| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 362
|
||||
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدخلیل (23-03-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
پاگل ہے اپنی ہی کالونی کو مبارک دے رہا ہے۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | عبداللہ آدم (29-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
پاگل ہے اپنی ہی کالونی کو مبارک دے رہا ہے۔۔۔
|
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (24-03-10) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,603
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج ایک نئی بات معلوم ہوئی کہ پاکستان جمہوریت کے لیے بنا ہے ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | عارف اقبال (26-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امريکہ اور پاکستان کے مابين تعلقات میں دفاعی وسائل ميں اشتراک اور تعاون ايک اہم جزو ہے ليکن ان تعلقات کی وسعت اس سے کہيں زيادہ ہے۔ دونوں ممالک کے درميان باہمی تعلقات کو مضبوط بنيادوں پر استوار کرنے کے لیے يکساں عزم اور ارادہ موجود ہے اور باہمی احترام اور اعتماد کی بنيادوں پر اشتراک سازی کے اس عمل کو مزيد آگے بڑھايا جا رہا ہے۔
اب جبکہ پاکستان جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے کوشاں ہے، امريکہ پاکستان کی مکمل حمايت اور سپورٹ کر رہا ہے تا کہ مزيد معاشی ترقی، نۓ مواقعوں کے امکانات، پانی اور بجلی کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے کی جانی والی کوششوں اور دہشت گرد گروہوں کی شکست کو يقينی بنايا جا سکے جو نا صرف پاکستان کی سيکورٹی کے لیے خطرہ ہيں بلکہ خطے کے استحکام اور امريکہ کی قومی سلامتی کے لیے بھی تشويش کا باعث ہيں۔ امريکہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ مل کر ان جاری کوششوں کے ضمن ميں ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے جن کا مقصد اس عفريت اور خطرے کا خاتمہ ہے جو ملک بھر میں سينکڑوں بے گناہ افراد کی موت کا سبب ہے۔ امريکی تعاون محض مالی امداد تک محدود نہيں ہے۔ فوجی سازوسامان، ٹريننگ اور لاجسٹک سپورٹ بھی دونوں ممالک کے مابين اسٹرٹيجک تعاون کا حصہ ہے۔ حاليہ برسوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے کی جانے والی درخواست اور اس کے جواب ميں امريکی فوج کی جانب سے مہيا کيا جانے والے فوجی سازوسامان کے ضمن ميں ايک مثال مارچ 17 2010 - پاکستان نے امريکہ سے اپنے ہيلی کاپٹروں کے بيڑے کے لیے فالتو پرزوں کے طور پر استعمال ہونے والے 13 اے ايچ – ون ايف کوبرا ہيلی کاپٹرز حاصل کيے ہيں۔ يہ ہيلی کاپٹرز امسال الابامہ ميں امريکی مرکز سے روانہ کيے جائيں گے۔ يہ 13 ہيلی کاپٹرز 2007 کے ايک بڑے سودے کا حصہ ہيں جس کے تحت پاکستان نے اپنے بيڑے کے لیے 12 اے ايچ ون ايف کوبرا ہيلی کاپٹر خريدے تھے اور انھيں ضروری سازوسامان سے آراستہ کيا تھا۔ گزشتہ تين برسوں کے دوران پاکستان کو ملنے والی کل سويلين اور فوجی امريکی امداد کی ماليت 340 ارب روپے (چار ارب ڈالر) سے زيادہ ہو چکی ہے۔ فراہم کی جانے والی اس اعانت ميں طبی امداد، اسکولوں کی تزين و آرائش، پلوں اور کنوؤں کی تعمير نو، خوراک کی تقسيم اور زرعی وتعليمی منصوبے شامل ہيں۔ امريکہ نے 370 سے زيادہ پاکستانی فوجی افسران کو انسداد دہشت گردی، انٹيلی جينس، نقل وحمل، ميڈيکل، دوران پرواز حفاظت اور فوجی قوانين ايسے موضوعات کے بارے ميں قائدانہ صلاحيتوں کو ابھارنے کے پروگراموں کے لیے مالی امداد اور تربيت فراہم کی ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی چند کنووں اور پلوں کے نام بتا دیں جو امریکی امداد سے بنے ہوں۔ میری عمر 35 سال ہو گئی ہے اج تک ایک بھی منصوبہ ایسا نہیں دیکھا جو کہ امریکی امداد سے عوام کے لیے بناہو۔ باقی امریکہ بہادر کی مرضی ہے جتنے چاہے گھوڑے اپنے مفادات کے لیے خرید لے ہم عوام اس سے بری الذمہ ہیں۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (29-03-10), ھارون اعظم (26-03-10), سحر (25-03-10), عبداللہ آدم (29-03-10), عبداللہ حیدر (03-04-10) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اس کے علاوہ یہ جمہوریت کی حمایت والی بات مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ جب تک امریکہ کی ضرورت تھی، مشرف کی حمایت کرنے میں اسے کوئی قباحت نظر نہیں آئی۔ اس کے علاوہ ایوب خان، ضیاء الحق وغیرہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے بعد جمہوریت کی مالا جپنا کچھ مناسب نہیں۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کی يہ بات کسی حد تک درست ہے کہ پاکستان ميں امريکہ کی جانب سے ترقياتی منصوبوں کے ضمن ميں کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے زيادہ آگہی نہيں پائ جاتی۔ ليکن موجودہ امريکی انتظاميہ پرعزم ہے کہ پاکستان کے ساتھ طويل المدت بنيادوں پر ايسے تعلقات کے فروغ کو يقینی بنايا جاۓ گا جس کی بنياد عوامی سطح پر رابطے کے ذريعے رکھی جاۓ گی۔ اس ضمن ميں گزشتہ چند ماہ کے دوران ايسے کئ اہم اقدامات اٹھاۓ گۓ ہيں جن کا دائرہ کار محض حکومتی سطح پر اہم عہديداروں تک محدود نہيں ہے۔ امريکہ کی وزير خارجہ ہيلری کلنٹن کا دورہ پاکستان اس کی واضح مثال ہے جس ميں انھوں نے تمام تر سيکورٹی خدشات کے باوجود عوامی سطح پر رابطے کو يقينی بنانے کے ليے ہر ممکن کوشش کی۔ انھوں نے مختلف ٹاؤن ہالز ميں ميٹينگز بھی کيں اور کالج اور يونيورسٹی کی سطح پر طالب علموں سے رابطے بھی کيے۔ اس کے علاوہ انھوں نے راۓ عامہ کے حوالے سے پاکستان کے قريب تمام اہم ٹی وی اينکرز کے ساتھ بات چيت بھی کی۔ ان اقدامات اور کوششوں کا مقصد يہی سوچ تھی کہ پاکستان کے عوام ميں امريکہ کی جانب سے آئندہ برسوں ميں پاکستان کے ساتھ تعلقات اور امريکی مقاصد اور سوچ کے حوالے سے شعور پيدا کيا جا سکے۔ چونکہ آپ نے پاکستان ميں امريکی ترقياتی کاموں کی حقيقت کے بارے سوال اٹھايا ہے تو اس حوالے سے فاٹا ميں حاليہ امريکی کاوش کی معلومات آپ کے ساتھ شير کرنا چاہوں گا۔ مارچ 24 2010 – امريکی قونصل جرنل ای کينڈيس پٹنم اور گورنر سرحد اويس غنی نے ايک تقريب ميں وفاق کے زير انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی باجوڑ اور مہمند ايجينسيوں ميں سنگ مرمر کے کان کنوں کو جديد مشينری فراہم کرنے کے ايک معاہدہ کا اعلان کيا جس کی ماليت 6۔187 ملين روپے (23۔2 ملين ڈالر) ہے۔ ايک تخمينہ کے مطابق تين ارب ميٹرک ٹن کے وسيع ذخائر کے باوجود سنگ مرمر نکالنے کے ليے دھماکوں جيسے فرسودہ طريقوں کو بروۓ کار لانے سے 70 فيصد پتھر ضائع ہو جاتا ہے، ماحول کو نقصان الگ پہنچتا ہے اور علاقہ ميں پانچ سو سے زيادہ کانوں کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ باجوڑ اور مہمند ايجينسيوں سے سنگ مرمر کی سالانہ پيداوار کا تخمينہ 7۔1 ملين ميٹرک ٹن ہے۔ نۓ آلات کی مدد سے کانکن سالانہ 9۔4 ملين ميٹرک ٹن سنگ مرمر نکال سکيں گے جس سے 80 ارب روپے سے زائد کی سالانہ آمدن حاصل ہوگی۔ کينڈيس پٹنم نے اس موقع پر اظہار خيال کرتے ہوۓ کہا کہ اس مشينری کی مدد سے کانکن چوکور شکل کے سنگ مرمر کی سليں نکال سکيں گے جو تجارتی منڈی ميں 150 فيصد زيادہ قيمتی تصور ہوتی ہیں۔ اضافی قدروقیمت سے قدرتی طور پر زيادہ منافع حاصل ہو گا، اس صنعت ميں روز گار کے مواقع بڑھيں گے اور مجموعی طور پر خطہ کی معيشت ميں بہتری آۓ گی۔ فاٹا سيکريٹريٹ پاکستان اسٹون ڈيويلپمنٹ کارپوريشن کی فنی مشاورت سے مشينری کی خريداری اور انتظام و انصرام کرے گا۔ اور اس پول کے ذريعہ يہ مشينری کم کرايہ پر دی جا سکے گی جس سے اس صنعت ميں چھوٹے سرمايہ داروں کو کان کنی کی جديد طريقے استعمال کرنے ميں مدد ملے گی۔ گورنر سرحد اويس غنی نے کہا کہ اس پروگرام سے فاٹا ميں سنگ مرمر کی صنعت پائيدار ترقی کرے گی۔ اس سے نہ صرف معيشت ميں ويليو ايڈڈ پيداوار بہتر ہو گی بلکہ سنگ مرمر کی کان کن فرموں کو آئندہ چل کر مہارت حاصل کرنے ميں بھی مدد ملے گی۔ اس مشينری کی فراہمی فاٹا ميں امريکی امداد سے چلنے والے ان متعدد پروگراموں ميں سے ايک ہے جن ميں فرنيچر، قيمتی پتھروں، چمڑے اور ہارٹيکلچر کی صنعتوں کو تربيت اور گرانٹس کے ذريعہ کاروبار اور صنعت کو مستحکم کيا جا رہا ہے اور يہ منصوبہ فاٹا کے لوگوں کی امريکی اعانت کے اس مجموعی پروگرام کا حصہ ہے جس ميں روزگار، بنيادی ڈھانچہ، صحت عامہ اور تعليم کے منصوبے بھی شامل ہيں۔ 03-24-2010_Photo_Marble_Machinery_Pool_Signing.jpg - ImageHost.org فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہو گا، یہ کس نے دیکھا ہے؟ ماضی میں بھی بہت کچھ ایسا ہی کہا گیا۔ کوئی تکمیل شدہ منصوبہ / ہاپسٹل، سکول، عوام کے بہبود کا منصوبہ جو تکمیل ہو چکا ہو اور عوام اس سے مستفید ہو رہے ہوں
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (03-04-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکہ کا پرانا شیوہ ہے وقت آنے پر گدھے کو بھی باپ بنالینا
اور وقت نکل جانے پر طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لینا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اور اب ایک اور لولی پاپ یا مونگ پھلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔125 ملین ڈالر کے نام سے شاہ محمود قریشی اینڈ کو لے کا آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ یہ بھی (((((((((ہو گا )))))))))))کی فہرست میں شامل ہے ہنوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا ہی ملا نہ وصال صنم ادہر کے رہے نہ ادہر کےرہے |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جس طرح مسلمانوں نے برطانوی سامراج اور ہندو بیئے سے آزادی حاصل کی ۔۔
اسی طرح آج امریکی غلامی سے نکلنے کی ضرورت ہے تا کہ خود مختار ریاست بن سکیں میں تو رچرڈ ہالبروک کے بیان کا خیر مقدم کروں گی جس میں کہا گیا کہ "پاکستان کے لیے امداد 3 گنا کرنے کے باوجود پاکستانی عوام کے ردعمل نے مایوس کیا"۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ترقياتی منصوبوں اور امدادی پيکج کے حوالے سے فيصلہ سازی کے عمل میں دونوں ممالک کے متعلقہ محکموں کے اہم عہدیداروں کی باہمی رضامندی شامل ہوتی ہے۔ امريکی حکومت زبردستی پاکستانی حکومت کے اہلکاروں پر اپنی مرضی کے منصوبے مسلط نہيں کر سکتی۔
ايسے بے شمار سرکاری اور غير سرکاری ادارے، تنظيميں اور ان سے منسلک افراد اور ماہرين ہيں جو ايسے درجنوں منصوبوں پر مسلسل کام کر رہے ہيں جو دونوں ممالک کے مابين تعلقات کی مضبوطی کا سبب بن رہے ہيں۔ ميں نے امريکی امداد کی فراہمی کے حوالے سے جو بے شمار اعداد وشمار اس فورم پر پوسٹ کيے ہيں، ان کا مطلب يہ ہرگز نہيں ہے کہ يہ رقم براہراست کچھ افراد کے ذاتی اکاؤنٹس ميں منتقل کی جاتی ہے۔ يہ رقم دراصل جاری منصوبوں پر لگاۓ جانے والے تخمينے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس وقت مخصوص حالات کے تناظر میں دونوں ممالک کی حکومتوں کے لیے مالاکنڈ، فاٹا، سوات اور پاکستانی کے قبائلی علاقوں میں متاثرہ افراد کی فوری بحالی اور اس عمل سے متعلق معاملات اہم ترين ترجيح ہيں اس کا منطقی نتيجہ يہی ہے کہ اس وقت تمام تر کاوشوں اور دستياب وسائل کا زيادہ تر استعمال انھی علاقوں کے افراد کی فلاح وبہبود پر صرف کيا جا رہا ہے۔ اس ضمن ميں کچھ روز قبل امريکی ڈپٹی سيکرٹری آف اسٹيٹ جيکب جے ليو اور پاکستان کے فائننس سيکرٹری سلمان صديقی نے مالاکنڈ ميں سڑکوں کی تعمير کے منصوبے کے حوالے سے امداد کے ايک معاہدے پر بھی دستخط کيے۔ اس منصوبے ميں 40 ملين ڈالرز کی امريکی امداد کے ذريعے دو اہم سڑکوں کی بحالی اور بہتری کے عمل کو مکمل کيا جاۓ گا جن ميں سے ايک صوبہ سرحد ميں کانجو سے مدين سوات تک ہے اور دوسری پشاور رنگ روڈ۔ دونوں ممالک اس کوشش ميں ہیں کہ ان ايشوز پر فوری توجہ مرکوز کی جاۓ جو پاکستانی عوام کے ليے فوری اہميت کے حامل ہیں، جيسے کہ معيشت کا فروغ اور سيکورٹی جيسے معاملات۔ يہ منصوبے سرحد حکومت کے ذريعے تشکيل پائيں گے اور اس ضمن ميں پاکستانی کمپنيوں کو طے شدہ ضوابط اور برابری کے اصولوں کے تحت کنٹريکٹ ديے جائيں گے۔ اس منصوبے کے ذريعے صوبہ سرحد ميں سوات کے مقام پر کانجو مدين روڈ پر 43 کلوميٹر طويل سڑک کی تعمير کی جاۓ گی۔ اسٹريجک نقطہ نظر سے اس اہم ترين سڑک کی تعمير سے سيکورٹی فورسز کی نقل وحرکت، عام عوام کی سيکورٹی اور فوجی کاروائيوں کے بعد تعمير نو کے عمل ميں آسانی پيدا ہو گی۔ پشاور رنگ روڈ کے منصوبے کے ذريعے رنگ روڈ کی ازسر نو تعمير کی جاۓ گی جس ميں ٹرک کے ليے مخصوص ايک اضافی لين کا اضافہ کيا جاۓ گا جو ديہی علاقوں سے گزرے گی۔ اس کے علاوہ چار کلوميٹر طويل حيات آباد کی رہائشی آبادی سے ايک بائ پاس کی تعمير اور متانی بائ پاس تک سڑک کی تعمير کے منصوبے بھی امريکی امداد کے ذريعے مکمل کيے جا رہے ہيں۔ اس سڑک کی ابتدائ تعمير 90 کی دہائ کے اواخر ميں ہوئ تھی ليکن اب افغانستان تک تورخم پاس کے ذريعے ہيوی ٹرکس اور ٹرالر کے لیے يہ ايک اہم روٹ کی حیثيت اختيار کر گيا ہے۔ ہيوی ٹرکس پر مبنی ٹريفک کی وجہ سے يہ سڑک بری طرح متاثر ہوئ ہے اور جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے يہاں پر ٹريفک اکثر سست روی کا شکار رہتی ہے جس سے اس روٹ پر مجرمانہ کاروائيوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
علاوہ ازیں راجن پور کی تحصیل میں اکثر سکولوں میں بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے اشیا خورد و نوش کا لالچ دیا جاتا ہے۔مثلاً گھی، وغیرہ۔ پہلے اس منصوبے میں کھانا اور دودھ وغیرہ بھی شامل تھا۔ اگر اس پر بھی یقین نہیں تو میں آپکو امریکی گھی کے ڈبے کی تصویر کھینچ کر بھیجنے کو تیار ہوں۔۔ (یہ اور بات ہے کہ اس گھی کو کھا کھا کر افسران ہی موٹے سے موٹے ہوتے جا رہے ہیں ۔عوام الناس تو اب بھی غذائی کمی کا شکار ہیں) |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باقی رہ گئی سنگ مر مر کی امداد والی بات۔ ۔ ۔ تو میں حیران ہوں کہ ہم مفت کی ملی چیز کو کیسے انکار کرتے ہیں اور جو چیز شرائط کے ساتھ نتھی ہو کر ملتی ہیں اس کے پیچھے لپکتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاید اٹلی نے ہم کو اسی بابت امداد کی پیشکش کی تھی۔جو ہم نے قومی غیرت کی وجہ سے ٹھکرا دی تھی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| digital, email, fawad, pakistan, ہوۓ, فوج, کرے, کرتے, کردار, پاکستان, موقع, ملک, آج, آزادی, ايک, ادا, جناح, جاری, خواب, زندگی, عوام, علی, عزم, صحت, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| صدر اوبامہ کی جانب سے ماہ رمضان کے موقع پر پيغام | Fawad | خبریں | 10 | 31-08-10 07:12 PM |
| پاکستان کے يوم آزادی کے موقع پر امريکی حکومت کا پيغام | Fawad | خبریں | 0 | 17-08-10 12:06 AM |
| يوم پاکستان کے موقع پر وزير خارجہ ہيلری کلنٹن کا پيغام | Fawad | سیاست | 1 | 23-03-10 11:43 PM |
| دو بيوقوف اور | عبدالقدوس | قہقہے ہی قہقے | 0 | 19-04-08 03:25 AM |