واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


چودھری شجاعت حسین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-01-09, 08:03 PM   #1
چودھری شجاعت حسین
طارق راحیل طارق راحیل آف لائن ہے 01-01-09, 08:03 PM

چودھری شجاعت حسین

* پیدائش: 1946ء

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ۔ وزیر اعظم اور مسلم لیگ ق کے صدر۔

* 1 خاندانی پس منظر
* 2 ظہور الہی
* 3 عملی سیاست
* 4 شریف خاندان سے تعلقات
* 5 پرویز مشرف
* 6 مسلم لیگ کی صدارت
* 7 بطور وزیراعظم

خاندانی پس منظر

چوہدری شجاعت حسین کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے خاندان نے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں سے بھرپور تعاون کیا اور اپنی سیاسی قدر و قیمت بڑھاتا چلا گیا حالانکہ یہ خاندان پنجاب کے ان روایتی سیاسی خاندانوں میں شامل نہیں جو ملک بننے سے پہلے سے قومی سیاست میں نمایاں تھے۔

ظہور الہی

چوہدری شجاعت حسین گجرات کے چوہدری ظہور الٰہی کے بیٹے ہیں جو ایک عام نچلے متوسط طبقہ کے آدمی تھے۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانےلگے۔ سیاست میں آنے کے بعد ان کا شمار ملک کے نمایاں کاروباری خاندان کے طور پر ہونے لگا۔


ظہور الٰہی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور 1977کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر بنائے گئے۔ جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء نے جس قلم سے بھٹو کی پھانسی کے پروانہ پر دستخط کیے تھے اسے یادگار کے طور پر حاصل کر لیا۔ انہیں جنرل ضیاء کے دور میں ہی لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا۔

عملی سیاست

شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ 1985 کے انتخابات میں وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔ ان کے کزن چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں صحیح معنوں میں ظہور الٰہی کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے۔

چوہدری شجاعت حسین 1988 ، 1990 اور 1997 میں بھی رکن قومی اسمبلی بنے تاہم 1993اور 2008 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اور معروف صنعت کار احمد مختار کے ہاتھوں شکست کھا گئے ۔

شریف خاندان سے تعلقات

1986 میں چوہدری خاندان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ لینے کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت کی تھی لیکن اسے ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے شریف خاندان سے ہمیشہ اپنا تعلق استوار رکھا گو ان کے اختلافات اندرون خانہ موجود رہے۔

نواز شریف جب تک اقتدار میں رہے انہوں نے چوہدری خاندان کے سیاسی قد میں اضافہ نہیں ہونے دیا اور ان کی خواہش کے برعکس 1990 اور 1997 میں چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نہیں بنوایا۔

شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے لیکن ان کی وزارت کے زیادہ تر اختیارات احتساب بیور کے سیف الرحمٰن کے پاس تھے یا خود وزیراعظم کے پاس۔

پرویز مشرف

جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو شجاعت حسین کو دو فائدے ہوئے۔ ایک تو جنرل مشرف سے ان کی واقفیت تھی کہ دونوں ایک زمانےمیں لاہور کے ایف سی کالج میں پڑھتے رہے تھے او دوسری جنرل مشرف کے قریبی معتمد طارق عزیز چوہدری خاندان کے دوست تھے۔

چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف کی معزولی کے بعد ایک دم تو انہیں نہیں چھوڑا۔ وہ ایک سال تک شریف خاندان کی سربراہی میں مسلم لیگ سے وابستہ رہ کر حیلہ بہانہ سے نواز شریف کی سیاست سے اختلافات کرتے رہے لیکن جب نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا تو انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت میں مسلم لیگ کی تقسیم میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کا الگ دھڑا قائم کر لیا جس کے صدر لاہور کے ارائیں اور سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر بنے۔

مسلم لیگ کی صدارت

میاں محمد اظہر نے نئی مسلم لیگ کو ایک جواز مہیا کیا کیونکہ وہ ایک بااصول اور کارکنوں کے دوست آدمی سمجھے جاتے تھے لیکن مسلم لیگ نواز شریف سے ٹوٹ کر منظم ہوگئی تو میاں محمد اظہر کو چوہدری شجاعت حسین اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے مل کر صدر کے عہدے سے الگ کر دیا اور چوہدری شجاعت حسین کو نئی جماعت کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنوانے میں چوہدری شجاعت حسین کا خاصا ہاتھ تھا کیونکہ دو ہزار کے انتخابات کے بعد انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم چھوٹے صوبے سے آئے جو صاف طور پر جمالی تھے حالانکہ اس وقت متحدہ مجلس عمل شجاعت حسین کے وزیراعظم بننے پر ان کی حمات کرنے کے لیے تیار تھی۔

تاہم چوہدری شجاعت حسین کی زیادہ توجہ اس بات پر تھی کہ ان کے کزن پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں جو ان کی دیرینہ خواہش تھی اور لوگ مذاق کرنے لگے تھے کہ ان کے ہاتھوں میں وزارت اعلیٰ کی لکیریں نہیں ہیں۔

وزیراعظم جمالی سے شجاعت حسین کے اختلاف کی شروع ہوئے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ شجاعت حسین جمالی کی کابینہ میں اپنے پسند کے وزرا بنوانا چاہتے تھے لیکن ظفراللہ جمالی اس بات پر رضامند نہیں تھے اور انہوں نے اس دباؤ کو قبول نہ کرنے کے لیے کابینہ کی توسیع ہی نہیں کی۔ یوں جمالی صاحب کو بھی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔


بطور وزیراعظم

جمالی صاحب نے استعفی کے بعد چوہدری شجاعت حسین کو2 مہینے کے وزیراعظم بنا دیا گیا۔ بعد میں شوکت عزیز کے الیکشن جیتنے کے بعد وہ اس عہدے سے الگ ہوئے۔ اور وزارت عظمی کا قلمدان شوکت عزیز کو سونپا گیا۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com

 
طارق راحیل's Avatar
طارق راحیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 171
Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, پسند, وزیر, قدم, لوگ, نواز شریف, آدمی, اعلیٰ, جیل, خلاف, دوست, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, سال, علی, عزیز, صوبے, صنعت, صاف, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
راہ راست (طلعت حسین ) ابرارحسین عمومی بحث 2 07-01-11 01:22 PM
زندہ باد ، مردہ باد ( طلعت حسین ) ابرارحسین عمومی بحث 1 07-01-11 09:54 AM
مٹی پاؤ۔ شجاعت حسین قاسم شاہ خبریں 1 19-12-10 11:29 AM
منتظمین بھائی سے التماس۔۔۔ نعت سیکشن محمدعدنان تجاویز اور شکایات 6 26-07-09 01:12 AM
شفاعت حسین گولڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 13-04-08 09:49 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger