| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 498
|
||||
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہم سب يہ جانتے ہيں کہ مختلف ممالک کے مابين تعلقات کی نوعيت ايک جيسی نہيں ہوتی۔ اس تناظر ميں جب کوئ ايسا ايشو سامنے آتا ہے جس کے حل کے ليے ايک سے زيادہ ممالک کے اہم عہديداروں کے درميان باہم تعلقات اور اشتراک کی ضرورت ہو تو ايک ايسے ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف ممالک کے مابين تعلقات سے بالا مسلۓ کے حل کے ليے توجہ اور مشترکہ کوششوں کو فعال اور بامقصد بنا سکے۔ اسی سوچ اور ضرورت کے تحت رچرڈ ہالبورک کی تقرری کی گئ۔ رچرڈ ہالبورک کی کوششوں کا اصل مرکز افغانستان اور پاکستان ميں تمام متعلقہ حلقوں سے باہمی مشاورت اور گفتگو کے ذريعے خطے ميں پائيدار امن اور استحکام کو يقينی بنانا ہے۔ يہ کوئ خفيہ ايجنڈا نہيں ہے۔ رچرڈ ہالبورک کی تمام ملاقاتيں پردے کے سامنے ہوتی ہيں اور ان کے باقاعدہ سرکاری پريس ريليز بھی جاری کی جاتی ہے۔ ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ رچرڈ ہالبورک کا مقصد پاکستان کی مختلف ايجينسوں کو کنٹرول کرنا نہيں بلکہ مختلف امريکی حکومتی اداروں کی پہلے سے جاری کوششوں کے مابين رابطے کا ذريعہ پيدا کرنا ہے۔ کسی خاص ايشو، ملک يا خطے کے ليے خصوصی نمايندے کی تقرری کوئ انہونی يا نئ بات نہيں ہے۔ بلکہ جس روز رچرڈ ہالبورک کی تقرری کی گئ، اسی دن فلسطين اور اسرائيل کے مابين تنازے کے ضمن ميں جارج مچل کی تقرری بھی کی گئ۔ اسی طرح اسٹيفن بوسورتھ شمالی کوريا کے ايٹمی پروگرام کے حوالے سے خصوصی نمايندے کی حيثيت رکھتے ہيں۔ اگر آپ ماضی ميں ديکھيں تو آپ کو اس ضمن ميں اور بھی کئ مثاليں مليں گئ۔ ستر کی دہائ ميں لارنس سلبرمين انٹرنيشنل ليبر افيرز کے ضمن ميں امريکہ صدر کے نمايندہ خصوصی تھے۔ اسی طرح 80 کی دہائ ميں فلپ حبيب کو مشرق وسطی کے ليے خصوصی نمايندہ مقرر کيا گيا تھا۔ آخر ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ خصوصی نمايندہ کی تقرری صرف امريکہ کی جانب سے ہی نہيں کی جاتی۔ مثال کے طور پر سال 1993 ميں اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے بوسنيا کے ليے خصوصی نمايندے کا تقرر کيا تھا جن کا نام سائرس وانس تھا۔ يہ صرف ايک مثال ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ايسے کئ نمايندے مقرر کيے گۓ ہيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (11-12-10) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کسی بھی خبر اور واقعے پر اپنی راۓ قائم کرنے سے پہلے اس کے سارے پہلو مد نظر رکھنے چاہيے۔ کچھ پاکستانيوں کے ليے شايد يہ بات حيران کن ہو گی مگر امريکی حکومت اور عمومی طور پر امريکی معاشرے ميں اپنے اصولوں اور موقف کے اظہار کو منفی نہيں بلکہ مثبت انداز تصور کيا جاتا ہے۔ يہی نہيں بلکہ ہر سطح پر لوگوں کو يہ ترغيب دی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے ميں اپنے آزادی راۓ کے حق کو استعمال کريں۔ يہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد امريکی سفير اين پيٹرسن نے اپنے خطاب ميں کہا کہ "مجھے قخر ہے کہ ايسے پاکستانی طالب علم امريکہ ميں زير تعليم ہيں"۔ ميری ذاتی راۓ ميں اس واقعے کے اس پہلو کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہے۔ يہ بات ميں آپ کو اپنے ذاتی تجربے کی روشنی ميں بتا رہا ہوں کہ امريکی حکومتی حلقے خود کو "عالمی تھانيدار" نہيں سمجھتے اور ديگر امور کی طرح خارجہ پاليسی پر بھی ہر سطح پر بحث اور نقطہ چينی کا عمل جاری رہتا ہے۔ امريکی حکومت کی جانب سے جذبات اور متضاد خيالات کے اظہار کے حوالے سے برداشت کی ايک مثال يہ خبر ہے کہ دو امريکی سفارت کاروں کو اس بات پر ايوارڈ ديا گيا کہ انھوں نے اپنی ملازمت کے دوران امريکی حکومت کی بعض پاليسيوں نے صرف اختلاف کيا بلکہ اپنے مسلسل اپنی راۓ کا اظہار کر کے امريکی حکومت کو اپنے فيصلے تبديل کرنے پر مجبور کيا۔ Politics | Baghdad, Beirut embassy dissenters to be honored | Seattle Times Newspaper فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (11-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کالم سے يہ تاثر ملتا ہے کہ گويا امريکی سفیر پاکستان ميں ہونے والے ہر سياسی اور فوجی فيصلہ سازی کے عمل کے ليے کلی ذمہ دار ہيں۔ اس طرح کی سوچ اور دليل واضح طور پر ايک بيرونی ملک میں موجود سفير کے اختيارات اور اور ذمہ داريوں سے ناواقفيت اور کم علمی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں کوئ شک نہيں ہے کہ امريکی سفير پاکستان کی تمام اہم سياسی جماعتوں اور ان کے نمايندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے اہم اراکين، ميڈيا کے نمايندوں اور مذہبی جماعتوں کے قائدين سے بھی رابطے ميں رہی ہيں۔ ليکن يہ تمام ملاقاتيں عوام کی نظروں سے ہرگز اوجھل نہيں تھيں۔ بلکہ حقيقت يہ ہے کہ ميڈيا نے تو امريکی سفير کی مصروفيات کی اس حد تک کوريج کی ہے کہ پاکستان کے اہم صحافی اور ٹی وی اينکر اپنے ايک حاليہ پروگرام ميں يہ کہنے پر مجبور ہو گۓ کہ پاکستانی ميڈيا کو امريکی سفيروں کی مصروفيات کی کوريج کے حوالے سے توازن اور کمی لانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی کوريج اور کڑی نظر کی موجودگی ميں يہ کيسے ممکن ہے کہ امريکی سفير کسی قسم کی خفيہ جاسوسی سرگرمي ميں ملوث ہوں جيسا کہ کالم ميں تاثر ديا گيا ہے۔
يہ تاثر دينا کہ صرف امريکی سفارت کار ہی پاکستانی ليڈروں سے کسی سازش کے تحت مسلسل رابطے ميں ہيں، بالکل بے بنياد ہے۔ پاکستان ميں موجود تمام غیر ملکی سفارت کار اس عمل کا حصہ ہے۔ اسی غرض سے سفارت کاروں کی تعنياتی کی جاتی ہے۔ مختلف سفارتی اہلکار ملکی قائدين، راۓ عامہ سے متعلق اکابرين اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کے ذريعے دو طرفہ امور پر خيالات اور نظريات سے ايک دوسرے کو آگاہ رکھتے ہيں۔ يہ معمول کی ملاقاتيں خفيہ نہيں بلکہ پہلے سے طے شدہ ايجنڈے کی بنياد پر ہوتی ہيں اور ان ميں سب کی باہم مشاورت اور مرضی شامل ہوتی ہے۔ امريکی سفير اور ديگر سفارت کار کسی کی مرضی کے برخلاف زبردستی ملاقات نہيں کر سکتے۔يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ ان ملاقاتوں کا دائرہ کسی ايشو کے حوالے سے ايک مخصوص نقطہ نظر رکھنے والے سياسی قائدين تک محدود نہيں ہوتا۔ عام طور پر امريکی اہلکار ملک ميں حکومت اور اپوزيشن سميت تمام اہم قائدين سے ملاقاتيں کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ پاکستانی سفارت کار بھی واشنگٹن ميں سفارت کاری کے اس مسلسل عمل کا حصہ ہوتے ہيں۔ جيسا کہ ميں نے پہلے بھی اس فورم پر کہا تھا کہ مختلف سطح پر سفارتی رابطے کوئ غير معمولی بات نہيں۔ سفارت کاروں سے يہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ جس ملک ميں موجود ہوں اس ملک کے حکام سے مسلسل رابطے ميں رہیں اور ملک ميں ہر متوقع تبديلی سے اپنی حکومت کو آگاہ رکھيں۔ يہ عمل ڈپلوميسی کے زمرے ميں آتا ہے نا کہ کسی ملک کے اندرونی معاملات ميں مداخلت۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (11-12-10) |
|
|
#6 |
|
Member
اجنبی
|
ہماری اردو میں غالبآ ایسی ہی صورتحال کے لیے "کھسیانی بلی کھمبہ نوچے" اور "انگور کھٹے ہیں" جیسی کہاوتیں شامل کی گئی ہے۔
Last edited by محمداسد; 12-12-10 at 11:56 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, group, pakistan, کراچی, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, لوگ, لوٹے, نواز شریف, نظر, معلوم, آج, آدمی, امریکہ, اسلامی, خون, خلاف, دل, سیاست, عزیز, عشق, صوبہ, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار | جاویداسد | خبریں | 1 | 24-10-10 06:52 AM |
| وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان | ابن جلال | خبریں | 2 | 18-09-08 11:51 PM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 08:45 PM |
| نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 10-12-07 08:36 AM |
| بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس | پاکستانی | خبریں | 0 | 15-09-07 03:57 PM |