واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


کیا عاصمہ جہانگیر قادیانی ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-10, 02:54 AM   #1
کیا عاصمہ جہانگیر قادیانی ہے؟
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 06-11-10, 02:54 AM

پاکستانی سیاست اور مستقبل کے سیاسی، عدالتی، انتظامی، سماجی اور مذہبی معاملات کے حوالے سے گزشتہ ہفتہ انتہائی اہم رہا ہے۔ اگرچہ اس ہفتے کئی اہم واقعات پیش آئے ہیں لیکن ہم یہاں صرف 3 اہم واقعات اور اقدام کا ذکر کرینگے۔جن مستقبل سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ 27 اکتوبر 2010ءکو سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر کے لیے الیکشن ہوا جس میں 2 ہزار سے زائد بڑے وکلاءنے حق رائے دہی استعمال کیا۔ 3 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوا عاصمہ جہانگیر 734 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائیں جبکہ ان کے قریب ترین حریف اویس احمد ایڈووکیٹ رہے جن کو 696 ووٹ ملے تیسرے امیدوار اکرام چودھری ایڈوکیٹ کو صرف 127 ووٹ مل سکے۔ بظاہر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تنظیموں کے الیکشن ایک معمول کی بات ہے۔ مگر یہ انتخاب اتنا سادہ اور نظر انداز کرنے والا نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ عاصمہ جہانگیر جیسی خاتون کاسپریم کورٹ بار کی صدر بننا ہے اگر ہم عاصمہ جہانگیر کے ماضی کا تجزیہ کریں تو وہ پاکستان میں کئی حوالوں سے انتہائی متنازعہ رہی ہیں۔ چاہے مذہبی معاملات ہوں یا پاک بھارت تعلقات، حکومت اور عدلیہ کے مابین مبینہ رسہ کشی ہو یا نام نہاد انسانی حقوق، عاصمہ جہانگیر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان میں اسلامی نظام اور اسلام پسندی کو مختلف نام دے کر اس کی شدید مخالفت کی ہے جبکہ مغرب نوازی اور اسلام مخالف اقدام کو انسانی حقوق کا معاملہ قرار دے کر نہ صرف اس کی بھر پور حمایت کی بلکہ بعض اوقات پاکستانی قوانین کو توڑنے سے بھی گریز نہیں کیا جس کی واضح مثال چند سال قبل ہونے والے میرا تھن مقابلے اور عاصمہ جہانگیر کے بیانات اور اقدام ہیں۔

اسی طرح عاصمہ جہانگیر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پاکستان کے آئین سے اسلامی شقوں باالخصوص قادیانیوں کے حوالے سے متفقہ ترامیم کو ختم کرکے ایک مرتبہ پھر قادیانیوں کو مسلمان قرار دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر حدود قوانین، توہین رسالت قوانین، قصاص قوانین، قرار داد مقاصد اور دیگر اسلامی قوانین کا خاتمہ چاہتی ہیں، وہ ان قوانین اور ترامیم کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف تصور کرتی ہیں۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد ان کا پہلا بیان بھی مبینہ انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے کا عزم پر مبنی تھا۔ محترمہ کے نزدیک اسلام پسندی دراصل انتہا پسندی ہے۔ اگرچہ کہنے والے یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم قرار دیے گئے ایک گروہ سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ سپریم کورٹ بار پاکستان کے وکلاءکی سب سے بڑی اور موثر ترین تنظیم ہے۔ اس موثر ادارے کی صدارت کے لیے اس طرح کی خاتون کا انتخاب انتہائی قابل افسوس و باعث تشویش ہے اور مستقبل میں خوفناک ثابت ہوسکتا ہے ممکن ہے کہ آیندہ چل کر محترمہ کے اقدام ملک میں نئے تنازعات کا سبب بنیں، ویسے بھی مبصرین کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کے انتخاب سے بار اور کورٹ کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔ کیونکہ محترمہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو موجودہ آزاد عدلیہ کے بعض اقدام کو نہ صرف ناپسند کرتے ہیں بلکہ اکثر اوقات برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

اسی لیے عاصمہ جہانگیر کی کامیابی کو اسلام پسندوں، آزاد عدلیہ کے حامیوں اور اپوزیشن کی ناکامی جبکہ اسلام مخالف قوتوں، حکومت اور موجودہ عدلیہ کے مخالف عناصر کی کامیابی قرار دیا جارہا ہے اور حالات کے حساب سے یہ درست بھی معلوم ہوتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے انتخاب سے اسلام پسندوں، آزاد عدلیہ کے حامیوں اور مغرب مخالف قوتوں کو مستقبل میں مسائل پیش آسکتے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر اپنے دور میں کوشش کریں گی کہ آئین اور قانون سے اسلامی شقوں اور قوانین کو ختم نہیں تو کم از کم ان پر عمل درآمد کو کسی حد تک روکا جاسکے۔ اس ضمن میں تمام محب اسلام اور پاکستان قوتوں کو چاہیے کہ وہ دینی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھر پور طریقے سے قانونی راستے پر عمل کرتے ہوئے اپنے نظریات کے دفاع کی بھر پور تیاری کریں۔ موصوفہ ایک طرف مذہب پر عمل درآمد کو انتہا پسندی قرار دیتی ہیں لیکن چند سال قبل انہوں نے جب انتہا پسند ہندو راہنما بال ٹھاکرے سے ملاقات کی تو ان کو خوش کرنے کے لیے ان کی تنظیم کے جھنڈے کے رنگوں کا لباس زیب تن فرمایا۔ ان کی یہ تصویر آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ دراصل ان کے نزدیک صرف اسلامی احکام پر عمل کرنا انتہا پسندی ہے باقی کچھ بھی نہیں ہے۔

[IMG] Uploaded with ImageShack.us[/IMG]

عاصمہ جہانگیر قادیانی ہے؟ (عبدالجبار ناصر)
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 397
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-11-10), ھارون اعظم (16-11-10), یاسر عمران مرزا (06-11-10), ناز786 (06-11-10), مرزا عامر (06-11-10), بلال اویسی (17-11-10), عبدالقدوس (06-11-10)
پرانا 16-11-10, 10:24 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دلوں کا حال اللٰہ جانتا ہے۔ جب تک کوئی خود اعتراف نہ کرے، کسی پر یہ الزام لگانا درست نہیں کہ وہ قادیانی ہے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, php, ہندو, کورٹ, پاکستانی, واقعات, نظر, موجودہ, مقابلہ, ممکن, مسائل, معلوم, آج, انٹرنیٹ, اسلامی, تصویر, خوش, خلاف, سپریم, سیاست, سال, صدارت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:49 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger