بین الاقوامی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے کہا ہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد صدر پرویز مشرف پاکستان کی سلامتی اور استحکام چاہتے ہیں تو انہیں فوراً اقتدار چھوڑ دینا چاہئے۔ ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کی جانے والی 11 صفحاتی رپورٹ میں ادارے نے پاکستان کے گزشتہ اور حالیہ واقعات کا احاطہ کیا ہے اور مختلف سیاست دانوں کے حوالہ جات بھی دیئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جان لیا جائے کہ ایک وردی اترا ہوا معمولی جنرل نہیں بلکہ صرف جمہوریت ہی ملک میں استحکام پیدا کرسکتی ہے اور شدت پسندوں کو پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ، جس کا امریکی کانگریس میں کافی اثر رسوخ ہے، کے ڈائریکٹر برائے ایشیاءرابرٹ ٹیمپلر نے کہا کہ اس وقت پرویز مشرف کے استعفیٰ کے علاوہ آئین اور ان ججوں کی مکمل بحالی کی ضرورت ہے جنہیں اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرتے وقت برطرف کردیا تھا۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے نائب صدر مارک شنائیڈر نے کہا ہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان کی معتدل اکثریت، جو اب شفاف اور منصفانہ پارلیمانی انتخابات کے علاوہ کچھ بھی قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اور پرویز مشرف کو تقسیم کرنے والی لکیر واضح ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات ملتوی کئے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ قابل قبول ہے تاہم فروری میں ہونے والے انتخابات ہر حال میں شفاف اور منصفانہ ہونے چاہئیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں آزاد و شفاف انتخابات کےلئے عدلیہ کا آزاد ہونا بھی اشد ضروری ہے۔ اس حوالے سے چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے وسیع مشاورت کرکے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دوبارہ تشکیل دیا جائے کیونکہ نواز اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے بغیر کہے سب کچھ واضح ہوجاتا ہے۔ امریکی فنڈ سے بننے والی انتخابی فہرست بھی ناقابل بھروسہ ہے، الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ اس فہرست کو ویب سائٹ پر جاری کرکے سیاسی پارٹیوں کو مناسب وقت دے کہ وہ اس کا جائزہ لے سکیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی جانب سے بار بار لگایا جانے والا یہ نعرہ ”سب سے پہلے پاکستان“ صرف اپنی حکومت اور اپنے سیاسی مفادات کو بچانے کےلئے ہے۔ رپورٹ میںعالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کےلئے آزادی اور محدود وقت کی تحقیقات کی حمایت کرے، 18 اکتوبر کو بےنظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کو بھی متنازعہ بنا دیا گیاہے۔
رپورٹ کے مطابق اس قتل کی تحقیقات میں امریکی اور برطانوی تفتیشی ٹیم کی جانب سے پاکستانی ماہرین کی مدد سے پاکستانی عوام کی تشویش کم نہیں ہوگی کیونکہ یہ وہی دو ممالک ہیں جو شروع سے پرویز مشرف کی حمایت کرتے آ رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت ویسی ہی ایک کمیٹی بنائی جائے جو سابق لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کےلئے بنائی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کے مغربی حامیوں خصوصاً امریکا کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستانی صدر کبھی بھی ملکی استحکام کی علامت نہیں تھے، ان کے اقتدار چھوڑنے سے کوئی جمہوری عمل متاثر نہیں ہوگا کیونکہ وہ خود آئینی اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کرکے صدر بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر رضاکارانہ طور پر پرویز مشرف اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیتے ہیں تو یہ افواجِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سابق فوجی جرنیل اور موجودہ صدر پرویز مشرف سے کنارہ کشی اختیار کرکے بصورت دیگر اسے عوامی غیض و غضب کا سامنا ہوگا، اس کے بعد امریکا کو چاہئے کہ وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی کمانڈ کی حمایت کرے اور قومی مفاہمت کےلئے مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کرے۔ پاک فوج کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ پرویز مشرف اس کی شہرت / ریپوٹیشن خراب کر رہے ہیں، اگر پاک فوج ملکی استحکام میں اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی اور اپنی توجہ صرف شدت پسندی کے خاتمے کی طرف مرکوز رکھنا ہوگی۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کے علی دایان حسن نے ایک بیان میں عام انتخابات کے التواءکو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے صدر پرویز کی حامی سیاسی جماعتوں کے لیے قبل از انتخاب دھاندلی کا امکان بڑھا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل سے قبل اس نے وسیع پیمانے پر حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر مسلم لیگ (ق) کے لیے قبل از انتخاب دھاندلی کی تفصیلات جمع کی تھیں۔
علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ صدر پرویز کی صاف و شفاف انتخابات منعقد کرانے کا دعویٰ متنازعہ ہے۔ بےنظیر کے قتل کے بعد صدر پرویز کے ملک کو جمہوری راہ پر ڈالنے کے ارادے اور صلاحیت پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔
کرائسس گروپ کی رپورٹ پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں (رپورٹ پی ڈی ایف فارمیٹ میں ہے، ایڈوب ایکروبیٹ ریڈر درکار ہوگا)
http://www.crisisgroup.org/library/d...tan_bhutto.pdf