر ہی حملہ کردیا - واہ جناب بہت اچھے۔ اس سے تو یہ لگتا ہے کہ وہ خاتون بجائے ڈاکٹری کرنے کے القاعدہ میں سال ہا سال سے جنگی تربیت حاصل کرتی رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عافیہ کے لیے آواز اُٹھائیں: فوزیہ
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا اور وہ بچہ عافیہ کا بیٹا ہوسکتا ہے جسے رہا کیا جائے۔ یہ بات پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف جاری کردہ چارج شیٹ کی نقلیں صحافیوں میں بانٹیں۔ اس چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔ تاہم اس میں یہ نہیں واضح کیا گیا کہ وہ لڑکا بھی امریکی تحویل میں ہے یا نہیں۔ ادھر اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور سفارتخانے کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کا مختصر بیان امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کی موجودگی کی خبر سامنے آنے، اور انکے اہل خانہ کی جانب سے کراچی میں کی جانے والی پریس کانفرنس کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے پاکستانی شہریوں اور اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی بہن بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ’ان کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اسے انسانیت سوز قرار دے کر اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔‘ پاکستان اور امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے بارے میں عدالتوں، سینیٹ، صدر اور وزیراعظم سے درخواست کی گئیں جو کارگر ثابت نہیں ہوسکیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ پاکستان میں میڈیا کا دباؤ بڑھنے کے بعد ان کے خاندان کو یہ اطلاع ملی کہ عافیہ کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ’یکم اگست کو ایف بی آئی کے ایجنٹ نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر عافیہ زخمی ہیں اور امریکی حراست میں ہیں۔ پانچ سال کی گمشدگی کے بعد اس کی گرفتاری ناقابل یقین ہے۔‘ امریکہ میں ملازمت کرنے والی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اب میں نے خاموشی توڑی دی ہے تاکہ آپ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کر سکوں۔ یہ بین اقوامی قانون ہے کہ ہر وہ شخص بے قصور ہے جس پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوجاتا۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ عافیہ کسی جرم میں شریک نہیں رہی ہیں۔ ’ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر پانچ سال تک یہ درج رہا ہے کہ عافیہ سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ ان پر کسی تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام نہیں تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی کے بعد سنہ دو ہزار تین میں ان کی والدہ عصمت صدیقی نے ہیوسٹن اور بوسٹن میں ایف بی آئی اے حکام سے ملاقات کی۔ ’انہوں نے میری والدہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عافیہ زندہ ہیں۔ اسی طرح اسسٹنٹ اٹارنی نے ملاقات میں کہا تھا کہ عافیہ پر دہشت گردی کا الزام نہیں عائد کیا جارہا ہے۔‘ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی نیورو بائلاجسٹ نہیں ہیں۔ ’ان کی مہارت اس میں تھی کہ کمزور ذہنی بچوں کی قوت یادداشت کیسے بڑہائی جائے۔ اس کا کیسمٹری، اور کیمیائی ہتھیاروں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔‘ انہوں نے ایف بی آئی کے الزامات کو بھی رد کیا اور کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے لائبیریا میں ہیروں جواہرات کی کوئی ڈیل نہیں کی۔ ’جولائی دو ہزار ایک میں وہ بوسٹن میں بچوں کے ایک پروگرام اور شہر کو صاف کرنے کی مہم میں مصروف تھیں ان دنوں میں ان کی موجودگی لائبیریا میں ظاہر کی جا رہی ہے۔‘ انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ ان کا موقف بھی سامنے لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ’اگر امریکہ کہتا ہے کہ عافیہ تخریب کار ہیں اور اس کے تخریب کاروں سے تعلقات ہیں تو اسے ایڈٹ کردیا جائے جب تک کہ وہ خود اس کے شواہد نہیں دیکھ لیتے۔ وہ عافیہ کے بارے میں پانچ سال میں کچھ ثابت نہیں کرسکے اور یہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔‘ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ عافیہ کو اپنے ملک واپس لایا جائے جہاں سے اسے گرفتار کیا گیا۔ وہ پاکستانی شہری ہیں اور یہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر اٹھ کھڑے ہوں۔ اور یہ ہے بی-بی-سی سے شائع کردہ ان کی تصویر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مراسلات: 10
کمائي: 216
شکریہ: 0
4 مراسلہ میں 8 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج بازار میں پا بجولاں چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم اور يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ممبر کی حيثيت سے ميرا سرکاری يا دفاعی وکيلوں کی اس ٹيم سے کوئ تعلق نہيں جو اس کيس سے منسلک ہيں، نہ ہی ميں اس کيس کے واقعات کا چشم ديد گواہ ہوں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عافيہ صديقی کے کيس سے متعلق سرکاری الزامات کی سچائ، ممکنات اور مختلف زاويوں پر ميری بحث بے معنی ہے۔
ميں نے صرف اس چارچ شيٹ کا لنک ديا ہے جو کہ عدالت ميں ڈاکٹر عافيہ صديقی کے خلاف پيش کی جاۓ گئ۔ يہ کام سرکاری اور ڈاکٹر عافيہ صديقی کے وکيلوں کا ہے کہ وہ اس چارج شيٹ کو ثبوتوں کی روشنی ميں صحيح يا غلط ثابت کريں۔ ميں اس موضوع پر جو بھی بات کروں گا، وہ صرف ميری ذاتی راۓ اور قياس پر مبنی ہو گی جس سے کوئ مقصد حاصل نہيں ہو گا۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے حوالے سے کچھ دوستوں کی راۓ بالکل درست ہے کہ ہماری جانب سے اس موضوع پر کسی راۓ کے اظہار ميں تاخير کی وجہ يہ تھی کہ ہمارے پاس اس حوالے سے درست معلومات نہيں تھيں۔ کيا آپ کے خيال ميں متعلقہ اہلکاروں سے رابطہ کيے بغير اور حقائق کی تحقيق کی بجاۓ ہماری جانب سے ان الزامات کی ترديد يا تائيد اور قياس آرائ کرنا درست ہوتا؟ کيا اس سے کوئ مقصد حاصل کيا جا سکتا تھا ؟ ہماری جانب سے فوری جواب نہ دينا اور اس واقعے کی تحقيق اس بات کا ثبوت ہے کہ اس مسلۓ کو سنجيدگی سے ليا گيا تھا۔ جيسا کہ میں نے پہلے کہا کہ سب سے اہم بات يہ ہے کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کو عدالت ميں پيش کر ديا گيا ہے۔ انھيں اپنے وکيلوں کی مدد سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا پورا موقع ملے گا۔ کچھ دوستوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کيا ہے کہ انھيں امريکی عدالت سے انصاف نہيں ملے گا۔ امريکہ کے سخت ترين نقاد بھی عمومی طور پر يہ بات تسليم کرتے ہيں کہ امريکی ميں انصاف کا نظام غير جانب دار اور آزاد ہے۔ ماضی قريب اور بعيد سے ايسی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں کہ امريکی حکومت اور امريکی ملٹری کے انتہائ اہم اہلکاروں کو عدالتی کاروائ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور الزامات ثابت ہونے پر انھيں سزائيں بھی ہوئ ہيں۔ ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ اس کيس کے حوالے سے بھی انصاف کے تقاضے پورے کيے جائيں گے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | طاھر (06-08-08) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
امریکی حکام کے مطابق عافیہ صدیقی کچھ ماہ قبل گرفتار ہوئی ہیں ۔۔۔۔ ان کی اخبارات میں شائع ہونے والی تصویر اور حالیہ تصویر کا تقابلی جائزہ لے کر بتائیں کہ دونوں میں چند ماہ کا فرق ہے یا سالوں کا۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ذرا حسن مجتبیٰ کی یہ اسٹوری بھی پڑھ لیں:
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــ ’’اتنی جلدی تو آدمی (نیویارک میں) برانکس سے مینہٹن نہیں پہنچ پاتا جتنے وقت میں آپ لوگ مدعاعلیہ کو افغانستان سے نیویارک لے آئے ہیں۔‘‘ یہ تھے جج ایلس کے الفاظ جو انہوں نے پاکستانی شہری نیورو سائنسدان اور مبینہ طور القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو منگل کی شام نیویارک کی عدالت یونائٹیڈ اسٹیٹس کورٹ سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیاگیا- عافیہ صدیقی کی کسی امریکی عدالت میں پہلی پیشی تھی۔ یونائیٹیڈ اسٹیٹس آف امریکہ بنام عافیہ صدیقی کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے کے ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں موجود تھے۔ ایک عدالتی اہلکار نے عدالت میں لوگوں کے داخلے کو منظم کرنے کے لیے اعلان کیا کہ’’ سب سے پہلے سکیچ آرٹسٹس، پھر فیملیاں، پھر میڈیا کے لوگ اور پھر قانون نافذ کرنے والے۔‘‘ عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔ مدعاعلیان آتے رہے، پیش کیے جاتے رہے- خواتین آرٹسٹ مدعاعلیان کے سکیچ بنانے کے موقع پر ان کو دور بین اٹھا کر دیکھتی رہیں- اتنے میں ایک خاتون عدالت میں داخل ہوتی ہیں جن کے ہاتھ میں فائل ہے جس پر عافیہ صدیقی لکھا ہوا ہے۔اسی دوران ایف بی آئي اور پولیس والے عافیہ صدیقی کو کمرہ عدالت میں لائے- عافیہ صدیقی اپنی وکیل اور وفاقی ایجنٹوں کے سہارے سے چل رہی تھیں- سچی بات تو ہے کہ ایک ہڈیوں کی گٹھری بنی عورت، لاغر اور کمزور۔ اس کی دونوں وکیل اسے سہارا دیکر کرسی پر بٹھانے لگے- سر پر سرخ رنگ کا سکارف یا حجاب، نیلے رنگ کی قمیص اور لمبے سکرٹ میں ملبوس عافیہ صدیقی کو کرسی پر بیٹھنے میں کچھ منٹ لگ گئے۔ ان کی وکیل نے کہا کہ ان کی مؤکل پاکستانی قونصلر سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہیں- جب عدالت کی کارروآئی شروع ہوتی ہے- تو جج نے کہا’’عافیہ صدیقی کھڑی ہوجائیں۔‘‘ عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایا ’’ یور آنر وہ کھڑی نہیں ہوسکتیں- وہ زخمی ہیں- انہیں گولی کا زخم ہے‘‘۔ عافیہ صدیقی کی دوسری وکیل وکیل اییلین وٹفیلڈ شارپ بھی موجود تھی- جج نے عافیہ صدیقی کو کرسی پر بیٹھے جوابات دینے کی اجازت دی- جج نے کارروآئی کے ابتدا میں عافیہ صدیقی کو عدالتی طریقہ کار اور بنیادی قوانین پر عافیہ صدیقی سے وضاحتی سوال کیے۔ اسکیچ آرٹسٹ نے عافیہ صدیقی کا سکیچ تیار کر کے عدالت کے باہر رکھا ہوا ہے مترجم مہیا ہونے کے باوجود عافیہ صدیقی نے جج کے انگریزي زبان میں سوالوں کے انگریزي زبان میں ہی جوابات دیتی رہیں۔ جج نے عافیہ صدیقی سے پوچھا ’کیا تم جانتی ہو کہ حکومتِ امریکہ نے ایک کرمنل کمپلینٹ میں تم پر کیا الزام لگایا ہے۔‘ ’یس‘ عافیہ صدیقی نے نخیف آواز میں جواب دیا۔ جج نے ایف بی آئی کیطرف سے عافیہ صدیقی کیخلاف داخل کردہ فوجداری مقدمے کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔ ان تفصیلات کے مطابق عافیہ صدیقی نے چودہ جولائی دو ہزار آٹھ کو افغانستان میں بتائي گئی گرفتاری سے لیکر امریکی اہلکاروں پر تین اگست دو ہزار آٹھ کو ایم فور رائفل سے تھانے کے اندر حملے اور پھر زخمی اور گرفتار ہونے واقعات بیان کیے۔ عدالت نے عافیہ صدیقی کے وکلاء کی طرف سے اٹھائے جانیوالے سوالوں کا جواب سرکار ی استغاثہ کی طرف سے مقدمے کی سماعت تک مؤخر رکھاگيا- عافیہ صدیقی کیخلاف امریکی حکومت کیطرف سے داخل کردہ کرمنل کمپلینٹ میں کہا گيا ہے کہ انہیں تین اگست کو افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر حملہ کرنے کے اور ان کی طرف سے جوابی فائرنگ میں زخمی ہونے کے بعد گرفتار ہوئي اور چار اگست کو انہیں سیدھا نیویارک لایا گيا- عافیہ پر حکومت امریکہ کے سول و فوجی اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملہ کرنے کا ا لزام لگایا ہے۔ عافیہ صدیقی کی وکیل الزبیتھ فنک نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا عدالت سمجھتی ہے یہ نوے پاونڈ کی عورت ایم فور رائفل امریکی فوجی کے بوٹوں کے بیچ سے اٹھا کر ان پر فائر کر سکتی ہے- اور یہ بڑی مضحکہ خیز تہمت ہے- وکیل نے عدالت سے کہا کہ ’کیا القاعدہ کا دہشت گرد پیلے پردے کے پیچھے چھپ کر امریکی فوجی پر فائر کرسکتا ہے- کیا القاعدہ کے دہشتگرد اب لاغر، نڈھال اور نوے پاونڈز وزن کے ہوتے ہیں؟ کیا اب القاعدہ کا یہ نیا چہرہ ہے؟۔ وکیل نےکہا کہ عافیہ صدیقی کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہےوہ سب کچھ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے- ’اس ایجنٹ نے بھی انہی باتوں کی بنیاد پر مدعاعیلہ کیخلاف نیویارک میں بیٹھ کر کیس بنایا ہے- پانچ ہزار میلوں پرے جو افغانستان میں ہے اسے بیٹھ کر اس ایجنٹ نے نیویارک میں کیسے دیکھا؟ وکیل الزبتھ جج سے مخاطب تھیں- وکیل الزبیتھ نے کہا کہ انہوں نےمنگل کے روز پہلی بار عافیہ صدیقی کو دیکھا ہے اور عافیہ صدیقی اتنے برسوں بعد ’غیر حکومتی آدمی سے پہلی بار مل رہی ہے اور یہ سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے-‘ بہرحال وکیل الزبتھ نے کہا کہ بتایا جاتا ہے کہ خالد شیخ محمد نے اپنی تفتیش کے دوران عافیہ صدیقی کا نام لیا تھا جبکہ اس سے قبل بائیو ٹیرزم یا حیاتیاتی دہشتگردی میں اس کا کوئي تعلق نہیں رہا- یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ ساوتھ ڈسٹرکٹ کے جج ایلس نے عافیہ کیخلاف گواہیاں لانے کیلیے امریکی حکومت کو دس دن کی مہلت دیتے ہوئے مدعاعیلہ پر واضح کیا کہ انیس اگست کو اس مقدمے کی ابتدائي سماعت ہوگي- عدالت گیارہ اگست کو عافیہ صدیقی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرے گی۔ عدالت نے وکیل کی درخواست پر عافیہ صدیقی کا علاج کروانے کا حکم دیا۔ عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایا کہ عافیہ صدیقی کی کمر پر گولی کا زخم ہے اور وہ نہایت ہی تکلیف میں ہے۔ عدالت کی عمارت کےباہر عافیہ کی دونوں وکیلوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ عافیہ نے اپنے اوپر لگائے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
امریکیوں کو پتہ اس وقت چلے گا جب کوئی امریکی سفید فام لڑکی کو پاکستانی جیلوں میں قید کرکے افریقی حبشیوں کو اس کے سیل میں چھوڑ دیا جائے۔ پانچ سال تک اسے قید رکھا جائے اور پھر جب واویلا مچے تو یہ کہنا چاہئے کہ ابھی تو دو دن ہوئے ہیں اور یہ امریکی سفید فام لڑکی ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹینمنٹ کے ایک ریسلر کو چاروں شانے چت کرکے شکست دینے کی مجرم ہے۔ لعنت ہے امریکیو!
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا | پیاسا (09-08-08), وجدان (11-08-08), ابو-عبداللہ (17-08-08), تفسیر حیدر (11-08-08), جان جی (06-09-08), عادل سہیل (10-08-08) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈاکٹر عافيہ صديقی کيس کے حوالے سے اردو فورمز پر جس غم وغصے کا اظہار کيا جا رہا ہے، ميں اسے سمجھ سکتا ہوں۔
ليکن يہ جذبات ان معلومات کی بنياد پر ہيں جو مختلف اخباری کالم اور ميڈيا رپورٹس سے حاصل کی گئ ہيں جن ميں بے شمار تضادات ہيں۔ اب يہ کام عدالت کا ہے کہ وہ حقائق کی تحقيق کرے۔ مثال کے طور پر بی – بی – سی کی ويب سائٹ پر اس آرٹيکل کے مطابق ڈاکٹر عافيہ کی والدہ چند سال قبل انتقال کر چکی ہيں۔ http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/7544008.stm اسی طرح کالم نگار اشتياق بيگ نے 31 جولائ 2008 کو اپنے کالم ميں يہی رپورٹ کيا تھا کہ ڈاکٹر عافيہ صديقی کی والدہ انتقال کر چکی ہيں۔ http://search.jang.com.pk/search_details.asp?nid=294760 حقيقت يہ ہے ڈاکٹر عافيہ کی والدہ حال ہی ميں ٹی وی پروگرام عالم آن لائن ميں مدعو تھيں۔ ميں نے جن کالمز کا حوالہ ديا ہے ان سے حاصل شدہ معلومات نے اس غم وغصے کو اجاگر کرنے ميں اپنا کردار ادا کيا ہے جس کا اظہار تمام فورمز پر کيا جا رہا ہے، ليکن ان تضادات کو يکسر نظرانداز کيا جا رہا ہےجس کا ذکر ميں نے کيا ہے۔ جيسا کہ ميں نے پہلے لکھا تھا کہ ابھی اس کيس کا آغاز ہوا ہے اور ہم اس کيس سے وابستہ حقائق اور واقعات کے تسلسل سے آگاہ نہيں ہيں اور ہم ديکھ چکے ہيں کہ کچھ حقائق ميڈيا ميں درست رپورٹ نہيں کيے گۓ۔ ابھی بہت سے سوالات کے جواب سامنے آنا باقی ہيں۔ ان حقائق کے بغير اپنے راۓ قائم کر لينا دانشمندی نہيں ہے۔ ڈاکٹر عافيہ صديقی بہت جلد عدالت ميں پيش ہوں گی اور ہم ان کی کہانی جان سکيں گے۔ اس کيس کے حوالے سے اگلے چند دنوں ميں بہت سی معلومات سامنے آئيں گی جس سے سچ اور جھوٹ سمجھنے ميں مدد ملے گی۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,620
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب فواد صاحب جب عافیہ کو گرفتار کیا گیا تھا (2003) تو اس وقت پاکستانی احکام اور امریکی احکام دونوں نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ عافیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن صرف چند دنوں کے بعد دونوں ہی منکر ہو گئے تھے۔۔۔
کیا اگر کسی امریکی عورت کو اس کے ملک سے اٹھا لیا جائے اور چند سالوں تک اس کے ساتھ جنسی و جسمانی استحصال کیا جائے تو نام نہاد امریکی انصاف پسند طبقے کو قابل قبول گا؟ کیا اقوام عالم پاکستان یا کسی اور ملک کو اس بات کی اجازت دیتی ہیںجو امریکہ نے کیا وہی امریکی شہریوں کے ساتھ کیا جائے؟ آخر کو اپ بھی پاکستان میں رہتے ہوئے امریکی ملازم ہیںکیا اس طرح کا کوئی الزام لگا کر کچھ اس طرح کا ہی ۔۔۔۔۔ اپ کا ذاتی ردعمل کیا ہو گا؟ امریکہ اربوں ڈالر لگا کر جو کچھ حاصل کرنے میںکوششاں ہے وہ چند احمقانہ حرکتوںسے ضائع کر دیتا ہے۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
سوال مقدمہ چلنے کا اور فیصلہ ہونے کا نہیں ہے، امریکی درندوں کے ہاتھوں میںہونے کے بعد آپ لوگ یہ بھول جائیں کہ آپ کا فیصلہ غیر جانبدارانہ ہوگا، جہاںتک بات رہی پاکستانی وکیلوں کی اور سفارتخانے کی تو کیا یہ لوگ فرشتے ہیںجو کسی دباو کے بغیر ڈاکٹر عافیہ کا کیس لڑیںگے،
سوال یہ ہے کہ ایک پڑھی لکھی خاتون جو امریکہ میں ہی رہی ہو، جب پاکستان آتی ہے تو دھشت گردوںکی لسٹ میں شامل ہوجاتی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ یہ دھشتگردی ٹریننگ اسکو آخر دی کس نے، جس سے امریکی اتنے خوفزدہ ہیںکہ انکی راتوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سفید چمڑی والے کوئی بھی کام کرنےسے پہلے اسکی وجوہات بناتے ہیں، کاغذات کالے کرتےہیں بہت سے میر جعفر خریدے جاتے ہیں اور پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلئے ثبوت پیدا کرتے ہیں، اب آپ اس فواد کو ہی دیکھ لیں کیسے یہ بندہ بیٹھ کر ویب سائٹس کے لنک نکالتا ہے صرف جھوٹ کو سچ کرنے کے لیئے کتنا زور لگاتا ہے۔ دیکھیںنا اگر میں کہوں کہ میرے سر پر 85کروڑ 99لاکھ 55ہزار 9سو 71 بال ہیں تو کوئی کیسے اس بات کو جھٹلائے گا۔ ظاہر ہے یہ صاحب بیٹھے ہی اس کام کے لئے ہیںکہ اپنے سر کے بال (نام نہاد اعدادوشمار) بتا بتا کر سب کو قائل کرے۔ آخر پیسے تو اسی کام کے ملتے ہیں نا۔ |
|
|
|
| وجدان کا شکریہ ادا کیا گیا | پیاسا (11-08-08) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ نے ميرے "طريقہ کار" کا بالکل درست تجزيہ کيا ہے۔ کسی بھی موضوع پر محض اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی بجاۓ ميری کوشش ہوتی ہے کہ درست اعداد وشمار حاصل کيے جائيں اور محض ميڈيا کی قياس آرائيوں کی بنياد پر اپنی راۓ قائم کرنے کی بجاۓ متعلقہ افراد سے براہراست رابطہ کر کے ميڈيا کی "توڑ مروڑ"سے پاک اصل بيان حاصل کيا جاۓ۔ يہ ميرا ذاتی تجربہ ہے کہ اکثر اوقات ميڈيا ميں بيانات کو سياق و سباق سے ہٹ کر شائع کيا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حقائق کی تحقيق ميں وقت درکار ہوتا ہے۔ کيا آپ کی تنقيد کا سبب يہ تو نہيں کہ اعداد وشمار بعض اوقات عمومی تاثر اور جذباتی کيفيت کی ترجمانی نہيں کرتے جو کسی موضوع کے حوالے سے آپ محسوس کرتے ہيں۔ حقيقت يہ ہے اعداد وشمار اور "اصل بيانات" کی تحقيق بعض اوقات مجھے بھی کسی خبر کے حوالے سے اپنی ابتدائ راۓ تبديل کرنے پر مجبور کر ديتی ہے۔ ليکن ميرے نزديک کسی بھی فورم پر تعميری بحث کے ليے جذباتيت کے مقابلے ميں يہ طريقہ کار زيادہ کارآمد ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, digital, email, fawad, کورٹ, پولیس, پاک, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, لوگ, موقع, اللہ, الزام, امریکہ, تصویر, جواب, حال, خواتین, عورت, عالم, عدالت, صدیقی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|