| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 243
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
Join Date: Aug 2009
Posts: 13 Default عید کی بہت بہت مبارک باد قبول کیجئے میری ویب پر بھی تبصرہ کیجئے WwW.TariqRaheel.blogspot.com
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (29-09-09) |
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جب میں نے بھی آٹے چینی کے لیے لگی لمبی "لکیروں" کو دیکھا تو مجھے بھی ویسا ہی افسوس ہوا تھا جیسا کسی اور پاکستانی کو ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تاہم معلومات لینے کے بعد مندرجہ ذیل باتوں کا پتا چلا 1: اکثر لوگ لالچ کا شکار ہوئے، وہ ایک سے زائد آٹے کے تھیلے لے کر مارکیٹ میں بیچنے کے ذمہ دار پائے گئے۔ 2:چونکہ ہمارے علاقے سستے علاقے تصور کیے جاتے ہیں تو ادھر ایک مزدور کو دن میں 150 روپے تک کی دیہاڑی ملتی ہے۔ جبکہ آٹے کے ایک تھیلے پر انکو صافی 200 سے زائد بچ جاتے ہیں ۔چناچہ مزدوروں کی اکثریت نے اپنی مزدوری چھوڑ کر یہ کام پکڑ لیا ۔ لائن میں لگ کر ایک دن میں کئی کئی تھیلے لے کر مارکیٹ میں دکانداروں اور چکیوں پر بیچ کر پیسے کمائے۔ ااس طرح غریب مافیا نے اپنی غربت کو مزید نقصان پہنچایا 3: لوگوں نے آٹا اپنے گھروں میں مستقبل کے استعمال کے لیے سٹاک کرنے کے لیے ضرورت سے زائد خریدا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آٹا لمبے عرصے کے لئے سٹور کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔کیونکہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ عذاب یعنی آٹے اور گندم کے کیڑے بہت جلد انکو ضائع کر دیتے ہیں۔ 4: روندے جانے یا پیروں تلے کچلے جانے میں جہاں انتظامیہ کی غفلت،کوتاہی اور نا اہلی ہے وہاں لوگوں کا اپنا قصور بھی۔ مروت ' تحمل اور ایک دوسرے کے لیے قربانی سے عاری اور دوسرے کو دھکا دے کر خؤد کو فائدہ پہنچانے والی قوم کو اکثر اپنے ہی قدموں تلے روندا جانا ہوتا ہے۔یہ تقدیر الٰہی ہے۔ چناچہ مندرجہ بالا کچھ فیکٹرز نے مل کر اس اذیت ناک کھیل کو مزید اذیت ناک اور درد ناک بنا دیا۔ حکمران تو ہمارے ساتھ ظالم ہیں ہیئ ۔ ۔ ۔ لیکن اس ملک میں جس کا ہاتھ پڑتا ہے وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتا۔ واللہ عالم |
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرا کہنا یہ ہے کہ کسی بھی نوعیت کے خراب معاشی حالات ایک مسلمان کو خودکشی اور بچے بیچنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہم لوگ کیا اپنے نبی اور اسکی اولاد سے زیادہ اہم ہیں؟ کیا ہم لوگ صحابہ کرام سے زیادہ پیارے ہیں اللہ کو؟ ہمارے نبی اور اسکی پیاری اولاد اور اس کے صحابہ نے نے کئی کئی دن فاقے کیے۔ اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ کر گزارا کیا ۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے ملک کتنے افراد اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر پھرتے ہیں فاقوں کے ماروں؟ بھوک افلاس کبھی بھی ان حرام افعال پر مجبور نہیں کرتی۔ ہاں یہ اشاریے اس بات کو یاد دلا رہی ہیں کہ ہمارے اندر سے قناعت پسندی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم لوگ ناجائز امیروں کے دیکھا دیکھہ ۔۔۔۔جلد سے جلد امیر ہونے کی ہوس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں اور جب ایسا نہیں ہو پاتا اس سودی نظام میں تو بد دل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم لوگ دنیا کی طلب میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔ اور خآص کر یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم اپنے اسلام ، اپنی نبی کی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ہمارے سامنے نبی اور اسکی اولاد و صحابہ کے فاقوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ۔ ۔ یا ہم ان واقعات کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ورنہ تو خود کشی کرنے کی کوئی سمجھ نہیں آتی۔ |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام بدر بھائ
میں آپ سے متفق ھوں اب انسانی قدریں بدل گئ ھیں پہلے انسان کے پاس فخر کرنے کے لیے اس کا کردار ھوتا تھا اب اس کی جگہ دولت نے لے لی ھے پہلے شریف کے سامنے لوگ آنکھیں جھکا کر بات کرتے تھے اب آنکھیں دیکھاتے ھیں جب زندگی کا معیار پیسہ ھی ھے اور اس پیسے کو حاصل کرنے کے لیے لوگ کوئ بھی ناجائز طریقہ اختیار کرنے کو برا نہیں سمجھتے مجھے یاد ھے ایک بار دادی جان کے ساتھ کسی بیوہ کے گھر گئ دادی جان نے اسے صدقہ دینا چاہا تو اس نے کہا وہ بیوہ ھے سلائ کرتی ھے وہ صدقے کی حقدار نہیں وہ اپنے بچے صدقے اور خیرات کے پیسوں سے نہیں پالنا چاھتی آج کل صدقے اور خیرات کے پیسے کھا جاتے ھیں انھیں پیسوں سے حج اور عمرہ بھی کرتے ھیں سچائ کا بول بالا پہلے ھوتا تھا آج ایوانوں میں جھوٹ کی آواز گھونجتی ھے اور دنیا سن کے سر جھکاتی ھے |
|
|
|
| Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (29-09-09) |
![]() |
| Tags |
| com, پیارے, پوسٹ, پاکستانی, ویب, لوگ, اللہ, انتظامیہ, جھوٹ, جلد, خودکشی, رمضان, سحری, ظالم, عید, عالم, عذاب, غلط, غریب, غربت, صافی, صحابہ, صدقہ, صدقات, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ | فاروق سرورخان | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 22-10-10 11:11 PM |
| فتح پور میں عید | بھائی | عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ | 11 | 10-12-08 05:27 PM |
| ھواؤں سے پوچھتی ھوں میں احوال اسی کا | Haya 786 | شعر و شاعری | 9 | 18-10-08 02:49 AM |
| آئی سی سی چمپئنز ٹرافی آصف اورشعیب تیس کھلاڑیوں میں | تفسیر حیدر | کرکٹ | 2 | 11-07-08 12:12 PM |
| پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ | محمدعدنان | خبریں | 0 | 01-06-08 12:34 AM |