واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


وکلا رہنماوں کا بزدلانہ طرز عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-08-09, 10:55 PM   #1
وکلا رہنماوں کا بزدلانہ طرز عمل
حیدر حیدر آف لائن ہے 07-08-09, 10:55 PM

گزشتہ کچھ ہفتوں سے جاری Conspiracyبلآخر اپنا پھل لا رہی ہے اور سابقہ اتحادیوں یعنی صحافیوں اور وکلا میں بظاہر آپس میں ٹھن گئی ہے۔ کچھ کالے کوٹوں والے گنجے فرشتے جہاں بھی صحافیوں کو دیکھتے ہیں ان کو دو چار ہاتھ جھاڑ دینا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ مارنے کے لیے ہاتھ کسی اور پر اٹھاتے ہیں اور معجزانہ طور پر لگتا صحافیوں کو ہے۔اگر اس بات کو قدرت کی طرف سے سزا نہ سمجھا جائے تو پھر کیا سمجھا جائے
مزے کی بات یہ کہ کالے کوٹوں والے گنجے فرشتے صرف اس وقت اپنے مضبوط کاندھوں ہاتھوں کو تکلیف دیتے ہیں جس وقت کوئی کیمرہ موجود ہو۔ ۔ ۔ لگتا ہے کالے کوٹوں کو ٹی وی پر آنے کا چسکا ہے۔
صحافیوں نے بھی اپنی آستینیں چڑھا لیں ہیں ۔ ۔ ۔ کالے کوٹوں والے گنجے فرشتے تو ان کے ہاتھ نہیں لگ رہے اس لیے انہوں نے ان گنجے فرشتوں کے رہنماؤں کو اپنے سٹوڈیوز میں دعوت دی کہ اپنا حصہ یہاں سے نوش فرما جائیں۔

"حیران کن بات یہ کہ جب حامد میر نے وکلا رہنماؤں کو اس موضوع پر بات کرنے کے لیے بلایا تو ویہ طارق محمود، وجہیہ الدین صدیقی،اعتزاز احسن جو ایک کال پر بھاگے آیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔انکے پاس وقت نہ تھا اور کسی کا موبائل بند تھا۔"

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بزدل کی انتہا ہے۔ دوسروں کا گریبان پکڑنا آسان ہوتا ہے۔ مزا تو تب آتا ہے کہ جب اپنے ہی گریبان میں جھانکنا پڑ جائے۔ کیا ہو جاتا کہ اگر وہ رہنما جیو ٹیلی ویژن پر آ کر ان واقعات کی مذمت کر دیتے۔بار کونسلز سے مطالبہ کرتے کہ ایسے شرپسندوں کے لائینسسز منسوخ کر دیئے جائیں۔انکی گرفتاری اور سزا کو عین انصاف قرار دے دیتے۔
اس سب کے کہنے میں انکا کیا جاتا تھا؟ مشرف کے خلاف انصاف کا تقاضہ کرنے والوں کی زبان اپنے ساتھیوں کی باری میں کیوں لڑکھڑانے لگی ہے؟ ببانگ دہل سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق کہنے والے ۔ ۔ ۔ ۔ اس بار کلمہ حق کا مطلب اور مقصد کیوں بھول گئے؟ افتخار محمد چوہدری کوئی جادوگر ہے کہ وہ چھڑی ہلا کر سب ٹھیک کر دے گا؟ جناب اس کے لیے تو وکلا برادری کو سب سے پہلے ٹھیک ہونا تھا۔ اپنی باری آئی تے گھگھو کیوں بول گیا؟
میں سمجھتا ہوں کہ کیپٹل ٹاک میں نہ آ کر ان رہنماؤں نے سادہ سے مسئلہ کو گھمبیر کر دیا ہے اور اس سے بڑھ کر انہوں نے انتہائی بزدلی کا ثبوت دیا ہے۔ یقیناََ آج وہ گھر بیٹھے دل میں تسلیم کر رہے ہوں گے کہ یہ مشرف کا ہی حوصلہ تھا کہ اس قدر جرات سے تنقید کو سن کر برداشت کر جاتا تھا اور جب آج انکی باری آئی تنقید سننے کی تو اس ملک کو بدلنے کے سبھی عزم و حوصلے خاک میں مل گئے۔
تف ہے انکی بزدلی پر۔ ۔ ۔ اور تف ہے انکی لیڈری پر
(یہ خیالات کل کے کیپٹل ٹاک کا کچھ حصہ دیکھنے کے بعد کے ہیں۔ تاہم اگر وہ لیڈران عوام کے سامنے پیش ہو بھی گئے ہیں تو بھی ان لیڈروں کا طرز عمل دیکھنے کے بعد یہ خیالات اپنی جگہ قائم ہیں)

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 329
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Student (21-08-09), ایس اے نقوی (08-08-09), اخترحسین (28-09-09), رضی (08-08-09)
پرانا 08-08-09, 12:14 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں‌ ۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (08-08-09), اخترحسین (28-09-09), حیدر (08-08-09), رضی (08-08-09)
پرانا 08-08-09, 12:22 AM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,541
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ ہے ۔


معذرت کے ساتھ
جن کو ٹکے کی عقل نہیں ہے ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
Student (21-08-09), ایس اے نقوی (08-08-09), حیدر (08-08-09)
پرانا 08-08-09, 11:29 AM   #4
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وکلا آپے سے باہر ہوچکے ہیں۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (28-09-09), رضی (08-08-09)
پرانا 21-08-09, 12:02 PM   #5
Senior Member
 
Student's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,990
شکریہ: 401
230 مراسلہ میں 538 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارے محلے میں ایک وکیل صاحب ہیں ۔۔ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ "" جس گھر میں وکیل ہو وہاں شیطان نہیں آتا۔""
اور ان کے بھائی فرماتے ہیں کہ "" اگر کوئی جاہل غلطی سے پڑھ جائے تو وہ وکیل بن جاتا ہے۔""

افتخار کی بحالی کے بعد وکیل بدماش بن گئے ہیں‌جس کو چاہے مارتے پھر رہے ہیں۔ اور ان کی حرکا ت پر تو ججز از خود کوئی نوٹس نہیں لیتے۔ عوام کو جس عدلیہ کی توقع تھی عوام بھول جائے اس کو۔سب سیاست کاکھیل ہے عوام کو کچھ نہیں ملنے کا۔
__________________

http://newsreportingroom.com/
http://mobileinfoandupdate.blogspot.com/
Student آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Student کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (28-09-09), رضی (22-08-09)
پرانا 21-08-09, 08:25 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

از خود نوٹس کیا ہوتا ہے؟ اور کب لیا جاتا ہے؟ براہ مہربانی فرما کر تسلی بخش جواب دیجیے گا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (28-09-09)
پرانا 27-09-09, 12:30 PM   #7
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,383
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

افسوس کے وکلا تحریک کے کامیاب اختتام کے بعد سیاسی وعدوں کی طرح عدلیہ بھی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وکلا میں سے کچھ کالی بھیڑیں وکلا کی نیک نامی پر داغ لگا رہی ہیں۔
عوام نے وکلا کی تحریک میں ان کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن افسوس کے وکلا جو مقصد بیان کرتے تھے وہ پورا نہیں ہوا، جیسے 18 فروری کے انتخابی نتائج کے بعد عوام نے مایوسی دیکھی ہے، ویسے ہی وکلا تحریک کی کامیابی کے بعد عوام ناامید ہو چکی ہے۔

میں وکلا تحریک کا بہت بڑا حامی تھا لیکن میں مایوس ہوں
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (28-09-09)
پرانا 28-09-09, 06:55 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ فرق تو پڑا ہے جیسا کہ انصاف کی فراہمی کو تیز کرنے کی کوشیں کی جا رہی ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ ایک سال کے اندر ہر کیس کا فیصلہ سنا دیا جانا، وغیرہ جیسے فیصلے عوام کے لیے سہولت بنیں گے۔ تاہم منزل ابھی تک بہت دور ہے اور اس منزل کی طرف پیش قدمی شاید کچھوے کی رفتار سے بھی کم۔
دیگر یہ کہ عوام نے انکے حق میں جو اتنا احتجاج کیا تھا وہ اس لیے تھا کہ وہ بڑی مچھلیوں پو ہاتھ ڈال رہے تھے،۔ اور بد قسمتی سے بڑی مچھلیاں آج بھی لاڑکانہ اور لاہور سے اٹھ اٹھ کر اسلام آباد کے محلات میں آباد ہو رہی ہیں اور اپنی دولت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات کا آغاز جلد سے جلد کرنا ہی عوام کا منشور تھا،۔ جو کہ عدلیہ "نظریہ ضرورت" کے تحت ٹالتی جا رہی ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (28-09-09)
پرانا 28-09-09, 08:37 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام
عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے عوام کو جو توقعات تھیں عدلیہ ان کے لئے کوشاں ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے اس لئے ٹھنڈا کر کے کھائیں۔
اور وکلاء کا طرز عمل اگرچہ قابل اعتراض ہے لیکن اس کی وجہ سے عدلیہ کو الزام دینا کہاں کی دیانت ہے؟؟؟؟
اور ایک اہم بات اس موقع پر ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عدلیہ بحالی کی تحریک پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں عدلیہ بحال نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف چند جج بحال ہوئے تھے۔
اس حوالے سے میرے اک مضمون کے چند اقتباسات
اقتباس:
لیکن سوال یہ ہے کہ کیااس تحریک کے مقاصد حاصل ہو گئے؟ یا صرف جج تو بحال ہو گئے لیکن عدلیہ تا حال غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے؟ یہ وہ اہم موضوع ہے جس پر سب اہل دانش کو سوچنا اور جواب کی روشنی میں اگلا قدم اٹھانے کا فیصلہ کرنا ہے۔
اقتباس:
کیوں کہ اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے صرف پانچ جج بحال ہوں گے۔ اس کے علاوہ دیگر ججوں کے سلسلے میں یہ آرا بارہا آچکی ہیں کہ وہ جیالے ہیں۔ اس کے علاوہ صدر مملکت کے پاس 58-2Bکا ہونااور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے اختیارات کا چیف جسٹس سے واپس لینے کے خیالات ایسے مسائل ہیں جن کی موجودگی میں عدلیہ کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
اس لئے حکومت کی اس تھپکی کو نوید منزل تصور کر کے واپس لوٹ جانا کسی لحاظ سے بھی عقل مندی نہیں ہو گی۔ بلکہ اس واپسی کو سستانے کے لئے پڑا تصور کر کے نئی منزل کی طرف سفر کی تیار شروع کردینی چاہیے۔
تا کہ وطن عزیز جن مقاصد کے لئے حاصل کیا گیا تھاان کا حصول ممکن ہو سکے اور پاکستان کی آزادی کے لئے قربانی دینے والے بزرگوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو سکیں۔
اقتباس:
جسٹس چوہدری افتخار کا امتحان سب سے سخت ہے۔ کیوں کہ ایک طرف ان سے وابستہ عوام کی امیدیں ہیں اور دوسری جانب ان کے دشمن۔ چکی کے ان دو پاٹوں کے درمیان چوہدری صاحب کو بڑے احتیاط سے قدم اٹھانا ہو گا۔ کیوں کہ ان کا ہر فیصلہ جانبداری کے طعنے کی زد میں ہو گا۔ ان کے حریف اپنی اس شکست کو اتنی آسانی سے ہضم نہیں کر سکیں گے۔
یہ میرا خیال ہے
اس حوالے سے آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (28-09-09), حیدر (28-09-09)
پرانا 28-09-09, 01:21 PM   #10
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحریر ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (28-09-09)
پرانا 28-09-09, 01:47 PM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں اکرام بھائی میں آپکی بات سے اتفاق کرتا ہوں ۔ اسی وجہ سے جب نواز شریف کی وجہ سے چیف جسٹس بحال ہوا تھا اور دوسرے دن بحالی کی کنڈیشنز معلوم ہوئی تھیں تو میں تو تب سے کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف نے ادھورا معاہدہ کر کے عدلیہ تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ ایسی عدالت عظمیٰ وجود میں آ گئی کہ جس میں پہلے تو چیف کو عدالت میں موجود کالی بھیڑوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور پھر نچلی عدالتوں میں حکومت نے جو جیالے بھرتی کر دئیے ہیں انکی وجہ سے از حد مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کی سر خیل جماعتیں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس وقت بھی دبے دبے الفاظ میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور علی احمد کرد آج کھل کرعدلیہ کو فرعون کہہ رہا ہے۔ ۔اور بد قسمتی سے ہر آنے والا دن ان خدشات کو واضح کر رہا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (28-09-09), راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 28-09-09, 02:33 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
جی ہاں اکرام بھائی میں آپکی بات سے اتفاق کرتا ہوں ۔ اسی وجہ سے جب نواز شریف کی وجہ سے چیف جسٹس بحال ہوا تھا اور دوسرے دن بحالی کی کنڈیشنز معلوم ہوئی تھیں تو میں تو تب سے کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف نے ادھورا معاہدہ کر کے عدلیہ تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ ایسی عدالت عظمیٰ وجود میں آ گئی کہ جس میں پہلے تو چیف کو عدالت میں موجود کالی بھیڑوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور پھر نچلی عدالتوں میں حکومت نے جو جیالے بھرتی کر دئیے ہیں انکی وجہ سے از حد مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کی سر خیل جماعتیں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس وقت بھی دبے دبے الفاظ میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور علی احمد کرد آج کھل کرعدلیہ کو فرعون کہہ رہا ہے۔ ۔اور بد قسمتی سے ہر آنے والا دن ان خدشات کو واضح کر رہا ہے۔
بدر بھائی در اصل یہ ہے کہ معاملات کو اس طرح نہیں نپٹایا گیا جس طرح مارچ سے پہلے طے کیا گیا تھا۔
نواز شریف صاحب نے جن سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر مارچ کی جو حکمت عملی بنائی تھی اس پر عمل نہیں کیا گیا، واپسی کا فیصلہ بغیر مشاورت کے کیا گیا،
ورنہ طرے تو یہ تھا کہ جب تک عدلیہ 2007 والی حالت میں بحال نہیں ہوتی دھرنا دیں گے۔ لیکن صرف چند ججز کی بحالی کے وعدے پر واپسی اختیار کر لی گئی۔
خیر جو ہونا تھا ہو گیا
اب چیف جسٹس کی نہ تو وہ ٹیم ہے اور نہ ہی ماحول سازگار ہے کہ وہ بری مچھلیوں پر براہ راست ہاتھ ڈال سکیں۔ اگر عجلت برتی گئی تو نقصان ہی نقصان ہو گا۔ جیسا کہ پیٹرول والے مسئلے پر عوام نے دیکھا۔ فورا ایوان صدر سے آرڈیننس جاری ہو گیا۔
اب چینی والے مسئلے پر بھی عدالت نے ایکشن لیا ہے۔۔ اور میرے خیال میں بڑے مجرموں کو سزا میں جلدی کرنے سے عوامی مسائل کا حل پہلے ضروری ہے
اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کی موجودگی ہی ایک نعمت ہے کہ کئی کام صرف اسی ڈر سے نہیں‌ہوتے کہ کہیں پکڑ نا ہو جائے۔

بہر حال ہر کسی کی اپنی رائے ہے لیکن ٹھنڈا کر کے کھانا منہ کے لئے بھی اچھا ہے اور صحت کے لئے بھی مفید
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (28-09-09)
پرانا 28-09-09, 04:07 PM   #13
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 37,057
شکریہ: 4,903
809 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب ڈراما تھا

مزید ڈراموں کے لئے تیار رھو
اخترحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (28-09-09)
جواب

Tags
فرض, کورٹ, پاکستان, واقعات, قدم, موبائل, منشور, مسائل, آج, احتجاج, اسلام, بھائی, تحریر, جواب, جلد, جاہل, خلاف, رفتار, سیاست, سال, عوام, عقل, عدلیہ, صحافیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:28 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger