واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پاکستان میں امریکی سفیر کا مقام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-10, 08:06 PM   #1
پاکستان میں امریکی سفیر کا مقام
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 08-12-10, 08:06 PM

لگتا ہے کہ پاکستان میں ایک ہی سفیر ہے اور وہ امریکی سفیر ہے۔ وکی لیکس کی امریکی، عالمی اور اسلامی شرمندگی کے بعد بھی نہ پاکستان کے حکام کو احساس ہوا ہے اور نہ امریکی سفیر کو شرم آئی ہے۔ وکی لیکس میں عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف ایک مہم کے طور پر انکشافات کئے گئے ہیں۔ ان انکشافات کو برادر کالم نگار یاسین وٹو نے خرافات کہا ہے۔ میرے خیال میں یہ الزامات ہیں۔
وکی لیکس کے مطابق کئی مسلمان ملکوں میں امریکہ کے سفیروں نے جاسوسی کا کام کیا ہے اور یہی ان کا اصل کام ہے۔ پاکستان میں امریکی سفیر این میری پیٹرسن نے تو انتہا کر دی ہے۔ ہر سیاست دان حکمران کے لئے اس کے ریمارکس کو محفوظ کیا گیا ہے۔ وہ جہاں چاہتی تھی منہ اٹھا کے چلی جاتی تھی۔ حالانکہ ایسی نقل و حرکت سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ سفیر کو صرف وزارت خارجہ والے طلب کر سکتے ہیں۔ مگر پاکستان میں حکمران اور سیاستدان جس میں اپوزیشن کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اپنے مطالبات بھی خاتون امریکی سفیر کو پیش کرتے رہے اور اپنے نمبر بنانے کے لئے اپنے ساتھی سیاستدانوں کی برائی کرنا بھی نہیں بھولے۔ اب وکی لیکس نے یہ ساری باتیں فاش کر دی ہیں۔ اگرچہ یہ باتیں پہلے بھی کوئی راز نہ تھیں۔ ہمیں اپنے حکمرانوں کا پتہ ہے اور امریکی سفیروں کا بھی پتہ ہے۔ دونوں کا انتخاب امریکہ خود کرتا ہے۔ یہ پتہ نہیں چلتا کہ دونوں میں سے امریکہ کا زیادہ وفادار کون ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستانی حکام زیادہ وفادار ہیں کہ وہ امریکی سفیر کے بھی تابعدار ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہالبروک بھی پاکستان میں امریکہ کا سفیر ہے۔ آرمی چیف کے علاوہ اس نے چیف جسٹس سے بھی ملنا ضروری سمجھا ہے۔ وہ سارے سیاستدانوں سے ملتا ہے بلکہ وہ اس سے ملتے ہیں نواز شریف تو رائے ونڈ سے پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں خاص طور پر پہنچ جاتا ہے۔ کبھی خاتون امریکی سفیر نے ہالبروک کا ہوائی اڈے پر استقبال نہیں کیا۔ نہ اسے کوئی لفٹ کرائی ہے۔ وہ پاکستانی حکمرانوں، سیاستدانوں کو لفٹ کرانے کی اداکاری کرتی رہی ہے۔ اور یہ سب لوگ اس پر لٹو ہوتے رہے ہیں۔ لوٹا لٹو سے نکلا ہے، یہ دونوں گھومتے رہتے ہیں اور جھومتے رہتے ہیں۔ لوٹا کا خطاب سب سے پہلے منظور وٹو کے لئے استعمال ہوا تھا ہمارے سارے سیاستدان کسی نہ کسی درجے میں لوٹے ضرور ہیں۔ خاتون امریکی سفیر نائنٹی کراچی بھی کئی بار گئی تھی۔ کراچی اب کرچی کرچی نظر آ رہا ہے تو یہ بھی ان کی نظر کرم کا نتیجہ ہے، نائنٹی مال پر شریف برادران سے ہیلری ملی تھی۔
مجھے تو وہ نوجوان طالب علم سارے سیاست دانوں حکمرانوں سے بہت بڑا آدمی لگا تھا جس نے خاتون امریکی سفیر کے ہاتھوں کوئی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا اور صاف کہہ دیا ”تمہارے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں“ اس کے بعد بھی امریکی سفیر کو شرم نہ آئی تھی نہ ادارے کی پرنسپل کو شرم آئی تھی نہ ہمارے حکمرانوں سیاستدانوں کو شرم آئی تھی۔ انہیں تو امریکی سفیر کے ہاتھوں پر خون بھی مہندی کی طرح نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے خود ہی اپنے لوگوں کا خون امریکی سفیر اور امریکی حکام کو خراج تحسین کی طرح پیش کیا تھا۔ اپنے لوگ، اپنی بیٹیاں خود پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کی تھیں اور ڈالر کمائے تھے۔ ڈاکٹر عافیہ کو جنرل مشرف نے بیچا اور ایمل کانسی کو نواز شریف نے پیش کیا۔ نئے امریکی سفیر کا نام کیمرون منٹر ہے۔ یہ اصل میں کیمرون ہنٹر ہے۔ یہ سفیر امریکی پالیسیاں اب ڈالروں کے ہنٹروں سے منوائے گا۔ خاتون امریکی سفیر کی ادائیں بری طرح متاثر کرتی تھیں۔ اب مرد امریکی سفیر کی حرکتیں انہیں مرعوب کریں گی۔ امریکہ کے معاملے میں متاثر ہونا اور مرعوب ہونا ایک ہی بات سمجھی جاتی ہے۔
شوکت عزیز کالی جنگجو شہزادی کنڈولیزا رائس کے عشق میں گرفتار ہوا تھا۔ شاہ محمود قریشی ہیلری کے دام میں پھنس گیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی تو امریکی اداکارہ کو دل دے چکا ہے۔ نواز شریف این میری پیٹرسن کی زلفوں کا اسیر ہے۔ اس نے اس کے نئے ہیئر سٹائل کی تعریف کی تھی۔ یہ بھی کہا کہ ہم نے اس کے بغیر بھی دو دفعہ آپ کے وزیراعظم بننے کی حمایت کی تھی۔ اس سے کوئی پوچھتا کہ دو دفعہ میاں صاحب کی حکومت تڑوائی کس نے تھی۔ بی بی کی حکومت ٹوٹنے کا راز بھی میاں صاحب یا امریکی سفیر سے پوچھنا چاہئے۔ بی بی کے قتل کے بارے میں بھی امریکی سفیر سب کچھ جانتی ہے۔
امریکی سفیر کیمرون منٹر نے لاہور آ کے ناشتہ کیا ہے۔ تو کیا اسلام آباد میں ناشتہ نہیں ہوتا مگر لہوری ناشتہ پوری دنیا میں مشہور ہے۔ نواز شریف وزیراعظم تھا تو سنا ہے کہ اس کے لئے کبھی کبھی خاص ناشتہ بذریعہ طیارہ لاہور سے اسلام آباد جایا کرتا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ منٹر صاحب نے ”پاوے، کھد اور مغز“ کھایا ہے یا نہیں۔ وہ نجانے کیسا ”ناشتہ“ کرنے آیا تھا۔ رائے ونڈ کا مہمان بننا ابھی اس نے قبول نہیں کیا۔ آج کل اس کے لئے قابل قبول کون ہے؟ ناشتے کا اثر تھا کہ اس نے قومی اسمبلی میں سیلاب زدگان کے لئے ٹیکس کی منظوری پر زور دیا اور یہ بھی کہا کہ اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یہ مداخلت ایک توہین آمیز کام ہے اور یہ کام امریکی سفیر کرتا ہی رہتا ہے۔ سنا ہے کہ صوبہ سرحد کا نام بھی پختون خوا رکھوانے کے لئے امریکی سفیر نے نواز شریف سے کہا تھا۔!


Nawaiwaqt eNewspaper - A house of quality news content | Urdu News | Pakistan News | Nawaiwaqt | Nawaiwaqt Group | A house of quality news contents
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 498
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (08-12-10), حیدر (08-12-10)
پرانا 08-12-10, 09:30 PM   #2
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی تناظر میں میرے بلاگ کی یہ پوسٹ بھی پڑھیں۔
لنک
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-12-10, 11:24 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ALI-OAD مراسلہ دیکھیں
[SIZE="5"]

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہالبروک بھی پاکستان میں امریکہ کا سفیر ہے۔
سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ رچرڈ ہالبروک پاکستان کے ليے خصوصی نمايندہ نہيں مقرر کيے گۓ بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان ميں ايک مشترکہ مسلۓ کے لیے امريکہ کے خصوصی نمايندے کی حيثيت رکھتے ہيں۔ ان کی تقرری پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہيں بلکہ صدر اوبامہ کی جانب سے اس خطے ميں موجود دہشت گردی اور عدم استحکام کے مشترکہ مسلۓ کے حل کے ليے کی جانے والی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

ہم سب يہ جانتے ہيں کہ مختلف ممالک کے مابين تعلقات کی نوعيت ايک جيسی نہيں ہوتی۔ اس تناظر ميں جب کوئ ايسا ايشو سامنے آتا ہے جس کے حل کے ليے ايک سے زيادہ ممالک کے اہم عہديداروں کے درميان باہم تعلقات اور اشتراک کی ضرورت ہو تو ايک ايسے ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف ممالک کے مابين تعلقات سے بالا مسلۓ کے حل کے ليے توجہ اور مشترکہ کوششوں کو فعال اور بامقصد بنا سکے۔ اسی سوچ اور ضرورت کے تحت رچرڈ ہالبورک کی تقرری کی گئ۔

رچرڈ ہالبورک کی کوششوں کا اصل مرکز افغانستان اور پاکستان ميں تمام متعلقہ حلقوں سے باہمی مشاورت اور گفتگو کے ذريعے خطے ميں پائيدار امن اور استحکام کو يقينی بنانا ہے۔ يہ کوئ خفيہ ايجنڈا نہيں ہے۔ رچرڈ ہالبورک کی تمام ملاقاتيں پردے کے سامنے ہوتی ہيں اور ان کے باقاعدہ سرکاری پريس ريليز بھی جاری کی جاتی ہے۔

ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ رچرڈ ہالبورک کا مقصد پاکستان کی مختلف ايجينسوں کو کنٹرول کرنا نہيں بلکہ مختلف امريکی حکومتی اداروں کی پہلے سے جاری کوششوں کے مابين رابطے کا ذريعہ پيدا کرنا ہے۔

کسی خاص ايشو، ملک يا خطے کے ليے خصوصی نمايندے کی تقرری کوئ انہونی يا نئ بات نہيں ہے۔ بلکہ جس روز رچرڈ ہالبورک کی تقرری کی گئ، اسی دن فلسطين اور اسرائيل کے مابين تنازے کے ضمن ميں جارج مچل کی تقرری بھی کی گئ۔ اسی طرح اسٹيفن بوسورتھ شمالی کوريا کے ايٹمی پروگرام کے حوالے سے خصوصی نمايندے کی حيثيت رکھتے ہيں۔

اگر آپ ماضی ميں ديکھيں تو آپ کو اس ضمن ميں اور بھی کئ مثاليں مليں گئ۔

ستر کی دہائ ميں لارنس سلبرمين انٹرنيشنل ليبر افيرز کے ضمن ميں امريکہ صدر کے نمايندہ خصوصی تھے۔ اسی طرح 80 کی دہائ ميں فلپ حبيب کو مشرق وسطی کے ليے خصوصی نمايندہ مقرر کيا گيا تھا۔

آخر ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ خصوصی نمايندہ کی تقرری صرف امريکہ کی جانب سے ہی نہيں کی جاتی۔ مثال کے طور پر سال 1993 ميں اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے بوسنيا کے ليے خصوصی نمايندے کا تقرر کيا تھا جن کا نام سائرس وانس تھا۔ يہ صرف ايک مثال ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ايسے کئ نمايندے مقرر کيے گۓ ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (11-12-10)
پرانا 10-12-10, 11:35 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ALI-OAD مراسلہ دیکھیں
[SIZE="5"]

مجھے تو وہ نوجوان طالب علم سارے سیاست دانوں حکمرانوں سے بہت بڑا آدمی لگا تھا جس نے خاتون امریکی سفیر کے ہاتھوں کوئی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا

کسی بھی خبر اور واقعے پر اپنی راۓ قائم کرنے سے پہلے اس کے سارے پہلو مد نظر رکھنے چاہيے۔ کچھ پاکستانيوں کے ليے شايد يہ بات حيران کن ہو گی مگر امريکی حکومت اور عمومی طور پر امريکی معاشرے ميں اپنے اصولوں اور موقف کے اظہار کو منفی نہيں بلکہ مثبت انداز تصور کيا جاتا ہے۔ يہی نہيں بلکہ ہر سطح پر لوگوں کو يہ ترغيب دی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے ميں اپنے آزادی راۓ کے حق کو استعمال کريں۔ يہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد امريکی سفير اين پيٹرسن نے اپنے خطاب ميں کہا کہ

"مجھے قخر ہے کہ ايسے پاکستانی طالب علم امريکہ ميں زير تعليم ہيں"۔

ميری ذاتی راۓ ميں اس واقعے کے اس پہلو کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہے۔

يہ بات ميں آپ کو اپنے ذاتی تجربے کی روشنی ميں بتا رہا ہوں کہ امريکی حکومتی حلقے خود کو "عالمی تھانيدار" نہيں سمجھتے اور ديگر امور کی طرح خارجہ پاليسی پر بھی ہر سطح پر بحث اور نقطہ چينی کا عمل جاری رہتا ہے۔

امريکی حکومت کی جانب سے جذبات اور متضاد خيالات کے اظہار کے حوالے سے برداشت کی ايک مثال يہ خبر ہے کہ دو امريکی سفارت کاروں کو اس بات پر ايوارڈ ديا گيا کہ انھوں نے اپنی ملازمت کے دوران امريکی حکومت کی بعض پاليسيوں نے صرف اختلاف کيا بلکہ اپنے مسلسل اپنی راۓ کا اظہار کر کے امريکی حکومت کو اپنے فيصلے تبديل کرنے پر مجبور کيا۔


Politics | Baghdad, Beirut embassy dissenters to be honored | Seattle Times Newspaper


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (11-12-10)
پرانا 10-12-10, 11:38 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اس کالم سے يہ تاثر ملتا ہے کہ گويا امريکی سفیر پاکستان ميں ہونے والے ہر سياسی اور فوجی فيصلہ سازی کے عمل کے ليے کلی ذمہ دار ہيں۔ اس طرح کی سوچ اور دليل واضح طور پر ايک بيرونی ملک میں موجود سفير کے اختيارات اور اور ذمہ داريوں سے ناواقفيت اور کم علمی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں کوئ شک نہيں ہے کہ امريکی سفير پاکستان کی تمام اہم سياسی جماعتوں اور ان کے نمايندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے اہم اراکين، ميڈيا کے نمايندوں اور مذہبی جماعتوں کے قائدين سے بھی رابطے ميں رہی ہيں۔ ليکن يہ تمام ملاقاتيں عوام کی نظروں سے ہرگز اوجھل نہيں تھيں۔ بلکہ حقيقت يہ ہے کہ ميڈيا نے تو امريکی سفير کی مصروفيات کی اس حد تک کوريج کی ہے کہ پاکستان کے اہم صحافی اور ٹی وی اينکر اپنے ايک حاليہ پروگرام ميں يہ کہنے پر مجبور ہو گۓ کہ پاکستانی ميڈيا کو امريکی سفيروں کی مصروفيات کی کوريج کے حوالے سے توازن اور کمی لانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی کوريج اور کڑی نظر کی موجودگی ميں يہ کيسے ممکن ہے کہ امريکی سفير کسی قسم کی خفيہ جاسوسی سرگرمي ميں ملوث ہوں جيسا کہ کالم ميں تاثر ديا گيا ہے۔

يہ تاثر دينا کہ صرف امريکی سفارت کار ہی پاکستانی ليڈروں سے کسی سازش کے تحت مسلسل رابطے ميں ہيں، بالکل بے بنياد ہے۔ پاکستان ميں موجود تمام غیر ملکی سفارت کار اس عمل کا حصہ ہے۔ اسی غرض سے سفارت کاروں کی تعنياتی کی جاتی ہے۔

مختلف سفارتی اہلکار ملکی قائدين، راۓ عامہ سے متعلق اکابرين اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کے ذريعے دو طرفہ امور پر خيالات اور نظريات سے ايک دوسرے کو آگاہ رکھتے ہيں۔ يہ معمول کی ملاقاتيں خفيہ نہيں بلکہ پہلے سے طے شدہ ايجنڈے کی بنياد پر ہوتی ہيں اور ان ميں سب کی باہم مشاورت اور مرضی شامل ہوتی ہے۔ امريکی سفير اور ديگر سفارت کار کسی کی مرضی کے برخلاف زبردستی ملاقات نہيں کر سکتے۔يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ ان ملاقاتوں کا دائرہ کسی ايشو کے حوالے سے ايک مخصوص نقطہ نظر رکھنے والے سياسی قائدين تک محدود نہيں ہوتا۔ عام طور پر امريکی اہلکار ملک ميں حکومت اور اپوزيشن سميت تمام اہم قائدين سے ملاقاتيں کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ پاکستانی سفارت کار بھی واشنگٹن ميں سفارت کاری کے اس مسلسل عمل کا حصہ ہوتے ہيں۔

جيسا کہ ميں نے پہلے بھی اس فورم پر کہا تھا کہ مختلف سطح پر سفارتی رابطے کوئ غير معمولی بات نہيں۔ سفارت کاروں سے يہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ جس ملک ميں موجود ہوں اس ملک کے حکام سے مسلسل رابطے ميں رہیں اور ملک ميں ہر متوقع تبديلی سے اپنی حکومت کو آگاہ رکھيں۔ يہ عمل ڈپلوميسی کے زمرے ميں آتا ہے نا کہ کسی ملک کے اندرونی معاملات ميں مداخلت۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (11-12-10)
پرانا 12-12-10, 11:53 PM   #6
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: کراچی
عمر: 24
مراسلات: 46
کمائي: 1,446
شکریہ: 61
33 مراسلہ میں 89 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمداسد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
۔ ۔ ۔ ۔ يہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد امريکی سفير اين پيٹرسن نے اپنے خطاب ميں کہا کہ

"مجھے قخر ہے کہ ايسے پاکستانی طالب علم امريکہ ميں زير تعليم ہيں"۔

۔ ۔ ۔
ہماری اردو میں غالبآ ایسی ہی صورتحال کے لیے "کھسیانی بلی کھمبہ نوچے" اور "انگور کھٹے ہیں" جیسی کہاوتیں شامل کی گئی ہے۔

Last edited by محمداسد; 12-12-10 at 11:56 PM.
محمداسد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
com, group, pakistan, کراچی, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, لوگ, لوٹے, نواز شریف, نظر, معلوم, آج, آدمی, امریکہ, اسلامی, خون, خلاف, دل, سیاست, عزیز, عشق, صوبہ, صاف, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger