|
چودھری جی جان دیو

25-10-09, 11:36 PM
ہم تو ہرگز ہرگز نہیں کہہ رہے کہ ’’قومے فروختند چہ ارزاں فروختند‘‘ یہ کہ ’’انہوں نے ایک قوم بیچ دی ہے اور حیران کن کم قیمت پر فروخت کر دی ہے۔ اس سے تو ایوان صدر میں محفوظ جمہوریت کے محافظ برادران کی شان و شوکت میں گستاخی ہو جائے گی۔ ہاں ہم یہ مانتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے بے وزن قوم ہیں۔ آبادی کے حوالے سے ہم دنیا کے زیادہ آبادی والے چند ممالک میں سے ہیں سترہ کروڑ مردوزن بستے ہیں پاکستان میں جن میں صدر آصف علی زرداری صاحب ان کے ایک سو پینتیس کے قریب وزراء شذراء اور مردوخواتین ترجمان بھی شامل ہیں ملک کے عوام کے مخدوم خادموں کی پلٹن شامل ہے شریف برادران شامل ہوتے ہیں جب ملک میں ہوں ہم ایک مبینہ ایٹمی قوت بھی بتائے جاتے ہیں ہماری مسلح افواج شامل ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے منتخب نمائندے بھی شامل ہیں اس کے باوجود ہم بہت ہی بے وزن قوم ہیں دنیا میں ہم سے بے وزن کوئی قوم نہیں پائی جاتی تکڑی کے ایک پلڑے میں کیری لوگر بل کے بارے میں وضاحتی بیان کو رکھیں دوسرے پلڑے میں ہم سب کچھ کو رکھیں پلڑا پھر بھی اس بیان کا ہی بھاری رہے گا میاں محمد نواز شریف صاحب کے جان کیری سے ملاقات کے بارے میں عدم اطمینان کو اپنے قومی وزن کے پلڑے میں ڈال دیں پھر بھی کوئی حرکت پیدا نہیں ہو گی۔ وفاقی کابینہ یعنی صدر آصف علی زرداری کے سات آٹھ درجن وزراء نے روز رفتہ اس بل پر غور کرنے کے بعد ہماری بے وزنی کی تصدیق کر دی تھی۔ اس کے بعد ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینے کوئی ہچ قسم کی کچاہٹ محسوس نہیں ہونا چاہئے۔ وردی شاہ اور ان کے شوکت غریب کسی طرح پکڑ کر اس تکڑی کے ڈنڈے سے باندھ دینے سے بھی ہمارے وزن میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ انٹرپول کنسورشیم کے بورڈ کے سربراہ نے جان کیری اور جنرل ڈیوڈسٹارکے ورود جمہوریت مسعود سے دو ہی روز پہلے بتایا تھا کہ ’’پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے انٹرپول کے اہلکاروں کے لئے اپنے ملک میں داخلہ کیلئے ویزے کی شرط ختم کر دی ہے اور یہ پاکستان کے وزیر داخلہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے‘‘ سہالہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے سربراہ نے آئی بی پولیس کو خط لکھا ہے کہ امریکی ماہرین ٹریننگ نے ان کے سینٹر کے ایک حصہ میں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد جمع کیا ہوا ہے اور وہ انہیں یعنی اس سینٹر کے سربراہ کو بھی اس حصہ میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے اور ہم ان کی عطا این آر او کو چوم چاٹ کر زندہ رہنے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں این آر او تو خیر بہت ہی وزنی دھماکہ خیز چیز ہے جس کے وزن کے نیچے وردی شاہ کا یعنی اس این آر او کے مہربان اور قدردان کا جملہ وزن دم توڑ گیا تھا جن کی اب حالت زاروزار ایسی ہے کہ ’’پھرتے ہیں پرویز خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘۔ کوئی سے ہماری مراد این آر او کے فیوض وبرکات کے حامل خواتین وحضرات نہیں۔ تو ہم جیسی مثالی بے وزن قوم میں ہر بے وزن چیز چل جاتی ہے بلکہ چلتی ہی بے وزن چیزیں ہیں کہ کسی قانون ضابطہ اصول کا وزن برداشت کرنے کی ہم میں ہمت ہی نہیں۔کر سکتا ہے ہمارا کوئی قانون و ضابطہ این آر او اور اس کی شاہی و سیاہی کے وزن کا مقابلہ۔ بے وزن قوم کی اس بے وزن پسندی کو دیکھتے ہوئے ہمیں کچھ اوٹ پٹانگ قسم کی بے وزن شاعری کرنے میں کچھ وقت ضائع کرنے کا حوصلہ مل گیا ہے کہ کون پوچھتا ہے؟ ہمیں اس بے وزن شاعری پر کوئی فخر نہیں۔ ہمارے استاد مکرم حمید عسکری صاحب فرمایا کرتے تھے کہ…؎
فخر کرنا ہے گدھے پن کی علامت ................ دیکھ لے فخر میں شامل ہے خردو بٹا تین
اور ہاں یہ بے وزن شاعری کسی اہل این یا آر سے متعلق نہیں کسی حادثہ و فاجئہ سے بھی متعلق نہیں یہ ہم نے وردی شاہ کے دور میں کی تھی اور آج پھر وہی بے وزنی دہرانے کو دل چاہ رہا ہے۔ تو پڑھیں اور اپنے اپنے وزن کا جائزہ لیں۔ عنوان وہی ہے جو تب تھا۔ درخواست… تو درخواست ہے۔
چودھری جی جان دیو ... کھاندیاں نوں کھان دیو
تہاڈا کیہ گواچ دا اے ... پیندیاں نوں پین دیو
کماندیاں نوں کمان دیو ... تھانیاں کچہریاں وچ
این آر او وی شاہی اے ... اوہناں نوں نہ ہتھ پائو
عدل نوں نہ وٹہ لائو ... بارکاں اوبامیاں نوں
ہور ثواب کمان دیو .... چودھری جی جان دیو ... کھاندیاں نوں کھان دیو
ہم نے اس میں تھوڑا سا ردوبدل تو کیا ہے مگر احتیاط یہ کی ہے کہ کسی کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ نہ این آر او کے، نہ اس کی شاہی کے اور نہ ہی اہل عدل و انصاف کے۔ یہ تو ہوئی بے وزن قوم کی طرف سے بے وزن درخواست مگر اس قوم میں بچے بھی ہیں اور ان کے بھی کچھ بنیادی حق حقوق ہیں ان کے لئے بے وزن نظم مداری میں سے چند بے وزن شعر، تاکہ قوم کے بچوں کی طبع کا بھی تھوڑا سا تف ننن ہو جائے تو…؎
آؤ بچو مداری دیکھو ... این آر او کی جمہوریت کماری دیکھو
گوری دیکھو کالی دیکھو .... پتلی سام شاہ والی دیکھو
آؤ بچوں مداری دیکھو .... آقا دیکھو ہاری دیکھو
این آر او کے پجاری دیکھو .... شاہ دی منگن کاری دیکھو
آؤ بچو مداری دیکھو .... پیٹ نہ بھرن وزیراں دے
ترجماناں دے مشیراں دے .... جمہوریت دے دل گیراں دے
منگو پنوں پیسے لیائو .... مداری دیکھو دیکھتے جائو
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|