واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-06-10, 01:43 PM   #1
پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست
کنعان کنعان آن لائن ہے 08-06-10, 01:43 PM

پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست



پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بھائی سید احمد مجتبیْ گیلانی جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے رکنِ پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے ہیں جبکہ اس سے پہلے وزیرِاعظم کے صاحبزادے سید عبدالقادرگیلانی بھی پنجاب اسمبلی کے رکن چنے جا چکے ہیں۔

پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں وراثتی یا خاندانی سیاست کی ایک مضبوط روایت موجود ہے اور نہ صرف نسل در نسل یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ بیک وقت ایک ہی خاندان کے افراد کے اسمبلی میں ہونے کے رواج کو تقویت مل رہی ہے۔

وزیرِاعظم کے بھائی اور بیٹے کا بیک وقت اسمبلی کا رکن ہونا پاکستانی سیاست میں کوئی اچنبھے کی بات اس لیے نہیں کہ پاکستان میں بڑے سیاسی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک ہی وقت میں اسمبلی کا رکن بننے کی ریت نئی نہیں ہے۔

اگر سیاست دان باپ اور ان کی بچوں کی بات کی جائے تو وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کےعلاوہ وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز جبکہ وزیراعلیْ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ سابق وزیراعلیْ پنجاب چودھری پرویز الہٰی خود تو قومی اسمبلی کے رکن ہیں مگر ان کے بیٹے مونس الہیْ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کےعلاوہ وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز جبکہ وزیراعلیْ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ سابق وزیراعلیْ پنجاب چودھری پرویز الہٰی خود تو قومی اسمبلی کے رکن ہیں مگر ان کے بیٹے مونس الہیْ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ مسلم لیگ قاف کے سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی چودھری انور چیمہ کے بیٹے چودھری عامر سلطان چیمہ رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی میں انور چیمہ اور ان کی بہو تنزیلہ چیمہ رکن قومی اسمبلی تھے جبکہ ان کے بیٹا عامر سلطان چیمہ پنجاب کابینہ کے رکن تھے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم وفاقی کابینہ کے وزیر ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے مخدوم جمیل الزمان سندھ کابینہ کا حصہ ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور ان کی بیٹی میمونہ ہاشمی دونوں اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ دو ہزار دو میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین اپنی بیٹی راحیلہ قاضی کے ساتھ بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

جہاں باپ بیٹے یا بیٹی بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں وہاں ایک ایسی ماں بیٹی بھی ہیں جو موجودہ اسمبلیوں کی رکن ہیں ہیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنما جعفر اقبال کی اہلیہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ ان کی بیٹی زیب جعفر کے پاس پنجاب اسمبلی کی رکنیت ہے۔

بائیس سال پہلے سنہ انیس سو اٹھاسی میں سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو بھی ایک ہی وقت میں نہ صرف رکن قومی اسمبلی بنی تھیں بلکہ نصرت بھٹو بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر بھی رہیں۔

قومی اسمبلی میں ایسے دو بہن بھائی بھی ہیں جن میں ایک حکومت اور دوسرا حزب ِمخالف میں ہے۔ رکن قومی اسمبلی یاسمین رحمان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ ان کے بھائی مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر لاہور کے اس حلقہ سے کامیاب ہوئے جہاں سے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے انتخاب لڑنا تھا۔ وفاقی کابینہ کے رکن ڈاکٹر ارباب عالمگیر خان اور ان کی اہلیہ عاصمہ ارباب بھی ان ارکان اسمبلی میں سے ایک ہیں جو میاں بیوی ہوتے ہوئے بیک وقت اسمبلی کے رکن ہیں۔ ان کےعلاوہ قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے شوہر ذوالفقار علی مرزا سندھ اسمبلی کے رکن ہیں۔

ان سے پہلے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر اور موجودہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ایک ساتھ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور ان اہلیہ سیدہ عابدہ حسین کو بھی بیک وقت رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل ہے۔

ناہید خان اور ان کے شوہر صفدر علی عباسی بھی ان سیاسی جوڑوں میں سے ہیں جو بیک وقت پارلیمان کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ رکن اسمبلی جوڑوں میں مسلم لیگ نون کے خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی اور ان کی اہلیہ غزالہ سعد پنجاب اسمبلی کی رکن ہیں۔

موجودہ قومی اسمبلی میں دو بھائی بھی رکن ہیں۔ راجہ صفدر اور راجہ اسد سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں جہلم کے دو حلقوں سے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کے ہی خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے پاس پنجاب اسمبلی کی رکنیت ہے۔ مسلم لیگ قاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور ان کے بھائی چودھری وجاہت حسین بھی بیک وقت پارلیمان کے رکن ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور ان کی بیٹی میمونہ ہاشمی دونوں اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ دو ہزار دو میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین اپنی بیٹی راحیلہ قاضی کے ساتھ بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔قومی اسمبلی میں ایسے دو بہن بھائی بھی ہیں جن میں ایک حکومت اور دوسرا حزب ِمخالف میں ہے۔ رکن قومی اسمبلی یاسمین رحمان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ ان کے بھائی مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر لاہور کے اس حلقہ سے کامیاب ہوئے جہاں سے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے انتخاب لڑنا تھا۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور بھی رکنِ قومی اسمبلی ہیں جبکہ نواز شریف کے داماد کپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی اسمبلی میں موجود ہیں جبکہ ان کے بھائی کو ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نون نے امیدوار نامزد کیا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

پاکستان کی اسمبلیوں میں جہاں سیاست دانوں کے قریبی رشتہ دار بیک وقت رکن اسمبلی بنے وہیں سنہ دو ہزار دو میں قومی اسمبلی میں دو ایسے ارکان اسمبلی بھی تھے جو رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر جیون ساتھی بنے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب وفاقی وزیر سردار یار محمد رند نے رکن اسمبلی عائلہ ملک سے شادی کی تاہم ان کی بعدازاں علیحدگی ہوگئی۔


بحوالہ خبر
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
شکریہ: 13,533
4,913 مراسلہ میں 16,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 231
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-06-10), ھارون اعظم (08-06-10), ناصحی (12-06-10), بزم خیال (11-06-10)
پرانا 10-06-10, 02:07 PM   #2
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہوشربا اعداد و شمار ہیں۔ پاکستان میں سیاست کو ایک انتہائی منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح کاروبار باپ سے بیٹا یا بیٹی اور نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے اس طرح پاکستانی سیاستدان بھی سیاست کو کاروبار سمجھتے ہیں۔ خود بھی شامل ہوتے ہیں اور اپنی اولاد کے علاوہ رشتہ داروں کو بھی اس کاروبار میں شریک کر لیتے ہیں۔
ہماری سیاست کا ایک اور قومی المیہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹی کی صدارت کو بھی موروثی جائیداد سمجھا جاتا ہے اور باپ کے بعد بیٹا، بیٹی، بیوی، بھائی یا بہن کو ہی پارٹی کی صدارت کا اہل سمجھا جاتا ہے۔ کوئی اور خواہ ہوا میں کٹیں ہی کیوں نہ مارتا ہو پارٹی کی صدارت اُس کےلئے شجر ممنوعہ ہوتی ہے۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاستدان خود غیر جمہوری مزاج کے مالک ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جمہوری لباس پہنے یہ سب سیاستدان باطنی طور پر مکمل آمر ہیں جو سادہ لوح عوام کی آنکھوں میں دوھل جھونکنے کےلئے جمہوریت کی قصیدہ خوانی کرتے رہتے ہیں۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny.
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-06-10), کنعان (10-06-10), ھارون اعظم (10-06-10), بزم خیال (11-06-10)
پرانا 10-06-10, 03:07 PM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,662
کمائي: 254,785
شکریہ: 53,124
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعاب بھائی آپ نے تو کمال کردیا ہے یار!

واقعی ایک لاجواب اور معلوماتی شئیرنگ ہے!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
کنعان (10-06-10), ھارون اعظم (10-06-10), بزم خیال (11-06-10)
پرانا 11-06-10, 12:05 AM   #4
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,426
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی شئیرنگ ہے کنعان بھائی ماسوائے افسوس کے کیا کہیں
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (11-06-10)
پرانا 12-06-10, 03:04 AM   #5
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست

پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں وراثتی یا خاندانی سیاست کی ایک مضبوط روایت موجود ہے اور نہ صرف نسل در نسل یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ بیک وقت ایک ہی خاندان کے افراد کے اسمبلی میں ہونے کے رواج کو تقویت مل رہی ہے۔
السلام علیکم کنعان بھائی

لگتا ہے آپکومصروفیات سے اگر پوری نہیں تو کچھ تھوڑی سی فرصت ضرور مل گئی ہے ۔میرے خیال میں آپ نے کافی apropriate اور thought provoking موضوع چنا ہے۔ اس پر آپ کو آزمانے کی تو کوئی ضرورت نہیں البتہ میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کروں گا۔

اگرچہ ھم خواھشمند ہیں کہ پاکستان ایک حقیقی اور جَمْہُوری ملک ھو یہ راتوں رات ممکن نہیں ہے۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا ھے جَمْہُوریت ہمارے ملک میں جڑ نہیں پکڑ سکی۔ ہمیں صبر اور تحمل کے ساتھ اس کو پورا پورا موقح دینے کی کوشش کرنی ھو گی اور یہ امید نیہں لگانی ھو گی کہ ہمارے ملک کی حالت فوری طور پر ٹھیک ھو جائےگی۔ اس کے بر عکسں سنورنے سے پہلے حالت اور زیادہ خراب بھی ہو سکتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ آخرکار باقی حقیقی جَمْہُوری ملکوں کی طر ح ہمارے ملک میں بھی وراثتی اور خاندانی سیاست کمزور پڑ جائےگی اورنسل در نسل کے حکمرانوں کا سلسلہ ٹوٹ جانے کے ساتھ ساتھ ہماری اسمبلیاں بھی بیک وقت ایک ہی خاندان کے ممبران کی بجائے پاکستانی عَوام کے حقیقی نُمائِنْدَگان سے بھری ہوئی ہوں گی ۔

غلط مت سَمَجھْیں کہ میں وراثتی اور خاندانی سیاست کے حق میں ہوں مگر ہمارے ملک اور عَوام کی حالت کے مد نظر ہمیں صبر کے گھونٹ پینے پڑیں گے۔
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
ناصحی کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (12-06-10)
پرانا 12-06-10, 03:31 AM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,715
شکریہ: 13,533
4,913 مراسلہ میں 16,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم بھائی

اپنے اپنے تجربہ کی بات ھے، کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ملک کون چلائے گا کیونکہ یہ غریب لیڈر کے بس کی بات نہیں تو شائد یہ سوچ میرے تجربہ کے مطابق ٹھیک نہیں۔

کوئی بھی کینڈیڈیٹ بھلے مالی کمزور ہو مگر تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ھے، ابھی تک کوئی دن ایسا نہیں کہ روزانہ کوئی نہ کوئی فیک ڈگری ایم پی اے اور ایم این اے سامنے آ رہا ھے اور جس پر کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی بھی نہیں۔

میرے یہاں پر تقریباً 4 سال پہلے ایک پاکستانی مسٹر ملک لیبر کونسلر کے لئے کھڑا ہوا تھا جس کی ٹریول ایجنسی تھی۔ میں اس کو روزانہ دیکھتا تھا کہ کوئی بھی کسی قسم کی الیکشن ایکٹوٹی نہیں تو اسے میں ملا اور اس کو کہا کہ الیکشن جیتنا ھے تو میں تمہاری کمپین کروں گا اور اگر کچھ مزید سپورٹر کا بندوبست کرو تو میں تم کی کچھ آئیڈیاز دوں گا اور تم ضرور جیت جاؤ گے۔ خیر ایک دن کچھ سپورٹر میٹنگ تھی اور وہ اسے کہہ رہے تھے کہ یار چائے تو پلاؤ، تو ملک صاحب نے کہا کہ اگر میں چائے پلاؤں گا تو پھر کوئی بھی رپورٹ کر دے گا تو مجھے الیکشن سے پہلے ہی فارغ کر دیا جائے گا۔ خیر یہ ھے یہاں کا قانون کہ بندہ اپنے سپورٹر کو چائے بھی نہیں پلا سکتا۔ پھر میں نے ملک صاحب کو آئیڈیا دیا کہ بھئی اگر جیتنا ھے تو پاکستانی نسخہ استعمال کرو یہاں جو قریب لاہوری کڑاہی ریسٹورنٹ ھے وہاں پر اس کے آنر کو کہہ دو کہ جتنے بھی بندے اس کے نام سے آئیں گے انہیں چائے اور کھانا ضرور دے دیا کرے اور بل تمہارے اکاؤنٹ میں ڈال دے کسی کو کیا پتہ لگے گا کہ تم کیا کر رہے ہو، خیر ایسا ہی ہوا اور وہ کونسلر منتخب ہوا تھا۔

صرف ایک بات سمجھانے کے لئے یہ سٹوری لکھنی پڑی کہ یہاں پر کوئی بھی کسی کو چائے نہیں پلا سکتا۔ اور ہمارے ملک میں بھی بہت ٹیلنٹ ھے مگر جو جتنا بڑا کرپٹ ہوتا ھے سیٹیں بھی انہی کو ملتی ہیں۔

ایک یقین ھے کہ اللہ سبحان تعالی پاکستان کو بھی ایک اچھی قیادت عطا فرمائے گا ان شاءاللہ تعالی

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (13-06-10), ناصحی (12-06-10)
پرانا 12-06-10, 04:07 AM   #7
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسلعہ امیر یا غریب لیڈر کا نہیں ہےمگر یہ ہے کہ الیکشن کون جیت سکتا ہے۔میرے خیال میں اگر کوئی لیڈر خواہ وہ غریب ہو یا امیر اگر اسمیں الیکشن جیتنے کی صلاحیت نہیں تو وہ ملک کیسے چلائے گا۔

وراثتی اور خاندانی سیاستدان جو تعلیم اور تجربہ رکھتے ہے وہ ہمارے ملک کا سرمایا ہے ۔اسے نعمت سمجھنا چاہے اوراس سے پورا پورا فایدۃ اٹھانا چاہے۔
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
ناصحی کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (12-06-10)
پرانا 12-06-10, 04:35 AM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,715
شکریہ: 13,533
4,913 مراسلہ میں 16,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

الیکشن جیتنے کے کچھ مسائل پیش خدمت ہیں۔

الیکشن کیسے جیتا جا سکتا ھے، تو اس پر یہ عرض ھے کہ جب بھی کسی علاقے سے کوئی کینڈیڈیت کھڑا ہوتا ھے تو اس کے مد مقابل کچھ ایسے امیدوار بھی کھڑے ہوتے ہیں جو پڑھے لکھے طبقے سے وابسطہ ہوتے ہیں اور ان کو وہاں کی کمیونٹی ہی فورس کرتی ھے ان کی تعلیم قابلیت اور شرافت کی وجہ سے اور یہی وہ لوگ ہیں جو الیکشن جیتنے کے اھل ہوتے ہیں، مگر ہوتا کیا ھے ان کو کسی بھی طرح پارٹی مافیا زور زبردستی و بلیک میلنگ سے ان کی آواز بند کروا دیتی ھے یعنی انہیں الیکشن لڑنے سے واک اؤٹ کروا دیا جاتا ھے۔ یہ سب الیکشن مافیا کی کرپشن کی وجہ سے ہوتا ھے۔

پھر اب تو 1998 سے جتنے بھی الیکشن ہوئے سب امریکہ کی مرضی سے ہی ہوئے جنہوں نے ان کے ساتھ ہامی بھری وہی سکندر بنا دیا گیا اور جب اس نے عوام کی طرف دیکھنے یا سوچنے کی کوشش کی تو اس کی جگہ دوسرا چہرہ بٹھا دیا گیا۔ اس وقت الیکشن عوام کے ووٹوں سے نہیں جیتا جاتا بلکہ اس کے لئے پہلے تہہ ہوتا ھے کہ کس کو وہاں سے منتخب کرنا ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, families, pakistan, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, نواز شریف, موقع, موجودہ, ماں, امیر, اسلامی, بھائی, بچوں, خبر, ذوالفقار, زرداری, سیاست, سال, سردار, شہر, صفدر, صاحبزادے, صدرِ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یہ وقت اتحاد و یکجہتی اور متاثرین کی مدد کا ہے سیاست کا نہیں جاویداسد خبریں 0 23-08-10 08:06 PM
پاکستانی سیاست کا جیمز بانڈ 007 حیدر خبریں 4 01-05-10 09:15 AM
ہیلری کو شکست 'اوباما امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدارتی امیدوار Real_Light خبریں 4 06-06-08 11:40 AM
ایم کیو ایم موروثی سیاست اور جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہتی ہے، فاروق ستار خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:37 AM
بینظیر مشرف ملاقات اور پاکستانی سیاست چاچا کمال خبریں 0 29-07-07 04:34 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger