واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


… آخر کب تک؟...نقش خیال…عرفان صدیقی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-11-10, 01:20 AM   #1
… آخر کب تک؟...نقش خیال…عرفان صدیقی
طلحہ طلحہ آف لائن ہے 25-11-10, 01:20 AM

خنجر کے چپ رہنے کے باوجود آستین کے لہو کے پکار اٹھنے کا کلیہ صرف قتل کی وارداتوں پر ہی صادق نہیں آتا، کرپشن کا شمار بھی ایسے ہی معاملات میں ہوتاہے جو چھپائے نہیں چھپتے۔ معمولی چور اچکے، اٹھائی گیرے، راہزن اور چھینا جھپٹی کرنے والے تو ایک نہ ایک دن پکڑے ہی جاتے ہیں، بڑے ہاتھ مارنے والی سفید پوش اشرافیہ بھی، قانون کی گرفت میں آئے نہ آئے، رسوا ضرور ہوجاتی ہے۔ آپ دائیں بائیں نظر اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ کتنے ہی خوش پوشاک ہیں کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈیزائنرز کے سلے سوٹ پہنتے اور فرانس کی مستانہ خوشبوئیں لگاتے ہیں لیکن اپنے چہروں کے داغ چھپانے سے عاجز ہیں۔ کتنے ہیں جن کے جبہ و عمامہ سے تقدس کی شعاعیں پھوٹتی ہیں اور جو خلق خدا کو صراط مستقیم کا درس دیتے نہیں تھکتے لیکن ان کی آستینوں میں حرص و ہوس کے لات و منات چھپے ہیں اور زر کی چکاچوند ان سے حلال و حرام کی تمیز چھین لیتی ہے۔
جو کچھ حج کے دوران ہوا وہ اچھی حکمرانی کے قرینوں سے ناآشنا ایک نااہل حکومت کی بے چہرگی کا کرشمہ ہے جو کسی بھی معاملے کو خوش اسلوبی سے نبٹانے کا سلیقہ نہیں رکھتی۔ اس حکومت کا ایک خاصہ یہ ہے کہ وہ محدب عد سے لگاکر ایسے افراد تلاش کرتی ہے جن کے دامن میں سو سو چھید ہوں، جو کرپشن کا خاطر خواہ تجربہ رکھتے ہوں اور جن کے سینے پر بدعنوانی کے دو تین ثابت شدہ جرائم کے تمغے آویزاں ہوں۔ ایسا کیوں ہے؟ کم از کم میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ اس حکومت کا دوسرا جوہر خاص یہ ہے کہ اگر میڈیا کی یلغار یا عدلیہ کے تحرک کے باعث اس کا کوئی داغدار چہیتا، گرفت میں آجائے تو وہ رسوائیوں اور جگ ہنسائیوں کی پروا کئے بغیر اس کی پشت پہ آکھڑی ہوتی، اسے ہر ممکن تحفظ دیتی اور خود مدعی کا روپ بھرتے ہوئے استغاثے میں اتنی کمزوریاں ڈال دیتی ہے کہ عدالت منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ حج میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں بھی یہی کچھ ہوگا۔ کسی کو سعودی عرب سے بلالیا جائے گا، کسی کو بھیج دیا جائے گا، تحقیقات کے دعوے کئے جائیں گے لیکن لکھ لیجئے کہ اللہ کے مہمانوں کو لوٹنے والا کوئی راہزن سزا پائے گا نہ لوٹے گئے اربوں روپے کا کوئی سراغ لگے گا۔ حامد سعید کاظمی پاکستان کے سب سے قابل اعتماد اور ایثارکیش دوست کے بارے میں ایسا ناروا تبصرہ کرچکے ہیں کہ برسوں اس کی تلافی نہ ہوپائے گی۔ کرپشن کو جانے دیجئے، موصوف کا یہ جرم ہی کافی ہے کہ انہیں وزارت سے سبکدوش کردیا جائے۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب کو بلاتاخیر، خیرسگالی کا پیغام بھیجنا ناگزیر ہوگیا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ تقریباً تین سال گزر جانے کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکومت حالات کے سدھار بالخصوص کرپشن کے سدباب اور معیشت کی استواری کے حوالے سے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں کرسکی۔ تسلیم کہ مشرف ریاستی نظم کا سارا تانا بانا توڑ گیا۔ اس نے نائن الیون کی بھینس کا دودھ دوہنے کو معاشی حکمت عملی بنائے رکھا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مفادات کا ازلی و ابدی نگہبان، شوکت عزیز قومی معیشت سے گلی ڈنڈا کھیلتا رہا۔ آج دونوں پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں لیکن ہم کب تک اسے اپنی بے ہنری کا جواز بناتے رہیں گے؟ پاکستان آج شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے اور حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ لیپا پوتی اور ”ڈنگ ٹپاؤ“ سوچ کو فلسفہ اقتصادیات بنالیا گیا ہے۔ آئی۔ایم۔ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی ”حاتم طائیوں“ کے سامنے مسلسل جھولی پھیلائے کھڑے ہیں۔ کوئی ہمارے کشکول میں دو چار سکے ڈال کر، کڑی شرائط کے کھونٹے سے باندھ دیتا ہے۔ کسی کے لئے ہم اس کی جنگ لڑتے ہیں، کسی کی ریزگاری کے عوض ہنسی خوشی ڈرون حملے برداشت کرتے ہیں، کسی کی خوشنودی خاطر کے لئے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاتے ہیں اور کسی کی دلداری کے لئے وطن عزیز کو سی۔آئی۔اے کی جولاں گاہ بنا دیتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ حکمرانوں نے ملک کو نئی بنیادوں پر کھڑا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ کوشش تو بہت دور کی بات ہے، اس حساس تریں مسئلے کا احساس تک نہیں کیا۔ ان کے معمولات اور ان کی ترجیحات کا اس شدید اقتصادی بحران سے کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں جو ایک بہت بڑا سونامی بنتا جارہا ہے اور جس نے پاکستان کو عالمی اوباشوں کی چراگاہ بنا دیا ہے۔
آج (منگل) کے اخبارات کی صرف تین خبریں ملاحظہ فرمائیں۔ پہلی یہ کہ قومی ائیر لائن پی۔آئی۔اے کو گزشتہ دو سالوں میں 41/ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے ذمہ واجب الادا قرضے ایک کھرب گیارہ ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں جبکہ اس کے کل اثاثے صرف 16/ارب روپے مالیت کے ہیں۔ یہ سب کچھ پی۔آئی۔اے کے ایم۔ڈی جناب اعجاز ہارون نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا۔ یہ وہی پی۔آئی۔اے ہے جس میں سیکڑوں جیالوں کو کئی کئی برس کے بقایا جات اور مراعات کے ساتھ بحال کیا گیا ہے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ تمام بینکوں نے پاکستان اسٹیل کو نادہندہ قرار دے کر لیٹر آف کریڈٹ (LC) کھولنے سے انکار کردیا ہے۔ خبر کے مطابق پاکستان اسٹیل نے بینکوں سے 48/ارب روپے کا قرضہ لے رکھا ہے۔ 18/ارب روپے کے قرض کی اقساط گزشتہ چار ماہ سے ادا نہیں کی جارہیں۔ حکومت نے اس سفید ہاتھی کو مشکلات سے نکالنے کے لئے جون میں تین ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکیج دیا جو اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوا اور وہ پھر بھوک سے بلبلا رہا ہے۔ تیسری خبر یہ ہے کہ پانچ سال قبل آنے والے زلزلے کے متاثرین کی بحالی ابھی تک کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے کیونکہ عالمی ڈونرز نے وعدوں کے باوجود مطلوبہ رقم فراہم نہیں کی۔ اس مالی بحران سے چار ہزار منصوبے متاثر ہورہے ہیں۔ حکومت کے لئے زلزلہ زدگان کی بحالی سے زیادہ بڑا مسئلہ پارلیمینٹ سے نئے ٹیکسوں کی منظوری ہے اس لئے ”ق“ لیگ کے حامد یار ہراج کو ایرا کا نیا چیئرمین مقرر کردیا گیا ہے۔ منصوبے جائیں بھاڑ میں۔
ہمارے دوست غلام احمد بلور، مدح سرائی کے ہنر میں طاق ہوتے جارہے ہیں لیکن زبوں حال ریلوے کی کوئی کل سیدھی نہیں کرسکے۔ لالو پرشاد نے پانچ سالوں میں بھارتی ریلوے کی کایا پلٹ دی۔ اسے نقصان میں جانے والے ادارے کے بجائے نفع بخش بنادیا۔ ہمارے ہاں ڈھلوان کا سفر جاری ہے۔ کسی کو خبر ہے کہ پاکستان ریلوے غریب قوم کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے قومی خزانے سے صرف گزشتہ برس 36/ارب کھاگئی۔ جی ہاں! ایک سال میں 36/ارب۔ گویا 3/ارب روپے ماہانہ، 10/کروڑ روپے روزانہ۔ ادھر عالم یہ ہے کہ ملازمین تنخواہوں کو ترس رہے ہیں۔ عید کے موقع پر وہ احتجاج پر مجبور ہوگئے۔ اب وزارت ریلوے نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مزید پانچ ارب روپے عطا کرے۔ پاسکو کا مجموعی خسارہ 440/ارب روپے سے بڑھ چکا ہے۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (PEPCO) 425/ارب روپے کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔ پاکستان ریلوے پر واجب الادا قرض 334/ارب تک جاپہنچا ہے۔ اور وفاقی حکومت کا حال یہ ہے کہ بیرونی قرضوں کے علاوہ، وہ ہر روز مقامی بینکوں سے دو ارب روپیہ قرض لے کر گزارا کررہی ہے۔
سیاسی آلائشوں سے قطع نظر، سینے پہ ہاتھ رکھ کے خدا لگتی کہئے کہ کیا حکومت نے اس ہمہ پہلو بگاڑ کے لئے کوئی ادنیٰ سی بھی ٹھوس کاوش کی ہے؟ کیا اسے احساس ہے کہ افراط زر کی حقیقی شرح 25فی صد تک جاپہنچی ہے اور عام آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی مشکل ہوگئی ہے؟ ہم ایک ایسے لق و دق صحرا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں بوند بھر پانی کی دستیابی بھی مشکل ہوجائے گی۔ ہمارے بدخواہ جانتے ہیں کہ شدید مالی بحران کے بعد نہ ہم اتنی بڑی فوج کی کفالت کرسکیں گے نہ ترقی کی راہ میں دو قدم آگے بڑھ سکیں گے۔ اس سال اسی مالی بحران کے باعث وفاقی حکومت نے 584/ارب روپے کے 484 ترقیاتی منصوبے ختم کردئیے ہیں۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ کب تک حکمرانوں کے یہ ”کرپشن فرینڈلی“ رویے جاری رہیں گے اور کب تک یہ مجرمانہ تغافل معیشت کا روگ بنا رہے گا؟ آخر کب تک!!
… آخر کب تک؟...نقش خیال…عرفان صدیقی

طلحہ
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 235
Reply With Quote
جواب

Tags
search, پاکستان, قدم, لوٹے, چور, نظر, موقع, منصوبہ, ممکن, آدمی, اللہ, احتجاج, تلاش, جواب, جرم, خوش, خدا, دوست, زلزلہ, سفر, سال, عدالت, عزیز, صرف, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger