واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پرویز مشرف کی بداعمالیوں اور دروغ گوئی کا تعاقب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-06-11, 11:35 AM   #1
پرویز مشرف کی بداعمالیوں اور دروغ گوئی کا تعاقب
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 19-06-11, 11:35 AM

پاکستان پر اس وقت جتنی بھی بلائیں ٹوٹی پڑ رہی ہیں ان کو دعوت دینے والا ایک بدنہاد، بدکردار اور غاصب سابق حکمران ہے جو اب لندن اور واشنگٹن کے یہود و نصاریٰ کی پناہ میں اقتدار سے محرومی کے پھپھولے پھوڑتا رہتا ہے۔ نبی کریمﷺ کا نامہ مبارک چاک کر کے توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے ساسانی بادشاہ خسرو پرویز کا ہم نام پرویز مشرف شروع ہی سے لاابالی، غیر ذمہ دار اور عیاشی کا رسیا تھا، وہ اپنی فضول کتاب ”ان دی لائن آف فائر“ میں خود لکھتا ہے کہ وہ رات کو ایف سی کالج ہوسٹل کی دیوار پھاند کر دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے جایا کرتا تھا۔ اس نے ایف اے کا امتحان معمولی نمبروں میں پاس کیا تھا۔ ایف سی کالج کے دنوں میں اسلم سکھیرا نامی نوجوان سے اس کا ”یارانہ“ تھا اور وہ پرویز مشرف پر اس قدر حاوی تھا کہ اس کے بڑے بھائی کو فکر دامن گیر ہوئی جو خود بھی ایف سی کالج میں پڑھتا تھا، چنانچہ برادر اکبر نے اپنے ابا جان ”سید“ مشرف الدین سے کہا کہ اگر پرویز کو بندہ بنانا ہے تو اسے ایف سی کالج سے نکال لیں۔ یوں پرویز مشرف اسلم سکھیرا کے سحر سے نکل کر فوجی تربیت کے لئے ملٹری اکیڈمی چلا گیا اور چند سال بعد اسلم سکھیرا کو کسی نے قتل کر دیا۔
یہ اہل پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ یہ نامراد شخص جس کا فوج سے مفرور ہونے کے جرم میں کورٹ مارشل ہونا تھا، ستمبر 1965ءکی جنگ چھڑنے کے باعث اس کے جرم سے چشم پوشی کی گئی۔ وار کورس میں وہ سفارشی نمبروں سے پاس ہوا تھا اور آگے بھی سفارشوں سے ترقی پاتا گیا۔ شراب و شباب کا رسیا کمانڈو پرویز مشرف لیفٹیننٹ جنرل بن کر منگلا کا کور کمانڈر تھا جب اکتوبر 1998ءمیں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے مستعفی ہونے پر وزیراعظم نواز شریف کی نظر انتخاب اس پر پڑی۔ نواز شریف کے چہیتے وزیر مشاہد حسین کے والد سید امجد حسین نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانے کی سفارش انہوں نے یہ کہہ کر کی تھی کہ ’
’جنرل علی قلی خان سرحد کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، پنجاب کے جنرل خالد نواز کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جبکہ کراچی کے پرویز مشرف کا کوئی سیاسی حلقہ نہیں، یہ موزوں رہے گا“۔ (دراصل مشاہد حسین کی ماں اور پرویز مشرف کی ماں منہ بولی بہنیں تھیں) چودھری نثار نے بھی غالباً پرویز مشرف کے تقرر کی حمایت کی تھی۔ انہی دنوں جب میاں نواز شریف نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو رائیونڈ فارم پر مدعو کر کے ان کا والہانہ استقبال کیا تو ڈاکٹر عبدالقدیر نے میاں صاحبان سے کہا تھا کہ بدکردار پرویز مشرف کا تقرر بہت بڑی غلطی ہے، یہ شخص آپ کو ڈسے گا۔ اس پر میاں محمد شریف کی سوالیہ نظریں نواز شریف کی طرف اٹھیں تو وہ اتنا ہی کہہ سکے: ”ساتھیوں نے انہی کے تقرر کا مشورہ دیا تھا“۔ اس ایک غلط فیصلے نے قوم کی راہ میں اتنے کانٹے بکھیرے ہیں جو پلکوں سے بھی نہیں چنے جا رہے!
ڈاکٹر عبدالقدیر پرویز مشرف کی ”بہادری“ کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ کوہاٹ میں کمانڈو کورس کر رہا تھا اور چھٹی پر اپنے گھر راولپنڈی آیا تو پستول لے کر اپنے کمانڈنگ آفیسر کے دفتر پہنچ گیا اور پستول ان کے سامنے رکھتے ہوئے بولا: ”یا تو مجھے گولی مار دیں یا اپنے بیٹے کو منع کریں کہ وہ میرے گھر نہ جایا کرے“۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول انہیں یہ واقعہ ایک وفاقی ڈپٹی سیکرٹری نے سنایا تھا جو پرویز مشرف کا کلاس فیلو رہا تھا۔ اس قماش کا آدمی جنرل عزیز، جنرل عثمانی اور جنرل محمود کے تعاون سے 12 اکتوبر 1999ءکو سربراہ حکومت (چیف ایگزیکٹو) بن بیٹھا، جنہوں نے منتخب وزیراعظم نواز شریف سے گن پوائنٹ پر استعفا لینے میں ناکام رہ کر انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ پھر جون 2001ءمیں پرویز مشرف صدر مملکت جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ کے استعفا نہ دینے پر جبراً صدر کا عہدہ سنبھال لیا تھا اور تین ماہ بعد جب نائن الیون کے واقعات پیش آئے تو اس کمانڈو نے امریکی وزیر خارجہ سیاہ فام کولن پاول (ریٹائرڈ آرمی چیف) کی اس مبینہ دھمکی پر کہ ”تم ہمارے دوست ہو یا دشمن؟“ فوراً گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس نے پاکستان کے مفادات سے روگردانی کرتے ہوئے پاکستان کو امریکی صدر جارج بش کی کروسیڈ (صلیبی جنگ) میں جھونک دیا۔ اس نے اپنی جھوٹی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ امریکی نائب وزیر دفاع رچرڈ آرمٹیج نے واشنگٹن کے دورے پر گئے ہوئے آئی ایس آئی چیف جنرل محمود کو دھمکی دی تھی کہ ”افغانستان پر حملے میں تعاون نہ کرنے پر پاکستان کو بمباری سے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے گا“۔ کتاب کی اشاعت پر آرمٹیج نے اس کی تردید کر ڈالی۔
آج یہ بزعم خویش ”پڑھا لکھا شخص“ اور جنرل حمید گل کے بقول ”یہودی ایجنٹ“ قومی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتاہے کہ ’
’میری حکومت کا امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ درحقیقت میرے ماٹو ”سب سے پہلے پاکستان“ پرمبنی تھا“۔ اسے امت مسلمہ اور پاکستان کے مفادات کے برعکس یہ ماٹو گھڑتے ہوئے ذرا شرم نہ آئی۔ وہ برادر اسلامی ملک افغانستان کو عالمی صلیبی بھیڑیوں کے آگے ڈالنے کا جواز یہ پیش کرتا ہے کہ ”اگر طالبان کو اس جنگ میں فتح ہو بھی جاتی تو بھی یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا کہ وہ طالبانائزیشن کو اختیار کرتا“۔ شرابی پرویز مشرف کو خوف تھا کہ ”نیم پڑھے لکھے عالم انصاف کے رکھوالے بن جائیں گے“۔ کیونکہ اسے تو ”پڑھا لکھا“ نام نہاد جسٹس عبدالحمید ڈوگر محبوب تھا جو ذلیل ہو کر سپریم کورٹ سے نکلنے کے بعد معافی مانگ کر گھر جا بیٹھا ہے۔ پرویز مشرف نے تسلیم کیا ہے کہ ہم نے امریکہ کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے جو امریکی سفیر وینڈی چیمبرلین 13ستمبر 2001ءکو اس کے پاس لے کر آئی تھی اور یہ مطالبات امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ہمارے فارن آفس کو بھی بھجوائے گئے تھے۔ مشرف کو اس الزام پر حیرت ہے کہ ”میں نے کولن پاول کی ایک فون کال پر تمام امریکی شرائط مان لیں جبکہ شرائط تو تیسرے دن امریکی سفیر لائی تھیں“۔
جھوٹا پرویز مشرف اپنے فیصلے کو ”دانش مندی پر مبنی“ قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ”مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں“۔ اسے پچھتاوا بھلا کیوں ہو گا کہ اس عاجلانہ اور ظالمانہ فیصلے کے بعد ہی تو امریکہ نے اس غاصب کو سرپر بٹھایا تھا۔ پھر وہ بڑے فخر سے کہتا تھا کہ ”میں جب چاہوں فون پر صدر بش سے بات کر لیتا ہوں“۔ اس احمق نے یہ بھی کہا تھا کہ ”ہم نے امریکہ سے سودا بازی نہیں کی“۔ بزدل کمانڈو کمانڈر پرویز مشرف کو خوف تھا کہ ہم اپنی فوج کے ذریعے امریکہ اور بھارت کی مشترکہ قوت کا مقابلہ کیونکر کریں گے؟ وہ سمجھتا تھا کہ افغانی شکست کھائیں گے، اگر اس ایف اے پاس کو دن نے برطانوی ہند کی تاریخ پڑھی ہوتی اور تین اینگلو افغان جنگوں میں برطانوی شکست کی تفاصیل اس کے ذہن میں ہوتیں تو وہ ”بھوترے ہوئے“ بش اور بلیئر کو بتاتا کہ افغان قوم ناقابل شکست ہے۔ لہٰذا حملے کی غلطی سے باز رہو، دراصل مشرف نے خوف، اوسان خطا ہونے اور ذہنی شکست کا شکار ہو کر اکیلے فیصلہ کر دیا۔ اس نے ایٹمی ڈیٹرنس کا فلسفہ بھلا دیا۔ امریکہ بھارت اتحاد یا امریکی و اتحادی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی عظیم غلطی ہرگز نہ کرتے جبکہ ہمارے ایٹمی میزائل بھی تیار تھے۔ شمالی کوریا اور ایران بھی تو ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی ڈیٹرنس ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔ جنرل حمید گل کے بقول امریکیوں سے کہا جا سکتا تھا کہ ہمارے ایٹمی میزائل نیو یارک اور واشنگٹن تو نہیں پہنچ سکتے مگر ہم تل ابیب کو نہیں چھوڑیں گے۔ اسرائیل ایسا طوطا ہے جس میں امریکہ کی جان ہے، لہٰذا پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے امریکی سو بار سوچتے۔ اب امریکی ہماری گردن پر سوار ہیں۔ ہمارے فضائی اڈے امریکی تسلط میں ہیں، لہٰذا ڈرون حملے کرتے ہوئے اور ایبٹ آباد پر حملہ آور ہوتے ہوئے انہیں سوچنے کی چنداں ضرورت نہیں جبکہ مشرف نے اور اس کے بعد این آر او فیم زرداری حکومت نے انہیں حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔





بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
____________
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 186
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-06-11), shafresha (19-06-11), یاسر عمران مرزا (19-06-11), احمد نذیر (19-06-11), بلال الراعی (20-06-11), سام (20-06-11), عبدالقدوس (19-06-11), غلام خان (20-06-11)
جواب

Tags
فارم, کورٹ, کالج, کراچی, ٹیک, پاکستان, واقعات, واشنگٹن, وزیراعظم, لندن, نواز شریف, نثار, نظر, مقابلہ, ماں, اکبر, ایران, امریکہ, جرم, روزہ, زرداری, سودا, شمالی کوریا, طالبان, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::: ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکا، سی ڈیز کی متعدد دکانوں کو نقصان ::: ابو کاشان خبریں 3 11-10-10 12:31 PM
سپر یم کورٹ کے ججوں کی تعداد 29کر نیکی تجویز والا بجٹ منظور نہیں ہو نے دین عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:04 PM
حکومت کےخلاف صدر پرویز کی چارج شیٹ، دھمکیوں سے پر گفتگو شیخ ہمدان سیاست 1 09-06-08 08:44 PM
صدر پرویز سے تعاون کرو ورنہ این آر او ختم ہو جائے گا،پیپلز پارٹی کو پیغام عبدالقدوس خبریں 0 21-02-08 02:32 AM
میں،پرویز مشرف اور شوکت عزیز نشانہ بنے،شجاعت ،پرویز الٰہی اور اعجاز الحق پر حملے کیوں نہیں ہوئے،بینظیر خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:55 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger