16 دسمبر 1971 میں ھمارا مشرقی بازو ہم سے علہدہ ہو گیا، اور پوری دنیا کے آگے ھماری وہ سبکی ہوئی کہ بتاتے ہوے شرم آتی ہے کہ زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے یہ بیان دیا تھا کہ " آج ھم نے دو قومی نظریہ بحر عرب میں غرق کر دیا"۔ 16 دسمبر 1971 گزر گیا ھم سقوط ڈھاکہ کو بھول گئے اور پھر سے اللوں تللوں میں کھو گئے اور اس سانحہ عظیم سے کوئی سبق نہ سیکھا۔
حضرت علی کا فرمان عالی شان ہے:
" کوئی بھی معاشرہ کفر پہ تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن نا انصافی پر نہی"
آج 37 برس کے بعد تاریخ اپنے آپ کو پھر سے دہرانے جا رہی ہے۔ آج ایک اور بنگلہ دیش بنانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ لیکن کہاں اب بہت دور کی بات نہی ہو رہی بلکہ اب باری بلوچستان کی ہے "گریٹر بلوچستان"۔ اس بند کے شروع میں حضرت علی کے فرمان کا حوالہ دینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اب اگر گرریٹر "بلوچستان" بنتا ہے تو اس کی بڑی وجہ وفاق اور کچھ دوسرے "اداروں" کی طرف کی جانے والی زیادتیاں ھوںگی۔کیا ہمارےبزرگوں نے پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا کہ ہم اپنی نا اہلیوں اس کے ٹکرے ٹکرے کر کے پھر دشمنوں کے سامنے ان بزرگوں کی روہوںکو شرمندہ کریں، اور ان کو یہ باور کروایں آپ نے آزادی جیسی نعمت عظمی ہم کو دلوا کر کوئی اچھا کام بالکل نہی کیا۔ کیا آج بھئ پھر ہم اسی ڈگر پر چل نکلے۔ کیا وجہ ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق دینے سے کتراتے ہیں، کیا ہم نے ہی مملکت لوگوں پر ظلم کرنے کے لئے حاصل کی تھی۔ اگر بلوچ اپنا حق حکمرانی مانگتے ہیں تو ہم کیوں نھی دے دلتے ان کو ان کا حق کیا قباحت ہے اس میں، کیا پاکستان صرف پنجابیوں، سندھیوں اور پختونوںکی جدوجہد کا حاصل ھے، کیا بلوچوں کا اس پر کوئی حق نھی اگر ایسا ہے تو یاد رکھیںکہ اس ملک کو بکھرنے سے کوئی نھی بچا سکتا، تیار رہیں کہ ھمارے پڑوس میں بیٹھا ھمارا ازلی دشمن ایک بار پھر ھماری وحدت کی پھیتی پھیتی کرکے دو قومی نظریے کو پھر ایک بار بحر عرب میں غرق کر دے، بلکہ اس بار پورا ملک غرق ہو گا۔
میری نوجوان نسل سے منت ہے کہ آو اس ملک کو پھر سے ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچاو، خدارا اب تو حوش کے ناخن لیجئے ورنہ اس بار وہ توفان آے گا کہ ایک ایک تنکہ بکھر جائے گا، آو بھایئو یاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس وطن عزیز کو تنکوں کی طرح بہہ جانے سے بچا لیں، اگر اب بھی ھم نہ جاگے تو یہ آخری 14 اگست ہو گا (خاکم بہدھن) پھر کبھی ھم پاک سر زمین کا پاک نغمہ شائد نہ سن پائیں اللہ نہ کرے۔
آخر میں میری بلوچ بھایئوں سے ایک درد مندانہ اپیل ہے کہ خدارا آو مل بیٹھ کر اس مسلے کا کوئی حل ڈھونڈ لیں کیوں ھم پھر اس دنیا کو موقع دیں کے ایک بار پھر ھم پر ہسے اور پوری دنیا میں اس پاک مٹی کی ایک بار پھر سبکی ہو، خدارا خدارا میری اس درخواست پر ضرور غور کیجئے گا۔
آخر میں اس رب دو جہاں سے دعا ہے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اس پیارے چمن کی خیر فرما اس کو دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما، اس سلامتی کی حفاظت فرما کیونکہ تیری ہی زات بابرکات ہے جس سے ہم مدد مانگتے ہیں اور تو ہی ہے جو مصیبتوں کا رخ موڑ دیا کرتا ہے، اے رب دو جہاں میری اس دعا کو رد نہ کریئو، آمین!