واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پاکستان اور جہاد کی حقیقت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-08, 09:55 PM   #1
پاکستان اور جہاد کی حقیقت
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 09-01-08, 09:55 PM

حال ہی میں میری نظر ایک ایسے انٹرویو پر پڑی جو میں سمجھتا ہوں کہ قارئین کے لیے نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ انٹرویو آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار اور پاک ائر فورس کے سابق اسکوارڈن لیڈر خالد خواجہ کا ہے۔ پیش خدمت ہے:

سوال: ماضی کے ہیروز آج کے دہشت گرد ہیں۔ ہر چیز ڈرامائی طور پر تبدیل ہو رہی ہے اور ٹھیک اس ہی طرح جب شیخ رشید احمد، جنہیں آج سے کافی سال قبل کشمیر کی مسلح جدوجہد میں حصہ لینے میں فخر محسوس ہوتا تھا، لیکن آج انہیں ڈر ہے کہ کہیں ان پر دہشت گرد کا ٹھپہ نہ لگ جائے۔ ایسا کیوں ہے؟
جواب: حقیقت میں جو موضوع ہے وہ دہشت گردی ہے۔ یہ ریاستیں اور حکومتیں ہوتی ہیں جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتی ہیں، شروع میں لوگ نشانہ بنتے ہیں اور اس ہی طرح دہشت کی یہ سائیکل چلتی رہتی ہے۔ اس ریاستی دہشت گردی میں کسی کو چھوٹ حاصل نہیں ہے اور امریکا، پاکستان، انڈیا اور اسراءیل سب ایک ہی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہم میں سے کئی لوگ اسے مشرق اور مغرب یا پھر مسلمانوں کی عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ جنگ قرار دیتے ہیں لیکن یہ ایسا بالکل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانی کرنے والی حکومتیں اپنی بات منوانا چاہتی ہیں اور اس لیے وہ لوگوں کو مختلف طریقوں سے استعمال کرتی ہیں، کبھی بادشاہت کے نام پر، کبھی جمہوریت کے نام پر اور کبھی آمریت کے نام پر۔
دنیا کے نوے فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی ان پر حکمرانی کرے لیکن کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو یہ نہیں چاہتے، وہ اپنی آزادی کے لیے لڑتے ہیں اور آخری دم تک جدوجہد کرتے ہیں۔ ان دو چھوٹے گروہوں، یعنی حکمرانی کرنے والوں اور اس کی مخالفت کرنے والوں، کے درمیان ہونے والی جنگ میں نقصان ایسی اکثریت کا ہوتا ہے جو چاہتی ہے کہ اس پر حکمرانی کی جاءے۔ اس کے باوجود لوگ اسلام کی عیسائیت اور یہودیت کے خلاف جنگ کی باتیں کرتے ہیں یعنی بات وہیں پر ہی اٹکی رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک گروپ حکمرانی کرنا چاہتا ہے، چاہے وہ مسلم ہو عیسائی ہو یا پھر یہودی، جبکہ دوسرا گروپ آزاد رہنا چاہتا ہے لیکن بیچ میں نقصان اکثریتی گروپ کا ہوجاتا ہے۔
جب ہم کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو مذکورہ بالا صورتحال پاکستان اور بھارت پر بھی لاگو ہوجاتی ہے۔ حقیقتاً دیکھا جائے تو پاکستان کبھی بھی کشمیریوں سے سچا نہیں تھا۔ یہ خود غرضی پر مشتمل ایک ایسا اسٹریٹجک ترکیب تھی جس کے ذریعے بھارت کو انتہائی حد تک نقصان پہنچانا تھا۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان نے جو بھی کیا اور جو کر رہا ہے اس کا مقصد صرف پاکستان ازم کو بڑھاوا دینا ہے یعنی علاقے میں اپنے اسٹریٹجک ایجنڈا کو محفوظ کرنا۔ ہم لفظ مذہب اور جہاد کو صرف مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے بھارت کو کشمیر میں الجھا کر اس کے مالی وسائل کو کسنا ہے۔

سوال: کیا پاکستان نے کشمیری جدوجہد کی اخلاقی حمایت نہیں کی تاکہ مسلم آبادی کو اپنے حقوق مل سکیں؟
جواب: آپ کیا بات کر رہے ہیں؟ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی مسلمانوں کو سب سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ ایسے کئی پاکستان لوگ ہیں، جن میں فوجی، عالم، اسکالرز اور عام لوگ شامل ہیں، جو اپنے گھروں سے غائب کردیئے گئے ہیں اور انہیں لاپتہ ہوئے سالوں گزر گئے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ انہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے غائب کرایا۔ ایسے افراد پر کبھی کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلا جبکہ کئی افراد کو بغیر مقدمہ کے ہی مار دیا گیا۔ اس سے اچھے تو آزادی سے پہلے برطانوی راج کے دن تھے جب کسی کو بھی بغیر مقدمہ کے قید نہیں کیا جاتا تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مزید حقوق دیئے جائیں، ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ کم از کم اتنے حقوق تو دیئے جائیں جتنے برطانوی راج میں ملتے تھے۔
کچھ سال قبل بھارت میں ایک ریاست کے مسلم باشندے کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے غائب کرادیا۔ نامور عالم اور اسکالر مولانا اسد مدنی نے ریاست کے گورنر سے اس معاملے پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ بھئی پاکستان میں تو ایجنسیاں تفتیش کے لیے لوگ اٹھاتی رہتی ہے، وہاں بھی تو احتجاج نہیں ہوتا تو یہاں کے مسلمان کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ اس پر مولانا صاحب نے گورنر کو یاد دلایا کہ یہ پاکستان نہیں بھارت ہے اور ہر گرفتار شدہ شخص کو عدالت میں پیش کیا جانا لازمی ہے۔ نتیجتاً مذکورہ شخص کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔
پاکستان میں سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ ہر برا کام حب الوطنی کے نام پر کیا جاتا ہے۔ میں اس نظریئے پر عمل نہیں کرتا۔ جب تک اسے کسی نئی تشریح یا لفظ کے ساتھ نہ جوڑ دیا جائے، حب الوطنی ایک مبہم لفظ رہے گا۔ مجھے آج بھی کرنل سید فاروق، بنگلہ دیشی فوجی افسر جس نے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن اور ان کے خاندان کو مار ڈالا تھا، نے انیس سو اسی میں دورہ پاکستان کے موقع پر کہا تھا کہ سن سینتالیس کی آزادی سے قبل میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک وفادار ملازم تھا، میں نے پاک فوج میں بھی کام کیا اور اب بنگلہ دیشی فوج کے ساتھ وفاداری نبھا رہا ہوں، ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں میری وفاداری کسی اور کے ساتھ ہو لہٰذا اور کسی ایک زمین کے ساتھ وفاداری کی بات کرنا بے وقوفی ہے۔

سوال: افغانستان میں کیا ہوا؟
جواب: افغانستان کے معاملے میں بالکل ایسا ہی کھیل بڑے پیمانے پر کھیلا گیا جب امریکا اور پاکستان نے مل کر سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف دنیا بھر سے مسلمان لڑکوں کو افغانستان میں جمع کیا۔ یہ مسلم نوجوان ریاستوں کی آپسی لڑائی کے لیے استعمال ہوئے، جہاد کا لفظ استعمال کیا گیا۔ ریاست کے مذہب کے مطابق اس وقت بھارت اور سویت کے خلاف جہاد جاءز تھا۔ لیکن جب جہاد کا ڈرامہ رچ گیا تو سب کو یہ سکھانا پڑا کہ جہاد امریکا کے لیے نہیں بلکہ صرف سوویت یونین اور بھارت کے خلاف تھا۔
اب ایک بار پھر معاملہ وہیں پر آکر رک گیا ہے کہ ایک ریاست اپنی مرضی تھوپنا چاہتی ہے۔ پیغام بالکل واضح ہے: کوئی اس سے پاک نہیں چاہے پاکستان ہو، انڈیا، اسرائیل ہو یا پھر امریکا، مسلمان، عیسائیت، یہودیت سب ایک ہی مقصد کے پیچھے ہیں۔
آپ انفرادی طور پر لوگوں کی دہشت گردی کی بات کرتے ہیں لیکن یہ ڈسکس نہیں کرتے کہ یہ دہشت گرد ماضی میں کیا تھے اور وہ دہشت گرد کیوں بنے۔ حقیقتاً یہ سارا ڈراما ریاستی دہشت گردی ہی شروع کرتی ہے۔ پہلے ایک ریاست نے دنیا بھر سے لوگوں کو افغانستان میں جمع کیا، اور پھر انیس سو اٹھانوے میں امریکا نے کروز میزائلوں کے ذریعے ان سب کو اس لیے ختم کرنا چاہا کیوں کہ وہ افریقا میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا الزام کسی نہ کسی پر ڈال کر کارراوئی کرنا چاہتا تھا۔ امریکا کی یہ دہشت گردی کسی نے نہ دیکھی، کروز میزائل کے اس حملے میں کئی معصوم بچے اور خواتین جاں بحق ہوگئے۔ ابھی تک یہ ثابت ہی نہیں ہوا کہ گیارہ ستمبر کا حملہ اسامہ نے کرایا لیکن اس سے پہلے ہی امریکا نے افغانستان اور پتہ نہیں کہاں کہاں حملے کردیئے۔ جب رد عمل سامنے آیا تو لاچار اور بے بس انسان خود کش بمبار بن گئے جنہیں دہشت گرد کہا گیا۔
میرے پاس احمد سعید کھدر خاندان کی ایک مثال موجود ہے۔ پوری فیملی کینیڈین شہریت کی حامل تھی۔ پوری فیملی افغانستان کی تعمیر نو کے لیے افغانستان پہنچی۔ سب سے پہلے احمد سعید کھدر کا چودہ سالہ بیٹا عمر کھدر افغانستان میں گرفتار کرلیا گیا اور اسے گوانتانامو بے بھجوا دیا گیا۔ پورے امریکی میڈیا میں اس بات کا ذکر کافی عرصے تک چلتا رہا کہ گوانتانامو بے میں امریکی فوجی اس لڑکے کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے رہے۔ احمد سعید کے دوسرے بیٹے عبدالکریم کو افغانستان میں امریکی فوجیوں نے پیٹھ میں گولی ماری جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر معذور ہوگیا، جب کہ تیسرا بیٹا عبدالرحمٰن امریکی مخبر بننے کو تیار ہوگیا۔ مجبوراً احمد سعید افغانستان سے اپنی دو بیٹیوں اور اہلیہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان میں پناہ لینی پڑی۔ لیکن یہاں انہیں پاکستانی فوجیوں نے نہیں چھوڑا۔ احمد سعید کو مار دیا گیا جبکہ اس کی بیٹیوں اور بیوی کو اسلام آباد لا کر چھوڑ دیاگیا، کوئی انہیں پناہ دینے یا گھر کرائے پر دینے کو تیار نہ تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ مجرم چاہے کتنا بھی سفاک کیوں نہ ہو، اس کے خاندان کو حقوق سے محروم نہیں کیا جاتا لیکن ہماری حکومت ایسا کرتی ہے۔ احمد سعید کی اہلیہ نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ اس کی لاش انکے حوالے کردی جاءے لیکن یہ درخواست مسترد کردی گئی۔ اب آپ خود کو احمد سعید کی اہلیہ کی جگہ پر رکھ کر سوچیں اور پھر یہ بتائیں کہ آپ کے پاس کچھ کرنے کے لیے کتنے آپشنز باقی رہ گئے ہیں۔
آپ کا یہ وزیر شیخ رشید احمد ٹی وی پر آکے روزانہ بیان دیتا ہے کہ آج ہم نے اتنے شر پسند مار گرائے، کل اتنوں کو ٹھکانے لگایا، آئندہ اتنے غیر ملکی ماریں گے، یہ وہی شیخ رشید ہے جو کسی زمانے میں ببانگ دہل کشمیریوں کے دہشت گرد ٹریننگ کیمپ چلاتا تھا، یہ اس وقت کی بات ہے جب شیخ رشید حکومتی حصہ نہیں ہوا کرتا تھا، اسے دہشت گرد قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن چونکہ اب وہ حکومت کا حصہ ہے تو سب ٹھیک ہے۔ کوئی بات نہیں۔ مفادات کی جنگ میں بھارت اور پاکستان نے اپنی آپسی جنگ کے لیے کشمیریوں کو استعمال کیا، بیچ میں یہ بیچارے پس گئے، کبھی ہلاک ہوئے تو کبھی ان کی عزتیں لوٹی گئیں، کبھی گرفتار ہوکر جیلوں میں سڑتے رہے۔ یہ دہشت گرد ہیں۔
جب دو ہاتھی آپس میں لڑتے ہیں تو کچلی صرف گھاس ہی جاتی ہے اور جب دو ہاتھی لو میکنگ کرتے ہیں تو بھی گھاس ہی کچلی جاتی ہے۔ چاہے ریاستیں آپس میں جنگیں لڑیں یا پھر دوستی کریں، کچلے ہمیشہ ہتھیار یا ذرائع ہی جاتے ہیں۔

سوال: شیخ رشید نے دہشت گرد کیمپ کیسے چلانا شروع کیے؟ وضاحت کریں۔
جواب: انیس سو چھیاسی، ستاسی کے دوران یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب جذبات میں آکر میں نے جنرل ضیاء الحق کو خط لکھا کہ وہ ایک خود غرض جنرل ہیں، وہ ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے کی بجائے صرف حکمرانی کرنا پسند کرتے ہیں۔ خط پڑھ کر ضیاء الحق نے مجھے میرے پاک ائر فورس کے اسکوارڈن لیڈر اور آئی ایس آئی کی افغانستان ڈیسک کے عہدوں سے برطرف کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد میں افغانستان چلاگیا جہاں مجاہدین کے ساتھ مل کر سوویت افواج کے خلاف لڑا۔ وہاں میری ملاقات اسامہ بن لادن کے استاد عبداللہ اعظم، اسامہ بن لادن اور شیخ عبدالمجید زندانی سے ہوئی۔ ملازمت سے برطرف کیے جانے کے باوجود میرے آئی ایس آئی کے ڈی جی حمید گل اور پوری تنظیم سے روابط قائم تھے۔
جنرل ضیاء الحق کی پلین کریش میں ہلاکت کے بعد انتخابات ہوئے جس میں اس بات کے زیادہ تر امکانات دکھائے دیئے کہ پیپلز پارٹی جیت جائے گی، اگر ایسا ہوا تو جہاد کا کیا ہوگا۔ ہم سب مجاہدین نے مل کر اس ساری صورتحال پر مباحثہ کیا اور یہ طے پایا کہ پیپلز پارٹی کو الیکشن میں کامیاب ہونے سے روکا جائے۔ میں نے پاکستان جا کر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل سے ملاقات کی اور جماعت اسلامی اور مسلم لیگ پر مشتمل ایک اتحاد اسلامک ڈیموکریٹک الاءنس بنانے میں کردار ادا کیا۔ بہر حال پی پی الیکشن تو جیت گئی لیکن اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ مجھے اسامہ بن لادن نے فنڈز فراہم کیے کہ میں وہ رقم اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کو دوں تا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرائی جا سکے۔ نواز شریف نے مجھ پر دبائو ڈالا کہ میں اسامہ بن لادن سے ان کی براہ راست ملاقات کا انتطام کروں جو میں نے کیا اور نواز شریف نے سعودی عرب میں تین بار شیخ اسامہ بن لادن سے ملاقات کی۔ جب تک میں یہ ملاقات کرواتا تب تک نواز شریف مجھ سے پوچھتے رہتے تھے کہ شیخ صاحب مانے یا نہیں مانے۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ اسامہ سے انہیں چار اعشارئیہ آٹھ ملین ڈالر کا فنڈ ملے۔ انہیں فنڈ تو ملا لیکن کم، اسامہ کے توسط سے جو قیمتی چیز نواز شریف کو ملی وہ تھی سعودی شاہی خاندان سے دوستی اور مراسم۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف کو سعودی عرب کی بھرپور سیاسی حمایت حاصل ہوئی اور وہ اس ہی بناء پر وزیراعظم بھی رہے تاوقتیکہ پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا لیکن اس کے بعد بھی سعودی خاندان نے نواز شریف کی حمایت ختم نہ کی اور انہیں پاکستان سے نکالنے کا بندوبست بھی کیا۔
اس وقت صورتحال بڑی عجیب تھی، غلام مصطفیٰ جتوئی بھی مجھے کہتے رہتے تھے کہ میری شیخ ’’اسامہ‘‘ سے ملاقات توکرا دو۔ شیخ صاحب بڑے سخی ہوا کرتے تھے اور سیاست دان ان کی سخاوت چکھنا چاہتے تھے۔
نواز شریف نے میری ملاقات شیخ رشید سے کرائی، مجھے معلوم ہوا کہ شیخ رشید راولپنڈی میں فتح جنگ روڈ پر فریڈم ہاءوس نامی ٹیرر کیمپ چلاتے ہیں۔ شیخ رشید نے مجھے اپنے کیمپ کا دورہ کرایا اور مجھ سے عربوں سے حمایت دلوانے کی درخواست کی۔ میں اپنے کئی عرب دوستوں کو شیخ رشید کے کیمپس میں لے گیا اور ان سے پیسے اور فنڈز دلوائے تاہم وہ عرب اس ماحول سے مطمئن نہ تھے۔
اس کیمپ میں نوجوانوں کو اے کے فورٹی سیون رائفل چلانا سکھائی جاتی تھی لیکن ان کی نظریاتی تربیت نہیں ہوتی تھی اور یہی بات عرب ناپسند کرتے تھے۔ عرب کہتے تھے کہ یہ نظریاتی تربیت ہی ہے جو ایک بھاڑے کے ٹٹو اور ایک پکے مجاہد میں فرق محسوس کراتی ہے۔ شیخ رشید کو نظریاتی تربیت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، اسے بس رقم چاہئے تھی، یعنی پچاس ہزار روپے فی بندہ۔ عربوں سے اسے پیسے تو ملے، جس کے بارے میں اس نے کہا کہ اس نے اے کے فورٹی سیون رائفلز خریدی ہیں، کتنی! مجھے علم نہیں۔

سوال: جناب، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ یعنی جہاد کے نام پہ اتنا بڑا دھوکا؟
جواب: جہاد کے لیے جواز چاہئے ہوتا ہے، اور جب بھی جہاد کیا جاتا ہے تو انسان کا مذہبی ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ہم مسلمانوں کا یہ ماننا ہے کہ ایک معصوم انسان کا خون پوری انسانیت کا خون کرنے کے مترادف ہے۔

سوال: آپ کا خود کش بمباروں کے بارے میں کیا کہنا ہے جو یہاں وہاں حملے کرتے پھر رہے ہیں؟
جواب: یہ لوگوں کا رد عمل ہے جو کہ ان کی پریشانیوں اور غصے کی وجہ سے ہے، لیکن اسے اسلامی طرز عمل نہیں کہا جاسکتا۔ گو کہ یہ حملہ آور نام سے مسلمان ہوتے ہیں لیکن یہ ڈونلڈ رمسفیلڈ، ڈک چینی یا دیگر امریکیوں سے کم نہیں جنہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بدلے میں افغانستان اور عراق میں خون کا بازار گرم کردیا۔ جس طرح امریکا نے افغانستان میں جنگ شروع کی، ویسے ہی اسامہ اور ملا عمر جیسے حقیقی مجاہد بیک گرائونڈ میں چلے گئے لیکن تنظم کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جنہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ جہاد ہوتا کیا ہے، ایسے افراد تو صرف امریکا کا غصہ دوسروں پر اتارتے ہیں۔

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 717
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (30-06-08), منتظمین (10-01-08), Zullu230 (10-01-08), شہزاد وحید (30-06-08)
پرانا 10-01-08, 02:42 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,808
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

مجھے اس انٹرویو کے سچا یا جھوٹا ہونے کا کوئی اندازا تو نہیں لیکن یہ انکھیں کھولنے اور دل کو دہلا دینے والا ہے۔ کیا اپ کنفرم کر سکتے ہیں کہ اصل انٹرویو کہاں پر شائع ہوا تھا؟

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
ابو کاشان (10-01-08)
پرانا 10-01-08, 10:44 AM   #3
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,368
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

جناب عالی،
یہ انٹرویو ایشیا ٹائمز کی ویب سائٹ‌ پر پڑھا تھا میں نے۔ انگریزی میں تھا تو سوچا اردو میں ٹرانسلیٹ‌ کردوں گا تو زیادہ بہتر رہے گا۔
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (30-06-08)
پرانا 30-06-08, 03:36 PM   #4
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,859
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

آپ کا بہت شکریہ
یہ تو ایک تہلکہ خیز انٹرویو ہے جناب
پیاسا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-06-08, 09:10 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
شہزاد وحید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Pakistan
عمر: 23
مراسلات: 195
کمائي: 2,969
شکریہ: 60
87 مراسلہ میں 210 بارشکریہ ادا کیا گیا
شہزاد وحید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں شہزاد وحید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں شہزاد وحید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

میں نے زرداری صاحب کو ایک بریس کانفرینس میں کہتے سنا تھا کہ " میں آئی ایس آئی کی نہ پہلے کبھی مانی تھی نہ اب مانوں گا"۔
شہزاد وحید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-06-08, 09:35 PM   #6
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شہزاد وحید مراسلہ دیکھیں
میں نے زرداری صاحب کو ایک بریس کانفرینس میں کہتے سنا تھا کہ " میں آئی ایس آئی کی نہ پہلے کبھی مانی تھی نہ اب مانوں گا"۔
آئی ایس آئی تو پہلے بھی اس کے گھر کی باندی تھی اور اب بھی۔

پہلے ملک رحمان کی شکل میں اور اب شیری اور ملک رحمان کی شکل میں
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-07-08, 01:33 AM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

السلام علیکم

پاکستان کے مقابلے میں بھارتی مسلمانوں کو سب سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ ایسے کئی پاکستان لوگ ہیں، جن میں فوجی، عالم، اسکالرز اور عام لوگ شامل ہیں، جو اپنے گھروں سے غائب کردیئے گئے ہیں اور انہیں لاپتہ ہوئے سالوں گزر گئے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ انہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے غائب کرایا۔ ایسے افراد پر کبھی کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلا جبکہ کئی افراد کو بغیر مقدمہ کے ہی مار دیا گیا۔ اس سے اچھے تو آزادی سے پہلے برطانوی راج کے دن تھے جب کسی کو بھی بغیر مقدمہ کے قید نہیں کیا جاتا تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مزید حقوق دیئے جائیں، ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ کم از کم اتنے حقوق تو دیئے جائیں جتنے برطانوی راج میں ملتے تھے۔


معاف کریں یہ صاحب ملک سے زیادہ کسی اور ملک کی وفاداری دکھا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے برسوں اس ملک کا خون پیا، فوج اور آئ-ایس-آئ میں رہ کر مزے لوٹے اور اس کے بعد بے دخل کیئے جانے کے بعد خود کع بطور ہیرو پیش کرنے سے نہیں چوکتے۔ یہ وہ پاک فوج کے قابل فخر سپوت ہیں جنہوں نے یہ کہنے سے پہلے انڈیا کے کسی عام مسلمان سے نہیں پوچھا کہ بھائ تجھے کیا حقوق حاصل ہیں اور تو غیر مسلم حکومت کے سائے تلے کتنے آرام سے رہ رہا ہے؟ جہاد کی حقیقت جب ان کو شروع ہی سے معلوم تھی تو اس وقت ان کا جذبہ کیوں نہیں جاگا؟ سب بکواس ہے اور اپنے آپ کو اور عوام کو بے وقوف بنانے کے طریقے۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں کوئ نہیں سنتا تو جا کر انٹرنیشنل میڈیا پر پروپگینڈا مچاتے ہیں۔
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
مسٹر رائٹ (02-07-08), عبدالقدوس (02-07-08)
پرانا 01-07-08, 10:14 AM   #8
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,859
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

پاکستان کے مقابلے میں بھارتی مسلمانوں کو سب سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ ایسے کئی پاکستان لوگ ہیں، جن میں فوجی، عالم، اسکالرز اور عام لوگ شامل ہیں، جو اپنے گھروں سے غائب کردیئے گئے ہیں اور انہیں لاپتہ ہوئے سالوں گزر گئے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ انہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے غائب کرایا۔ ایسے افراد پر کبھی کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلا جبکہ کئی افراد کو بغیر مقدمہ کے ہی مار دیا گیا۔ اس سے اچھے تو آزادی سے پہلے برطانوی راج کے دن تھے جب کسی کو بھی بغیر مقدمہ کے قید نہیں کیا جاتا تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مزید حقوق دیئے جائیں، ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ کم از کم اتنے حقوق تو دیئے جائیں جتنے برطانوی راج میں ملتے تھے۔


معاف کریں یہ صاحب ملک سے زیادہ کسی اور ملک کی وفاداری دکھا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے برسوں اس ملک کا خون پیا، فوج اور آئ-ایس-آئ میں رہ کر مزے لوٹے اور اس کے بعد بے دخل کیئے جانے کے بعد خود کع بطور ہیرو پیش کرنے سے نہیں چوکتے۔ یہ وہ پاک فوج کے قابل فخر سپوت ہیں جنہوں نے یہ کہنے سے پہلے انڈیا کے کسی عام مسلمان سے نہیں پوچھا کہ بھائ تجھے کیا حقوق حاصل ہیں اور تو غیر مسلم حکومت کے سائے تلے کتنے آرام سے رہ رہا ہے؟ جہاد کی حقیقت جب ان کو شروع ہی سے معلوم تھی تو اس وقت ان کا جذبہ کیوں نہیں جاگا؟ سب بکواس ہے اور اپنے آپ کو اور عوام کو بے وقوف بنانے کے طریقے۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں کوئ نہیں سنتا تو جا کر انٹرنیشنل میڈیا پر پروپگینڈا مچاتے ہیں۔
معاف کیجیے گا سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے
آپ تحقیق کیجیے
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجاے گا
پیاسا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-07-08, 11:45 PM   #9
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پیاسا مراسلہ دیکھیں
معاف کیجیے گا سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے
آپ تحقیق کیجیے
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجاے گا
یقیناً سچ کڑوا ہوتا ہے، مگر اسی وقت جب صحیح وقت اور صحیح جگہ پر بولا جائے۔ نوسو چوہوں کا شکار کرنے والے ایک چوہے کے چھوٹ جانے پر بولا گیا کڑوا سچ نہیں بلکہ کھٹے انگور ہوتے ہیں !
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
مسٹر رائٹ (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 04:32 AM   #10
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پیاسا مراسلہ دیکھیں
معاف کیجیے گا سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے
آپ تحقیق کیجیے
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجاے گا
سلام،

تو پھر کیوں نہ تحقیق کی جائے، کیوں کیا کہتے ہیں۔
ویسے ابتدا گجرات سے کرتے ہیں نام تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-07-08, 10:28 AM   #11
محسن
 
مسٹر رائٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 36
مراسلات: 1,489
کمائي: 10,968
شکریہ: 280
495 مراسلہ میں 1,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

میں خلیل صاحب سے 100فیصد متفق ہوں

ایسے لوگ تھالی کے بینگن ہوتے ہیں۔

جیسے آج کل شیخ رشید اور اعجاز الحق اور دوسرے سابقہ وزیر مشرف کے خلاف بولنا شروع ہوگئے ہیں کہ لال مسجد والا واقعہ ٹھیک نہیں تھا ، وغیرو وغیرو۔ مشرف ذمہ دار ہیں۔۔

تو ایسے لوگ بلکہ لوٹے جو نواز شریف کے سگے نہ بن سکے اور جو وقت کے ساتھ اپنی وفاداریاں بدل لیں تو ملک کے ساتھ کیسے وفادار رہ سکتے ہیں۔

جن کا نہ کریکٹر نہ خوداری۔

ان سب کو اکٹھا کر کے بحیرہ اوقیانوس نے میں پھینک دینا چاہیے۔
مسٹر رائٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-07-08, 12:36 PM   #12
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,359
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مسٹر رائٹ مراسلہ دیکھیں
ان سب کو اکٹھا کر کے بحیرہ اوقیانوس نے میں پھینک دینا چاہیے۔
کیو بحر کو پلید کرنا ہے ان لوگوں سے؟؟


ایسے لوگوں کو زندہ جلانا چائے یا پھر سر عام پھانسی کی سزا دیکر لاش میں‌ بھوسہ بھر کر بیچ چوراہے پر لٹکادینا چاہیے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-07-08, 05:35 PM   #13
محسن
 
مسٹر رائٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 36
مراسلات: 1,489
کمائي: 10,968
شکریہ: 280
495 مراسلہ میں 1,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالقدوس مراسلہ دیکھیں
کیو بحر کو پلید کرنا ہے ان لوگوں سے؟؟


ایسے لوگوں کو زندہ جلانا چائے یا پھر سر عام پھانسی کی سزا دیکر لاش میں‌ بھوسہ بھر کر بیچ چوراہے پر لٹکادینا چاہیے
رائٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر رائٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-07-08, 06:32 PM   #14
محسن
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مراسلات: 832
کمائي: 8,532
شکریہ: 409
260 مراسلہ میں 393 بارشکریہ ادا کیا گیا
yashaka کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں yashaka کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالقدوس مراسلہ دیکھیں
کیو بحر کو پلید کرنا ہے ان لوگوں سے؟؟


ایسے لوگوں کو زندہ جلانا چائے یا پھر سر عام پھانسی کی سزا دیکر لاش میں‌ بھوسہ بھر کر بیچ چوراہے پر لٹکادینا چاہیے
میں آپ کے ساتھ ھوں
yashaka آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-07-08, 11:43 PM   #15
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اور جہاد کی حقیقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مسٹر رائٹ مراسلہ دیکھیں
میں خلیل صاحب سے 100فیصد متفق ہوں

ایسے لوگ تھالی کے بینگن ہوتے ہیں۔

جیسے آج کل شیخ رشید اور اعجاز الحق اور دوسرے سابقہ وزیر مشرف کے خلاف بولنا شروع ہوگئے ہیں کہ لال مسجد والا واقعہ ٹھیک نہیں تھا ، وغیرو وغیرو۔ مشرف ذمہ دار ہیں۔۔

تو ایسے لوگ بلکہ لوٹے جو نواز شریف کے سگے نہ بن سکے اور جو وقت کے ساتھ اپنی وفاداریاں بدل لیں تو ملک کے ساتھ کیسے وفادار رہ سکتے ہیں۔

جن کا نہ کریکٹر نہ خوداری۔

ان سب کو اکٹھا کر کے بحیرہ اوقیانوس نے میں پھینک دینا چاہیے۔

بالکل صحیح --- ان کا ہونا ہی یہی چاہیئے۔ ہمارے ملک پر برائ ان ہی کے دم سے ہے۔
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاک, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, قید, لوگ, نواز شریف, نظر, مکمل, معلوم, آبادی, آج, الزام, احتجاج, اسلام, استاد, بے نظیر, بادشاہت, جواب, خواتین, دل, زرداری, سیاست, شہزاد


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 12-12-09 11:55 PM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger