واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پیپلز پارٹی: ماضی، حال اور مستقبل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-10, 04:00 PM   #1
پیپلز پارٹی: ماضی، حال اور مستقبل
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 05-12-10, 04:00 PM

پاکستان پیپلزپارٹی نومبر 1967ءمیں اپنی تشکیل کے صرف تین سال بعد 1970ءکے انتخابات میں عوامی لیگ کے بعد دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، لیکن دونوں سیاسی جماعتیں ملک گیر کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔ پیپلزپارٹی مغربی پاکستان کی واحد اکثریتی جماعت تھی جبکہ عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی واحد اکثریتی جماعت۔ سقوط ِمشرقی پاکستان کے بعد پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی۔ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی کی کامیابی عوامی سیاست کی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ جبکہ اس کا پہلا دورِ اقتدار ایک سیاسی حادثہ تھا۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی کامیابی جنرل ایوب خان کی طویل آمریت اور ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی شخصیت اور روٹی، کپڑا، مکان کے پرکشش نعرے کی مرہون منت تھی۔

پیپلزپارٹی کا پہلا دورِ اقتدار بلاشبہ تاریخی کامیابیوں سے عبارت ہی، 1973ءکے دستور کی تشکیل، ایٹمی پروگرام کا آغاز اور پیش رفت، اسلامی دنیا سے مضبوط تعلقات پر مبنی خارجہ پالیسی اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات، تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ وہ اقدامات تھے جن کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی مطلق العنان شخصیت اور طرزعمل سے سیاسی و جمہوری قوتوں میں منفی ردعمل پیدا ہوا۔ سرحد اور بلوچستان کی منتخب حکومتوں کو تحلیل کرکے گورنر راج کا نفاذ اور مصنوعی اکثریت کے بل بوتے پر پارٹی حکومت کی تشکیل، بلوچستان میں فوجی آپریشن، مہنگائی میں اضافہ، سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں، سیاسی رہنماﺅں کی گرفتاریاں، نظربندیاں، بدسلوکی، حتیٰ کہ قتل کے واقعات، ڈیفنس آف پاکستان رولز کی آڑ میں آزادی رائے پر قدغنیں وہ منفی اقدامات تھے جن سے پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا گراف گرتا چلاگیا۔

1977ءکے انتخابات میں حزب اختلاف کا گرینڈ الائنس (پی این ای) بنا۔ ان انتخابات میں دھاندلی کے واقعات نے پیپلزپارٹی کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا۔ 5 جولائی 1977ءکو فوجی آمر جنرل ضیاءالحق کا شب خون اور 1979ءمیں پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین کی پھانسی کی افسوسناک سزا نے پیپلزپارٹی کو نئی زندگی بخش دی۔ بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت کی قیادت میں ایم آر ڈی کی تحریک، بھٹو خاندان کی مظلومیت اور جنرل ضیاءالحق کی فوجی آمریت نے 1988ءکے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کی راہ ہموار کردی۔ اس طرح پی پی دوسری بار اقتدار میں آگئی۔ بے نظیر بھٹو نے برسراقتدار آنے کے بعد فوجی آمریت کے دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے سیاسی کارکنوںکو قید سے آزاد کرایا اور سیاسی سرگرمیاں بحال کیں اور طلبہ یونین پر سے پابندیاں ختم کردیں۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو اپنی مدت مکمل کرنے سے قبل اکتوبر 1990ءمیں ختم کردیا گیا۔ پی پی حکومت کے اس دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نوازشریف کی پی پی کے خلاف محاذ آرائی اور بے نظیر بھٹو کے شوہر نامدار آصف علی زرداری کی مبینہ کرپشن کا پروپیگنڈا حکومت کے خاتمے کا سبب بنا، لیکن اس خاتمے میں فوج کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

صدر غلام اسحاق خان اور فوج کے گٹھ جوڑ سے پی پی کی حکومت اگرچہ ختم کردی گئی لیکن پارٹی کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ اکتوبر 1990ءکے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے نام سی، جبکہ میاں نوازشریف کی قیادت میں آئی جے آئی نے الیکشن لڑا۔ مذکورہ الیکشن میں پی پی یا پی ڈی اے نے صرف 45 نشستیں حاصل کیں جبکہ آئی جے آئی 105 نشستوں کے ساتھ سرفہرست رہا۔ 1990ءکے انتخابات میں پی پی کی شکست کے بعد بے نظیر بھٹو نے لیڈر آف دی اپوزیشن کا انتہائی متحرک کردار ادا کیا۔ سیاسی جماعتوں کی محاذ آرائی کے نتیجے میں ایک بار پھر جولائی 1993ءمیں قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی، اکتوبر 1993ءکے انتخابات میں پی پی اکثریتی جماعت کی حیثیت سے کامیاب تو ہوگئی لیکن ایوان میں سادہ اکثریت نہ مل سکی، مجبوراً پی پی نے آزاد اورچھوٹی جماعتوں کے تعاون سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اور تیسری بار اقتدار میں آگئی۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم اور فاروق لغاری صدر بن گئے۔ اس طرح اقتدار مکمل طور پر پی پی کے پاس آگیا۔ پی پی کا یہ تیسرا دور دوسرے دور کے مقابلے میں قدرے غنیمت تھا، لیکن پارلیمان میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پی پی کی حکومت مستحکم نہ ہوسکی۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی، حکومت کے خلاف محاذ آرائی اور فوجی آپریشن کے باعث حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ پنجاب میں امن و امان کی خراب صورت حال اور نواز لیگ کی جاری محاذ آرائی، دوسری جانب ملک کی خراب اقتصادی صورت حال کے باعث ایک بار پھر پی پی کی حکومت مدت ختم ہونے سے قبل نومبر 1996ءمیں خود پی پی کے صدر فاروق لغاری نے تحلیل کردی، اس طرح پی پی کو دوسری بار بھی مدتِ حکومت مکمل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ فروری 1997ءکے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور نواز لیگ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔ پی پی نے نواز لیگ کی کامیابی کو انجینئرڈ قرار دیا۔ نوازشریف دو تہائی اکثریت اور تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد ایک مطلق العنان حکمراں کی حیثیت سے سامنے آئے۔ آرمی چیف اور سیاسی مخالفین کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجے میں اکتوبر 1999ءمیں نوازشریف کی حکومت کو برطرف کردیا گیا اور ایک اور فوجی آمر جنرل پرویزمشرف نے انتہائی ڈرامائی انداز میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

پیپلزپارٹی کی شریک چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی اور پی پی نے اے آر ڈی کے ساتھ مل کر بحالی جمہوریت کی تحریک شروع کی۔ جنرل پرویزمشرف بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف ذاتی بغض وعناد رکھتے تھے۔ انہوں نے باربار اعلان کیا کہ دونوں کو ملک میں واپس نہیں آنے دیں گے۔ جنرل مشرف نے 2002ئ میں انتخابات کرائے تو اس میں کنگ پارٹی مسلم لیگ (ق) نے اکثریت حاصل کی جبکہ پیپلزپارٹی اپنی رہنما کے بغیر انتخابات میں حصہ لے کر اکیاسی نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے دوسری بڑی جماعت بن گئی۔ پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو ملک سے باہر رہ کر پارٹی کے سیاسی، تنظیمی اور پارلیمانی امور کو کامیابی سے چلاتی رہیں۔ اس دوران نائن الیون کے واقعہ، دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں پاکستان کا امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار اور وکلا تحریک نے قومی سیاست کو نیا موڑ دیا، امریکہ کا مشرف پر اعتبار اٹھ چکا تھا اور مشرف امریکہ اور عوام کی نظروں میں غیر مقبول ہوچکے تھی، امریکہ نے مشرف کو فوجی وردی اتارنے اور سیاسی قوتوں بالخصوص پی پی کے ساتھ مفاہمت کا حکم دیا۔اس حکم کی تعمیل میں بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان ابوظہبی میں ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں بے نظیر بھٹو سمیت پی پی کے رہنماﺅں اور کارکنوں کے خلاف ہر طرح کے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ ہوا اور بدنام زمانہ این آر او جاری کیا گیا، بے نظیر بھٹو اکتوبر 2007ئ کو طویل جلاوطنی ختم کرنے کے بعد وطن واپس آئیں، کراچی میں ان کا والہانہ استقبال ہوا لیکن استقبالیہ جلوس میں بم دھماکہ کے ذریعے بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، لیکن وہ بال بال بچ گئیں۔

اس حملے سے یہ بات واضح تھی کہ اب ملک اور بیرون ملک ایسی طاقتیں ہیں جو پیپلزپارٹی اور بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں آنے سے روکنے میں مصروف ہیں۔ چند ہفتوں بعد لیاقت باغ راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو پر دوسرا قاتلانہ حملہ ہوا اور خودکش بم دھماکے میں وہ شہید ہوگئیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پیپلزپارٹی چوتھی بار اقتدار میں آگئی۔ یہ اعزاز صرف پیپلزپارٹی کو حاصل ہے کہ سیاسی جماعت کی حیثیت سے اسے سب سے زیادہ اقتدار میں رہنے کا موقع ملا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری پارٹی کے چیئرمین اور ان کے شوہر آصف علی زرداری شریک چیئرمین بن گئے۔ انتخابات کے بعد یوسف رضا گیلانی متفقہ طور پر وزیراعظم اور آصف زرداری صدر بن گئے۔ پیپلزپارٹی اپنی حکومت اور اقتدار کے چوتھے دور سے گزر رہی ہے اور اسے داخلی اور خارجی سطح پر شدید مخالفتوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف پارٹی کی قیادت پر بھٹو خاندان کا اثرونفوذ ختم ہوچکا ہی، آصف علی زرداری پارٹی کی قیادت کررہے ہیں جن سے پارٹی کے سینئر رہنماﺅں اور کارکنوں کے شدید اختلافات ہیں۔

خود آصف زرداری نے بھی پارٹی اور بے نظیر بھٹو کے بعض اہم اور دیرینہ ساتھیوں کو فراموش کردیا ہے؟ ناہید خان اور صفدر عباسی کے خلاف تنظیمی جبر سے پارٹی کارکنوں میں بے چینی ہی، خود بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے بارے میں آصف علی زرداری کے متضاد بیانات سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی نشاندہی اور اب تک انہیں کیفر کردار تک نہ پہنچانا پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے آصف زرداری کی بڑی ناکامی و نااہلی قرار دیا جارہا ہے۔ خارجی سطح پر پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف عوام میں بھی ردعمل شدید ہوتا جارہا ہی، اس کی بنیادی وجہ مہنگائی پر قابو پانے میں پیپلزپارٹی حکومت کی ناکامی ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے داخلی اختلافات و انتشار اور ناقص حکومتی کارکردگی کی وجہ سے مقبولیت کی انتہائی نیچی سطح پر آگئی ہے۔ پیپلزپارٹی آج 43 سال بعد ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں اس کی ”بھٹو
شناخت“ ختم ہوچکی ہے اور اپنے بنیادی و مقبول نعرے روٹی، کپڑا اور مکان اور سوشلسٹ معیشت کو اقتدار کی موجودگی کے باوجود پورا کرنے میں وہ ناکام ہے۔

پارٹی کے سینئر رہنما اور کارکن پارٹی کی موجودہ قیادت کے رویّے سے غیر مطمئن ہیں۔ ایسی صورت میں پیپلزپارٹی کے مستقبل کے بارے میں کوئی خوش آئند پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر زرداری، گیلانی حکومت کو اقتدار کی مدت مکمل کرنے کا موقع دیا گیا اور اسے سیاسی مظلوم نہ بننے دیا گیا تو آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کے بعض اکابرین تو یہ تک کہتے سنے گئے ہیں کہ یہ پارٹی کا آخری دور اقتدار ہی، اس کے بعد پارٹی اقتدار میں نہیں آسکے گی۔ پیپلزپارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔ لیکن عوام کے مسائل حل کرنے میں پارٹی کی کارکردگی کبھی بھی تسلی بخش نہیں رہی ہے۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی بقا کا انحصار عوامی مسائل و مشکلات خصوصاً مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں ہے۔ اگر پارٹی عوامی مسائل پر قابو نہ پاسکی تو آئندہ انتخابات میں اس کا مستقبل تاریک ہے۔ ایک قومی اور ملک گیر سیاسی جماعت کی حیثیت سے پی پی کو اپنے سیاسی مستقبل کا سنجیدگی کا جائزہ لینا ہوگا۔


پیپلز پارٹی: ماضی، حال اور مستقبل
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 220
Reply With Quote
جواب

Tags
php, پاکستان, وزیراعظم, قید, نواز شریف, مہنگائی, مکمل, موجودہ, ممکن, مسائل, آج, آصف زرداری, امریکہ, اسلامی, بے نظیر, حال, خون, خودکش, خان, دھماکہ, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, سیاست, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پیپلز پارٹی نے شاہ محمود کے خلاف مہم شروع کردی، مشرف کے وارنٹ کو اختلاف کی وجہ قرار دے دیا گلاب خان خبریں 3 14-02-11 11:41 AM
آصف زرداری کی صدر پرویز کے نمائندے سے ملاقات نہیں ہوئی، ترجمان پیپلز پارٹی عبدالقدوس خبریں 0 21-02-08 02:33 AM
پیپلزپارٹی بیروزگاری ختم کردیگی، نصراللہ رونجھو ابو کاشان خبریں 0 14-01-08 12:23 PM
پیپلز پارٹی کیخلاف سازش خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہے، تحریک استقلال خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:09 AM
پیپلز پارٹی کارکنوں کو اکیلا نہیں چھوڑے گی، غلام علی نظامانی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 09:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger