واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پیپلز پارٹی نے اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-04-11, 10:24 PM   #1
پیپلز پارٹی نے اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری
عارف اقبال عارف اقبال آف لائن ہے 18-04-11, 10:24 PM

urdutimes.com

تحریر:عبدالودود قریشی

سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دینے کی بازگشت گزشتہ 32 سال سے سنائی دے رہی ہے ۔ اس دوران پیپلز پارٹی دو مرتبہ برسر اقتدار آئی لیکن بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیتے ہوئے عدالت عظمی سے نہ تو نظرثانی کی اپیل کی گئی او رنہ ہی یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ اس کیس کو ری اوپن کیا جائے۔ لیکن اب جبکہ پیپلز پارٹی شدید مشکل میں ہے خود صدر آصف علی زرداری استثنی کی بنیاد پر عدالتی کاروائی سے بچے ہوئے ہیں تو پیپلز پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو کیس کی یاد ستانے لگی ہے حالانکہ تین سال سے اقتدار میں موجودگی اور تمام اختیارات کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو نہ تلاش کیا جا سکا اورنہ ان کے قتل کی سازش کا پتہ چلایا جا سکا ۔حیرت ہے کہ جس قائد کی قربانی کی بنا پر پیپلز پارٹی آج برسر اقتدار ہے اسی رہنما کے قتل کیس کی رپورٹ منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں کیا گیا ہے اس بات سے قطع نظر کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ کب ہوتا ہے اور کسے اس قتل کا مرکزی کردار قرار دیا جاتا ہے۔ بات ہو رہی ہے بھٹو کیس ریفرنس کی سپریم کورٹ میں جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے اس میں اسلامی تعلیمات کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ احتساب سے کوئی بالا تر نہیں مگر خود کو استثنی کے پردے میں چھپا کر عدالتوں کا سامنا کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ججوں نے دبائو میں آ کر فیصلہ دے کر اپنے حلف کی توہین کی لہذا ان پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے۔ جس میں آئین کی پامالی کے معاملات آتے ہیںدوسرا نقطہ جو کہ ریفرنس کیس میں اٹھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے قبل صرف وعدہ معاف گواہ کی تصدیق سے کسی ملزم کو مجرم قرار دیا گیا اور نہ موت کی سزا دی گئی۔ قابل احترام سپریم کورٹ آف پاکستان نے میاں محمد نواز شریف بنام ریاست کیس میں وعدہ معاف گواہ کی شہادت کو مسترد کر دیا تھا۔ ریفرنس میں تیسرا نقطہ جس کی بات کی گئی ہے وہ ہے احتساب ، اس میں کہا گیا ہے کہ ان (ذوالفقار علی بھٹو) کی غیر قانونی سزائے موت او رظالم حکمرانوں کے ہاتھوں من پسند ججوں کے ذریعے ان کی پھانسی پاکستان کے جمہوری چہرے پر بد نما داغ ہے چوتھا نقطہ ہے آیا سپریم کورٹ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر رہی تھی جو پانچواں نقطہ اٹھایا گیا وہ ججوں کی جانبداری کے حوالے سے ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ کے سامنے تلخ انداز میں اپیل کی کہ لاہور ہائیکورٹ میں ان کے ساتھ شفاف کاروائی نہیں کی گئی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر)نسیم حسن شاہ کا اعتراف کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل پر فیصلہ دبائو کے تحت ہوا اس سے کسی کے ذہن میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ عدالتی قتل تھا اور اسکا فیصلہ آمر جنرل ضیا الحق نے کیا اور اس پر عملدرآمد کیا۔ ریفرنس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ جسٹس غلام صفدر شاہ جنہوں نے سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس میں اختلافی فیصلہ دیا تھا جس کے بعد انہیں عتاب کا نشانہ بنایا گیا اوران کو بہت بری حالت میں ملک چھوڑ کر جانا پڑا، آیا شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کسی قابل ذکر شواہد کی عدم موجودگی میں سزائے موت دینا قانونی ہے او ریہ صرف جعلسازی سے بنائی اور تیار کی گئی کہانی کی وجہ سے ہوا جس پر کبھی جرح نہیں ہوئی۔ کیا سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سزا دینے اور برقرار رکھنے کا فیصلہ ایک نام نہاد درخواست گذار کانام نہاد خطرات کی وجہ سے دیا٫ اس میں کہا گیا کہ کیا یہ حکومت کی قانونی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف فوج داری مقدمے کی کاروائی سے قبل واقعے کی شفاف عدالتی انکوائری کراتی؟ کیا یہ انصاف تھا کہ قتل کی سازش کرنے والے ملزم کو موت کی سزا دی گئی اور وہ بھی اس صورت میں جس کے خلاف قابل شواہد سے سازش کرنا ثابت نہیں ہوا۔ کیا اس کیس میں آپ کو انصاف ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ اپیل کنندہ کو ہائیکورٹ میں اپیل کے حق سے محروم رکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت براہ راست ہائیکورٹ میں ہی شروع کی اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ذوالفقا رعلی بھٹو کیس کی سماعت سیشن عدالت میں ہوتی تو جج قانونی طور پر ماضی کے دیے گئے فیصلوں پر کیس کی پیش رفت کرنیکا پابند ہوتا لیکن ہائیکورٹ نے اس کو یکسر نظر انداز کیا۔ یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ فاضل عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران ایک ٹھوس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ استغاثہ کے پاس وعدہ معاف گواہ اور اپیل کنندہ کی بات چیت کا کوئی ثبوت نہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی گزشتہ ایک سال سے سندھ کارڈ کھیل رہی ہے حالانکہ وہ وفاق کی پارٹی ہونے کا دعوی کرتی ہے لیکن جونہی اسے اپنی مشکلات کا احساس ہوتا ہے سندھ کارڈ سیاسی شطرنج کی بساط پر پھینک دیا جاتا ہے ۔این آر او ججزتقرری اور توہین عدالت کے مقدمات کے باعث عدالت کو دبائو میں لانے کی سعی کی جارہی ہے۔ آئین کی دفعہ186 کے تحت سپریم کورٹ کو بھجوایا جانے والا ریفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اگر عدلیہ میں بھٹو کیس کو نا انصافی پر مبنی قرار دیا جاتا ہے تو عدالتی فیصلوں پر کھل کر انگشت نمائی کرتے ہوئے عدلیہ کو مطعون کیا جائے گا اور اپنے خلاف آنے والے ہر فیصلے کو جانبداری پہ محمول کیا جائے گا اوراگر فیصلہ برعکس آیا تو ایک بار پھر یہ کہا جائے گا کہ سندھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ سپریم کورٹ کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہو گی کہ وہ جسٹس انوار الحق، جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس محمد اکرم اور جسٹس کرم الہی چوہان کے فیصلے کو کس طرح عدالتی قتل قرار دے گی۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے ریفرنس کی سماعت کی تاریخ 13 اپریل مقرر کی ہے تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 32 سال بعد نظر ثانی کس طرح ممکن ہے مگر ریفرنس میں نواز شریف کے کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں وعدہ معاف گواہ کی گواہی کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کو 2000 میں سنائی جانی والی سزا کا تذکرہ ہے جسکا فیصلہ 2009 میں کیا گیا یعنی سپریم کورٹ کو بین السطور یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر نواز شریف کو سزا ملنے کے نو سال بعد نظر ثانی کی اپیل پر ا نصاف مل سکتا ہے تو پی پی کو کیوں نہیں ۔پیپلز پارٹی نے مذکورہ ریفرنس بھیج کر خود اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے۔ پی پی پی، دانستہ یا نادانستہ ایک ایسے ٹریپ میں پھنس گئی ہے جس پر بعد ازاں اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گا۔ اب دلائی کیمپ کی باتیں ہونگی۔ نواب محمد احمد خان کا تذکرہ آئے گا 'ایف یس ایف کی بات ہو گی 'الذوالفقار کا ذکر ہو گا' طیارے کے اغواء کا معاملہ اچھالا جائے گا اور مولانا فضل الرحمن کے بقول ملک ٹوٹنے کے واقعہ کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ بھی ہو سکتا ہے ان کرداروں کو بے نقاب کرنے کی بات بھی ہو سکتی ہے جو سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار تھے پھر حمودالرحمن کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لینے کی بھی بات ہو گی ۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور میں ایسا قدم اس لیے نہیں اٹھایا کہ وہ سمجھتی تھیں یہ لاحاصل ہے اسکا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا بلکہ ان کے مرحوم والد پر الزامات لگیں گے۔ بے نظیر بھٹو سیاسی نعرے کے طور پر کیس کی مذمت کرتی رہیں مگر وہ ان لوگوں کی طرح عدالت نہیں گیئں جو اس وقت بھٹو کے مخالفین میں شامل تھے یہ ریفرنس بھٹو کے لیے منفی تاثر ابھارے گا۔ خواجہ رفیق، ڈاکٹر نذیراحمد اور چوہدری محمد اقبال کے قتل کا معاملہ بھی اس ریفرنس کے حوالے سے زیر بحث آئے گا یہ سوال بھی اٹھے گا کہ اے ایس ایف کے عملے کو نواب محمد احمد کو مارنے کا حکم کس نے دیا اورانہیں مارنے کی کیا وجہ تھی۔ دیکھتے ہیں کہ اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

 
عارف اقبال's Avatar
عارف اقبال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 97
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کارڈ, پاکستان, پسند, وزیراعظم, نواز شریف, موت, ممکن, محمد اقبال, آج, اسلامی, بے نظیر, تلاش, حسن, خلاف, خان, درخواست, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, سپریم, سال, علی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پیپلز پارٹی سوئس بینکوں میں جمع 60 ملین ڈالر کا حساب دے، مسلم لیگ ن گلاب خان خبریں 0 23-08-10 03:28 AM
پیپلز پارٹی اور ن لیگ ججوں کی بحالی کیلئے کابینہ کمیٹی بنانے پر متفق عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 08:42 AM
پیپلزپارٹی کے 3 رہنماؤں اور 13 اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:25 AM
::: حکمراں زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے حالات خراب کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی ::: ابو کاشان خبریں 0 03-01-08 12:32 PM
پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچانے والوں کو ٹکٹ ملنے پر کارکنوں میں اضطراب خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-11-07 08:17 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger