| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 178
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
کم از کم اس بار بھی یہ توقع پوری نہیںہوگی!!!!
قوم کو پوری طرحتیار نہیںکیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
لیکن اس نظام کا متبادل کیا ہو گا؟ قادری صاحب کوئی متبادل نظام بھی متعارف کروائیں نا
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نظام ِ مصطفوی صلعم پر عمل ھی ذریعہ ِ نجات ومشکلات ھے۔
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نظام ِ مصطفوی صلعم پر عمل ھی تمام مشکلات کا حل ھے۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,911
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک متبادل نظام کے طور پر ڈاکٹر قادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے تحت پیش کیے گئے "متناسب نمائندگی کا نظام" کا خاکہ درج ذیل ہے۔ متناسب نمائندگی کے پارلیمانی نظام کا عمومی خاکہ متناسب نمائندگی کا نظام اس وقت دنیا کے تقریباً 50 ممالک میں مختلف شکلوں میں رائج ہے مثلاً آسٹریا، ہنگری، سوئٹزرلینڈ، شمالی یورپ، بلجیئم، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، جرمنی، فرانس، ترکی، سری لنکا اور اس طرح کئی دیگر ممالک میں اس نظام کے تحت انتخابات ہو چکے ہیں، مختلف ممالک نے اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں اس تصور میں جسب ضرورت تبدیلیاں کر کے اس نظام کو اپنے ہاں رائج کیا ہوا ہے اس لئے متناسب نمائندگی کے نظام کی مختلف شکلیں مختلف ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد اسلام ہے۔ قرارداد مقاصد نے آئین پاکستان میں اس کی نظریاتی اساس کا تعین کر دیا ہے، قرارداد مقاصد جمہوری اور قرآن و سنت میں وضع کئے گئے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں حلقہ وار امیدواروں کے درمیان انتخابی عمل کی بجائے سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی عمل ہوتا ہے اور ہر سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر حاصل کردہ ووٹس کے تناسب سے اسمبلی میں نشستیں ملتی ہیں۔ متناسب نمائندگی کے نظامِ انتخاب میں ووٹرز براہِ راست سیاسی پارٹی کی قیادت اور منشور کی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے سیاسی جماعتوں کو بالترتیب ملک و صوبہ بھر سے ملنے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر اپنے باصلاحیت امیدواروں کے ناموں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو پیشگی مہیا کرتی ہیں جو کہ آئین کے مطابق طے کردہ اہلیت کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔ متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں اگر سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر 30 فیصد ووٹ ملتے ہیں تو انہیں اسمبلی میں حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے 30 فیصد نشستیں مل جاتی ہیں۔ اسی طرح جن جماعتوں کو اس سے زیادہ یا کم ووٹ ملتے ہیں اسی مناسبت سے پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی ملتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمارا ملک اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں اس نظام انتخاب میں حسب ضرورت تبدیلیاں کر کے اس نظام کو رائج کرسکتا ہے۔ موجودہ کرپٹ اور مہنگا نظام انتخاب جملہ مسائل کی جڑ مندرجہ بالا تجزیے سے ثابت ہوا کہ ملک کے تمام سنگین مسائل کی جڑ کرپٹ نظام انتخاب ہے۔ اس کرپٹ نظام انتخاب نے قوم کو اس کی حقیقی نمائندگی سے محروم کردیا ہے۔ عوام کے 98 فیصد غریب و متوسط طبقات سے کسی امیدوار کا منتخب ہونا عملًا ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ موجودہ نظام انتخاب کی خامیوں کی وجہ سے انتخابی حلقہ جات پر کرپٹ، سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیروں، مافیا، بااثر اور حکومتی امیدواروں کا کنٹرول ہوچکا ہے۔ حتی کہ کسی حلقہ میں کوئی بڑی پارٹی اپنے انتہائی دیرینہ نظریاتی ورکر کومحض اس لئے ٹکٹ نہیں دیتی کہ وہ کروڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ: نظام انتخاب شفاف اور سستا ہو۔ نظام انتخاب حکومتی، بااثر طبقات، سرمایہ داروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو۔ نظامِ انتخاب جعلی شناختی کارڈ سازی اور جعلی ووٹس، جانبدارانہ حلقہ بندیوں و پولنگ سکیم، الیکشن عملہ کی ملی بھگت اور پولیس انتظامیہ و غنڈہ عناصرکی ناجائز مداخلت سے پاک ہو تشہیر، جلسوں، ٹرانسپورٹ، الیکشن کیمپوں کے اخراجات اور سرمایہ کے ذریعے ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہونے جیسی انتخابی دھاندلیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ نظام انتخاب عبوری حکومتوں، لوکل باڈیز اداروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو تاکہ سیاسی جماعتیں تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہوکر غریب و متوسط باصلاحیت کارکنان کو میرٹ پر اسمبلیوں میں نمائندگی کے لئے نامزد کرسکیں۔ تاکہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے حصول کے لئے کوئی ڈیل نہ کرنا پڑے اورنہ ہی انہیں اسکے لئے غیر فطری اتحاد بنانا پڑیں بلکہ سیاسی جماعتیں عوامی ایشوز پر اپنا حقیقی کردار ادا کرسکیں۔ موجودہ کرپٹ اور مہنگے اِنتخابی نظام کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد قوم انتخابات سے کلیتاً لاتعلق ہوگئی ہے اور قوم اپنے بنیادی آئینی و انسانی حقوق سے محروم ہوگئی ہے۔ لہٰذا یہ ملک و قوم کے ریاستی و مقتدر اداروں بشمول عدلیہ، قانون ساز اداروں، سیاسی پارٹیز و اراکین پارلیمنٹ، میڈیا، سیاسی جماعتوں، دانشور و وکلاء طبقات کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس انتہائی اہم قومی حساس مسئلہ کے حل پر توجہ دیں اور ملک وقوم کو موجودہ کرپٹ انتخابی نظام سے چھٹکارا دلاکر شفاف نظام انتخاب مہیا کریں۔ متبادل نظام لانے کا طریقہ کار عدلیہ کی زیرنگرانی غیرجانبدار عبوری قومی حکومت کا قیام انتہائی لازمی ہوگا۔ چیف الیکشن کمیشن کو بہر صورت با اختیار اور غیرجانبدار ہونا چاہیے، جس کے لئے ضروری ہے چیف الیکشن کمیشنر سپریم کورٹ کا کوئی نیک نام جج ہو۔پورے ملک سے ہر طبقہ فکر سے نیک نام لائق افراد پر مشتمل ایک عبوری حکومت قائم کی جائے جو کہ متبادل نظام کے بتدریج نفاز کویقینی بنائے۔ انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کو عدلیہ کی مکمل نگرانی میں دینا ہوگا۔ حکومت اور لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پروقتی طور پر پابندی لگانا ہوگی، سیاسی جماعتیں اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر اپنے باصلاحیت امیدواروں کی ناموں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو پیشگی طور پر فراہم کریں گی جوکہ آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں گے جبکہ آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت سینٹ، خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کے بالواسطہ طریقے سے متناسب انتخاب کا موجودہ نظام برقرار رہے گا ‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری پہلے بھی نظام دے چکا ہے۔ ہمیں نہیںبھولنا چاہیے کہ غالبا 1992میں جب اس وقت کے وزیراقتصادیات کے چیلنج کے جواب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے ہی "اسلامی نظام بنکاری اور اسلامی معیشت کا نظام" پیش کیا تھا اور اس چیلنج کے ساتھ پیش کیا تھا کہ اگر اسکی کوئی ایک شق بھی مشرق سے مغرب تک کے ماہرینِ معاشیات مل کر کوئی ایک شق بھی ناقابلِ عمل قرار دے دیں تو میں زندگی بھر اسلام کی تبلیغ کرنا چھوڑ دوں گا اور بحمداللہ تعالی آج تک کوئی بھی اس پر اعتراض کی جرات نہیں کرسکا۔ پھر سپریم کورٹ اور شرعی عدالت کا مشیر خاص ہونے کے ناطے رجم کی حد اور گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت جیسے دقیق ، علمی قوانین بھی ڈاکٹر قادری کے دلائل کی روشنی میں طے کیے گئے ہیں۔ الحمد اللہ تعالی۔ متبادل انتخابی نظام بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ جس پر کچھ دن پہلے ہی ڈاکٹر طاہر القادری نے معروف صحافی قیوم نظامی کے اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے پاس صرف انتخابی نظام ہی نہیںبلکہ پاکستان کے لیے معاشی، سماجی، تعلیمی ، داخلی و خارجی نظام سمیت ہر نظام کی اپ ڈیٹ فائل موجود ہے کہ پاکستان کو موجودہ مشکلات سے کیسے نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قوم کا اعتماد درکار ہوگا۔ قوم اگر اجتماعی طور پر موجودہ جہنم کدے سے نکلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر اللہ تعالی کی توفیق سے ہر متبادل نظآم موجود ہے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
کمائي: 11,259
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صرف کہنے کی باتیں ہیں۔
کیا یہ نظام مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، صاحبزادہ فضل کریم، ثروت اعجاز قادری، مفتی عبدالقوی، سید منور حسن، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر ساجد میر، علامہ طاہر اشرفی لیکر آئیں گے؟
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔ |
|
|
|
| راشد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (02-12-11) |
![]() |
| Tags |
| کوئی, کم, کروائیں, گا؟, پوری, ھے۔, قادری, لیکن, نہیںکیا, نجات, نظام, مانند, متبادل, متعارف, مصطفوی, اللہ, از, بھیڑ, بار, توقع, تمام, حل, ذریعہ, عوام, صلعم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جھٹ پٹ انٹرویو۔۔۔ | محمدخلیل | گپ شپ | 82 | 01-06-11 12:38 AM |
| جاوا اسکرپٹ اور اجیکس کا فرق | زارا | کمپیوٹر کی باتیں | 2 | 01-11-10 05:05 PM |
| جھٹ پٹ انٹرویو | بنت آدم | گپ شپ | 171 | 24-04-10 11:43 AM |
| رونے سے ملال گھٹ گیا ہے | The Great | احمد فراز | 0 | 28-08-09 01:13 PM |
| وہ مجھ سے لپٹ کے | محمدخلیل | احمد فراز | 5 | 29-03-09 10:35 AM |