واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


کرپٹ نظام ِانتخاب کے خلاف تحریکِ بغاوت کا اعلان ۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-11-11, 04:29 AM   #1
کرپٹ نظام ِانتخاب کے خلاف تحریکِ بغاوت کا اعلان ۔
نعیم۔ نعیم۔ آف لائن ہے 27-11-11, 04:29 AM

کرپٹ نظام ِانتخاب کے خلاف تحریکِ بغاوت کا اعلان

ڈاکٹر علی اکبر الازہری

وطنِ عزیز کی فضائیں آج کل ایک نئے سیاسی ”طوفان“ کی زد میں ہیں۔ ایک طرف میڈیا، حکومت، اپوزیشن اور تجزیہ کار ”امریکی میمو“ کے پس پردہ حقائق کی کھوج میں توانائیاں صرف کررہے ہیں تو دوسری طرف ملک بھر کی چھوٹی بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں اور سماجی تحریکیں اپنا وجود منوانے کےلئے میدان میں اتر رہی ہیں۔ ہر روز کسی نہ کسی جلسے یا ریلی کا فیصلہ ہورہا ہے۔ سڑکوں اور میدانوں میں اجتماعات کی فصل اگ رہی ہے۔ مسائل کے ہاتھوں نیم مردہ قوم ایک بار پھر سیاسی سطح پر تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے۔ پرانی سیاسی قوتوں کےخلاف موجود جذبات نئے قالب میں ڈھل کر منظم ہورہے ہیں۔ کراچی سے پشاور اور کشمیر سے گوادر تک لوگ ”تبدیلی“ کی خواہش لئے کسی معجزے کا انتظار کررہے ہیں۔ فرینڈلی اپوزیشن ساڑھے تین سال گزارنے کے بعد اب حقیقی اپوزیشن بننے کا تاثر دینے کے لئے ”گو زرداری گو“ کا ورد الاپ رہی ہے۔ لیلائے اقتدار کے مجنوں الگ الگ سیاسی ایجنڈوں اور جھنڈوں کے باوجود حکومتی چھتری کے نیچے زرداری لنگرسے فیض یاب ہورہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حیاتِ مستعار کا کوئی لمحہ بھی حصول ”فیض“ سے محروم رہے۔ اعلیٰ عدلیہ ہر روز حکومت کو نئی چارج شیٹ دیتی نظر آتی ہے مگر حکومتی کارندے ہیں کہ عدلیہ کو مفلوج اور اپاہج بنانے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں۔ بیرونی خطرات ہمیشہ کی طرح پھن پھیلائے ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کھڑے ہیں،
قارئین! ایسے میں ایک آواز ایسی بھی سنائی دے رہی ہے جو قوم کو تبدیلی کےلئے سیاسی نظام انتخاب سے بغاوت پر اکسا رہی ہے۔ وہ آواز اگرچہ نئی تو نہیں تین عشروں سے سماعتوں میں علم و تحقیق اور محبت و اعتدال کے رنگ گھول رہی ہے۔ تاہم اس بار اس آواز نے قوم کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا ہے۔ اس صدائے احتجاج نے درد و آلام سے بلبلاتی قوم کے خودکشیوں پر آمادہ نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ دکھوں میں گھل گھل کر گھروں میں مرنے کی بجائے سڑکوں پر نکل آئیں اور سراپا احتجاج بن کر کرپٹ نظام انتخاب کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں۔ یہ منفرد آواز ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بلند کی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پہلو میں واقع ناصر باغ میں مصطفوی سٹوڈنٹ موومنٹ ( MSM) کے بڑے اور ملک گیر اجتماع سے وڈیو خطاب کررہے تھے۔ کراچی سے کشمیر اور پشاور سے بلوچستان تک سے آئے ہوئے ہزاروں نوجوان طلباء و طالبات مروجہ سیاسی اجتماعات کے ماحول سے ہٹ کر نہایت خاموشی اور توجہ سے ان کے انقلابی خطاب کو سن رہے تھے۔انہوں نے اس خطاب کو پاکستان میں بیداری شعور مہم کا نقطہ آغاز قرار دیا اور کارکنوں کو اسے انجام کار تک پہنچانے تک جاری رکھنے کی تاکید کی۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک پاکستان کے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور سماجی و تعلیمی میدان میں پے درپے ناکامیوں کا سبب ہمارا نظام حکومت و سیاست ہے۔ انہوں نے عملی شواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ جب تک ہمارے ملک کا جانبدارانہ نظام انتخاب تبدیل نہیں ہوگا کوئی جماعت، کوئی تحریک یا کوئی قیادت مثبت تبدیلی نہیں لاسکتی۔ انہوں نے موجودہ نظام انتخاب اور نام نہاد جمہوریت کو جن بڑی وجوہات کی بنیاد پر ظالمانہ اور غریب کش قرار دیا ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
٭ہمارے ملک میں مقتدر طبقہ خواہ وہ جمہوری سیاسی نظام کی پیداوار ہو یا ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے حکومت میں آئے کم و بیش انہی خاندانوں پر مشتمل ہوتا ہے جو انگریزوں کے دور سے حکومتوں میں تسلسل کےساتھ شامل ہیں۔
٭دیہاتوں میں جاگیردار اور شہری آبادیوں میں سرمایہ دار لوگ ہی اقتدار کی نورا کشتی میں شریک رہتے ہیں اور ہر بار معمولی تبدیلی کےساتھ وہی لوگ براجمان ہوتے ہیں جو بھاری سرمایہ لگاکر منتخب ہوتے ہیں اور آخر دم تک کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی ”سرمایہ کاری“ کو کئی گنا بڑھائیں جس کا نتیجہ کرپشن اور چور بازاری کی صورت میں نکلتا ہے۔
٭ انتخابات صرف بھاری سرمائے اور دھونس دھاندلی کے بل بوتے پر لڑے جاسکتے ہیں، ایسے ماحول میں بالعموم کوئی باصلاحیت شخص، شرافت، اہلیت اور خدمت کے بے پناہ جذبات کے باوجود قانون سازی کے عمل میں شریک نہیں ہوسکتا۔ الیکشن کمیشن بوجوہ نابینا اور جانبدار رہتا ہے، آج تک سیاسی خرید و فروخت پر کبھی کسی کی گرفت نہیں ہوسکی۔
٭عوام میں چار پانچ سال بغاوت، مخالفت اور انتقام کے جو جذبات پروان چڑھتے ہیں لیکن وہ نئے نعرے کے تحت ووٹ کی پرچی کے استعمال کے ذریعے ختم ہوجاتے ہیں اور لوگ اگلے پانچ سالہ عرصے کےلئے دوبارہ پھنس جاتے ہیں۔ گذشتہ چھ دھائیوں سے ہمارے ساتھ یہی کچھ ہورہا ہے۔
٭چونکہ مقصد صرف اور صرف اقتدار اور اسکے ذریعے لوٹ مار ہوتی ہے اس لئے سیاسی جماعتوں میں اصول اور نظریات کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اب تو بڑی جماعتوں میں بھی چھوٹے چھوٹے دھڑے بن چکے ہیں جو قیادت کو بلیک میل کرتے ہیں اور من پسند وزارتیں طلب کرتے ہیں۔ نتیجتاً حکومت قائم رکھنے کےلئے ہر بار ضرورت سے کئی گنا زیادہ وزارتیں بناکر وزیروں، مشیروں اور چمچوں کی ایک فوج ظفر موج سامنے آجاتی ہے جو بجٹ کا بے رحمانہ استعمال کرتی چلی جاتی ہے۔
٭تبدیلی کےلئے نظام جمہوریت بلاشبہ آئیڈیل ہے مگر ہمارے ہاں موجودہ سیاسی تماشے کو کسی طور بھی اصل جمہوریت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جمہوری ادارے ابھی بلوغت اور سنجیدگی کے مطلوبہ معیار سے کوسوں دور ہیں اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ رائے دہندگان کی اکثریت ان پڑھ اور ناسمجھ ہے۔
٭موجودہ انتخابی نظام جمہوری نہیں خونی بن چکا ہے۔ ہر سیاست دان اپنے حلقے میں تین چار قتل کرواتا ہے تاکہ اس کا رعب بیٹھ جائے۔ کراچی میں گذشتہ دہائی سے جو خونی کھیل کھیلا جارہا ہے وہ اسکی واضح مثال ہے۔

ان اسباب کی بناءپر ثابت ہوتا ہے کہ قائد اور اقبال کے پاکستان میں جو نظام رائج ہوچکا ہے وہی اس کا بڑا دشمن ہے یہی ظالمانہ، جانبدارانہ اور غریب کش نظام اس وقت ہمارا، رضا شاہ پہلوی، حسنی مبارک اور قذافی ہے۔ عوام جب تک اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے ایران، مصر، تیونس اور لیبیا کی طرح سڑکوں پر سربکف نہیں آئینگے تب تک کوئی مثبت تبدیلی ہرگز نہیں آئےگی۔ بڑی سیاسی جماعتوں میں مورچہ بند سیاسی اداکار اسی نظام کی پیداوار ہیں اور وہی اسکے محافظ ہیں اس لئے ہر بار اسکے تحفظ کےلئے کار بند رہتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے میڈیا سے بھی درد مندانہ اپیل کی کہ وہ قوم تک اس حقیقت کو بھی پہنچائیں تاکہ پریشان حال لوگ نجات کا واضح راستہ پہچاننے میں مزید جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کا شکار نہ ہوسکیں‘ انہوں نے قوم سے متحد ہوکر موجودہ نظام کےخلاف سینہ سپر ہوجانے کی اپیل کی ہے اور کسی قیادت کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کی بجائے خود اپنی تقدیر بدلنے پر زور دیا ہے۔ دیکھتے ہیں قوم انکی دعوت پر آمادہ بغاوت ہوتی ہے یا آئندہ سیاسی دنگل میں تماش بین بن کر اگلے پانچ سال کا مزید رسک لیتی ہے۔

بشکریہ نوائے وقت ۔

 
نعیم۔'s Avatar
نعیم۔
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 178
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-11-11), یاسر عمران مرزا (27-11-11), مرزا عامر (02-12-11), عروج (27-11-11)
پرانا 27-11-11, 10:38 AM   #2
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,383
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہمارے عوام بھیڑ بکریوں کی مانند ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-11-11)
پرانا 27-11-11, 10:50 AM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,662
کمائي: 254,785
شکریہ: 53,124
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کم از کم اس بار بھی یہ توقع پوری نہیں‌ہوگی!!!!

قوم کو پوری طرح‌تیار نہیں‌کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 11:16 AM   #4
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,383
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لیکن اس نظام کا متبادل کیا ہو گا؟ قادری صاحب کوئی متبادل نظام بھی متعارف کروائیں نا
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 11:27 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نظام ِ مصطفوی صلعم پر عمل ھی ذریعہ ِ نجات ومشکلات ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 11:29 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نظام ِ مصطفوی صلعم پر عمل ھی تمام مشکلات کا حل ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 11:36 AM   #7
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,039
کمائي: 22,655
شکریہ: 868
1,311 مراسلہ میں 2,839 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
نظام ِ مصطفوی صلعم پر عمل ھی تمام مشکلات کا حل ھے۔
یقیناً نظامِ مُصطفوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر عمل ھی تمام مشکلات کا حل ھے۔
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 03:01 PM   #8
Member
اجنبی
 
نعیم۔'s Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,911
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بغاوت کے بعد متبادل نظام کیا ہوگا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
لیکن اس نظام کا متبادل کیا ہو گا؟ قادری صاحب کوئی متبادل نظام بھی متعارف کروائیں نا
السلام علیکم۔ بالکل درست فرمایا ۔متبادل نظام ہونا چاہیےاور ڈاکٹر طاہر القادری جیسا شخص جو بذاتِ خود قوانینِ عالم کا پروفیسر ہو۔جسکی پی ایٍچ ڈی بھی قانون میں ہو اور پاکستان میں سیکنڑوں جج اور ہزاروں وکیل جس کے شاگرد ہوں ۔ وہ یقینامتباد ل نظام بھی رکھتا ہوگا۔
ایک متبادل نظام کے طور پر ڈاکٹر قادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے تحت پیش کیے گئے "متناسب نمائندگی کا نظام" کا خاکہ درج ذیل ہے۔

متناسب نمائندگی کے پارلیمانی نظام کا عمومی خاکہ
متناسب نمائندگی کا نظام اس وقت دنیا کے تقریباً 50 ممالک میں مختلف شکلوں میں رائج ہے مثلاً آسٹریا، ہنگری، سوئٹزرلینڈ، شمالی یورپ، بلجیئم، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، جرمنی، فرانس، ترکی، سری لنکا اور اس طرح کئی دیگر ممالک میں اس نظام کے تحت انتخابات ہو چکے ہیں، مختلف ممالک نے اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں اس تصور میں جسب ضرورت تبدیلیاں کر کے اس نظام کو اپنے ہاں رائج کیا ہوا ہے اس لئے متناسب نمائندگی کے نظام کی مختلف شکلیں مختلف ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد اسلام ہے۔ قرارداد مقاصد نے آئین پاکستان میں اس کی نظریاتی اساس کا تعین کر دیا ہے، قرارداد مقاصد جمہوری اور قرآن و سنت میں وضع کئے گئے اصولوں کے عین مطابق ہے۔

متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں حلقہ وار امیدواروں کے درمیان انتخابی عمل کی بجائے سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی عمل ہوتا ہے اور ہر سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر حاصل کردہ ووٹس کے تناسب سے اسمبلی میں نشستیں ملتی ہیں۔ متناسب نمائندگی کے نظامِ انتخاب میں ووٹرز براہِ راست سیاسی پارٹی کی قیادت اور منشور کی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے سیاسی جماعتوں کو بالترتیب ملک و صوبہ بھر سے ملنے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر اپنے باصلاحیت امیدواروں کے ناموں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو پیشگی مہیا کرتی ہیں جو کہ آئین کے مطابق طے کردہ اہلیت کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔ متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں اگر سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر 30 فیصد ووٹ ملتے ہیں تو انہیں اسمبلی میں حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے 30 فیصد نشستیں مل جاتی ہیں۔ اسی طرح جن جماعتوں کو اس سے زیادہ یا کم ووٹ ملتے ہیں اسی مناسبت سے پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی ملتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمارا ملک اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں اس نظام انتخاب میں حسب ضرورت تبدیلیاں کر کے اس نظام کو رائج کرسکتا ہے۔

موجودہ کرپٹ اور مہنگا نظام انتخاب جملہ مسائل کی جڑ
مندرجہ بالا تجزیے سے ثابت ہوا کہ ملک کے تمام سنگین مسائل کی جڑ کرپٹ نظام انتخاب ہے۔ اس کرپٹ نظام انتخاب نے قوم کو اس کی حقیقی نمائندگی سے محروم کردیا ہے۔ عوام کے 98 فیصد غریب و متوسط طبقات سے کسی امیدوار کا منتخب ہونا عملًا ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ موجودہ نظام انتخاب کی خامیوں کی وجہ سے انتخابی حلقہ جات پر کرپٹ، سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیروں، مافیا، بااثر اور حکومتی امیدواروں کا کنٹرول ہوچکا ہے۔ حتی کہ کسی حلقہ میں کوئی بڑی پارٹی اپنے انتہائی دیرینہ نظریاتی ورکر کومحض اس لئے ٹکٹ نہیں دیتی کہ وہ کروڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتا۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ:

نظام انتخاب شفاف اور سستا ہو۔
نظام انتخاب حکومتی، بااثر طبقات، سرمایہ داروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو۔
نظامِ انتخاب جعلی شناختی کارڈ سازی اور جعلی ووٹس، جانبدارانہ حلقہ بندیوں و پولنگ سکیم، الیکشن عملہ کی ملی بھگت اور پولیس انتظامیہ و غنڈہ عناصرکی ناجائز مداخلت سے پاک ہو
تشہیر، جلسوں، ٹرانسپورٹ، الیکشن کیمپوں کے اخراجات اور سرمایہ کے ذریعے ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہونے جیسی انتخابی دھاندلیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔
نظام انتخاب عبوری حکومتوں، لوکل باڈیز اداروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو تاکہ سیاسی جماعتیں تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہوکر غریب و متوسط باصلاحیت کارکنان کو میرٹ پر اسمبلیوں میں نمائندگی کے لئے نامزد کرسکیں۔
تاکہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے حصول کے لئے کوئی ڈیل نہ کرنا پڑے اورنہ ہی انہیں اسکے لئے غیر فطری اتحاد بنانا پڑیں بلکہ سیاسی جماعتیں عوامی ایشوز پر اپنا حقیقی کردار ادا کرسکیں۔
موجودہ کرپٹ اور مہنگے اِنتخابی نظام کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد قوم انتخابات سے کلیتاً لاتعلق ہوگئی ہے اور قوم اپنے بنیادی آئینی و انسانی حقوق سے محروم ہوگئی ہے۔ لہٰذا یہ ملک و قوم کے ریاستی و مقتدر اداروں بشمول عدلیہ، قانون ساز اداروں، سیاسی پارٹیز و اراکین پارلیمنٹ، میڈیا، سیاسی جماعتوں، دانشور و وکلاء طبقات کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس انتہائی اہم قومی حساس مسئلہ کے حل پر توجہ دیں اور ملک وقوم کو موجودہ کرپٹ انتخابی نظام سے چھٹکارا دلاکر شفاف نظام انتخاب مہیا کریں۔

متبادل نظام لانے کا طریقہ کار

عدلیہ کی زیرنگرانی غیرجانبدار عبوری قومی حکومت کا قیام انتہائی لازمی ہوگا۔ چیف الیکشن کمیشن کو بہر صورت با اختیار اور غیرجانبدار ہونا چاہیے، جس کے لئے ضروری ہے چیف الیکشن کمیشنر سپریم کورٹ کا کوئی نیک نام جج ہو۔پورے ملک سے ہر طبقہ فکر سے نیک نام لائق افراد پر مشتمل ایک عبوری حکومت قائم کی جائے جو کہ متبادل نظام کے بتدریج نفاز کویقینی بنائے۔

انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کو عدلیہ کی مکمل نگرانی میں دینا ہوگا۔ حکومت اور لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پروقتی طور پر پابندی لگانا ہوگی، سیاسی جماعتیں اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر اپنے باصلاحیت امیدواروں کی ناموں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو پیشگی طور پر فراہم کریں گی جوکہ آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں گے جبکہ آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت سینٹ، خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کے بالواسطہ طریقے سے متناسب انتخاب کا موجودہ نظام برقرار رہے گا ‘‘

ڈاکٹر طاہر القادری پہلے بھی نظام دے چکا ہے۔
ہمیں نہیں‌بھولنا چاہیے کہ غالبا 1992میں جب اس وقت کے وزیراقتصادیات کے چیلنج کے جواب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے ہی "اسلامی نظام بنکاری اور اسلامی معیشت کا نظام" پیش کیا تھا اور اس چیلنج کے ساتھ پیش کیا تھا کہ اگر اسکی کوئی ایک شق بھی مشرق سے مغرب تک کے ماہرینِ معاشیات مل کر کوئی ایک شق بھی ناقابلِ عمل قرار دے دیں تو میں زندگی بھر اسلام کی تبلیغ کرنا چھوڑ دوں گا اور بحمداللہ تعالی آج تک کوئی بھی اس پر اعتراض کی جرات نہیں کرسکا۔
پھر سپریم کورٹ اور شرعی عدالت کا مشیر خاص ہونے کے ناطے رجم کی حد اور گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت جیسے دقیق ، علمی قوانین بھی ڈاکٹر قادری کے دلائل کی روشنی میں طے کیے گئے ہیں۔ الحمد اللہ تعالی۔
متبادل انتخابی نظام بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ جس پر کچھ دن پہلے ہی ڈاکٹر طاہر القادری نے معروف صحافی قیوم نظامی کے اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے پاس صرف انتخابی نظام ہی نہیں‌بلکہ پاکستان کے لیے معاشی، سماجی، تعلیمی ، داخلی و خارجی نظام سمیت ہر نظام کی اپ ڈیٹ فائل موجود ہے کہ پاکستان کو موجودہ مشکلات سے کیسے نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قوم کا اعتماد درکار ہوگا۔ قوم اگر اجتماعی طور پر موجودہ جہنم کدے سے نکلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر اللہ تعالی کی توفیق سے ہر متبادل نظآم موجود ہے۔

والسلام علیکم
نعیم۔ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-11, 03:33 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
کمائي: 11,259
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
نظام ِ مصطفوی صلعم پر عمل ھی تمام مشکلات کا حل ھے۔
صرف کہنے کی باتیں ہیں۔
کیا یہ نظام مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، صاحبزادہ فضل کریم، ثروت اعجاز قادری، مفتی عبدالقوی، سید منور حسن، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر ساجد میر، علامہ طاہر اشرفی لیکر آئیں گے؟
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔
راشد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
راشد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کوئی, کم, کروائیں, گا؟, پوری, ھے۔, قادری, لیکن, نہیں‌کیا, نجات, نظام, مانند, متبادل, متعارف, مصطفوی, اللہ, از, بھیڑ, بار, توقع, تمام, حل, ذریعہ, عوام, صلعم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جھٹ پٹ انٹرویو۔۔۔ محمدخلیل گپ شپ 82 01-06-11 12:38 AM
جاوا اسکرپٹ اور اجیکس کا فرق زارا کمپیوٹر کی باتیں 2 01-11-10 05:05 PM
جھٹ پٹ انٹرویو بنت آدم گپ شپ 171 24-04-10 11:43 AM
رونے سے ملال گھٹ گیا ہے The Great احمد فراز 0 28-08-09 01:13 PM
وہ مجھ سے لپٹ کے محمدخلیل احمد فراز 5 29-03-09 10:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger