واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پی آئی اے پارٹ‌ ٹو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-01-08, 11:01 PM   #1
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 13-01-08, 11:01 PM

پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پیر کو 2008ء کےلئے موخر شدہ بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں 2007ءکے 15 ارب روپے کے قریب خسارے کے تخمینے کے برعکس تقریباً 12 ارب روپے کا خسارہ ہوگا۔ یہ بات پی آئی اے کے ذرائع نے اتوار کے روز بتائی۔ ذرائع کے مطابق 31 دسمبر 2007 ءکو ختم ہونے والی آخری سہ ماہی پورے سال کے دوران بدترین ثابت ہوئی ہے جس میں مختلف وجوہات کی بناءپر 4 سے 5 ارب روپے کے درمیان خسارہ ہوا۔ اس خسارے کے ساتھ شوکت عزیز حکومت کے دوران پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 55 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
پی آئی اے کے چیئرمین ظفر احمد خان اتوار کو رابطہ کرنے پر بورڈ کے اجلاس سے قبل بجٹ کی منظوری یا عدم منظوری سے قبل تفصیلات پر تبادلہ خیال سے انکار کردیا۔ البتہ چیئرمین پی آئی اے کے خیال میں اس نمائندے کی جانب سے اس طرح کی معلومات کا حصول غیر اخلاقی ہے اور انہوں نے اسے بیک ڈور چینل قرار دیا۔ چیئر مین پی آئی اے اور نگراں وفاقی وزیر برائے دفاع سلیم عباس جیلانی کی دو روز قبل کراچی میں ایک غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں قومی ائر لائن کے بڑھتے ہوئے نقصانات سمیت متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی جب پی آئی اے کے ملازمین میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ گولڈن ہینڈ شیک یا اس طرح کی دیگر اسکیموں کے ذریعے تین سے پانچ ہزار ملازمین کی کٹوتی کا بڑا منصوبہ سامنے آنے والا ہے بشرطیکہ حکومت کمپنی کو مناسب رقم فراہم کردے۔
اتوار کو اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر دفاع اور چیئر مین پی آئی اے، دونوں نے اس بات کی تردید کی کہ کراچی میں ان کی ملاقات کے دوران بڑے پیمانے پر ملازمین کی کٹوتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہوابازی کے ماہرین اور تجزیہ نگار شوکت عزیز حکومت کے دوران گزشتہ تین سے چار سالوں میں اربوں روپے کی فراہمی کے باوجود پی آئی اے کے بھاری نقصانات پر حیرت زدہ ہیں۔
پی آئی اے کے ایک سابق ڈائریکٹر نے کہا کہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور تمام ائرلائنز کو اس اضافے کا سامنا ہے جبکہ پی آئی اے فیول سرچارج کے نام پر یہ اضافہ مسافروں سے وصول کرلیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نقصانات تیل کو قرار دینا درست نہیں۔ ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی آئی اے شوکت عزیز حکومت کی ایک اور بہت بڑی ناکامی کی کہانی ہے۔ پی آئی اے کو 2007ءکے دوران ہونے والے نقصان کے برابر منافع کمانا ہوگا تاکہ وہ کام کرتی رہے۔ موجودہ نقصان کی بنیاد پر پی آئی اے کو آئندہ دو سال کے دوران ایک ارب امریکی ڈالر (60 ارب روپے) درکار ہونگے جس سے اس کا احیاءاور تجدید (اپ گریڈیشن) ہوسکے۔ یہ بات کمپنی کے ایک سابق اعلیٰ ایگزیکٹو نے اتوار کو اس نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
بہت سے ماہرین پی آئی اے کی اس خراب حالت کا ذمہ دار ملک کی ایوی ایشن پالیسی کو قرار دیتے ہیں، لیکن اس کی وجہ اوپن اسکائی پالیسی سے بھی کہیں زیادہ ہے در حقیقت شوکت عزیز ائر لائن کو چلانے کےلئے ایک کے بعد ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کو تعینات کرتے رہے جس کا شہری ہوا بازی (ایوی ایشن) سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ تقرریاں تجربے اور میرٹ کی بجائے ترجیحات پر ہوتی رہیں۔
اگر احمد سعید، طارق کرمانی اور موجودہ چیئرمین ظفر خان کے کاروباری تجربے کو مد نظر رکھا جائے تو احمد سعید کا تعلق سروس انڈسٹری سے تھا جو جوتا ساز ادارہ ہے، کرمانی کا تعلق آئل سیکٹر سے تھا جس کا ائر لائن سے سوائے تیل فراہم کرنے کے اور کوئی تعلق نہیں جبکہ ظفر احمد کا تعلق پی ٹی سی ایل اور فرٹیلائزر سے رہا ہے جو ہوا بازی کے شعبے سے کوسوں دور ہے۔ ایوی ایشن سے غیر وابستہ پی آئی اے کے ان تمام سربراہان نے حکومت کو بڑی خوشنماءتصویر پیش کی، حکومتی ضمانت پر اربوں روپے کے فنڈز حاصل کئے، اربوں روپے کا منافع دینے کے وعدے کئے لیکن ائر لائن میں کوئی تبدیلی نہ لاسکے۔
پی آئی اے کے چیئرمین سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا تو ابتدائی طور پر انہوں نے کہا کہ آپ درست کہتے ہیں لیکن جلدی سے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں آپ کی بات سے اتفاق کروں گا تو میں یہ عہدہ چھوڑ دوں گا۔ اس سوال کے بعد چیئرمین پی آئی اے نے اس نمائندے کے مزید کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا اور کہا، ”مزید سوالات کے جوابات چاہئیں تو مجھ سے اپائنٹمنٹ لے کر ملیں“۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام سربراہان کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ شعبہء ائر لائن سے غیر وابستگی کی وجہ سے انہوں نے اپنی ماتحت سینئر انتظامیہ پر انحصار کیا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سینئر انتظامیہ کے افراد میں سے کسی ایک کو ہٹایا اور نہ تبدیل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر بنیادی طور پر فلائٹ انجنیئر ہے اور اب بھی کچھ گھنٹوں کی پرواز پر جاتے ہیں تاکہ اپنا لائسنس قابل استعمال رکھ سکیں۔ پہلے انہیں جنرل مینیجر بنایا گیا، اسکے بعد ڈائریکٹر اور بالآخر احمد سعید نے انہیں ڈپٹی ایم ڈی بنادیا اور اب تک وہ اس ہی پوزیشن پر کام کر رہے ہیں۔ چیف فنانشل آفیسر کا تعلق پی ٹی سی ایل سے ہے جنہیں ظفر احمد لاکھوں روپے ماہانہ کی بھاری تنخواہ پر ظفر احمد لائے ہیں۔ ایک کمپیوٹر انجینئر کو پی آئی اے کی فلائٹ کچن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے کراچی اور اسلام آباد میں کچن کو غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے یعنی آئوٹ سورس کردیا۔ اگرچہ اس شعبے میں پاکستانیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، موصوف کو گزشتہ ہفتے ڈائریکٹر مارکیٹنگ بنادیا گیا ہے۔
پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خلیجی ائر لائنز کے ساتھ مقابلے کےلئے ایک نئی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی اور ایک ایسافارمولہ تلاش کرناہوگاکہ وہ دو طرفہ فضائی سروسزکے معاہدے کےلئے تازہ مذاکرات بحال کئے بغیر ٹریفک کے نقصان کو روک سکے، پاکستان سے خلیجی ممالک جانے اور آنے والے اس ٹریفک کی مالیت 500 ملین ڈالر سالانہ کے مساوی ہے اور اس میں سالانہ بیس فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر پی آئی اے اس میں سے اپنا حصہ دوبارہ حاصل کرلے تو وہ ان ممالک کو اپنی براہ راست پروازیں بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ 2006ء سے لےکر اب تک پی آئی اے کو 23.4 ارب روپے کا خسارہ ہوچکا ہے۔
چیئرمین پی آئی اے نے کہا کہ کبھی کبھار ارب کا ہندسہ ناقابل فہم اعداد و شمار میں تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ بہتر ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ پی آئی اے کو ہر روز 40 ملین روپے یا ہر گھنٹے 18 لاکھ روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کے شیئر ہولڈرز نے جو پیسہ دیا تھا وہ ختم ہوچکا ہے اور حقیقت میں ائر لائن بینک کے قرضوں پر زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرضے اتنے زیادہ ہیں کہ اگر کوئی اور ادارہ ہوتا تو اسے دیوالیہ قرار دے کر بند کردیا جاتا۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ پی آئی اے کو حال ہی میں جو شدید دھچکا لگا وہ گزشتہ مارچ میں چند طیاروں پر یورپی یونین کی جانب سے آپریشنل پابندیوں کا نفاذ تھا۔
اس ہی بات چیت کے دوران چیئرمین پی آئی اے نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ انتظامیہ ڈائون سائزنگ پر غور کر رہی ہے لیکن پھر انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جس پر آنے والے برسوں میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، پی آئی اے میں فی طیارہ 440 ملازمین کا تناسب ہے جو بین الاقوامی اوسط 150 تا 250 سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو اس کی موجودہ صورتحال سے نکالنے کا بہترین راستہ نجکاری ہے۔

پی آئی اے کے خساروں کے حوالے سے رپورٹ‌ کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کچھ مزید فیکٹس پیش کرنا چاہوں گا۔

پی آئی اے کے چیئرمین کے دعوے تو چاہے کتنے بھی کرلیں لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ جو شخص بھی پی آئی اے کا چیئرمین بنا اس نے ہمیشہ غلط رپورٹس پیش کیں۔ سابق چیئرمین طارق کرمانی ادارے کا خسارہ کم کرنے کے لیے نیا ایکشن پلان منظور کرانا اور متعدد ملازمی کو برطرف کرانا چاہتے تھے تاہم ان کے یہ اندازے بھی غلط ثابت ہوئے۔ اربوں روپے کے خسارے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملازمین کو ان کی قابلیت اور اہلیت سے کہیں بڑھ کر تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں، جو ٹیلنٹ ملک میں‌ موجود ہے اسے نظر انداز کرکے بیرونی ممالک سے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ طارق کرمانی کے دور میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ طارق کرمانی کی جو سوچ تھی وہ غلط تھی، بالفرض اگر وہ دو سو ملازمین کو نکال کر تیس کروڑ روپے بچانا چاہتے تھے تو دوسری طرف بیس نئے افسران بھرتی کرکے ان پر تیس کروڑ سے بھی زائد کا خرچہ کیا جا رہا تھا۔ ایسی کئی مثالیں بھری ہوئی ہیں۔ تاہم پی آئی اے کی تاریخ میں‌ یہ مثال نہیں‌ بلکہ سچائی ہے کہ سیکڑوں ملازمین کو نکال کر ایسے 14 ملازمین بھرتی کئے گئے جن کی مجموعی تنخواہ 33 کروڑ 54 لاکھ روپے بنتی ہے۔

جن لوگوں کو سب سے زیادہ تنخواہیں‌ مل رہی ہیں ان میں چیف فنانشل افسر کو 8 لاکھ 50 ہزار ماہانہ، ڈائریکٹر کمرشل کو پانچ لاکھ 73 ہزار روپے، جنرل مینیجر ہیومن ریسورسز عظمیٰ بشیر کو تین لاکھ، جنرل مینیجر ریکروٹمنٹ جناب عاصم کو دو لاکھ 22 ہزار، ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی ندیم اکرام کو پانچ لاکھ، فلائٹ آپریشن کنسلٹنٹ فلپ موریس کو 10 ہزار ڈالر ماہانہ، ہیومن ریسورس کنسلٹنٹ رخسانہ اصغر کو پانچ ہزار روپے فی گھنٹہ، فلائٹ کنسلٹنٹ مس سلویہ فریکوسنی کو پانچ ہزار روپے فی گھنٹہ اور جنرل مینیجر عمران مقصود کو ساڑھے چار لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل میں‌ نے سنا تھا، لیکن میں‌ یہ بات وثوق سے نہیں‌ کہہ سکتا، کہ دنیا میں سب سے بڑی ائر لائن کمپنیاں فرانس کی ائر فرانس اور جرمنی کی لفتھانسا ہے۔ ان دونوں کمپنیوں میں اتنے جنرل مینیجرز نہیں جتنے پی آئی اے میں ہیں۔ پی آئی میں‌ جنرل مینیجرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔ دوسرے بات جو مجھے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران معلوم ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ پی آئی اے کو خسارے سے بھرپور ادارہ ثابت کرکے اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کو بیچ دیا جائے گا۔ یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ پریس کریم نے اس سلسلے میں صدر جنرل پرویز مشرف سے کراچی میں اس معاملے پر ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد صدر صاحب نے اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز سے ائر لائن کی فروختگی کے حوالے سے مناسب اقدامات کرنے کو کہا تھا۔ اب یہ بات کس حد تک درست ہے یہ تو سب کا مالک ہی بہتر بتا سکتا ہے۔

Last edited by منتظمین; 14-01-08 at 03:57 PM.. وجہ: موضوع کو ایک ہی جگہ پر کر دیا ہے تاکہ اراکین کو پڑھنے میں سہولت ہو

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 422
Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (14-01-08)
پرانا 14-01-08, 12:37 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پی آئی اے اور اس کا مستقبل

بھائی اربوں کی بات تو ایسے کرتے ہیں جیسے ارب نہ ہوئے کوڑیاں ہوئی۔ اور پھر ڈھٹائی کا وہ عالم ہے کہ شرمندگی کا دور دور تک کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے۔
اس ساری کہانی سے ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے "نجکاری" زندہ باد۔

کھانے کو ملیں گے لڈو پیڑے ۔۔۔ اور ۔۔ اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر ہم جشن منائیں گے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-01-08, 04:00 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پی آئی اے پارٹ‌ ٹو

جوزف بھائی میں نے اپکی پوسٹس کو ایک ہی جگہ پر اکھٹا کر دیا ہے ۔ تاکہ قارئین کو پڑھنے میں سہولت میسر ہو۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمپیوٹر, کراچی, ٹریفک, وزیر, وزیراعظم, چینل, نظر, موجودہ, منصوبہ, انفارمیشن ٹیکنالوجی, انتظامیہ, اسلام, اعلیٰ, بہترین, بھائی, تلاش, جواب, خان, راستہ, سال, شخص, عمران, عالم, عزیز, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مدد درکار ہے برائے : آئی پی سیٹنگ کی آٹو انسٹالیشن راجہ صاحب Ask Experts ماہرین کی رائے 3 05-09-08 12:04 PM
امیج ٹو پی ڈی ایف کنورٹر پیاسا سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 1 19-07-08 12:08 PM
کے۔اوبنٹو کی ایک اچھی ویب سائٹ اکرام لائینکس کارنر 0 28-04-08 05:09 AM
آئینی پیکج میں 58 ٹو بی کا خاتمہ بھی شامل ہے، جنرل اسلم بیگ عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:15 AM
اب کے برس بھی ہونٹو ں پہ Ashfaq Ahmed اسلامی نظریہ حیات 0 13-10-07 12:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger