واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


متحدہ لسانی سے قومی سیاست کی جانب کیوں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-04-11, 11:05 PM   #1
متحدہ لسانی سے قومی سیاست کی جانب کیوں؟
عارف اقبال عارف اقبال آف لائن ہے 17-04-11, 11:05 PM

وارث رضا

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں عوام کی خوشحالی اور جمہوری حقوق کی امیدیں ایک ایسا خواب بن چکی ہیں جس کی تعبیر تاریخ کے گم گشتہ صفحات کی سی ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں عوام کو حقوق دلانے کے نعروں تلے مختلف سیاسی جماعتیں ایک طویل عرصے سے عوام کو جمہوری اور سیاسی آزادی کے لولی پوپ سے بہلا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب اس حقیقت سے انکار نا ممکن ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والی یہی عوامی جماعتیں ملک اور بیرون ملک کی طاقتور قوتوں کے ساتھ مل کر ان کے طبقاتی، گروہی، ادارہ جاتی مفادات کو پورا کرنے میں عوام کے بنیادی حقوق کا سودا کرتے کبھی نہیں جھجکتیں،بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والی یہ سیاسی جماعتیںاب ایک ایسے کلب کی شکل اختیار کر چکی ہیں جن سے عوام کے لیے کسی کار خیر کی امید رکھنا عبث معلوم ہوتا ہے۔

پی پی پی سے لے متحدہ قومی موومنٹ تک کی اقتداری سیاسی جماعتیں اپنی شعلہ بیانی سے عوام کے ووٹ حاصل کرنے کا ہنر تو جان چکی ہیں مگر مسلم لیگ (نواز) اور اے این پی سمیت متذکرہ سیاسی اقتدار کی شریک جماعتیںاس امر سے نا واقف ہیں کہ سیاسی تاریخ کا بھی ایک ایسا کٹہرہ ہوتا ہے جو کہ زمانے میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اس کے حافظے میں ماضی سے لے کر حال تک سبھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ تاریخ کے اسی تسلسل سے عوام کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاسی کلچر میں عمومی طور سے اقتدار کے ایوانوں کی من پسند سیاسی قوتیں یہ بھول جاتی ہیں کہ عوام کا سیاسی شعور اور آگہی بتدریج اپنے اندر تبدیلیاں لاتا ہے جو کہ آخری نتیجے میں عوام کے پہچان کی صلاحیتوں کو زرخیز کرتا ہے ۔

آج ملک کی سیاسی ہلچل میں سندھ میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ،بھتہ مافیا اور لاقانونیت زیر بحث مسئلے ہیں۔ ملک کی کمزور جمہوری حکومت میں پی پی پی اور متحدہ قومی اور صوبائی سطح پرایک دوسرے کی اتحادی جماعتیں ہیں، جبکہ دونوں جماعتوں کا یہی دعویٰ ہے کہ وہ کچلے، پسے اور عوامی حقوق سے محروم طبقات کی وہ نجات دہندہ جماعتیں ہیں جو کہ کچلے ہوئے طبقات کی تقدیر بدلنے کا کام کر رہی ہیں،اور شاید ان کے علاوہ اور کوئی قوت ایسی نہیں جو عوام اور پسے ہو ئے طبقات کے مسائل اور مشکلات کو سمجھ سکے۔ اس تناظر میں پی پی پی کے متعلق اس خیال کو مان لیا گیا ہے کہ وہ وڈیروں اور جاگیرداروں کے دبدبے سے ووٹ لے کر اقتدار میں پہنچتی ہے جبکہ عوام کے حقوق کے نام پر عوام کے بنیادی حقوق سے اس طور عہدہ بر آ نہیں ہوتی جس کا دعویٰ وہ اپنے منشور یا جلسوں میں کرتی ہے۔ سندھ کی سیاسی قوت میں متحدہ قومی موومنٹ بھی ایک اہم اور مرکزی کردار کے طور پر ہماری ملکی سیاست کا حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ متحدہ کے متعلق مختلف رائے رکھنے والے حضرات بھی موجود ہیں تو متحدہ کا دم بھرنے والے افراد بھی سندھ کی شہری آبادیوں میں موجود ہیں۔ اب مہاجر قومی موومنٹ کی لسانی بنیاد رکھنے والی جماعت کس طرح قومی سیاست میں ملک کے عوام کو متاثر کرے گی،یہ آج کا وہ سوال ہے جو موجودہ سیاسی منظر نامے میں کسی حد تک اہم ہونے کے ساتھ ساتھ تجزیے کا طلبگار ہے۔

سیاسی تاریخ میں عوام کو با خبر رکھنے میں سیاسی جماعت کی سوچ اور اس کا سیاسی کردار ہمیشہ اہمیت کا حامل ہو تا ہے،اس حوالے سے یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پی پی پی کی سیاسی جماعت کا وجود دنیا میں سوشلزم کے دباﺅ کے تحت ہوا تھا ،اور یہی وجہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کی طاقت کو جمہوری سیاست کا اہم جزو قرار دیا تھا جبکہ سوشلزم کے معاشی نظام کو عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے استعمال کیا تھا، بعد کے حالات اور پی پی پی کے اقتدار نے ثابت کیا کہ مذکورہ نعرے محض اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ اسی طرح نیپ، جو کہ اے این پی کی صورت میں موجود ہے، کا نقطہ نظر یہ تھا کہ عالمی سامراج کے عوامی استحصال سے نجات کا واحد طریقہ بائیں بازو کی فکری اساس ہے،مگر آج کے تناظر میں اے این پی امریکی سامراج کو نجات دہندہ کے طور پر اپنائے ہوئے ہے۔ ملک کے سیاسی منظر نامے میں فوجی آمر کے زور بازو پر وجود میں آنے والی مسلم لیگ (نواز) آج فوج اور سامراج کے تسلط سے ملک کو نجات دلانے کی باتیں کر رہی ہے۔ جبکہ آمر ضیا کی ضرورت اور پی پی پی کو شہروں کی سیاست سے بے دخل کرنے کے حوالے سے سندھ کی سیاست کو لسانی رخ دینے میں مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد ایک ایسا موڑ تھی جس نے سندھ کے شہروں میں لسانیت کے نام پر شہری عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کا جواز پیدا کیا۔

مہاجر قومی موومنٹ کے قیام سے لے کر آج تک سیاست میں ایم کیو ایم ملکی عوام کو متاثر کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کر رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ نفرت پر مبنی لسانی سیاست سے آغاز کرنے والی ایم کیو ایم کو مجبوراً آمر مشرف کے دور میںخود کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کرنا پڑا، جس کے لیے آمر مشرف نے شہری حکومت کا غیر آئینی آرڈیننس نافذ کیا اور بلا شرکت غیرے کراچی کی شہری حکومت متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے کر دی۔ آج متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت شہری حکومت کی کا رکردگی کے حوالے سے پورے ملک میں انقلاب لانے کی نوید سنا رہی ہے۔ جبکہ تجزیہ نگاروں کی رائے میں متحدہ قومی موومنٹ ملک سے جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کے شکنجے سے عوام کو نجات دلانے کا دعویٰ ضرور کرتی ہے مگر دوسری جانب متحدہ کی شہری حکومت کی کا ر کردگی اور آمر مشرف کے دور میں بلا شرکت غیرے اقتدار کی مالک ہونے کی دعوے دار یہ قیادت آج تک سندھ کے شہری نظام میں عوام کو وہ بنیادی سہولیات دینے سے قاصر رہی ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔

متحدہ کی شہری حکومت کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا کہ اس نے شہر میں ترقیاتی کام کروا کر شہر کی تقدیر بدل دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ شہر کی ترقی روڈ، راستوں یا پارکوں کی آرائش سے دیکھی جاتی ہے یا عوام کے بہتر معیار زندگی سے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے متحدہ کی شہری حکومت آج تک تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ متحدہ کی شہری حکومت کے دور میں کہا گیا کہ ناجائز تجاوزات سے شہر کو پاک کر دیا جائے گا ،مگر دوسری جانب اکثر عوامی پارکوں میں ایم کیو ایم کے دفاتر ہنوز قائم ہونا کس بات کی دلیل ہے؟ اسی طرح آمر مشرف کی اہم اتحادی جماعت کے طور پر متحدہ نے سب سے زیادہ منافع دینے والی کے ای ایس سی کو نجکار کروایا جس کے نتیجے میں کراچی کے عوام آج بھی بری طرح لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ اب بھی کے ای ایس سی اور سی پی ایل سی میں نگران کے طور پر متحدہ کے افرادکام کر رہے ہیں، مگر کراچی لاقانونیت اور بجلی کی اہم ضرورت سے ہنوز محروم دکھائی دیتا ہے۔

مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ میں تبدیل ہونے والی جماعت کا سیاسی جائزہ یہ بتاتا ہے کہ مہاجروں کے حقوق کے نام پر کراچی کو اسلحے کا ایک ایسا ڈھیر بنایا گیا جہاں سے آج تک اسلحے کی طاقت کو ختم کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ گو متحدہ نے اسلحے سے پورے ملک کو پاک کرنے کا بل قومی اسمبلی میں جمع کروایا ہے مگر تجزیہ کاروں کے نزدیک اسلحے کے خاتمے میں متحدہ پہل کر کے ایسا مثبت کردار ادا کرنا نہیں چاہتی جس سے اس پر لگا الزام ختم ہو سکے۔ اسی طرح متحدہ کی لسانی سوچ آج بھی اس کے کارکنوں میں لازمی جز کے طور پر شامل ہے، جس کا اعادہ کارکنان کی عمومی گفتگو میں لگایا جا سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک متحدہ قومی موومنٹ ملکی اسٹیبلشمنٹ کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ قومی سطح کی پارٹی بننے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے، جبکہ قومی سیاسی جماعت نہ بننے کی ناکامی بھی متحدہ دوسری سیاسی قوتوں پر تھونپ کر آخری نتیجے میں اپنے بنیادی مرکز سندھ کے شہروں کی سیاست کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے آج کل متحدہ نے اپنے آپ کو دوسرے صوبوں تک لے جانے کا آغاز کیا ہے۔ قومی سیاست کرنے والے دوسرے صوبے اور عوام کی جانب سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں متحدہ کے دوبارہ سے سکڑنے اور محدود ہونے کے شواہد دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ اپنے مرکز یعنی کراچی اور حیدرآباد کی لسانی مہاجر اکثریت کو ہی قابل اعتبار سمجھتی ہے، جس کے ثبوت کے طور پر لاہور کے جلسے میں سندھ کے شہروں سے نہ صرف 10ہزار کارکنوں کو ٹرین اور جہازوں سے لے جانا بلکہ کراچی کے میڈیا کی اکثریت کو بھی ساتھ رکھناہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ایک عرصہ پہلے یہ کوشش کی گئی کہ وہ اپنا چہرہ عالمی قوتوں کو سیکولر جماعت کے طور پر دکھائے۔ اسی حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی اور سندھ میں دہشت گرد طالبان کی آمد کا شور مچانا شروع کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ مذہبی تنگ نظر افراد کے مقابلے میں ایک بہتر سیکولر سوچ کی جماعت ہے۔ جبکہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد یک لخت متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی فلسفے میں ایک ایسی تبدیلی محسوس کی گئی جو کہ ملکی طاقتور اداروں کی سوچ کے ساتھ نتھی تھی۔ اسی دوران متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے امریکہ اور نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ریلی بھی نکالی گئی۔ یہ شواہد اس بات کا عندیہ دیتے نظر آتے ہےں کہ متحدہ قومی موومنٹ ملکی اور عالمی طاقتوں کو بیک وقت خوش رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اور یہ قیاس بھی کیا جا سکتاہے کہ اقتدار کے ایوانوں میںمتحدہ قومی موومنٹ کو بحیثیت قومی جماعت لانے کی یقین دہانیاں کرائی گئی ہوں کیونکہ اسی دوران ایم کیو ایم کی جانب سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر قومی سطح پر متحدہ قومی موومنٹ کو اقتدار دے دیا جائے تو وہ عوام کی مدد سے انقلاب لے آئے گی۔ سوال یہ ہے کہ سیکولر سوچ کی جماعت مذہبی انتہا پسندوں کے طالبان کی مخالفت کو کیوں بھول بیٹھی ہے یا متحدہ کیونکر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ریمنڈ ڈیوس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتی تھی؟

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے تسلسل کے ساتھ عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی جماعت کے طور پر سامنے آنا چاہتی ہے جو انقلابی جماعت کا کام کر سکے۔ عوامی انقلاب کے تناظر میں ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے یہ بھی کہا جاتارہا کہ پاکستان کے محب وطن جرنیل عوام کے ساتھ مل کر وڈیروں، جاگیر داروں، سرداروں کے خلاف انقلاب لائےں جس پر متحدہ قومی موومنٹ پر شدید تنقید بھی کی گئی۔ ملکی سیاسی کھیل میں اس تنقید کو بھانپتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ نے انقلاب کے فلسفے میں ترمیم کی اور کہا کہ وہ جمہوری طریقے سے عوام کی مدد سے اعلیٰ طبقات کے خلاف انقلاب لانا چاہتی ہے۔سوال یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ 1988ءسے لے کر آج تک کسی نہ کسی طرح جاگیرداروں، وڈیروں اور آمروں کی حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اور آج بھی بقول احسن اقبال ”متحدہ قومی موومنٹ جاگیرداروں اور وڈیروں سے تو جان چھڑانا چاہتی ہے مگر کیا متحدہ اس بات کا جواب عوام کو دے سکے گی کہ اس نے سندھ کے وڈیرے آصف علی زرداری کو صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد کیا جبکہ متوسط طبقے کے جسٹس سعید الزماں کو صدر کے عہدے پر شکست دلوائی“۔ اسی کے ساتھ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کو لٹیروں، جاگیر داروں، سرمایہ داروں ، سرداروں اور اعلیٰ طبقات کے ظلم اور ستم سے نجات دلائے گی مگر دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان اسمبلی کے اثاثوں پر عمومی نظر ڈالی جائے تو آج بھی متحدہ قومی موومنٹ کے وزرا اور ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی ایک ایسے اعلیٰ طبقے کا روپ اختیار کر چکے ہےں جو متوسط طبقے سے بلند تر ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے لاہور کے جلسے میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کی ہونے والی تقریر کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک ایسی تقریر کہی جا سکتی ہے جو متحدہ کے کارکنان تک تو رسائی حاصل کر سکتی ہے مگر قومی سطح پر پوری نہیں اترتی۔ متحدہ کے قائد کی تقریر میں یہ کہا گیا کہ ایمان دار لوگوں کا احتساب کمیشن بنایا جائے گا، میٹرک تک تعلیم مفت دی جائے گی، کاٹیج انڈسٹری کا جال بچھایا جائے گا، مڈل کلاس کے لوگوں کو جمع کر کے انقلاب برپا کیا جائے گا، ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے گا اور سب سے زیادہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہو گی اور ریاست ہی تعلیم دلوائے گی۔ تقریر کے مندرجات متحدہ قومی موومنٹ کی اب تک کی کارکردگی سے واضح تضاد رکھتے ہےں۔ کیا اس بات کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ کراچی اور حیدر آباد کی شہری حکومت کے ترقیاتی کاموں میں ایماندارانہ رویہ اختیار کیا گیا؟ اس بات سے کیسے منہ موڑا جا سکتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی شہری سیاست نے ہی کراچی کی انڈسٹری کو دوسرے صوبوں تک منتقل کیا اور اب متحدہ قومی موومنٹ کس طرح کاٹیج انڈسٹری کا جال بچھانے کا دعویٰ کرتی ہے؟ متحدہ کے لاہور میں ہونے والے جلسے میں تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا گیا جو کہ یقینا ایک مثبت بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ 1988ءسے لے کر آج تک متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں میں کس قدر تعلیم کا رجحان پیدا کیا یا شہری تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی جانب کوئی قدم اٹھایا؟ آج بھی سندھ کی جامعات سے جعلی ڈگریاں آسانی سے حاصل ہو جاتی ہےں۔

لاہور کے جلسے میں دس ہزار کارکنان کی شرکت کے علاوہ پنجاب کے عوام کی جانب سے سرد مہری کا مظاہرہ یہ عندیہ دیتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ جلد یا بدیر لوٹ کر دوبارہ لسانیت کے پردے میں اپنی سیاست کو جاری رکھنے کی طرف آئے گی جبکہ قومی سیاست سے نکالے جانے کا الزام دوسری اقوام پر تھونپ کر اپنی سیاست کے گڑھ کو از سر نو مضبوط کرے گی۔
ہمشہری
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

 
عارف اقبال's Avatar
عارف اقبال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 312
Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-04-11)
پرانا 17-04-11, 11:38 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-04-11), عارف اقبال (17-04-11)
پرانا 18-04-11, 12:25 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
گر سوال یہ ہے کہ 1988ءسے لے کر آج تک متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں میں کس قدر تعلیم کا رجحان پیدا کیا یا شہری تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی جانب کوئی قدم اٹھایا؟ آج بھی سندھ کی جامعات سے جعلی ڈگریاں آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے
ابھی تک ایم کیو ایم کی کسی بھی صوبائی اور قومی اسمبلی کے کارکن کی ڈگری جعلی نہیں ہے اور رہی بات سندھ کے تعلیمی نظام کی تو ایم کیو ایم صرف دو شہروں کی جماعت ہے حیدرآباد اور کراچی اس میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ سندھ کا تعلیمی نظام بدلے ۔مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے ایم کیو ایم پر تھریڈ بن رہیں ہیں اور مجھے سے کسی نے کہا تھا کہ جس کی جتنی مخالفت کرو گے وہ اتنی ہی تیزی سے ابھرے گی لگے رہو ایم کیو ایم کو بڑھانے میں
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 12:32 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک بات واضع کر دو ایم کیو ایم کی بنیاد جب پڑھی جب سندھ میں اردو طبقے کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی انہیں جوب نہیں دی جا رہی تھی تعصب کی انتہا کر دی تو ایم کیو ایم کی بنیاد پڑھی اور اب بھی بہت تعصب ہے سندھ میں اردو طبقے سے ۔ میں آپ کو اپنا تجربہ شیر کرتا ہو میں جہاں بھی جوب کے لیے جاتا ہو تو انٹرویو والوں کا پہلا سوال ہوتا ہے سندھی آتی ہے میرا جواب جب نہیں ہوتا ہے تو کہتے ہیں آپ جا سکتے ہو ۔سندھ میں ہر اردو کے ساتھ یہی ہے۔
سندھ سے کوٹہ سسٹم ہٹ جائے ،میرٹ پر جوب ہو اور اردو کے ساتھ تعصب نہ ہو تو ایم کیو ایم اس دن خود ختم ہو جائے گی ورنہ لوہے کو لوہا کی کاٹتا ہے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 01:05 AM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ کوٹہ سسٹم اصل میں‌ہے کیا؟‌ کیونکہ مجھے ابھی تک اس کی سمجھ نہیں آئی، کیا اپ تفصیل سے بتا سکتے ہیں؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 01:29 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ہم تو ٹھہرے اجنبی مراسلہ دیکھیں
یہ کوٹہ سسٹم اصل میں‌ہے کیا؟‌ کیونکہ مجھے ابھی تک اس کی سمجھ نہیں آئی، کیا اپ تفصیل سے بتا سکتے ہیں؟
میں تو اس دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا جب یہ لگا تھا والد صاحب بتاتے ہیں کہ جب ضیاالحق نے بھٹو کو پھانسی دی تھی تو اس نے سندھیوں کو خوش کرنے کے لیے سندھ میں کوٹہ سسٹم کو نظام لگایا تھا کوٹہ سسٹم سے مراد اگر ۱۰۰ جوب ہے تو ۹۰ صرف سندھیوں کی باقی ۱۰ پنجابی ،اردو ،بلوچی ،پختونوں اور دوسری زبان والوں کی ہے اور یہ کوٹہ سسٹم سندھ میں ہے اور سندھ میں ہی قومی شناختی کارڈ تک سندھی زبان میں ہے تعصب کی حد کر دی یہ میں نہیں آپ کسی سے بھی پوچھ لوں چاہیے وہ پنجابی یا کوئی اور ہی کیوں نہ ہو سندھی صرف یہ چاہتا ہے کہ صرف سندھی ہو سندھ میں اور کچھ نہیں۔اسٹوڈنیٹ لائف میں بہت تجربہ ہو رہا ہے انکے ساتھ رہتے ہوئے۔
مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے لیکن جب کچھ ایسا ویسا ہوتا ہے تو غصے میں کچھ لکھ دیتا ہو اسکے لیے پیشگی معذرت لیکن جو کچھ لکھا وہ سچ ہے۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 01:44 AM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : wajee مراسلہ دیکھیں
میں تو اس دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا جب یہ لگا تھا والد صاحب بتاتے ہیں کہ جب ضیاالحق نے بھٹو کو پھانسی دی تھی تو اس نے سندھیوں کو خوش کرنے کے لیے سندھ میں کوٹہ سسٹم کو نظام لگایا تھا کوٹہ سسٹم سے مراد اگر ۱۰۰ جوب ہے تو ۹۰ صرف سندھیوں کی باقی ۱۰ پنجابی ،اردو ،بلوچی ،پختونوں اور دوسری زبان والوں کی ہے اور یہ کوٹہ سسٹم سندھ میں ہے اور سندھ میں ہی قومی شناختی کارڈ تک سندھی زبان میں ہے تعصب کی حد کر دی یہ میں نہیں آپ کسی سے بھی پوچھ لوں چاہیے وہ پنجابی یا کوئی اور ہی کیوں نہ ہو سندھی صرف یہ چاہتا ہے کہ صرف سندھی ہو سندھ میں اور کچھ نہیں۔اسٹوڈنیٹ لائف میں بہت تجربہ ہو رہا ہے انکے ساتھ رہتے ہوئے۔
مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے لیکن جب کچھ ایسا ویسا ہوتا ہے تو غصے میں کچھ لکھ دیتا ہو اسکے لیے پیشگی معذرت لیکن جو کچھ لکھا وہ سچ ہے۔

میرا خیال ہے کہ آپ کے والد صاحب کی اطلاعات غلط تھیں۔

کوٹہ سسٹم بھٹو صاحب نے شروع کیا تھا نا کہ ضیاءالحق نے۔

گو کہ کوٹہ سسٹم میرٹ کی موت ہے لیکن دوسری طرف اس کا مقصد دیہی علاقے کے لوگوں کو سرکاری اداروں میں روزگار فراہم کرنا تھا۔

متحدہ کی بنیاد کوٹہ سسٹم پر رکھی گئی اور باوجود اس کے کہ متحدہ ایک عرصے سے مختلف حکومتی اتحادی رہی، کوٹہ سسٹم کے خلاف کوئی باقاعدہ تحریک نہ چلا سکی اور شاید چلانا بھی نہیں چاہتی۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 01:50 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,202
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں
میرا خیال ہے کہ آپ کے والد صاحب کی اطلاعات غلط تھیں۔

کوٹہ سسٹم بھٹو صاحب نے شروع کیا تھا نا کہ ضیاءالحق نے۔

گو کہ کوٹہ سسٹم میرٹ کی موت ہے لیکن دوسری طرف اس کا مقصد دیہی علاقے کے لوگوں کو سرکاری اداروں میں روزگار فراہم کرنا تھا۔

متحدہ کی بنیاد کوٹہ سسٹم پر رکھی گئی اور باوجود اس کے کہ متحدہ ایک عرصے سے مختلف حکومتی اتحادی رہی، کوٹہ سسٹم کے خلاف کوئی باقاعدہ تحریک نہ چلا سکی اور شاید چلانا بھی نہیں چاہتی۔

والسلام

طاہر

جہاں تک میری معلومات ہے باقی پوچھ کر لکھ دو گا اور ہاں ایم کیو ایم آواز اُٹھائے گی جب قومی لیول پر آئے گی ورنہ متحدہ نے ابھی کچھ کرا تو شہروں کا قبرستان بن جائے گا وہ طاقت میں آئے تو جب کام کرئے گی یہ مجھ سے سندھ اسمبلی کے ممبر نے کہا تھا ۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-04-11), طاھر (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 02:04 AM   #9
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : wajee مراسلہ دیکھیں
جہاں تک میری معلومات ہے باقی پوچھ کر لکھ دو گا اور ہاں ایم کیو ایم آواز اُٹھائے گی جب قومی لیول پر آئے گی ورنہ متحدہ نے ابھی کچھ کرا تو شہروں کا قبرستان بن جائے گا وہ طاقت میں آئے تو جب کام کرئے گی یہ مجھ سے سندھ اسمبلی کے ممبر نے کہا تھا ۔
حکومتی حلیف ہو کر بھی اگر متحدہ اپنے کاز پر‌آن ریکارڈ آواز نہ اٹھائے تو کیا کیجیئے؟

خیر میری بھی یہ دلی خواہش ہے کہ متحدہ اپنے قیام کی وجوہات پر کام کرے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-04-11), فرحان دانش (18-04-11)
پرانا 18-04-11, 11:16 AM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کوٹہ سسٹم کیا سرکاری سطح پر نافذ‌ہوتا ہے یا پھر پرائیوٹ اداروں کو بھی اس کو لاگو کرنا ہوتا ہے؟
ویسے "آبادکاروں" اور سندھی مقامی افراد کا کوٹہ سسٹم میں‌ کیا حصہ ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-04-11, 11:43 AM   #11
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,206
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,163 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

اگرہم کوٹہ سسٹم کی بات کریں تو یہ سب سے پہلے بھٹو نے کراچی پرلگایا جس کا مقصد سندھ کے لوگوں کو کراچی میں نوکریاں دلواناتھا۔ اس میں میرٹ کی کوئی وقعت نہ رہی اور اداروں کوکافی نقصان ہوا۔ 10 سال بعد جب اس کی مدت ختم ہونے والی تھی توضیاء الحق نے اس میں مزید 10 سال کا اضافہ کردیانیزجماعت اسلامی کراچی کی نمائندہ جماعت کی حیثیت سےغیراسلامی قانون پر دستخط کئے۔ جسکا مقصد اب کی بارپنجاب کے لوگوں کو کراچی پر مسلط کرنا تھا۔

اگرغورکریں توآج ہم اس قانون کے نتائج بھگت رہے ہیں ہرادارہ تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ جہاں میرٹ پر اقربا پروری کو ترجیح دی جائے وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں ملازمتوں کیلئے کوٹہ سسٹم اِسلام کے منافی ہے لیکن کچھ کے بقول آج بھی یہی کوٹہ سسٹم پاکستان میں اہم کرداراَداکر رہا ہے۔

شاید آپ لوگوں کو یاد ہو کہ لاسٹ ایئر گیلانی نے ہتھیاروں کے لائسنس کے متعلق کوٹہ سسٹم متعارف کروایا تھا جس کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ہر رکن ممنوعہ ہتھیاروں کے سالانہ 25 اور غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے ماہانہ 20 لائسنس جاری کرسکتا ہے یا کرے گا واللہ اعلم۔

منتظمین بھائی کی بات کے پہلے حصے کا جواب کہ کیا کوٹہ سسٹم کیا سرکاری سطح پر نافذ‌ہوتا ہے یا پھر پرائیوٹ اداروں کو بھی اس کو لاگو کرنا ہوتا ہے؟ اگرآپ کوٹہ سسٹم کی تعریف پڑھے تو معلوم ہوگا اسکا نفاذ کہاں کہاں اور کس مقصد کے تحت ہوتا ہے۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کراچی, پہچان, پسند, قدم, نفرت, نظر, مفت, موجودہ, منتقل, منشور, ممکن, مسائل, معلوم, ایمان, الزام, امریکہ, اعلیٰ, تعلیم, جواب, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, سیاست, سودا, طالبان, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مولانا فضل الرحمن نے سیاست میں بڑا کردار ادا کرنے کے لئے امریکہ سے مدد کی درخواست کی، وکی لیکس گلاب خان خبریں 4 28-03-11 12:34 PM
سیاست What is اسد لطیف گپ شپ 5 18-03-09 01:47 PM
گجرات کے چودھری اور ملکی سیاست طارق راحیل سیاست 0 01-01-09 08:06 PM
سیاہ ست دان!!!!!!!!!!!!!!!! وجدان اردو ادب سے اقتباسات 0 01-07-08 12:53 PM
فورم پر سیاست عبدالقدوس خاص آفرز اور اعلانات 8 18-10-07 08:35 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:24 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger