واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پختونخوا اور ہزارہ ۔ کہیں ایسا تو نہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-04-10, 01:37 AM   #1
پختونخوا اور ہزارہ ۔ کہیں ایسا تو نہیں
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 15-04-10, 01:37 AM

سلیم صافی

کشادہ سینوں کے مالک ۔ وسیع النظر‘ وسیع القلب اور سراپا پیار و محبت ۔ یہ ہیں اہل ہزارہ۔ سوات کے ہزاروں آئی ڈی پیز کو نہ صرف آپریشن کے وقت جگہ دی بلکہ آج بھی ان کی ایک بڑی تعداد وہاں مقیم ہے۔رہے پختون تو انہوں نے اہل ہزارہ کو کبھی غیریا غیرپختون نہیں سمجھا۔ اے این پی کو ووٹ صوابی ‘ چارسدہ‘ مردان اور پشاور کے پختونوں نے دئے تھے لیکن اس نے دونوں مرتبہ وزارت اعلیٰ کا تاج ہزارہ کے پیر صابر شاہ اور سردار مہتاب احمد خان کے سر رکھ دیا۔ ہندکو اور پشتو کی تفریق موجود ہوتی تو ہندکو بولنے والے بلور برادران‘ سید عاقل شاہ اور حامی محمد عدیل وغیرہ اے این پی کے صف اول کے لیڈر نہ ہوتے۔ جو ماضی میں اپنے والد کی غاصبانہ صدارت کو پختونوں کی صدارت قرار دیتے ہوئے کراچی میں پختونوں کو مہاجروں سے لڑوانے کی مرتکب ہوئے تھے ‘ وہی لوگ آج ہزارہ کے معصوم بھائیوں کو دہشت گردی کے شکار پختونوں سے لڑوانے کی سازش کررہے ہیں۔ پختونوں کے نام پر جو ظلم انہوں نے کراچی کے پختونوں پر ڈھایا ‘ آج وہ ہزارہ کے نام پر ہزارہ کے عوام پر ڈھارہے ہیں۔
کھیل بزکشی ہی کیوں نہ ہو کسی قاعدے اور ضابطے کے تحت کھیلا جاتا ہے لیکن پاکستانی سیاست اور صحافت کے کھیل کسی قاعدے اور ضابطے کے پابند نہیں ۔ یہاں ہر میچ کے اصول الگ الگ ہیں۔باقی صوبوں کے نام ایک کلیے پر رکھے گئے لیکن ایک صوبے کا نام ریفرنڈم سے رکھنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔ مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کو نہ ماننے کا اعلان کریں تو غدار اور گردن زدنی قرارپاتے ہیں لیکن یہی روش گوہر ایوب خان وغیرہ اپنالیں تو شاباش دینے چوہدری شجاعت حسین ایبٹ آباد پہنچ آتے ہیں۔ باچا خان مارشل لاء کے خلاف احتجاج یا افغانستان کے ساتھ اپنے تاریخی اور ثقافتی رشتے کی بنیاد پر افغانستان میں دفن ہونے کو ترجیح دیں(اگرچہ میری ذاتی رائے میں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ) تو اس ایک اقدام کو عشروں بعد بھی پختونخوا کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے لیکن کرکٹر پورے پاکستان کی کروڑوں لڑکیوں کو ٹھکرا کر ہندوستانی لڑکی سے رشتہ داری کرلے تو ہیرو قرار پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باچا خان اور ولی خان کی کسی غلطی کو پختونوں کے خلاف طعنے کے طور پر کیوں استعمال کیا جارہا ہے اور صوبے کے نام کو کیوں اے این پی کے پلے باندھا جارہا ہے ۔اسفندیار ولی خان کی پارٹی میں نہیں بلکہ محمود خان اچکزئی کی پارٹی کے نام میں پختونخوا کا لفظ شامل ہے ۔ اے این پی کے شدید مخالف پختون شاعر‘ ادیب اور دانشور بھی پختونخوا کے لفظ کے ساتھ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ پختونخوا کے لفظ میں پختون کا لفظ شامل ہے اور اس لفظ کی توہین کو کم وبیش ہر پختون اپنی توہین سمجھتا ہے۔ این ڈبلیو ایف پی یا سرحد کے لفظ سے ہزارہ کے لوگوں کی شناخت وابستہ تھی اور نہ یہ نام قائداعظم محمد علی جناح نے تجویز کیا تھا۔ اس خطے کو یہ نام اس انگریز نے دیا تھا جس کے خلاف قائداعظم نے بھی جدوجہد کی اور ہزارہ کے غیور عوام نے بھی ۔ ماضی کی بنیاد پر بات ہوگی تو پھر تو بلوچستان میں بھی ماضی میں پاکستان سے علیحدگی کے لئے آوازیں بلند ہوئیں اور آج بھی ”بلوچ نیشنل آرمی“ بے گناہ پنجابیوں کو مار اور پاکستانی سیکورٹی فورسزسے لڑ رہی ہے ۔ اب کیااس بنیاد پر تمام بلوچوں کو معتوب بنانا یا بلوچستان کا نام اس لئے تبدیل کرنا مناسب ہوگا کہ بلوچ کے لفظ سے علیحدگی کی بو آتی ہے؟ سندھ میں بھی سندھو دیش کی تحریک چلی تو کیا اس کی وجہ سے سندھ کا نام بدلنا چاہئے۔ہم کیا اس بنیاد پر پنجاب کا نام تبدیل کریں کہ ہندوستان میں بھی پنجاب صوبہ موجود ہے اور یہ نام پنجاب کو ہندوستان سے جوڑتا ہے ۔جب پختون اور بلوچ قوم پرست پختونستان اور گریٹر بلوچستان بنارہے تھے تو اس وقت وہ نیشنل عوامی پارٹی کا حصہ تھے۔ تب آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری بھی اس جماعت میں شامل تھے ۔ اب کیا ہم یہ مطالبہ کرلیں کہ آصف علی زرداری اپنے نام سے ”زرداری“ کا لفظ ہٹا لیں کیونکہ اس سے علیحدگی اور تعصب کی بو آتی ہے؟
کوئی قاعدہ ‘ کوئی ضابطہ ‘ کوئی اصول۔ مزید صوبے بننے چاہئیں اور اگر ہزارہ کے عوام کی اکثریت چاہیں تو ہزارہ کو بھی الگ صوبہ بنا دینا چاہئے لیکن نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی کلیہ تو بنانا ہوگا اور پھر صرف ہزارہ صوبے پر اکتفا کافی نہیں ہوگا ۔ تاریخ کو بنیاد بنائیں گے تو ملتان اور بہاولپور کا کیس ہزارہ سے کم مضبوط نہیں۔ لسانی تقسیم کو بنیاد بناؤگے تو سندھ بھی تقسیم ہوگا ‘ پنجاب بھی اور بلوچستان بھی۔ سیاست چمکانے کی خاطر ایبٹ آباد میں لاشوں کے گرانے کی راہ ہموار کرنے والے چوہدری شجاعت حسین کو پھر بہاولپور‘ ملتان ‘ پھوٹوہار اور کراچی صوبے کی بھی حمایت کرنی ہوگی۔ احساس محرومی اور صوبے کے وسائل کی تقسیم کو بنیاد بناؤ گے تو یہاں پھر سرائیکی ‘ بہاولپور اور ڈی آئی خان کا کیس ہزارہ سے زیادہ قوی ہے۔ دارالحکومت سے دوری کو بنیاد بناؤ گے تو پھرگوہر ایوب خان کے والد محترم کے بنائے ہوئے اسلام آباد سے بلوچستان‘ سندھ اور جنوبی پنجاب کے پاکستانیوں کی دوری کے مسئلے کابھی حل نکالنا ہوگا۔ تاریخی جغرافیے کی بنیاد پر بات ہوگی تو پھر سندھ اور پنجاب کے بلوچ علاقے بلوچستان کو اور میاں والی وغیرہ سرحد کو واپس کرنے ہوں گے ۔
لوگوں کے جذبات کو بھڑکانااور اپنے سیاسی اغراض کے لئے دوسروں کے بچوں کو مروانا آسان ترین جبکہ حقائق اور دلائل کی بنیاد پر قوم کی تربیت کرنا مشکل ترین کام ہے اور یہ کام سیاسی مداری نہیں بلکہ قائد اعظم محمد جناح جیسے حقیقی رہنما ہی کرسکتے ہیں۔ لسانی‘ قبائلی اور جغرافیائی حوالوں سے محرومی یا پھر برتری کے جذبات ہمہ وقت ہر جگہ ہر رنگ و نسل کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں صرف گوہر ایوب صاحب کیش نہیں کررہے ہیں۔ کراچی میں شاہی سید صاحب یہی کام کرچکے ہیں اوربہاولپور میں یہ کام محمد علی درانی جیسے متنازعہ فرد نے کردکھایا۔ آج اگر ایبٹ آباد میں کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی بھی فرد صوبہ ہزارہ کی مخالفت نہیں کرسکتا تو بہاولپور اور ملتان میں کب سے کسی بھی جماعت کا کوئی بھی لیڈر بہاولپور اور سرائیکی صوبے کے خلاف بھی قومی جماعتوں کا کوئی لیڈر لب کشائی نہیں کرسکتا‘ بلکہ بلوچستان کے بیشتر بلوچ علاقوں میں تو کوئی پاکستان کا جھنڈا تک نہیں لہراسکتا۔ پھر کیا خاکم بدہن ہم بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی حمایت کریں یا پھر کیا اس کلیے سے ضروری نہیں ہوجاتا کہ ہر قومی لیڈر ملتان اور بہاولپور صوبوں کے لئے آواز بلند کرے؟
ہزارہ کے عوام کو سہانے خواب تو دکھائے جارہے ہیں لیکن بعض تلخ حقائق ان سے پوشیدہ رکھے جارہے ہیں۔ انہیں یہ توبتایا جارہا ہے کہ صوبہ سرحد تربیلا ڈیم کی آمدنی سے چلتا ہے اور یہ چونکہ ہزارہ میں واقع ہے اس لئے یہ ساری رقم ہزارہ کے حصے میں آجائے گی لیکن انہیں یہ نہیں بتایا جارہا کہ آئین کی رو سے بجلی کا خالص منافع اس صوبے کو ملتا ہے جس میں پاور ہاؤس قائم ہو اور تربیلا ڈیم کا پاور ہاؤس دریا کے اس پار یعنی ضلع صوابی میں واقع ہے۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ہزارہ صوبے کا قیام ہندکو بولنے والوں کی بڑی خدمت ہوگی لیکن یہ نہیں بتایا جارہا کہ پشاور‘ ڈی آئی خان‘ کوہاٹ اور نوشہرہ کے ہندکو بولنے والے نہ صرف ہزارہ کے ہندکو بولنے والوں سے کٹ جائیں گے بلکہ ان کے خلاف پختون اکثریت کے علاقوں میں نفرتیں بھی جنم لیں گی۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ہزارہ میں صرف ہندکو بولنے والے رہتے ہیں حالانکہ وہاں بارہ زبانیں بولی جاتی ہیں اور بڑی زبانیں ہندکو‘ گوجری‘ پشتو اور کوہستانی ہیں۔ گوجری اور کوہستانی بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہزارہ سے باہر ملاکنڈ ڈویژن میں رہتی ہے ۔ اسی طرح ہندکو اور پشتو بولنے والوں کی اکثریت ہزارہ سے باہر دیگر علاقوں میں مقیم ہے۔ یوں ہزارہ کے الگ صوبہ بن جانے سے گوجروں کو گوجروں سے ‘ ہندکوبونے والے کو ہندکوبولنے والوں سے ‘ کوہستانی کو کوہستانی سے اور پختون کو پختوں سے کاٹ دیا جائے گا ۔
معاملہ تلخ تھا اور نہ ناممکن لیکن سیاسی لیڈروں کی غیردانشمندی نے اسے جذباتی ایشو بنا دیا۔ اے این پی نے ۱۹۹۷ء میں بھی اس ایشو سے سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کی اور اب کے بار پھر یہ غلطی دہرائی ۔ زرداری صاحب نے اسے سیاسی کھیل کے پتے کے طور پر اے این پی اور مسلم لیگ(ن) کو لڑوانے کے لئے استعمال کیا۔ مسلم لیگ (ن) نے ہزارہ کے ووٹ بینک کی خاطر اس سے متعلق شروع میں غیرجمہوری اور غیراصولی موقف اپناکر ہزارہ کے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی اور پھر یکدم پلٹا کھاکر پختونخوا کے ساتھ ایک ایسا لفظ نتھی کردیا جو ہزارہ کے لوگوں کی شناخت ہے اورنہ صوبے کی کسی اور علاقے کی بلکہ سرحد کے لئے خیبر کا نام پہلی مرتبہ پرویز مشرف نے ۲۰۰۷ء میں میرے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں تجویز کیا تھا۔آئینی کمیٹی کی سفارشات پر دستخط کرنے والی مسلم لیگ (ق) اب اس ایشو سے اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کا رویہ حسب روایت ”کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے“ والاہے ۔ تنقید کرنے والے بہت ہیں لیکن مناسب تجویز کسی طرف سے نہیں آرہی ۔ (جاری ہے
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 269
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (15-04-10), محمد الیاس (15-04-10), ابن جلال (15-04-10), حیدر (15-04-10), عدنان دانی (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 11:08 AM   #2
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ھارون صاحب، اچھا لکھا ہے۔ پتے کی بات ہے۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-10, 12:18 PM   #3
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا لکھا ہے ہارون بھائی بس سمجھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے ہم کو
ہم کو ایک سازش کو تحت لڑوایا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-10, 12:22 PM   #4
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا لکھا ہے ہارون بھائی بس سمجھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے ہم کو
ہم کو ایک سازش کو تحت لڑوایا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-10, 03:43 PM   #5
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے لگتاہے کہ اب ہزارہ کو صوبہ بننے سے کوئی نہین روک سکتا۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 05:39 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,151
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,293 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے کیا حرج ہے یہ کہ اگر پنجاب کے ، بلوچستان ،سندھ اور سرحد کے دو دو ٹکڑے کر دیے جائیں تو؟ (مانا کہ جس بنیاد پر یہ ہوگا وہ بنیاد غلط ہے لیکن مجھے تو اکثر ہی شک یہ پڑتا ہے کہ اس ملک کی بنیاد ہی گلط ہے۔ جب یہ ملک چل رہا ہے تو آگے بھی چلتا ہی رہے گا انشا اللہ)
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 11:26 PM   #7
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر تھوڑے سے ووٹ حاصل کرنے والی اے این پی‘ صوبے کا نام تبدیل کرواکے پاکستان کے خلاف سازش کرسکتی ہے اور پختونستان کے قیام کی بنیاد رکھ سکتی ہے ۔ ۔ ۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-10, 11:27 PM   #8
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اے این پی صوبہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی اور بلوچستان میں پختونوں کے حقوق اور ان کی شناخت کا مطالبہ کرتی ہے لیکن جب بات ان کے اپنے صوبے میں بسنے والے غیر پختونوں کی اور سندھ میں بسنے والے غیر سندھیوں ( اردو اسپیکنگ )کی شناخت کی آتی ہے تو اے این پی کا موقف بالکل تبدیل ہو جاتا ہے ـ یہ دوہرا معیار اے این پی کی جمہوریت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے ـ
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-04-10)
جواب

Tags
کراچی, پاکستانی, قائداعظم, لوگ, محبت, آپریشن, آج, اللہ, احتجاج, اسلام, اسلامی, اعلیٰ, بچوں, تاج, حل, خلاف, خان, رشتے, زرداری, سیاست, سردار, شناخت, صحافت, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آج تو فرطِ شوق میں ایسا کمال ہوگیا خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 6 29-04-12 02:44 AM
ہم سے تو ظلم ہو سکا ایسا نہیں کبھی The Great شعر و شاعری 0 25-08-09 01:47 PM
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا میاں شاہد دلچسپ اور عجیب 24 07-02-09 03:04 PM
ایکس ایل اور ایس، الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا لاسلکی گپ شپ 7 30-05-08 04:48 PM
سرگودھا: فضائیہ کی بس پر خود کش حملہ میں زخمی فلائنگ آفیسر اسد نعیم دم توڑ گئے عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 04:24 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:33 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger