واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پاکستان اپنے آپ سے متصادم ہوچکا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-10-08, 01:31 AM   #1
پاکستان اپنے آپ سے متصادم ہوچکا ہے
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 07-10-08, 01:31 AM

اخوندزادہ جلال نورزئی
(بلوچستان کی ڈائری)

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا مقصد بھی دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے شانہ بھانہ جنگ ٹھہر گیا ہے ۔ حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں معلوم نہیں کہ اس گمھبیر صورتحال کا پیپلز پارٹی کے مٹی بھر رہنماء کس طرح حل نکالیں گے ۔پر تشدد اور ہلاکت خیز واقعات میں دن بدن تیزی آرہی ہے ۔اپنے ملک کے اندر ہی میدان جنگ لگ گیا ہے ۔ نا عاقبت اندیش صاحبان اقتدار کو شاید معلوم نہ تھا کہ اغیار کا مقصد بھی یہی تھا جو ہورہا ہے۔ اب اس جنگ سے اگرگلو خلاصی ہوگی تو پیپلز پارٹی دسرے اندرونی معاملات پر توجہ دے سکے گی ۔ امریکہ مطمئن نہیں ہوگا بلکہ ان کے صدارتی امیدواروں اورنائب صدارت کے امیدواروں کے درمیان مناظرں اور مباحث کا موضوع ہی پاکستان اور ایٹمی ٹیکنالوجی رہا ہے ان کے نزدیک دہشت گردی کا اصل سر چشمہ پاکستان اور افغانستان ہے گویا امریکہ نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان ایک غیر مستحکم ملک ہے اور غیر مستحکم ممالک خطے کی سیاست پر ملکی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ امریکہ یہ بھی کہتا ہے کہ قبائلی علاقوں کے پہاڑوں میں موجود دہشت گرد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں پھیلے طالبان یا عسکریت پسند امریکہ کے لیے خطرہ ہیں ۔ پاکستان اپنے آپ سے متصادم ہوچکا ہے ۔ افغانستان کی سرزمین اب پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے یہی نہیں بلکہ ذرائع کے مطابق پاکستان کے اندر سے بھی قبائلی علاقوں پر حملے کئے جاتے ہیں اس تناظر میں بلوچستان کا شمسی ایئر پورٹ کا بطور خاص ذکر کیا جاتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ملک کی آرمی کو امریکہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کررہا ہے مگر اس کے برعکس افغانستان میں موجود بھارتی لابی کی ملی بھگت سے بلوچستان کی شورش کو بھی ہوادی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو اب اتنی مہلت ہی نہیں مل رہی ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر تسلسل کے ساتھ پیشرفت کی جائے۔ یہ الگ موضوع ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ آئینی اور سیاسی ہے یہاں صوبائی خود مختاری اور حقوق کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاہم یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ بلوچ مسلح مزاحمت کو بیرونی پشت پناہی حاصل ہے اور ان قوتوں کی کوشش اور منصوبہ بندی یہی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ جوں کا توں رہے اور یہ اپنے مقاصد میں پیشرفت کرتے رہیں۔ بلوچستان کے ساتھ افغانستان کی طویل سرحدی پٹی پر آمدروفت روکنا قطعی نا ممکن ہے نا ہی کسی کے ماتھے پر دہشت گرد اور طالبان لکھا ہوا ہوتا ہے اگر امریکہ نیٹو اتنی بڑی ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کے باوجود افغانستان سے مبینہ طور پر طالبان کے تدارک کے اقدامات نہیں کرسکتا ہے تو حکومت پاکستان کے لیے یہ کام کیسے آسان ہے ۔ باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں کے عوام افغانستان بھی ہجرت کررہے ہیں بڑی تعداد میں آپریشن کے متاثرین نے ملک کے مختلف علاقوں کا رخ کر لیا ہے امدادی کیمپوں میں رہائش اختیار کرلی گئی ہے ۔ جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کے باعث یقینا عسکریت پسند بھی ادھر ادھر جائے پناہ ڈھونڈیں گے خصوصا بلوچستان کا علاقہ ژوب وانا سے متصل ہے ،بیت اللہ محسود کا بھائی عبداللہ محسود بھی 24جولائی007کو ژوب میں مارا گیا چنانچہ یہ امکان موجود ہے کہ ژوب سمیت بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں آپریشن کا آغاز کردیا جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک طویل پٹی پر غیر یقینی صورتحال جنم لے لے گی جبکہ بلوچ مزاحمت کار بھی تقویت حاصل کریں گے نیز طالبان یا وہ قوتیں جو افغانستان میں قابض امریکہ اور نیٹو فورسز کے خلاف بر سرپیکار ہیں نتیجتاً ًفورسز پر حملے شروع کردینگے اور خودکش حملے بھی ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں سوئی ،جعفرآباد اور دیگر علاقوں میں نا خوشگوار واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔عید سے قبل یعنی 28ستمبر کو کوئٹہ میں ایک شاپنگ سینٹر اور سی ڈی پلازہ میں دھماکے ہوئے یہ دھماکے دن کے وقت ہوئے جب مرد و خواتین عید کی خریداری میں مصروف تھے۔ 3اکتوبر کو ڈی آئی جی انسویٹی گیشن رحمت اللہ نیازی اور ڈی آئی جی آپریشن وزیر خان ناصر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیاجس میں بتایا گیا کہ پولیس نے کوئٹہ کے جنوب میں واقع میاں غنڈی میں چھاپہ مار کر دو مکانوں میں ٹھہرے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا ۔ افراد کے قبضے سے خودکش جیکٹس، راکٹ لانچر، پانچ دستی بم، اٹھارہ کلو دھماکی خیز مواد، ڈیٹر نیٹر پولیس اور اے ٹی ایف کی وردیاں برآمد کرلیں۔ گرفتار افراد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے بتایا گیا ہے ۔ بلوچستان میں بلوچ مزاحمتی تنظیمیں علیحدگی کا مطالبہ کررہی ہیں اور مزاحمت کو آزادی کی جنگ قرار دے رہی ہیں۔ چودہ اگست کے دن کو یوم سیاہ منایا جاتا ہے ۔ عید الفطر کو بھی یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ بلوچ خواتین پینل نے عید کے پہلے روز شہر میں احتجاجی ریلی نکالی۔ علیحدگی کی بات کرنے والے بلاشبہ قلیل تعداد میں ہے مگر یہ نعرہ بے معنی نہیں ہوسکتا اس مزاحمتی سوچ کے باعث بلوچ لیڈر شپ کمزور ہوگئی ہے طاقت و قوت کا سر چشمہ مزاحمت کار اور اس سوچ کو سیاسی قوت فراہم کرنے والی جماعتیں بن رہی ہیں۔ عید کے دن خواتین نے پلے کارڈ پر’’ ہمار پیغمبر ہمارا نبی نواب مری نواب مری‘‘ کے الفاظ تحریر کئے تھے یعنی جذباتی فضاء بن رہی ہے ۔اور ان کے جذبات سے بیرونی قوتیں اپنا مقصد حاصل کرسکتی ہے مقصد بیان یہ ہے کہ ملک یقینا مشکل میں پھنس چکا ہے چنانچہ اس تناظر میں بہر طور حکومت کو مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ بلوچستان کے مسئلے کو ترجیح دینی ہوگی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے بزرگ بلوچ قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادے نوابزادہ حیربیار مری کے خلاف قائم مقدمات لیکر ایک مستحسن اقدام اٹھایا ہے جس کی تفصیل 30ستمبر کے اخبارات میں چھپ چکی ہے ۔ ان مقدامات میں چار زیر سماعت ہیں اور چار میں عدم پیروی کی وجہ سے انہیں مختلف المعیاد سزائیں سنائی گئی تھیں ان مقدمات میں ان کی سزا ختم کردی گئی ہے ۔ سوائے بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد نواز کے قتل کے مقدمہ کے۔ جسٹس نواز مری کا مقدمہ کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں محکمہ داخلہ نے باقی تمام واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کا دبئی میں قیام پذیر نواب مری کے بیٹے نوابزادہ گزین مری سے بھی رابطے ہیں تقریبا ڈیڑہ ماہ قبل صدر آصف علی زرداری نے بھی ان سے ملاقات کی تھی ان رابطوں میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے میں متعلق امور پر بات چیت کی گئی تھی اور نوابزادہ گزین مری کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی مشیر داخلہ نے رمضان سے قبل اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران کہا تھا کہ اب نوابزادہ گزین مری اپنے ملک کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوابزادہ حیربیار لندن میں مقیم ہے سابق حکومت کی درخواست پر برطانوی حکومت نے حیر بیار مری کو گرفتار کرلیا تھا جس کی بعد ازاں ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی۔ واضح رہے کہ جسٹس نواز مری کے قتل کے بعد ناخوشگوار واقعات رونما شروع ہوگئے تھے بہر کیف نواب مری اور ان کے صاحبزادوں پر قائم مقدامت کی واپسی خوش آئند ہے اور ہونا یہ چاہیئے کہ صوبے کے قوم پرست رہنماء اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 463
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
J.S (08-10-08), shafresha (15-06-11), منتظمین (07-10-08)
پرانا 08-10-08, 12:54 AM   #2
J.S
Senior Member
 
J.S's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,136
کمائي: 193,097
شکریہ: 9,966
7,889 مراسلہ میں 16,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اپنے آپ سے متصادم ہوچکا ہے

رپورٹ کے لئے شکریہ ۔
J.S آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے J.S کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-11), ابن جلال (08-10-08)
پرانا 08-10-08, 01:01 AM   #3
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اپنے آپ سے متصادم ہوچکا ہے

آپ کا بھی شکریہ
آپ کو اخبار کا لنک بھی دونگا۔

Last edited by ابن جلال; 10-10-08 at 04:57 AM.
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (15-06-11)
پرانا 09-10-08, 11:26 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زین الدین زیڈ ایف مراسلہ دیکھیں
ان کے صدارتی امیدواروں اورنائب صدارت کے امیدواروں کے درمیان مناظرں اور مباحث کا موضوع ہی پاکستان اور ایٹمی ٹیکنالوجی رہا ہے ان کے نزدیک دہشت گردی کا اصل سر چشمہ پاکستان اور افغانستان ہے گویا امریکہ نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان ایک غیر مستحکم ملک ہے اور غیر مستحکم ممالک خطے کی سیاست پر ملکی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ امریکہ یہ بھی کہتا ہے کہ قبائلی علاقوں کے پہاڑوں میں موجود دہشت گرد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں پھیلے طالبان یا عسکریت پسند امریکہ کے لیے خطرہ ہیں ۔ ۔
امريکی نائب صدر کےاميدواروں کی جانب سے بيانات کے حوالے سےيہ سمجھنا ضروری ہے کہ گفتگو کس تناظر ميں کی گئ۔ پاکستان کے حوالے سے زير بحث موضوع پر گفتگو آپ اس ويب لنک پر ديکھ سکتے ہيں۔


http://www.youtube.com/watch?v=JBc-B9CQ9Dg

اصل سوال ايک "غير مستحکم" پاکستان سے وابستہ خطرات کے حوالے سے تھا اور دونوں اميدواروں نے اس بات سے اتفاق کيا تھا۔ دوسروں لفظوں ميں ايک "مستحکم" پاکستان خوش آئند اور دنيا کے ليے خطرہ نہيں ہے۔ ايک اميدوار نے تو اس بات پر بھی زور ديا کہ پاکستان ميں استحکام حاصل کرنے کے ليے يہ ضروری ہے کہ يہاں پر جمہوريت کو مضبوط کيا جاۓ اور اس مقصد کے حصول کے ليے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی جاۓ۔ کيا آپ کے خيال ميں ايک "غير مستحکم" پاکستان پاکستان کے عوام کے ليے خطرناک نہيں ہے؟ اگر ہے تو آپ کے خيال میں پاکستان کو کون سے عوامل "غير مستحکم" کر رہے ہيں – وہ دہشت گرد گروہ اور تنظيميں جو اس وقت پورے پاکستان ميں بغير کسی تفريق کے بے گناہ پاکستانيوں کو قتل کر کے حکومت پاکستان کی رٹ کو چيلنج کر رہے ہيں جيسا کہ اسلام آباد اور بھکر کے حاليہ دھماکوں کے نتيجے ميں درجنوں بے گناہوں کی ہلاکت سے واضح ہے يا پھر امريکی حکومت جو پاکستان کو مستحکم بنيادوں پر کھڑا کرنے کے ليے تعليم، صحت اور دفاع کے بے شمار منصوبوں ميں حکومت پاکستان کی اربوں ڈالروں سے مدد کر رہی ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (15-06-11)
پرانا 10-10-08, 04:53 AM   #5
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پاکستان اپنے آپ سے متصادم ہوچکا ہے

اقتباس:
ايک اميدوار نے تو اس بات پر بھی زور ديا کہ پاکستان ميں استحکام حاصل کرنے کے ليے يہ ضروری ہے کہ يہاں پر جمہوريت کو مضبوط کيا جاۓ اور اس مقصد کے حصول کے ليے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی جاۓ۔
پاکستانی علاقے میں بغیر اجازت کارروائی اور حملوں کی بات کیوں کھاگئے آپ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

بارک اوما نے تو پاکستانی علاقوں‌میں‌حملوں‌کی بات براہ راست ٹی مناظرہ پر ساری دنیا کے سامنے کہی

Last edited by ابن جلال; 10-10-08 at 04:56 AM.
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (15-06-11)
پرانا 14-06-11, 07:43 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پُرانے تھریڈ لطیفے جیسی حیثیت ا ختیار کر جاتے ھیں ، مگرھنسی ایسی ھوتی ھے جس کا ساتھ دل خون کے آنسو رو کر دیتا ھے۔ بھلا انہیں کی وجہ سے اور انہیں کی خاطر حکومت میں آنے والے کفارکے منصوبوں سے بے خبر ھو سکتے ھیں کبھی۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-11), ابن جلال (14-06-11)
جواب

Tags
com, digital, email, fawad, کوئٹہ, کورٹ, کارڈ, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیر, ممکن, امریکہ, اسلام, خواتین, خودکش, خوش, دبئی, رمضان, زرداری, سیاست, طالبان, صحت, صدارتی, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان اورافغانستان میں غیرقانونی امریکی نیٹ ورک کی تصدیق ہو گئی: نیو یارک ٹائمز جاویداسد خبریں 3 14-01-11 08:50 PM
پاکستان میں افغان اہلکاروں کے خفیہ آپریشن،امریکی حکام کی تصدیق، پاکستان کی تردید جاویداسد خبریں 1 23-09-10 07:17 PM
پاکستان کواقتصادی ترقی اور استحکام سمیت کئی چیلنجز کاسامنا ہے،نوید قمر تہر عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:42 AM
ایرانی صدر احمدی نژاد 28اپریل کو مختصر دورے پر پاکستان آئینگے عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:05 AM
پاکستان اور قازقستان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر متفق عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 08:48 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger