واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


کراچی میں خون ریزی کا نیا سلسلہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-01-11, 08:28 PM   #1
کراچی میں خون ریزی کا نیا سلسلہ
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 17-01-11, 08:28 PM

روشنیوں کا شہر اور ملک کا اقتصادی دارالحکومت کراچی ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ دہشت گرد دن دہاڑے جب چاہے کسی کو بھی نشانہ بناکر فرار ہوجاتے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس یوں لگتا ہے ان واقعات کے آگے بند باندھنے کے لیے سرے سے کوئی لائحہ عمل ہی نہیں ہے اور وہ ایک تماشائی کی طرح اس ساری صورتحال سے ”لطف اندوز“ ہورہے ہیں۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران کراچی میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد45سے متجاوز ہوگئی ہے اور قتل و غارتگری کا یہ سلسلہ رکتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ شہر قائد میں پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی، رینجرز کے اختیارات میں اضافے اور سیکورٹی ہائی الرٹ کے حکومتی دعوﺅں کے باوجود حالات کنٹرول سے باہر ہیں، جبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی نے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کا ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن فیصل سبزواری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے حالات معیشت کا پہیہ جام کرنے اور لسانی فسادات کرانے کی سازش ہے۔ مسافر بسوں پر فائرنگ کرکے معصوم شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کی ایم کیو ایم پر بہتان تراشی افسوس ناک ہے۔ اے این پی اپنی نااہلی چھپانے کے لیے الزامات لگارہی ہے، ان کے رہنما غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا بند کردیں۔ دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بھتہ مافیا ختم نہیں ہوگی کراچی کا امن بحال نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے فوجی آپریشن کرایا جائے اور ٹارگٹ کلنگ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) نے کراچی کے واقعات پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک التواءجمع کرادی ہے۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے باعث معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں جارہی ہیں۔ اس اہم مسئلے کو ایوان کی کارروائی روک کر زیر بحث لایا جائے۔
کراچی میں خون ریزی کا نیا سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب تحریک تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ہونے والے احتجاجی مارچ اور جلسے میں لاکھوں افراد کی شرکت نے یہاں کی سیاست پر قابض جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت کراچی میں مذہبی قوتوں کی حمایت میں اضافے سے پریشان ہے۔ اسے خوف ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے معاملے پر منظم ہونے والی تحریک عوامی رائے عامہ کو تبدیل کرکے متحدہ کے لیے کراچی و حیدر آباد میں مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق متحدہ قیادت نے توہین رسالت ایکٹ کے حوالے سے سخت موقف رکھنے اور عوام کو متحرک کرنے والے علما اور خطیب حضرات کو مذہبی جنونی قرار دیتے ہوئے ان کے خطابات اور مساجد میں دیے جانے والے درس کی مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی و حیدرآباد میں کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں قائم مساجد میں ہونے والے اجتماعات کی معلومات اکھٹی کرکے سیکٹر کو فراہم کریں۔ قبل ازیں متحدہ کے قائد الطاف حسین نے مذہبی رہنماﺅں سے اپیل کی تھی کہ وزیراعظم کے اعلان کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بند کردیں۔ بعض مبصرین کے مطابق متحدہ کی کوشش ہے کہ کراچی میں دینی، مذہبی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان کی مقبولیت کو روک لگائی جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شہر قائد کو دینی اور مذہبی جماعتوں کے لیے ”نو گو ایریا“ بنانے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ جتنا یہاں کی سیاست پر حاوی جماعتوں کو سیاست کرنے کا حق ہے اتنا ہی حق دینی جماعتوں کو بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ہے۔ اس سلسلے میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے تازہ واقعات سے دینی اور مذہبی جماعتوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ لوگ کچھ بھی کرلیں مگر عملی طور پر یہاں کی سیاست میں حصہ لینا آپ کے بس کی بات نہیں۔ شہر میں خون ریزی کا سلسلہ کبھی رکنے کا نام نہیں لیتا۔ قتل، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی اب اس شہر کی پہچان بن چکے ہیں۔ تازہ ترین صورتحال ہی دیکھ لیجئے کہ اب تک تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے علاوہ کچھ کرتے نظر نہیں آرہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک بار تمام جماعتیں اکھٹی ہوکر اعلان کردیں کہ اب کسی بے گناہ کا قتل ہوا تو پھر دہشت گرد رہیں گے یا ہم! اور اسلحہ بھی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیں تو یقین جانیئے! پھر کراچی کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔ لیکن سوال وہی ہے کہ کیا آج تک ایسا ہوا ہے؟ اور کیا ہماری سیاسی جماعتیں امن و امان کے قیام میں مخلص ہیں؟ غریبوں کی لاشوں پر سیاست کرنا اور انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ہمارے رہنماﺅں اور سیاسی قیادت کا وطیرہ بن چکا۔ افسوس تو اس بات پر بھی ہے کہ اتحادیوں کے سہارے اور بیساکھیوں پر چلنے والی حکومت کو بھی یہ خوف لاحق ہے کہ اگر کراچی کے واقعات کے ذمہ داران پر ہاتھ ڈالا یا حالات سدھارنے کی کوشش کی تو اتحادی ساتھ چھوڑ جائیں گے یوں پیپلزپارٹی قومی مفاد پر جماعتی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی میں شر پسندوںکی کارروائیاں روکنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اور بے لاگ احتساب کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں اپنے باہمی اختلافات و مراعات کی سزا عام شہریوں کو دینے سے گریز کریں۔ حکمران۔ آخر کب تک اس شہر بے اماں کو خون میں نہلانے والوں کے چہرے بے نقاب کرنے کی بجائے مصلحت کوشی کا رویہ اپنائے رکھیں گے؟

کراچی میں خون ریزی کا نیا سلسلہ۔۔عثمان حسن زئی
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 325
Reply With Quote
جواب

Tags
com, php, کوشش, کلنگ, کراچی, پہچان, پولیس, پاک, واقعات, وزیراعظم, لوگ, نظر, ممکن, مسائل, آپریشن, آج, اغوا, جام, حسن, حضرات, خون, سیاست, شہر, صورتحال, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایک دن سردار جی ایک سینیما میں انگریزی فلم The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 07:28 PM
ایک نظم - انگریزی میں طاھر گپ شپ 1 17-09-08 05:28 AM
مشرق وسطی میں خونریزی پر فلم محمدعدنان فلمی دنیا 0 21-05-08 06:44 PM
برطانیہ میں تارکین کو انگریزی پڑھانے کا انقلابی منصوبہ خرم شہزاد خرم خبریں 1 05-01-08 09:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger