پاکستان کا انتخابی نظام
قیوم نظامی
ہم اس دیس کے باسی ہیں جہاں
ذہانت اور دانش کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ پی ایچ ڈی بے تو قیر بن کر رہ جاتے ہیں۔
قومی سطح کے دانشوروں کو تعصب اور اختلاف کی بناءپر ہجرت پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور جناب جاوید احمد غامدی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان کی سیاسی و سماجی زندگی کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے تشخیص کی ہے کہ ملک بچانے کے لیے قوم کرپٹ انتخابی نظام کے خلاف بغاوت کر دے ۔یہ نظام ظالمانہ ہے جس نے کروڑوں غریب عوام کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ اس انتخابی نظام کے ذریعے مفاد پرست رہبر بن کر حکومت میں آتے ہیں اور بعد میں رہزن بن جاتے ہیں۔ فوج اور انتخابی نظام تبدیلی نہیں لاسکتے۔ نتیجہ خیز تبدیلی لانے کے لیے موجودہ سسٹم کے خلاف بغاوت کرنی پڑے گی۔ ایک سیٹ کے لیے دس کروڑ روپے خرچ کرنے والے تبدیلی نہیں لاسکتے۔ اس نظام میں ایک فیصد جاگیردار اور سرمایہ دار منتخب ہو کر سیاست اور معیشت پر بالادستی حاصل کر لیتے ہیں۔ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے جو انتخابی نظام تبدیل کرنے کے بعد ملک میں انتخابات کرائے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور کی ایک قومی نشست سے انتخاب لڑا اور کامیابی بھی حاصل کی لہذا ان کی رائے میں بڑا وزن ہے البتہ انہوں نے نئے انتخابی نظام کا خاکہ پیش نہیں کیا۔ شاید کینیڈا میں انہیں فرصت کم ہی مل رہی ہے۔
پاکستان کی انتخابی تاریخ میں صرف 1970ءکے انتخابات میں عوامی لہر کے نتیجے میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد اسمبلیوں میں پہنچ سکے۔ 1977ءسے 2008ءتک انتخابات کے نتیجے میں جاگیردار اور سرمایہ دار ہی منتخب ہوتے رہے جبکہ رائے دہندگان آنکھیں بند کر کے لٹیروں کو ووٹ دے کر کامیاب کرتے رہے۔ رائے دہندگان نے کبھی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ ان کو نیک نام اُمیدوار دئیے جائیں۔
موجودہ انتخابی نظام اس قدر سنگدل اور ظالمانہ ہے کہ نیک نام سیاست دان ملک معراج خالد اور قاضی حسین احمد لاہور سے انتخاب ہارگئے جبکہ لیبر لیڈر مرزا ابراہیم اور عوامی شاعر حبیب جالب کو بھی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ ووٹ ڈالنے والوں کی اکثریت کا تعلق غریب طبقے سے ہوتا ہے۔ موجودہ انتخابی نظام سرمایے کا عمل دخل حیران کن حد تک بڑھ چکا ہے۔ اُمیدوار چونکہ جاگیردار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی پارٹی سے وابستگی صرف اقتدار کے حصول کے لیے ہی ہوتی ہے اور ان کا کوئی نظریہ اور اصول نہیں ہوتالہذا وہ خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں آسانی سے استعمال ہوجاتے ہیں۔ بھارت کی طرح اگر پاکستان میں بھی حقیقی زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیروں کا خاتمہ کردیا جاتاتو آج جمہوریت بہتر شکل میں ہوتی۔
موجودہ نظام میں کم و بیش 150 خاندان اسمبلیوں پر قابض ہوجاتے ہیں۔
نئے انتخابی نظام کا خاکہ تیار کرنے کے لیے پاکستان وژنری فورم ٹیک کلب ٹیک سوسائٹی نے جناب ڈاکٹر محمد صادق کی سربراہی میں سنجیدہ کام کر کے ایک رپورٹ تیار کی جو قابل عمل ہے اور ایک متوازن پارلیمنٹ کی ضامن بن سکتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق موجودہ انتخابی نظام میں ووٹ ڈالنے کی شرح اوسط 40 فیصد ہے جبکہ 60 فیصد رائے دہندگان ووٹ ڈالنے سے گریز کرتے ہیں جس کے نتیجے
میں 15 سے 20 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعت 100 فیصد پر حکومت کرتی ہے گویا یہ نظام اقلیت کو اکثریت پر حکمرانی کا حق دیتا ہے۔ پڑھے لکھے افراد چونکہ انتخابی عمل سے دور رہتے ہیں اس لیے امور مملکت میں ان کی رائے ہی شامل نہیں ہوتی ۔ اگر ووٹ ڈالنا قانونی طور پر لازمی قراردے دیاجائے تو انتخابی نظام سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ موجودہ نظام میں علاقائی جماعتیں قومی سیاست کو ڈکٹیٹ کرتی ہیں۔پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پی پی پی نے اپنے 1993ءکے انتخابی منشور میں قوم سے یہ وعدہ کیا تھا۔ ”ہماری پارلیمنٹ میں جاگیرداروں اور تاجروں کے نمائیندوں کی بالادستی ہے۔ یہ طبقات قانون سازی کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ایسے اُمیدواروں کا انتخاب کرتی ہیں جو دولت مند ہوں۔ گویا اُمیدوار کا انتخاب موقع پرست افراد میں سے ہی کرنا پڑتا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حقیقی نمائیندہ پارلیمنٹ وجود میں آئے۔ لہذا پی پی پی لسٹ سسٹم (متناسب نمائیندگی) کے اصول پر نشستوں میں اضافہ کرنے کا وعدہ کرتی ہے جن کا انتخاب حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ہر چند کہ لسٹ سسٹم اکثریتی سیٹیں حاصل کرنے والی جماعت پی پی پی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ہم یہ قربانی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں دے رہے ہیں“۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد منشور کو بھول جاتی ہیں۔ پاکستان کی سول سوسائٹی کا قومی فرض ہے کہ وہ جاگیرداروں کی بالادستی ختم کرنے کے لیے متناسب نمائیندگی کے اصول پر 50فیصد اراکین پارلیمنٹ منتخب کرنے کے مطالبے کی حمایت کریں۔
بشکریہ
نوائے وقت 27نومبر2011